زبُور ۸۳

زبور ۸۳:‏ جنگ کا زبور

۸۳:‏ ۱۔۵ اسرائیل محاصرہ کی حالت میں ہے اور لوگ خدا سے التجا کرتے ہیں کہ وہ اپنی خاموشی کو توڑے اور فیصلہ کن طور پر اُن کے لئے کام کرے۔ گو لوگ اپنے تحفظ کے لئے التجا کر رہے ہیں ‏، تاہم وہ اِس معاملے کو اِس طور سے پیش کرتے ہیں کہ یہ خدا اور اُن کا مشترکہ موقف ہے۔

’’تیرے دشمن … جو تجھ سے عداوت رکھتے ہیں …تیرے لوگ … تیری پناہ میں …اُنہوں نے ایکا کرکے‘‘۔ وہ اُسے فراموش نہیں کرنے دیں گے کہ اسرائیل کے دشمن خدا کے دشمن ہیں۔ دشمن بپھرے ہوئے ہیں۔ وہ مکاری سے منصوبے بناتے ہیں۔ وہ مل کر مشورے کرتے ہیں۔ وہ اسرائیل کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ قوموں کا اتحاد قائم کرتے ہیں اور اِن میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اسرائیل کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

۸۳:‏ ۶۔۸ جب ہم اُن اقوام کی موجودہ اقوام میں شناخت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مشکل پیش آتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اسور موجودہ عراق ہے اور اسمٰعیلی ابرہام اور ہاجرہ کی اولاد اور عربوں کے آبا و اجداد ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ادومی اور عمالیقی‏، عیسو کی نسل سے ہیں اور موآبی اور عمونی‏، لوط کی نسل سے‏، لیکن آج کل اُن کے بارے میں پتہ چلانا ناممکن ہے۔ فلستینی قدیم زمانے میں وہاں مقیم تھے جسے غزہ کی پٹی کہتے ہیں۔ صور کا شہر‏، موجودہ لبنان ہے۔ جبل‏، قدیم جبلہ یا ببلوس ہے جو فینیکے میں واقع تھا۔ بعض مواخذ ہاجریوں کو ہاجرہ کی نسل قرار دیتے ہیں۔ اِس کے مطابق یہ اسمٰعیلیوں کا ایک فرقہ ہوں گے‏، لیکن یہ بات شاید درست نہ ہو۔ چونکہ اِن ناموں کے بارے میں بہت سا ابہام ہے اِس لئے اِنہیں مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ ممالک کے ساتھ منسلک کرنے کی کوشش کرنا مناسب نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اِنہیں اِس نقطہ نگاہ سے دیکھیں کہ یہ اسرائیل کے غیرقوم دشمنوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اسرائیل کا چھوٹا سا ملک کس طرح اِتنے بڑے اتحادیوں کا مقابلہ کر سکتا تھا؟ اِس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خدا کے لوگ ’’اُس کی پناہ‘‘ میں ہیں (‏آیت ۳)‏۔ ایک ترجمہ میں یوں لکھا ہے’’اُس کی طرف سے چھپائے ہوئے‘‘ ‏، ’’اُس کے پیارے اور قیمتی لوگ‘‘ یا وہ ’’جنہیں وہ پیار کرتا ہے۔‘‘ خطرہ کے لمحات میں وہ معجزانہ طور پر اُن کی حفاظت کرتا ہے اور اُن کی کمزوری میں اپنا زور دکھاتا ہے۔ جب تمام حالات اُن کے خلاف ہوں تو وہ اُنہیں ایسی فتح دیتا ہے جو کسی بھی طرح کی انسانی توجیہ کی پروا نہیں کرتی۔

۸۳:‏ ۹‏، ۱۰ اب محصور قوم یہوواہ سے التجا کرتی ہے کہ وہ حالیہ خطرے سے نپٹے‏، جیسا کہ اُس نے ماضی میں تین موقعوں پر اپنے دشمنوں سے کیا۔

کنعان کا بادشاہ یابین اور اُس کا سپہ سالار سیسرا‏، قیسون کے نالہ پر بُری طرح شکست کھانے کے بعد عین دور کے مقام پر بڑی ذلت کی موت مارے گئے (‏قضاۃ ۴باب)‏۔ اُن کی سڑتی ہوئی لاشیں اسرائیل کی زمین کے لئے کھاد بن گئیں۔

۸۳:‏ ۱۱‏، ۱۲ مدیان کے دو شہزادوں عوریب اور زئیب کو قتل کرنے کے بعد اُن کے سر قلم کر دیئے گئے (‏قضاۃ ۷:‏ ۲۳۔۲۵)‏۔ یسعیاہ (‏۱۰:‏ ۲۶)‏ کے مطابق یہ بہت بڑی خوں ریزی تھی۔

