قضاة تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

قضاۃ

Judges

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’قضاۃ کی کتاب میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جنہیں پڑھ کر قاری کا دل اُداس ہو کر رہ جاتا ہے۔ شاید کتابِ مقدس کی کوئی اَور کتاب اِس قدر اِنسانی کمزوریوں کی نشان دہی نہیں کرتی۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ الٰہی رحم اور صبر کے واضح نشانات بھی موجود ہیں۔ جب ہم اِن چھوٹے چھوٹے ’’نجات دہندوں‘‘ کی زندگیوں پر غور کرتے ہیں‏، تو اُس عظیم نجات دہندے کی ضرورت کا کتنا احساس ہوتا ہے جس کی زندگی بے داغ ہو اور جو ہمیں نہ صرف عارضی اور وقتی بلکہ ابدی اور کامل نجات دے سکے۔‘‘(‏Arthur E. Cundall)‏ 

۱۔فہرستِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام

اِس دلچسپ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ خدا کس طرح اِنسانی کمزوری میں اپنا زور ظاہر کرتا ہے۔ درحقیقت قضاۃ کی کتاب کسی حد تک تین آیات کی تفسیر پر مبنی ہے۔ ’’خدا نے دُنیا کے بے وقوفوں کو چن لیا کہ حکیموں کو شرمندہ کرے اور خدا نے دُنیا کے کمزوروں کو چن لیا کہ زور آوروں کو شرمندہ کرے۔ اور خدا نے دُنیا کے کمینوں اور حقیروں کو بلکہ بے وجودوں کو چن لیا کہ موجودوں کو نیست کرے تاکہ کوئی بشر خدا کے سامنے فخر نہ کرے‘‘ (‏۱۔کرنتھیوں ۱:‏ ۲۷۔۲۹)‏۔ مثلاً اہود بین ہتھا اور بنیمینی تھا (‏۳:‏۱۲۔۳۰)‏‏، بایاں ہاتھ دہنے ہاتھ کی نسبت کمزور سمجھا جاتا تھا۔ شمجر نے بیل کے پینے کو استعمال کیا‏، جو کسی صورت میں جنگی ہتھیار نہیں‏، اور اس سے چھے سو دشمنوں کو قتل کر دیا (‏۳:‏ ۳۱)‏۔ دبورہ کا تعلق صنفِ نازک سے تھا (‏گو وہ خود نازک اور کمزور نہ تھی)‏ (‏۴:‏ ۱۔۵:‏۳۱)‏۔ برق کے ۰۰۰‏،۱۰ پیادہ سپاہی اِنسانی نقطۂ نظر کے لحاظ سے سیسرا کے ۹۰۰ لوہے کے رتھوں کے مقابلے میں بالکل ہیچ تھے (‏۴:‏ ۱۰‏،۱۳)‏۔ یاعیل کا تعلق بھی صنفِ نازک سے تھا‏، اُس نے ڈیرے کی میخ کو سیسرا کی کنپٹیوں پر رکھ کر ایسا مارا کہ وہ اُس کے سر سے پار ہو گئی‏، اور یوں سیسرا کو مار ڈالا (‏۴:‏۲۱)‏۔ جدعون نے ایک ایسی فوج کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا جس کی تعداد خداوند نے ۰۰۰‏،۳۲ سے ۳۰۰ کر دی (‏۷:‏ ۱۔۸)‏۔ جَو کی روٹی‏، غریبوں کی خوراک‏، غربت اور کمزوری کو ظاہر کرتی ہے (‏۷:‏۱۳)‏۔ جدعون کی فوج کے ہتھیار‏، عام جنگی ہتھیاروں سے بہت مختلف تھے یعنی مٹی کے گھڑے‏، مشعلیں اور نرسنگے (‏۷:‏۱۶)‏‏، اور گھڑوں کو توڑنا تھا (‏۷:‏۱۹)‏۔ ایک عورت نے چکی کا پاٹ پھینک کر ابی ملک کی کھوپڑی کو توڑ ڈالا (‏۹:‏ ۵۳)‏۔ تولع کا مطلب ہے ’کیڑا ‘ (‏۱۰:‏۱)‏۔ جب ہم سمسون کی ماں سے ملتے ہیں تو اُس کے نام کا ذکر نہیں‏، اور وہ بانجھ عورت ہے (‏۱۳:‏۲)‏ لیکن اُسی کے بطن سے سمسون پیدا ہوا جس نے گدھے کے جبڑے سے ۱۰۰۰ فلستیوں کو مار ڈالا۔ 

۲۔ مصنف

گو قضاۃ کے مصنف کا ذکر نہیں‏، تاہم یہودی تالمود اور قدیم مسیحی روایات کے مطابق قضاۃ‏، روت اور سموئیل کی کتابوں کو سموئیل نے لکھا۔ اِس نظریے کی ۱۔سموئیل ۱۰:‏ ۲۵ سے تائید ہوتی ہے کہ نبی ہی اِس کتاب کا مصنف تھا۔ اِس کے ساتھ ساتھ داخلی ثبوت بھی سموئیل کے دَور سے مطابقت رکھتے ہیں۔

