زبُور ۱۱۱

زبور ۱۱۱ :‏ خداوند کے عجیب کام 

زبور ۱۱۱ میں سلسلے کی تین لڑیاں ہیں:‏

  1. یہوواہ کے کام(‏آیات ۲۔۴ ‏، ۶۔۷)‏
  2. یہوواہ کی باتیں جو عہد (‏آیات ۵۔۹)‏
  3. اور اصولِ اخلاق (‏آیت ۷)‏ ایسے الفاظ سے ظاہر ہوتی ہیں۔ 

اُس کا ابدی کردار:‏ جو کچھ وہ ہے اور جو کچھ وہ کرتا ہے (‏آیات ۳‏،۵‏،۸۔۱۰)‏۔

پہلی آٹھ آیات کے دو دو مصرعے ہیں۔ آخری دو آیات کے تین تین مصرعے ہیں۔ بائیس مصرعوں میں سے ہر ایک مصرع الف سے لے کر ترتیب وار عبرانی حروفِ تہجی سے شروع ہوتا ہے۔

زبور کا مضمون تخت نشین مسیح کی خوبیاں ہے۔ بنی اسرائیل اُس خدا کی حمد کر رہے ہیں جو اُنہیں مصر اور بابل کی تاریکیوں سے نکال کر اپنی خوبصورت روشنی میں لے آیا۔

۱۱۱:‏ ۱ یہ گیت ایمانداروں کو حمد کی بلاہٹ (‏عبرانی ’’ہالیلویاہ‘‘)‏ اور زبور نویس کے اپنے عزم سے شروع ہوتا ہے کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے خداوند کی حمد کرے گا۔ وہ راست بازوں کی چھوٹی جماعت اور لوگوں کے بڑے مجمع میں حمد کرے گا۔ یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تخلیہ میں اور عوام میں حمد کرے گا۔

۱۱۱:‏ ۲‏، ۳ خداوند کے کاموں کا یہاں چار طرح کا بیان ہے‏، لیکن عہد عتیق کے ہر ایک یہودی کے لئے عظیم ترین کام مصر سے مخلصی تھا۔ خداوند کے کام عظیم ہیں۔ اُن کا مطالعہ اُن کے لئے جو اُن میں مسرور ہیں سود مند اور پھل دار ہے۔ یہ کام اُس کے جلال اور حشمت کا بہترین اظہار ہیں اور اُس کی صداقت ابد تک قائم ہے۔ 

۱۱۱:‏ ۴‏، ۵ اُس نے فسح کے برے کے خون کے وسیلے سے اسرائیل کی نجات کی دائمی یادگار قائم کی۔ یہ فضل اور رحم کی دائمی یاد گار ہے۔ عشائے ربانی کے ذریعے اُس نے ایک بہتر برہ کے خون سے ہماری نجات کی یادگار مقرر کی۔ یہ ناقابل فراموش یاد دہانی ہے کہ وہ رحیم و کریم ہے۔ شاید آیت ۵ میں اسرائیلیوں کے لئے اُن کے بیابانی سفر میں خدا کی طرف سے خوراک (‏لغوی مطلب ’’شکار‘‘)‏ کے معجزانہ طور پر مہیا کئے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ اُس نے کبھی بھی اِس بات کو فراموش نہ کیا کہ وہ اُس کے عہد کے لوگ ہیں۔ یہ ہمیشہ سچ ہے کہ جو بھی وعدہ وہ کرتا ہے اُسے وفاداری سے پورا کرتا ہے۔

۱۱۱:‏ ۶ اُس نے اپنی قوم کو اپنے عجیب کاموں کا عملی ثبوت یوں دیا کہ وہ کنعانی قوموں کو نکال کر ملکِ موعود میں بحافظت لے آیا۔ زبور نویس اِسے ’’قوموں کی میراث‘‘ کہتا ہے۔

۱۱۱:‏ ۷۔۹ خدا کے تمام کام ثابت کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ برحق اور راست ہے۔ اُس کے تمام قوانین قابل بھروسا ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے وعدوں کو یاد رکھتا اور اُنہیں وفاداری اور باوقار طریقے سے پورا کرتا ہے۔ اُس نے مصر سے خروج کے وقت اپنے لوگوں کے لئے فدیہ دیا اور بعد ازاں اُس وقت جب وہ اُنہیں بابل کی اسیری سے واپس لایا۔ وہ اپنی جلالی حکومت سے قبل اسرائیل کے بارہ قبیلوں کو واپس لانے سے پھر ایسا ہی کرے گا۔ یہ سب کچھ اُس کے عہد کا حصہ ہے اور یہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتا۔ اُس کا نام قدوس اور مہیب یعنی قابل تعظیم ہے اور جیسا اُس کا نام ہے ویسا ہی وہ ہے۔ 

۱۱۱:‏ ۱۰ جو اُس سے ڈرتا ہے صرف اُس نے حکمت کی طرف اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ جس قدر ہم اُس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں‏، اُسی قدر وہ ہمیں منور کرتا ہے۔ روحانی علم فرماں برداری سے ترقی کرتا ہے۔ وہ ابد تک ستائش کے لائق ہے۔

مقدس کتاب

۱ خُداوند کی حمد کرو میَں راستبازوں کی مجلس میں اور جماعت میں اپنے سارے دل سے خُداوند کا شُکر کرُنگا۔
۲ خُداوند کے کام عظیم ہیں۔ جو اُن میں مسرور ہیں اُن کی تفتیش میں رہتے ہیں۔
۳ اُسکے کام جلالی اور پُر حشمت ہین اور اُسکی صداقت ابدتک قائم ہے۔
۴ اُس نے اپنے عجائب کی یادگار قائم کی ہے۔ خُداوند رحیم و کریم ہے۔
۵ وہ اُن کو جو اُس سے ڈرتے ہیں خُوراک دیتا ہے۔ وہ اپنے عہد کو ہمیشہ یاد رکھیگا۔
۶ اُس نے قوموں کی میراث اپنے لوگوں کو دیکر اپنے کاموں کا زور اُنکو دکھایا۔
۷ اُسکے ہاتھوں کے کام برحق اور پُر عدل ہیں۔ اُسکے تمام قوانین راست ہیں۔
۸ وہ ابُدالآباد قائم رہیں گے۔ وہ سچّائی اور راستی سے بنائے گئے ہیں۔
۹ اُس نے اپنے لوگوں کے لئے فدیہ دیا اُس نے اپنا عہد ہمیشہ کے لئے ٹھہرایا ہے۔ اُس کا نام قُدوُّس اور مُہیب ہے۔
۱۰ خُداوند کا خُوف دانائی کا شروع ہے۔ اُس کے مُطابق عمل کرنے والے دانشمند ہیں۔ اُسکی ستایش ابدتک قائم ہے۔