مدیان کے دو بادشاہوں زِبح اور ضلمنع نے ’’خدا کی بستیوں‘‘ پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی۔ جب عوریب اور زئیب کو قتل کیا گیا تو وہ اسرائیل کے ہاتھوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے‏، لیکن با لآخر جدعون نے اُنہیں جا لیا اور اُنہیں موت کے گھاٹ اُتار دیا (‏قضاۃ ۸ باب)‏۔

۸۳:‏ ۱۳۔۱۸ یہاں سزا کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ وہ اُنہیں بگولے کی گرد کی مانند بنا دے۔ وہ ایسے ہو جائیں جیسے ہوا کے آگے ڈنٹھل۔ وہ ایسے ہو جائیں جیسے آگ جنگل کو جلا کر رکھ دیتی ہے اور وہ بھڑکتے شعلوں میں بھسم ہو کر رہ جائیں۔ وہ خدا کی آندھی سے خوف زدہ ہو جائیں۔ وہ اُن کے چہروں پر رسوائی طاری کر دے تاکہ لوگ خدا کے طالب ہوں۔ وہ رُسوا ہو کر ہلاک ہو جائیں تاکہ وہ جان جائیں کہ صرف یہوواہ ہی تمام زمین پر قادرِ مطلق حکمران ہے۔

کیا یہ کچھ سخت زبان ہے؟ ہاں سخت ہے‏، لیکن یہ غلط نہیں ہے۔ جب خدا کی عزت پر حرف آئے‏، تو اُس کی محبت میں سختی بھی پائی جا سکتی ہے۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا !خاموش نہ رہ ۔اَے خُدا چُپ چاپ نہ ہو اور خاموشی اختیار نہ کر!
۲ کیونکہ دیکھ تیرے دُشمن اُودھم مچاتے ہیں اور تجھ سے عداوت رکھنے والوں نے سر اُٹھایا ہے۔
۳ کیونکہ وہ تیرے لوگوں کے خلاف مکاّری سے منصُوبہ باندھتے ہیں۔ اور اُنکے خلاف جو تیری پناہ میں ہیں مشورہ کرتے ہیں۔
۴ اُنہوں نے کہا آؤ ہم اِنکو کاٹ ڈالیں کہ اِنکی قُوم ہی نہ رہے اور اِسراؔئیل کے نام کا پھر ذِکر نہ ہو۔
۵ کیونکہ اُنہوں نے ایکا کر کے آپس میں مشورہ کیا ہے وہ تیرے خلاف عہد باندھتے ہیں۔
۶ یعنی ادؔوم کے اہلِ خَیمہ اور اسمٰعیلی موآؔب اور ہاجؔری ۔
۷ جؔبل اور عمّؔون اور عماؔلیِق ۔ فلِستیؔن اور صُوؔر کے باشِندے۔
۸ اسُوؔر بھی ان سے مِلا ہُوا ہے۔ اُنہوں نے بنی لوُط کی کُمک کی ہے۔
۹ تُو اُن سے اَیسا کر جَیسا مِدیاؔن سے اور جَیسا وادیِ قیِسُؔون میں سِیؔسر اور یابِیؔن سے کیا تھا۔
۱۰ جو عَیؔن دور میں ہلاک ہوئے۔ وہ گویا زمین کی کھاد ہو گئے۔
۱۱ اُنکے سرداروں کو عوریؔب اور زئیؔب کی مانند بلکہ اُنکے شاہزادوں کو زِبؔح اور ضلمؔنُع کی مانند بنا دے ۔
۱۲ جنہوں نے کہا ہے آؤ ہم خُدا کی بستیوں پر قبضہ کرلیں۔
۱۳ اَے میرے خُدا ! اُنکو بگولے کی گرد کی منند بنا دے اور جَیسے ہوا کے آگے ڈنٹھل۔
۱۴ اُس آگ کی طرح جو جنگل کو جلا دیتی ہے۔ اُس شُعلہ کی طرح جو پہاڑوں میں آگ لگا دیتا ہے۔
۱۵ تُو اِسی طرح اپنی آندھی سے اُنکا پیچھا کر اور اپنے طُوفان سے اُنکو پریشان کر دے۔
۱۶ اَے خُداوند! اُنکے چہروں پر رُسوائی طاری کر تاکہ وہ تیرے نام کے طالب ہوں۔
۱۷ وہ ہمیشہ شرمِندہ اور پریشان رہیں۔ بلکہ رُسوا ہو کر ہلاک ہو جائیں۔
۱۸ تاکہ وہ جان لیں کہ تُو ہی جِسکا نام یہوؔواہ ہے تمام زمین پر بلند و بالا ہے۔