زبور ۳۷ : حقیقی اطمینان
داؤد نے اپنی زندگی کے دوران بے دین اور بددیانت لوگوں کے ہاتھوں بہت زیادہ دُکھ اُٹھایا۔ اب وہ بوڑھا ہے اور نصیحت کرتا ہے کہ شریروں کے منصوبوں کا تختہ مشق بنتے ہوئے کیسے ردِ عمل ظاہر کرنا چاہئے۔
۳۷:۱،۲ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم بدکرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہوں۔ اِس کا خطرہ یہ ہے کہ رات کے وقت بستر پر لیٹے ہوئے ہم تلخ واقعات کو دہراتے رہیں گے۔ پہلے تو ہم یہ سوچتے ہیں کہ اُنہوں نے کیا کہا اور کیا کیا اور پھر ہم یاد کرتے ہیں کہ ہم نے اُنہیں کیسے جواب دیا اور پھر ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم کیسے اُنہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دیں۔ جلد ہی ہمارا نظامِ اِنہضام خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ہم کروٹ پر کروٹیں لینے لگتے ہیں اور پریشان ہو جاتے ہیں کہ کب نیند آئے گی۔ ہمارا بیزار ہونا کسی اَور کو نہیں بلکہ ہمیں تکلیف دیتا ہے اور حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لازم ہے کہ ہم اِس سے گریز کریں۔
خواہ ہم اَور جو کچھ بھی کریں، لیکن ہمیں بدی کرنے والوں پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔ اُن کے لئے یہی دُنیا اُن کا فردوس ہے۔ سزا کی درانتی اُنہیں جلد ہی کاٹ ڈالے گی اور اُن کی ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی سبزے کی طرح جلد ہی مرجھا جائے گی۔
۳۷: ۳ یہ اس کا منفی رُخ ہے — اُن سے بیزار نہ ہوں اور کبھی یہ خواہش نہ کریں کہ کاش ہم بھی اُن جیسے ہوتے۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ سب سے پہلا کام یہ کریں کہ خدا پر توکل کریں اور نیکی کریں۔ اِس توکل کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سادہ لوح رجائیت پسندی کا شکار ہو جائیں، بلکہ یہ مطلب ہے کہ ہم خدا پر مسلسل گہرے طور پر تکیہ کریں کیونکہ اُس نے بدکاروں کو سزا اور راست بازوں کو جزا دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اُس کا کلام کبھی ناکام نہیں ہوا۔ راست باز مُلک میں آباد رہے گا اور تحفظ سے لطف اندوز ہو گا۔ بدروحوں یا انسانوں کے خطرناک حملوں کے باوجود مسیح کی کوئی بھی بھیڑ ہلاک نہیں ہو گی (یوحنا ۱۰: ۲۷۔۲۹)۔جو مسیح پر ایمان رکھتے ہیں اُن سب کو باپ کے گھر میں رہنے کے لئے مکانوں کی ضمانت دی گئی ہے (یوحنا ۱۴: ۱۔۶)۔
جان ویزلی نے ایک دفعہ اپنے ایک مبشر دوست کو کچھ مالی امداد بھیجی۔ پانچ پاؤنڈ کا نوٹ لفافہ میں بند کیا اور ساتھ ایک چھوٹی سی چٹھی بھی لکھی ’’پیارے سیمی! خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔ مُلک میں آباد رہ، یقیناًتُو پرورش پائے گا۔‘‘ اظہار تشکر کے طور پر اُس کے دوست نے لکھا ’’ مَیں آپ کے خط میں کلام کے خوب صورت اقتباس سے اکثر متاثر ہوا ہوں، لیکن آج مَیں نے اُس کا سب سے خوب صورت تشریحی نوٹ پڑھا ہے۔‘‘
۳۷: ۴ فرض کریں کہ آپ کے دل میں خداوند کی خدمت کے لئے کسی منصوبے کی خواہش ہے۔ آپ کو اعتماد ہے کہ وہ آپ کی راہنمائی کرتا رہا ہے اور آپ کا واحد مقصد یہ ہے کہ اُس کے نام کو جلال دیں۔ لیکن آپ کے کسی زبردست مخالف نے آپ کی مخالفت کی اور زندگی کے ہر موڑ پر آپ کی راہ میں روڑے اٹکاتا رہا۔ ایسی صورتِ حال میں آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ خداوند میں مسرور رہیں اور یقین رکھیں کہ وہ اپنے وقت پر آپ کے دل کی مرادیں پوری کرے گا۔ اپنے مخالف کے ساتھ جھگڑا کرنا آپ کا کام نہیں ہے۔ ’’یہ جنگ تمہاری نہیں بلکہ خدا کی ہے‘‘ (۲۔تواریخ ۲۰: ۱۵)۔ ’’خداوند تمہاری طرف سے جنگ کرے گا اور تم خاموش رہو گے‘‘ (خروج ۱۴:۱۴)۔
