زبور ۵۸ : منصفوں کی عدالت
۵۸: ۱، ۲ زبور کے آغاز میں ہی ناراست، ناانصاف منصفوں اور حاکموں کے خلاف سخت احتجاج کا اظہار ہے۔ دُنیا کے زور دار سرداروں کو طلب کیا گیا ہے۔ کیا اُنہوں نے راستی سے فیصلے کئے تھے؟کیا اُنہوں نے عام لوگوں کا انصاف کیا تھا؟ صاف اور واضح جواب ہے کہ ’’نہیں‘‘۔ اُنہوں نے دلی طور پر بڑی مکاری سے کام لیا۔ اور اُنہوں نے اپنے دلوں میں جو تدبیریں بنائیں اُن کے ہاتھوں نے اُنہیں عملی جامہ پہنایا۔ اُن کی سر زمین انصاف کے بگاڑ سے بھری پڑی ہے۔
۵۸: ۳ مضمون بددیانت منصفوں سے وسیع ہو کر شریروں کے وسیع طبقہ تک پہنچتا ہے جس سے اُن کا تعلق ہے۔ وہ بالغ ہو کر نہیں بگڑے بلکہ یہ بگاڑ تو پیدائش ہی سے شروع ہو گیا تھا۔ اُن کی زندگی میں لاقانونیت اور بغاوت پیدائشی ہیں، کیونکہ جونہی اُنہوں نے بولنا سیکھا، اُنہوں نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا۔
۵۸: ۴، ۵ اُن کی گفتگو میں بہتان تراشی ہے، وہ زہریلے اور مُہلک سانپ کے زہر کی مانند خطرناک ہے۔ بہرے ناگ کی مانند اُن کے کان خدا کی آواز کو نہیں سنتے، خواہ سپیرا کتنی ہی مہارت سے بین کیوں نہ بجائے۔
۵۸: ۶،۷ اُن وحشی شیروں کے دانت ٹوٹ جائیں، اُن کی ظالم ڈاڑھیں نکالی جائیں۔ وہ ایسے پانی کی مانند ہوں جسے زمین جلد ہی جذب کر لیتی ہے یا ایسی نہر کی مانند جو اچانک زمین کے اندر چھپ جاتی ہے۔
۵۸: ۸ اِس کے بعد گھونگوں اور کیڑوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جیسے گھونگا دھوپ میں گل کر فنا ہو جاتا ہے، بعینہٖ یہ مجرم جو لوگوں کے ذہنوں پر مسلط ہیں ختم ہو کر رہ جائیں۔
دوسری بد دعا یہ ہے کہ یہ شریر اسقاطِ حمل کے بچے کی طرح وقت سے پہلے مر جائیں، جس نے سورج کو دیکھا ہی نہیں۔ شریروں کی آنکھیں کبھی کھلی ہی نہیں، ابھی تک وہ صحیح پھل نہیں لائے۔ گناہ گار اسقاطِ حمل کی مانند ہیں، ایک ایسا وعدہ جس کی کبھی تکمیل ہی نہیں ہوئی۔
۵۸: ۹ بالآخر زبور نویس التجا کرتا ہے کہ شریروں کو اچانک ایسے دُور پھینک دیا جائے جیسے جلتے ہوئے کانٹوں کو بگولا اُڑا کر منتشر کر دیتا ہے، اِس سے پیشتر کہ ہانڈی کو اُن کی حرارت محسوس ہو۔ Maclaren کہتا ہے:
زبور نویس کے سامنے مسافروں کے جتھے کی تصویر ہے جو اپنے کیمپ میں بیٹھے کھانا تیار کر رہے ہوں۔ وہ چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں کی لکڑی ہنڈیا کے نیچے جلاتے اور توقع کرتے ہیں کہ یوں اُن کی بھوک مٹ جائے گی۔ لیکن ہنڈیا کے گرم ہونے سے پہلے ہی بگولا آتا ہے اور آگ ، ہنڈیا اور سب کچھ اڑا کر لے جاتا ہے۔
۵۸: ۱۰ یہاں یقینی طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب شریروں کو سزا ملے گی تو صادق فخر کرے گا اور وہ شریر کے خون سے اپنے پاؤں تر کرے گا۔ اگر ہم مسیحیوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ انتقامی اور محبت سے خالی طریق کار ہے تو ہم یہ جواز پیش کر سکتے ہیں کہ گو ہم فضل کے اِس دَور میں کسی کی سزا سے خوش نہیں، لیکن ایماندار اُس وقت تو ضرور خوش ہوں گے جب خداوند اپنے اِلٰہی جلال میں انتقام لے گا۔ آیئے ہم مورگن کے الفاظ پر غور کریں: ’’یہ غلط جذباتیت اور بڑی کمزوری ہو گی اگر ہم خدا کے غضب کے بجائے ظالم شریر کے ساتھ ہمدردی جتانا چاہیں۔‘‘
۵۸: ۱۱ بے دینوں کو سزا ملتے رہنے سے لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ صادق کو اجر ملا ہے اور کہ خدا واقعی اِس دُنیا میں لوگوں کو سزا دیتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ اَے بُزرُگو ! کیا تم در حقیِقت راستگوئی کرتے ہو؟اَے بنی آدم! کیا تُم ٹھیک عدالت کرتے ہو؟
۲ بلکہ تُم تو دِل ہی دِل میں شرارت کرتے ہو اور زمین پر اپنے ہاتھوں سے ظلُم پَیمائی کرتے ہو۔
۳ شریرپیدایش ہی سے کجروی اِختیار کرتے ہیں ۔ وہ پیدا ہوتے ہیں جھُوٹ بولکر گُمراہ ہو جاتے ہیں۔
۴ اُنکا زہر سانپ کا زہر ہے۔ وہ بہرے افعی کی مانِند ہیں جو کان بند کرلیتا ہے۔
۵ جو منتر پڑھنے والوں کی آواز ہی نہیں سُنتا خُواہ وہ کِتنی ہی ہوشیاری سے منتر پڑھیں۔
۶ اَے خُدا ! تُو اُنکے دانت اُن کے مُنہ میں توڑ دے ۔ اَے خُدا وند ! ببر کے بچوں کی ڈاڑھیں توڑ ڈال ۔
۷ وہ گُھلکر بہتے پانی کی ماننِد ہو جائیں۔ جب وہ اپنے تیر چلائیں تو گویا کُندپیَکان ہوں۔
۸ وہ اَیسے ہو جائیں جَیسے گھونگا گلکر فنا ہو جاتا ہےاور جَیسے عورت کا اسقاط جِس نے سورج کودیکھا ہی نہیں۔
۹ اِس سے پہلے کہ تمہاری ہانڈیوں کانٹوں کی آنچ لگے وہ ہرے اور جلتے دونوں کو یکساں بگولے سے اُڑا لے جائیگا۔
۱۰ صادِق اِنتقام کو دیکھ کر خُوش ہو گا۔وہ شریر کے خُون سے اپنے پاؤں تر کرے گا۔
۱۱ تب لوگ کہینگے یقِیناصادِق کے لئے اجر ہے۔بے شک خُدا ہے جو زمین پر عدالت کرتا ہے۔