فلپّیوں کے نام خط
تعارُف
“شفقت کا کتابچہ، فضل میں مجلّد” جے۔ایچ ۔ جوؔویٹ
۱- کُتُبِ مُصَدَّقہ میں لاثانی مقام
کسی قصبے یا شہر میں کِسی فِرقے کی پہلی کیلیسیا کو اُس کے پَیروؤں کی نظروں میں خاص عِزّت اور وقار حاصِل ہوتا ہے۔ تو تصّور کریں کہ جب ابھی فِرقے وجُود میں نہیں آئے تھے، اُس زمانے کی پہلی معلُومہ کلیسیا کو کیسی توقیراورعِزّت حاصِل ہوگی جبکہ صِرف ایک قصبے میں نہیں بلکہ پُورے یوؔرپ میں “پہلی کلیسیا” تھی۔ یہ ذِکر ہے قدیم مقدُونؔیہ (شمالی یوؔنان) میں فلؔپّی کی کلیسیا کا۔ پَولُسؔ رسُول رُومی سلطنت میں بشارت دیتے ہُوئے”مِکدُنی آدمی” (اعمال ۹:۱۶) کی بُلاہٹ پرمشرق کو نہیں’ بلکہ مغرب کی طرف مُتوجّہ ہُوا۔ اور مغرب کے مسیحیوں کو اِس بات پر بے حد خوش ہونا چاہئے (بلکہ غیرمسیحیوں کو بھی کہ وُہ بھی مسیحّیت کی ضمنی پیداوار کی برکت سے مُستفید ہو رہے ہیں)۔ اگر خوشخبری یوؔرپ میں قدم نہ جمالیتی تو شاید آج ایشؔیا کا برِاعظم مسیحی مشنری یورؔپ اور شمالیؔ امریکہ میں بھیج رہا ہوتا۔
فلؔپّی کی کلیسیا بُہت سخی تھی۔ وُہ اکثر پَولُسؔ کوامداد بھیجتی رہتی تھی۔ اِسی وجہ سے پَولُسؔ نے “شکریہ کا خط” لِکھا۔
مگر فلپّیوں کے نام خط کی صِرف یہی خصُوصیّت نہیں۔ دراَصل یہ’خوُشی’ کا خط ہے۔ اِس خط کے چار ابواب میں ‘خُوشی’ یا ‘خُوش ہونے’ کا ذِکر گیارہ دفعہ آتا ہے۔ پَولُسؔ اچھّے یا بُرے وقت میں خُوش رہنے کا فن جانتا تھا (۴ : ۱۱)۔ مزید برآں اِس خط میں صِرف تھوڑی ہی تنبیہ پائی جاتی ہے۔
مسیحیوں کے لئے خوشی منانے کی کلیدی وجہ یہ ہے کہ خُدا کا بیٹا اِنسان ـــــــــ بلکہ خادِم بن کراِس دُنیا میں آنے پرراضی ہؤا۔ اُس نے صِرف شِفا ہی نہیں دی، صِرف تعلیم ہی دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ موت ـــــــــــــ یہاں تک کہ صلیبی مَوت گوارا کی۔ فلپّیوں ۲: ۵-۱۱ میں اِس سچّائی کو نہایت خُوبصُورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ بُہت سے لوگ یقین سے کہتے ہیں کہ یہ ابتدائی دَور کا ایک مسیحی نغمہ ہے جِس کو پَولُسؔ نے اِقتباس کیا یا خُود لکِھا ہے۔ اِس حِصّے میں بھی حلیمی کے وسیلے سے اِتحاد اور یگانگت کا سبق دِیا گیا ہے۔
نئے عہد نامے میں عقیدے اور فرض کو کبھی ایک دُوسرے سےعلیٰحدہ نہیں کیا گیا جیسا کہ جدید دَور کے مسیحیوں میں ہوتا ہے اور جِس کے بُہت افسوسناک نتائج پَیدا ہوتے ہیں۔
۲- تصنِیف
بیشترعُلما مانتے ہیں کہ فِلپیّوں کا خط پَولُسؔ کی تصنیف ہے۔ چُنانچہ ہم صِرف بات مکمّل کرنے کی خاطر شواہد پیش کرتے ہیں۔ بعض عُلما کا خیال ہے کہ فلپیّوں میں دو خط اکٹھے کر دِئے گئے ہیں۔ یا کم سے کم خادم کے بیان والا حِصّہ (۵:۲ -۱۱) بعد میں داخِل کیا گیا ہے۔ لیکن اِن نظریات کے لئے کِسی مُسودہ سے کوئی شہادت دستیاب نہیں۔
