زبور ۹۵: پرستش اور آگاہی
یہ زبور پرستش کے لئے بہت خوبصورت بلاہٹ کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ مصنف کے جوش و خروش میں شامل ہوئے بغیر اِسے پڑھنا مشکل ہے۔ (عبرانیوں ۴:۷ میں اِس زبور کو داؤد سے منسوب کیا گیا ہے کیونکہ وہاں ’’داؤد کی کتاب‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اِس سے مراد تمام مزامیر کا مجموعہ بھی ہو سکتا ہے۔ چونکہ داؤد نے بہت سے مزامیر لکھے تھے اِس لئے سب کو ’’داؤد کی کتاب‘‘ کہا جا سکتا تھا۔)
ہم اِن آیات میں روح القدس کی آواز سنتے ہیں جو بنی اسرائیل کے دُکھوں کے تاریک ایام میں اُنہیں یہوواہ کی پرستش کے لئے واپس بلا رہا ہے۔ لیکن ہم بھی اُس کی بلاہٹ کی آواز کو نظر انداز نہ کریں جو ہمیں بلا رہی ہے تاکہ ہم ہر ایک اُلجھانے والے بت سے محفوظ رہیں۔
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ حقیقی پرستش کے لئے مختلف انداز استعمال کئے گئے ہیں۔ اِس میں گیت گانا شامل ہے، اِس میں اپنی نجات کی چٹان کے سامنے خوشی سے للکارنا شامل ہے، یعنی زمانوں کی اُس چٹان کے سامنے جس میں ہم پناہ لیتے ہیں۔ حقیقی عبادت اُس کی حضوری میں آنا اور جو کچھ اُس نے ہمارے لئے کیا ہے اُس کا اقرار اور شکرگزاری کرنا ہے۔ حقیقی پرستار اُس کے حضور ستائش کے زبور گاتا ہے۔
۹۵: ۳۔۵ جیسے ہماری ستائشب کے منفرد انداز ہیں، بالکل ویسے ہی اِس کا موضوع بھی بہت وسیع ہے۔ خداوند کی شکرگزاری کریں کیونکہ وہ خدائے عظیم ہے (عبرانی۔ ایل یعنی قادرِ مطلق)۔ وہ بت پرستوں کے دیوتاؤں پر شاہِ عظیم ہے۔ زمین کے گہراؤ اُس کے قبضے میں ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ یہ اُس کے ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اُس کی ہیں کیونکہ اُس نے اُنہیں بنایا۔ اُس نے وسیع سمندر کو خلق کیا اور اُس کے ہاتھوں نے براعظموں اور جزیروں کو بنایا۔
۹۵: ۶،۷ الف اب پرستش کے لئے دوسری مرتبہ دعوت دی جاتی ہے اور یہ زیادہ شخصی اور قریبی تعلق کی حامل ہے۔ ہمیں اپنے خدا کے سامنے جھک کر سجدہ کرنا چاہئے کیونکہ وہ ہمارا خدا ہے۔ وہ تخلیق اور مخلصی کے تعلق سے ہمارا خدا ہے۔ وہ اچھا چرواہا ہے جس نے ہمارے لئے جان دی۔ اب ہم اُس کی چراگاہ کے لوگ اور اُس کی بھیڑیں ہیں جن کی وہ اپنے چھیدے ہوئے ہاتھوں سے محافظت اور راہنمائی کرتا ہے۔
۹۵: ۷ب۔۹ آیت ۷ کے درمیان پرستش آگاہی میں بدل جاتی ہے۔ اب روح القدس کی آہ اور آرزو سنائی دیتی ہے:
’’کاش کہ آج کے دن تم اُس کی آواز سنتے!‘‘