۳۷: ۵،۶ یا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، یا آپ پر غلط الزامات لگائے گئے۔ اگر اُن میں ذرہ بھر بھی سچائی ہو تو اُنہیں قبول کرنا اِس قدر مشکل نہیں۔ لیکن وہ لوگ بالکل غلط اور کینہ پرور ہیں۔ آپ کیا کریں گے؟ سارا معاملہ خداوند کے ہاتھ میں دے دیں۔ اپنی ساری فکریں اُس پر ڈال دیں۔ اپنی طرف سے اُسے جنگ کرنے دیں، تب خداوند آپ کو کلی طور پر بری کرے گا۔ سب پر واضح ہو جائے گا کہ آپ بہرکیف بے گناہ تھے۔ بارنز کہتا ہے:
شاید آپ پر بہتان تراشی کی گئی ہو، شاید آپ کی کردار کُشی کی گئی ہو، شاید شریر لوگوں کے منصوبوں سے آپ کو اِس طور سے ملامت کی جاتی ہو کہ آپ اِس کا مقابلہ نہ کر سکیں — لیکن اگر آپ اپنے معاملہ کو خداوند کے ہاتھ میں دے دیں، تو وہ آپ کے کردار کا تحفظ کرے گا اور وہ حالات کو روزِ روشن کی طرح واضح کر دے گا۔ آپ کے کردار کے حوالہ سے سچائی نکھر کر سامنے آ جائے گی اور آپ کے رویہ کے مقاصد آفتاب کی طرح ہوں گے جس پر کسی طرح کے بادل کا سایہ نہ ہو۔
۳۷: ۷،۸ اپنے معاملہ کو خداوند کے سپرد کرنے کے بعد دوسرا قدم یہ ہے کہ آپ اُس میں مطمئن رہیں۔ چونکہ آپ کا بوجھ وہ اُٹھا رہا ہے اِس لئے ضروری نہیں کہ آپ بھی اِسے اُٹھائے رکھیں۔ اکثر اوقات ہم یہی کچھ کرتے ہیں۔ ہم پس و پیش کرتے ہوئے اپنی فکریں اُس پر ڈالتے ہیں اور پھر فوری طور پر اُنہیں اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔
’’اور صبر سے اُس کی آس رکھ۔‘‘ ملاحظہ فرمایئے کہ کس طرح باربار کہا گیا ہے کہ ایماندار کی مدد خداوند میں ہے:
- خداوند پر توکل کر (آیت ۳)
- خداوند میں مسرور رہ (آیت۴)
- اپنی راہ خداوند پر چھوڑ دے (آیت ۵)
- خداوند میں مطمئن رہ (آیت ۷ الف)
- اور صبر سے اُس کی آس رکھ (آیت ۷ ب)
بعض اوقات ہمارے لئے یہ سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ انتظار کرنا ہمارے لئے سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ لیکن حقیقی ایمان آس رکھتا ہے اور بااعتماد ہوتا ہے کہ جس چیز کا خداوند نے وعدہ کیا ہے وہ ضرور کرے گا (رومیوں ۴:۲۱)۔
دوسری بار داؤد کہتا ہے کہ ’’ بیزار نہ ہو۔‘‘ لیکن اِسے کیوں دہرایا گیا؟ اِس پر زور دینے کے لئے۔ اگر ہم ارادہ کر بھی لیں کہ ہمارے ساتھ جو سلوک ہوا ہے، اُس سے بیزار نہیں ہوں گے تو بھی ہم اکثر واپس جا کر اپنے ذہنوں میں اُسی کیچڑ کو کھنگالنا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ اپنی شکست کے مترادف اور خطرناک بھی ہے۔ اگر شریر اپنی راہوں میں ترقی بھی کرے اور اپنے بُرے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب بھی ہو جائے، تو بھی مسیحی کو جذباتی طور پر پریشان نہیں ہونا چاہئے، اُسے اپنے دل میں غصہ، تلخی، کینہ اور نفرت نہیں رکھنی چاہئے۔ اگر ہم اِن رویوں کو اپنائیں گے تو بالآخر یہ پُرتشدد الفاظ اور اعمال میں ظاہر ہوں گے۔ تب ہم خود دوسروں کے لئے مجرم اور ٹھوکر کا باعث بن جائیں گے۔