خارجی شہادت بے حد مضبُوط ہے۔ جِن افراد نے اِس خط میں سے بُہت پہلے اِقتباس کئے اور جو خصُوصی طور پراس کو پَولُسؔ کی تصنیف مانتے ہیں اُن میں افناطِسُیوسؔ، رؔوم کا کلیمؔینس، پالِکارؔپ، ایرینیُّسؔ، سکنؔدریہ کا کلیمؔینس اورطرطُلیاؔن شامِل ہیں۔ مرقیوؔن اور مرتوروی دونوں فہرستِ مُستند کُتب میں تقسیم کیا گیا ہے کہ یہ کتاب پَولُسؔ کی تصنیف ہے۔
ا:ا میں تو واضح طور سے بیان ہؤا ہے کہ یہ خط پَولُسؔ نے لِکھا ہے۔ مگر پُورا اُسلوبِ بیان اورالفاظ و بندش سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ پَولُسؔ کی تصنیف ہونے کے خلاف جو دلِیلیں پیش کی جاتی ہیں وُہ بُہت معمُولی اورناقابلِ قبول ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ ا:ا میں”نگہبانوں اور خادموں” یعنی بِشپوں اور ڈیکنوں کا ذِکر ہے۔ اور یہ بات مُتقاضی ہے کہ خط کوپَولُسؔ کے زمانے کے بعد کی تصنیف سمجھا جائے۔ یہ دلیل اُسی صُورت میں درُست ہو سکتی ہے اگر ہم “بشپ” کے بعد کے زمانے کے تصُّور کو پہلی صَدی میں لے جائیں۔ لیکن پَولُسؔ نے یہاں اور اپنے پاسبانی خطُوط میں اور اعمال ۲۰ : ۲۸ میں بھی یونانی زبان کا لفظ episkopoi اِستعمال کیا ہے جو نِگران یا مہتمِم کے ہم معنی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غَور ہے کہ ایک کلیسیا کو مخاطب کیا گیا ہے جِس میں بشپوں کی’کثرت’ تھی—
ایچ ۔ اے ۔ اے۔ کینؔیڈی داخلی شہادت کے بارے میں بڑے اِختصار سے خوبصورت بات کہتا ہے:
“شاید پَولُسؔ کا کوئی خط بھی حتمی طور پر تصدیق کی ایسی مُہر نہیں رکھتا۔ اس میں ایک بے ساختہ پن اوراحساس کی نزاکت ہے۔ اوردِل کو کھول کر یُوں اُنڈَیل دیا گیا ہے کہ جِس کی نقل کرنا مکن ہی نہیں”۔
۳۔ سنِ تصنیف
اِفسیوں، کلسّیوں اور فلیمُون کے خطُوط کی طرح فلپّیوں کا خط بھی قید خانے سے لِکھا گیا۔ اِسی لئےاِن خطُوط کو قید خانے (یا اسیری) کے خطُوط کا نام دیا جاتا ہے۔ دُوسرے خطُوط کے بارے میں تو یقینی طور سے کہا جا سکتا ہے کہ وُہ تقریباً ایک ہی زمانے میں لِکھے اور بھیجے گئے تھے (تقریباً سنہ ۶۰)۔ لیکن صاف نظرآتا ہے کہ فلپّیوں کا خط کُچھ دیر کے بعد لکھا گیا۔ مرقیوؔن خاص طور سے کہتا ہے کہ یہ خط روؔم سے لِکھا گیا۔ یہ بات ۱۳:۱ اور۲۲:۴ کے ساتھ بھی مُطابقت رکھتی ہے کیونکہ اِن آیات سے واضح اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خط روم ہی سے لکھا گیا۔
پَولُسؔ نے روؔم میں دو سال کا عرصہ زیرِ حراست گزارا۔ فلپیوں کے خط میں ایسے اِشارے ملتے ہیں کہ یہ خط اِس عرصے کے اواخِر میں تحِریر ہؤا۔ مثال کے طور پر۱: ۱۲ – ۱۸ سے یہ اِشارہ ملتا ہے کہ روؔم آنے کے بعد کُچھ عرصے سے بشارت کی خِدمت ہُوئی تھی۔ ۱۲:۱’
۱۳’ ۱۹’۲۳-۲۶ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پَولُسؔ کے مقدمے کا فیصلہ (غالباً مثبت صُورت یعنی رہائی کا) ہونے کو تھا۔