۳۔ سنِ تصنیف

درج ذیل وجوہات کی بنا پر قضاۃ کی کتاب بادشاہت کی پہلی نصف صدی کے دوران لکھی گئی ہو گی (‏۱۰۵۰۔۱۰۰۰ ق م)‏۔

اوّل‏، یہ جملہ ’’ان دنوں اِسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا‘‘ (‏۱۷:‏۶؛ ۱۸:‏۸؛ ۱۹:‏۱؛ ۲۱:‏۲۵)‏ ظاہر کرتا ہے کہ جب یہ کتاب لکھی گئی اُس وقت بادشاہ تھا۔ 

دوم‏، چونکہ ۱:‏۲۱ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یبوسی ابھی تک یروشلیم میں تھے اِس لئے ایسی تاریخ ہی موزوں ہے جو داؤد کے یروشلیم کو فتح کرنے سے قبل ہو۔ نیز ۱:‏۲۹ میں مذکور جزر بعد میں فرعون کی طرف سے سلیمان کو شادی کے تحفے کے طور پر دیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ واقعہ اِس سے پہلے کی تاریخ ہے۔ یوں ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتاب ساؤل کے عہد حکومت یا داؤد کے عہد حکومت کے اِبتدائی سالوں میں لکھی گئی۔ 

۴۔ پس منظر اور موضوع

قضاۃ کی کتاب میں اِسرائیل قوم کی تاریخ کو وہاں سے شروع کیا گیا ہے‏، جب یشوع کی پشت ختم ہو چکی تھی۔ اِسرائیلی کنعانی باشندوں کو کُلی طور پر ملک سے نکالنے سے قاصر رہے۔ دراصل وہ بے دین لوگوں کے ساتھ راہ و رسم بڑھا کر بت پرستی کی طرف مائل ہو چکے تھے۔ اور اِس کا یہ نتیجہ ہوا کہ خدا نے بار بار اپنے لوگوں کو غیر قوم استحصالی قوتوں کے ہاتھوں میں دے دیا۔ یہ غلامی یہودیوں کو توبہ اور شکستہ دلی کے مقام پر لے آتی۔ جب وہ خدا کے سامنے مخلصی کے لئے فریاد کرتے تو وہ اُن کے لئے قاضی برپا کرتا۔ اُن قائدین سے اِس کتاب کا نام ’’قضاۃ‘‘ پڑ گیا۔

اِس کتاب کے واقعات غتنی ایل سے سمسون تک ۳۲۵ سالوں پر محیط ہیں۔ 

قاضی محض اِنصاف کرنے والے شخص ہی نہیں تھے بلکہ فوجی راہنما بھی تھے۔ ایمان کے ذریعے زور دار کارناموں سے وہ خدا کی عدالت کو عمل میں لائے اور اپنے اُوپر استحصالی قوتوں کا جوأ اُتار پھینکا اور اپنی قوم کے لئے کسی حد تک امن و آزادی کو قائم کیا۔ اِسرائیل کی مخلصی کے لئے بارہ قاضیوں کو برپا کیا گیا۔ کتاب میں بعض ایک کے بارے میں تو خاصا تفصیلی ذکر ہے‏، جب کہ بعض ایک کا صرف ایک یا دو آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اُن کا تعلق نو مختلف قبیلوں سے تھا۔ اُنہوں نے اپنی قوم کو اہلِ مسوپتامیہ‏، موآبیوں‏، فلستیوں‏، کنعانیوں‏، مدیانیوں اور عمونیوں سے رِہائی دلائی۔ سموئیل کے علاوہ کسی بھی قاضی نے پوری قوم پر حکومت نہ کی۔ 

پہلے دو ابواب میں تعارفی مواد ہے اور یہ تاریخی اور نبوتی نوعیت کا ہے۔ قاضیوں کے ریکارڈ (‏۳۔۱۶ ابواب)‏ میں ضروری نہیں کہ سب قاضی یکے بعد دیگرے برسرِاقتدار تھے بلکہ ممکن ہے کہ بعض ایک ہی وقت میں‏، ملک کے مختلف حصوں میں اپنے دشمنوں کا مقابلہ کر رہے ہوں۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر اِس کتاب میں مذکورہ سالوں کو سلسلہ وار جمع کیا جائے تو یہ کُل ۴۰۰ سال سے زائد بنتے ہیں‏، جو کہ اُس وقت سے زائد ہے جو بائبل اِس دَور کے لئے مختص کرتی ہے (‏اعمال ۱۳:‏۱۹‏،۲۰؛ ۱۔سلاطین ۶:‏۱)‏۔