باقی ماندہ آیات میں ہم یہوواہ کی آواز سنتے ہیں جو بے اعتقادی کی برائی کے خلاف اپنے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے۔ رفیدیم کے نزدیک مریبہ کے مقام پر پانی کی کمی کی شکایات نے خدا کو غصہ دلایا تھا (یہ وہی جگہ تھی جسے خروج ۱۷:۷ میں مسّہ کہا گیا)۔ قادس کے قریب ایک اَور مریبہ نامی مقام پر موسیٰ نے چٹان سے کہنے کے بجائے اُسے مارا اور یوں خدا کو غصہ دلایا (گنتی ۲۰: ۱۰۔۱۲)۔ دونوں واقعات (ایک بیابانی سفر کے شروع میں اور دوسرا اختتام پر) لوگوں کی بے وفائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اُن مقامات کے نام اُس بے وفائی کی یاد دلاتے ہیں: مریبہ کا مطلب بغاوت اور مسّہ کا مطلب آزمائش ہے۔ اگرچہ اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ خدا نے اُنہیں کس عظیم طریقے سے مصر سے نکالا، تاہم اُنہوں نے اُسے آزمایا اور اُس کا امتحان کیا۔
۹۵: ۱۰، ۱۱ غصہ دلانے والا یہ رویہ چالیس سال تک قائم رہا۔ بالآخر خدا کو یہ کہنا پڑا، ’’مَیں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل آوارہ ہیں۔ اُنہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اُن کے لئے جو راہ مَیں نے مقرر کی ہے وہ اُس کی پروا نہ کریں۔ چنانچہ مَیں نے قسم کھائی ہے کہ وہ میرے آرام میں داخل نہ ہوں گے جس کا مَیں نے اُن کے لئے کنعان میں منصوبہ بنایا ہے۔‘‘
یہ دلدوز پکار جس کا اطلاق اسرائیل پر ہوتا تھا، اِس کا عبرانیوں ۳: ۷۔۱۱ میں اقتباس کیا گیا ہے۔ وہاں اِس کا اطلاق ہر اُس شخص پر ہے جو شریعت کی طرف واپس جا کر مسیح کو چھوڑ دے۔ اور یہ آخری ایام میں اسرائیل کے لئے آگاہی ہو گی کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو وہ خدا کے ہزار سالہ آرام میں داخل نہ ہو سکیں گے۔
بے اعتقادی ہر دَور میں لوگوں کو خدا کے آرام میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔
مقدس کتاب
۱ آؤ ہم خُداوند کے حضور نغمہ سرائی کریں! اپنی چٹان کے سامنے خُوشی سے للکاریں۔
۲ شُکر گُزاری کرتے ہوئے اُس کے حُضور حاضر ہوُں۔مزموُر گاتے ہوئے اُس کے آگے خُوشی سے للکاریں۔
۳ کیونکہ خُداوند خُدایِ عظیم ہے۔اور سب اِلہوں پر شاہِ عظیم ہے۔
۴ زمین کے گہراؤ اُس کے قبضہ میں ہیں پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اُسی کی ہیں۔
۵ سُمندر اُسکا ہے۔ اُسی نے اُس کو بنایا۔ اور اُسی کے ہاتھو ں نے خُشکی کو بھی تیار کیا ۔
۶ آؤ ہم جھُکیں اور سجدہ کریں! اور اپنے خالِق خُداوند کے حُضوُر گھُٹنے تیکیں۔
۷ کیونکہ وہ ہمارا خُدا ہے اور ہم اُس کی چراگاہ کے لوگ اور اُس کے ہاتھ کی بھیڑیں۔کاشکہ آج کے دِن تُم اُس کی آواز سُنتے !
۸ تُم اپنے دِل کو سخت نہ کرو جَیسا مرِیؔبہ میں جَیسا مسّؔاہ کے دِن بیابان میں کیا تھا۔
۹ اُس وقت تمہارے باپ دادا نے مجھے آزمایا۔ اور میرا امتحان کیا اور میرے کام کو بھی دیکھا۔
۱۰ چالیس برس تک میَں اُس نسل سے بَیزار رہا اور میَں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جِنکے دِل آوارہ ہیں اور اُنہوں نے میری راہوں کو نہیں پہچانا۔
۱۱ چُنانچہ میَں نے اپنے غضب میں قسم کھائی کہ یہ لوگ میرے آرام میں داخل نہ ہوں گے۔