ان واقعات کے ساتھ اگر ہم خط لِکھنے، ملاقاتوں اور مالی ہدیوں کو بھی جن کا اِس خط میں ذِکر ہے، خیال میں رکھیں اور اِن سب پر صَرف ہونے والے وقت کا بھی اندازہ کریں توسنِ تصنیف سنہ۶۱ کے اواخر میں ہوگا۔
۴- پَس منظر اور مَوضُوع
مسیحی مِشنوں کی تاریخ میں وُہ دِن نہایت اہم تھا جَب پَولُسؔ رسول اپنے دُوسرے بشارتی دَورے کے دَوران تروآسؔ میں آیا۔ تؔروآس یوناؔن کے بالمقابل بحیرہ اخؔضر کے پارایشیؔائے کوچک کے شمال مغربی ساحِل پر واقع تھا۔ ایک رات رویا میں ایک مکدنی آدمی رسُول پر ظاہر ہؤا، اور کہنے لگا “پاراُترکرمکدؔنیہ میں آاور ہماری مَدد کر” (اعمال ۹:۱۶)۔ پَولُسؔ نے فوراً اِنتظام کیا کہ تیمتھیؔس، لُوقاؔ اورسیؔلاس کو لے کر جہاز پر سوار ہو اور مَکِدُنیؔہ (مقدؔونیہ) جائے۔ سب سے پہلے اُنہوں نے نیاپُلسؔ کے مقام پر یوؔرپ کی سرزمین پر قدم رکھے۔ پھراندُرونِ مُلک فلپّی کو روانہ ہُوئے۔ فلؔپّی اُس زمانے میں رُوم کی نوآبادی تھا۔ شہر کے حاکم رومی ہوتے تھے اور یہاں کے باشِندوں کو رُومی شہریت کے حقوق و اِستحقاق دیتے تھے۔
سبت کے دِن یہ مبشر شہر سے باہر نَدی کے کنارے گئے جہاں چند عَورتیں دُعا کے لئے جمع ہؤا کرتی تھیں(اعمال ۱۳:۱۶)- اِن عورتوں میں ایک لُدیؔہ تھی جِس کا تعلق تھواؔتیرہ شہر سے تھا اور جو قرمز بیچا کرتی تھی۔ اُس نے انجیل کے پیغام کو قبول کیا اورایمان لائی۔
وُہ برِاعظم یوؔرپ کی پہلی معلوُمہ ایمان دار ہے۔
لیکن فلؔپّی میں پَولُسؔ کا قیام پُراَمن اور پُرسکوُن ثابت نہ ہؤا۔ وہاں ایک نوجوان لڑکی تھی جِس میں غیب دان رُوح تھی (وُہ آئندہ کے واقعات کی خبر دیتی تھی)۔ اُس کی خُدا کے خادموں سے مُلاقات ہوگئی۔ وُہ بُہت دِنوں تک اُن کے پیچھے آکر چلّاتی رہی کہ “یہ آدمی خُدا تعالیٰ کے بندے ہیں جو تمُہیں نجات کی راہ بناتے ہیں” (اعمال ۱۷:۱۶)۔ پَولُسؔ رسُول اِس بات پر راضی نہ تھا کہ کوئی بَد رُوح گرفتہ ہمارے حق میں گواہی دے۔ اِس لئے اُس نے بَد رُوح کو حکم دیا کہ اِس لونڈی میں سے نِکل جائے۔ لونڈی کے مالِکوں کو اُس کی پیش گوئیوں سے بُہت آمدن ہوتی تھی۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ ہماری کمائی کی اُمید جاتی رہی تو وُہ پَولُسؔ پر بے حَد غضبناک ہُوئے۔ وُہ اُسے اور سیلؔاس کو کھینچ کر شہر کے رومی حاکِموں کے پاس چَوک میں لے گئے۔ اُن حاکِموں نے حُکم دیا کہ اُن کو بینت لگا کر قید میں ڈال دیا جائے۔ فلپّی کے قید خانے میں جو واقعات رُونما ہُوئے وُہ بُہت مشہور ہیں۔ آدھی رات کے وقت پَولُسؔ اور سیلؔاس خُدا کی حمد کے گیت گا رہے اور دُعا مانگ رہے تھے کہ اچانک ایک زبردست بھَونچال آیا۔ قید خانے کے تمام دروازے کُھل گئے اورقیدیوں کی زنجیریں اوربیٹریاں بھی کھُل گئیں۔ جیل کے داروغہ نے سمجھا کہ قیدی بھاگ گئے اِس لئے خودکشی کرنے لگا۔ مگر پَولُسؔ نے پکار کر اُسے یقین دلایا کہ سارے قیدی موجُود ہیں۔ اِس پر داروغہ پکاراُٹھا “اے صاحبو! مَیں کیا کُروں کہ نجات پاؤں؟” اُس کو جوجواب مِلا وُہ نہایت یادگار ہے کہ “خُداوند یسؔوع پر ایمان لا، تو تُو اور تیرا گھرانا نجات پائے گا” (اعمال ۱۶: ۳۱)۔ خُدا کے فضل نے فلؔپّی میں ایک اَور فتح حاصِل کرلی تھی۔ صُبح ہُوئی تو شہر کے حاکم پَولُسؔ اوراُس کے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ جَلد سے جَلد شہر سے نِکل جاؤ۔ مگر پَولُسؔ نے اِنکار کرتے ہوئے اُن کو یاد دِلایا کہ تُم نے ہم کو پٹوایا اور بغیر مناسب مُقدمّہ چلائے قید خانے میں ڈال دیا تھا، حالانکہ مَیں رومی شہری ہُوں۔ حاکموں نے بار بار اُس سے اپیل کی تو وُہ مان گیا۔ پہلے وُہ اپنے ساتھِیوں سمیت لُدیّہ کے ہاں گیا، پھر شہر سے روانہ ہو گئے (اعمال ۲۰:۱۶)۔
تقریباً دس سال بعد پَولُسؔ نے فلپّیوں کو خط لِکھا۔ اِس وقت وُہ پھِر قید میں تھا۔ فلپّیوں نے سُنا کہ وُہ قید میں ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے کُچھ مالی ہدیہ اُس کو بھیجا۔ اپفردتسؔ کو مقرر کیا گیا کہ یہ ہدیہ پَولُسؔ کو پہُنچائے۔ ہدیہ پُہنچانے کے بعد اپفردتسؔ نے فیصلہ کیا کہ مَیں کُچھ دیراَور یہیں قیام کروں گا اور مشکِل وقت رسُول کی خِدمت کروں گا۔ یہ فرائض ادا کرتے ہُوئے اپفردتسؔ خُود بیمار پڑ گیا، یہاں تک کہ مرنے کے قریب ہو گیا۔ مگر خُدا نے اُس پر رحم کیا اوراُس کی صحت کو دوبارہ بحال کیا۔ اب وہ فلپّی میں اپنی جماعت کے پاس واپس جانے کو تیار ہے۔ پَولُسؔ شکرِیہ کا یہ خط اُسی کے ہاتھ روانہ کرتا ہے۔ فلپّیوں کا خط پَولُسؔ کا نہایت شخصی اور شفقت سے بھرا ہؤا خط ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وُہ اپنی اِس جماعت سے خاص محبّت رکھتا تھا۔ اِسے پڑھتے ہُوئے واضح احساس ہوتا ہے کہ رسُول اور اُس کی قائم کردہ کلیسیا کے درمیان محّبت کا کیسا پیار بھَرا رِشتہ موجُود تھا۔
| خاکہ | |||
| باب | |||
| -۱ | پَولُسؔ کی طرف سے سلام ، خُدا کی حَمد اور دُعا | ۱۱-۱:۱ | |
| ۲۔ | پَولُسؔ کی قید، توقعات اور ثابت قدمی کے لئے درخواست | ۳۰-۱۲:۱ | |
| ۳- | مسیح کے حِلم اور قُربانی کی بنیاد پر یک دِلی کی نصیحت | ۱۶-۱:۲ | |
| ۴- | مسیح کی مانند بننے میں پَولُسؔ، تیمتھؔیس اور اپفردتسؔ کا نمونہ | ۳۰-۲:۱۷ | |
| ۵۔ | جھُوٹے اُستادوں کے بارے میں اِنتباه | ۳-۳:۱ | |
| ۶- | پَولُسؔ مسیح کی خاطر اپنی میراث اور ذاتی کامیابیوں سے دستبردار ہوتا ہے | ۱۴-۳:۴ | |
| -۷ | آسمانی چال چلنے کی نصیحت جِس کا نمونہ رسُول نے پیش کِیا ہے | ۲۱-۱۵:۳ | |
| ۸- | ہم آہنگی، باہمی مدد، خُوشی، تحمل، دُعائیہ زندگی اور سوچ و فِکر پر ضبط کی تلقین | ۹-۴:۱ | |
| ۹- | مقدسین سے مالی اِمداد کے لئے پَولُسؔ کی شُکرگزاری | ۲۰-۴:۱۰ | |
| ۱۰- | اِختتامی سلام | ۲۳-۴:۲۱ | |