اِختتامی ابواب (‏۱۷۔۲۱)‏ میں وہ واقعات درج ہیں جو قاضیوں کے دَور میں رُونما ہوئے‏، لیکن انہیں کتاب کے آخر میں درج کیا گیا تاکہ اِس دَور کے دوران اِسرائیل میں ہونے والے مذہبی‏، اخلاقی اور معاشرتی زوال کی تصویر کو پیش کیا جائے۔ اِن اَدوار کی حالت کو ۱۷:‏۶ میں بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے ’’اُن دِنوں اِسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا اور ہر شخص جو کچھ اُس کی نظر میں اچھا معلوم ہوتا وہی کرتا تھا۔‘‘

اگر ہمارا یہ ایمان ہے کہ خدا کا ہر ایک لفظ سچا اور تمام الہامی نوشتے فائدہ مند ہیں‏، تو قضاۃ کی کتاب میں ہمارے لئے اہم روحانی مضامین اور اسباق ہیں۔ اِن میں سے بعض اسباق غیر قوم حملہ آوروں اور اِسرائیل کو مخلصی دینے والوں میں پوشیدہ ہیں۔ حملہ آور اِس دُنیا کی قوتوں کی تصویر پیش کرتے ہیں جو خدا کے لوگوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتی ہیں۔ قاضی اُن وسائل کی علامت ہیں جن کے ذریعے سے ہم روحانی جنگ لڑتے ہیں۔ 

ہم نے اپنی تفسیر میں بعض ایک عملی اطلاقات کو شامل کیا ہے۔ 

ہمیشہ اِس بات کا خدشہ موجود رہتا ہے کہ تشبیہات و علامات کے مطالعے میں ہم اِنتہا پسندی کا مظاہرہ کریں۔ ہم نے اپنی تفسیر میں اِس خطرے سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ علاوہ ازیں ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ بعض ایک ناموں کے معنی غیر یقینی ہیں۔ جہاں ممکن تھا ہم نے متبادل معانی دیئے ہیں۔ 

 

خاکہ
        باب
۱۔ نظر ثانی اور پیش بینی ‏۱:‏۱۔۳:‏۶‏
  الف۔ ماضی پر نظر ‏۱:‏۱۔۲:‏۱۰‏
  ب۔ مستقبل پر نظر ‏۲:‏۱۱۔۳:‏۶‏
۲۔ قاضیوں کے اَدوار ‏۳:‏ ۷۔۱۶:‏۳۱‏
  الف۔ غتنی ایل ‏۳:‏۷۔۱۱‏
  ب۔ اہود ‏۳:‏۱۲۔۳۰‏
  ج۔ شمجر ‏۳:‏۳۱‏
  د۔ دبورہ اور برق ‏ابواب ۴‏،۵‏
    ‏۱‏ اُن کی کہانی نثر میں ‏ ۴‏
    ‏۲‏ اُن کی کہانی نظم میں ‏ ۵‏
  ہ۔ جدعون ‏۶:‏ ۱۔۸:‏۳۲‏
    ‏۱‏ خدمت کے لئے جدعون کی بلاہٹ ‏ ۶‏
    ‏۲‏ جدعون کے تین سو مرد ‏ ۷‏
    ‏۳‏ جدعون کی فلستیوں پر فتح ‏۸:‏ ۱۔۳۲‏
  و۔ ابی ملک کا غاصبانہ قبضہ ‏۸:‏ ۳۳۔۹:‏۵۷‏
  ز۔ تولع اور یائیر ‏۱۰:‏ ۱۔۵‏
  ح۔ افتاح ‏۱۰:‏ ۶۔۱۲:‏۷‏
    ‏۱‏ اِسرائیل کی مصیبت ‏۱۰:‏۶۔۱۸‏
    ‏۲‏ افتاح اِسرائیل کا دفاع کرتا ہے ‏۱۱:‏۱۔۲۸‏
    ‏۳‏ اِفتاح کی مَنّت ‏۱۱:‏ ۲۹۔۴۰‏
    ‏۴‏ افتاح اِفرائیمیوں کو قتل کرتا ہے ‏۱۲:‏ ۱۔۷‏
  ط۔ ابصان‏، ایلون‏، عبدون ‏۱۲:‏ ۸۔۱۵‏
  ی۔ سمسون ‏ابواب ۱۳۔۱۶‏
    ‏۱‏ سمسون کی دین داری کی میراث ‏ ۱۳‏
    ‏۲‏ سمسون کی ضیافت اور پہیلی ‏ ۱۴‏
    ‏۳‏ سمسون کی اِنتقامی کارروائیاں ‏ ۱۵‏
    ‏۴‏ دلیلہ کا سمسون کو فریب دینا ‏ ۱۶‏
۳۔ مذہبی‏، اخلاقی اور سیاسی زوال ‏ابواب ۱۷۔۲۱‏
  الف۔ میکاہ کا بت خانہ قائم کرنا ‏ ۱۷‏
  ب۔ میکاہ اور دان کا قبیلہ ‏ ۱۸‏
  ج۔ للاوی اور اُس کی حرم ‏ ۱۹‏
  د۔ بنیمینیوں سے جنگ ‏ ۲۰‏،۲۱‏