۳۷: ۹۔۱۱ وہ دن آ رہا ہے جب اِس دُنیا کی سب برائیوں کو دُرست کر دیا جائے گا۔اُس وقت بدکار کاٹ ڈالے جائیں گے اور توکل کرنے والے مقدسین اُن سب برکتوں کے وارث ہوں گے جن کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے۔ بہت جلد بدکردار غائب ہو جائیں گے۔ اگر آپ غور سے اُنہیں تلاش کریں گے تو آپ کی تلاش بے سود ہو گی۔ اُس دن حلیم زمین کے وارث ہوں گے اور اُس کی فراوان خوش حالی سے لطف اندوز ہوں گے۔ وہ دن کب آئے گا؟ کلیسیا کے لئے اُس کا آغاز اُس دن ہو گا جب نجات دہندہ بادلوں کے ساتھ نیچے آئے گا اور اپنے منتظر لوگوں کو آسمانی گھر میں لے جائے گا۔ اسرائیل کے ایماندار لوگوں اور قوموں کے لئے اُس کا اُس وقت آغاز ہو گا جب خداوند یسوع زمین پر واپس آ کر اپنے دشمنوں کو ختم کر ڈالے گا اور سلامتی کے ہزار سالہ دَور میں بادشاہی کرے گا۔ پہاڑی وعظ میں یسوع نے اِس جلالی دن کو اِن الفاظ میں بیان کیا:
’’مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے‘‘ (متی ۵:۵)۔
۳۷: ۱۲،۱۳ اِس دوران دھوکا باز، استحصال کرنے والے اور ظالم لوگ خدا کے فرزندوں کے خلاف منصوبے باندھتے ہیں۔ وہ خداوند سے محبت رکھنے والوں کے ساتھ سخت دشمنی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن یہواہ اُن کے دانت پیسنے سے مشتعل نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ یوم الحساب دُور نہیں ہے۔ جب ہم اپنے دشمنوں کو اِس پہلو سے دیکھتے ہیں تو ہم بھی مطمئن رہ سکتے ہیں۔
۳۷: ۱۴،۱۵ اکثر یوں دکھائی دیتا ہے کہ سچائی ہمیشہ پاؤں تلے روندی جاتی ہے جب کہ بدی ہمیشہ تخت پر براجمان ہوتی ہے۔ شریر بالکل مسلح اور تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔مقابلے میں راست باز اِس قدر سازوسامان سے لیس نہیں اور وہ اِس قدر چالاک بھی نہیں۔ لیکن اخلاقی دنیا میں کچھ غیر لچک دار قوانین کارفرما ہیں۔ آخر کار بد کار کی راہیں مشکل ہو جاتی ہیں۔ گناہ ظاہر ہو گا اور اُس کی سزا بھی ملے گی۔ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے گناہوں سے فرار حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اُن کا الٹا اثر ہمیشہ کار فرما ہے۔ اُن کی تلوار اُن ہی کے دل کو چھیدے گی۔ جب اُنہیں اِن کی سخت ضرورت ہو گی تواُن کے ہتھیار ناکام ہو جائیں گے، اُن کی کمانیں توڑی جائیں گی۔
۳۷:۱۶ صادق کا تھوڑا سامال شریروں کی بہت سی دولت سے بہتر ہے کیونکہ مقدسین کے پاس اُن کا خداوند ہے، جب کہ شریر اِس سے محروم ہیں ۔ عبرانیوں کا مصنف ایمان دار کی بے مثال دولت کو بیان کرنے کے بعد قدرے ایک طرف جھکاؤ کے ساتھ اضافہ کرتاہے ’’ جو تمہارے پاس ہے اُسی پر قناعت کرو کیوں کہ اُس نے خود فرمایا ہے کہ مَیں تجھ سے ہرگز دست بردار نہ ہوں گا اور کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا‘‘ (عبرانیوں ۱۳:۵)۔
۳۷: ۱۷،۱۸ شریروں کے بازو (اُن کی قوت) توڑے جائیں گے، لیکن صادق کا یہ حال نہ ہو گا۔ لامحدود قوت کا مالک خداوند اُنہیں سنبھالے گا۔ وہ کامل لوگوں کے ایام کو جانتاہے، یعنی اِن ایام میں جو کچھ بھی ہے اور بالآخر اُن کا کیا انجام ہو گا۔ وہ جانتا ہے کہ صادق کی میراث ہمیشہ کے لئے قائم رہے گی۔ یہ میراث غیر فانی، بے داغ اور لازوال ہے۔ وہ اُن کے واسطے آسمان پر محفوظ ہے جو خدا کی قدرت سے اور ایمان کے وسیلہ سے اُس نجات کے لئے جو آخری وقت میں ظاہر ہونے کو ہے محفوظ کئے گئے ہیں (۱۔ پطرس ۱: ۴،۵)۔
۳۷:۱۹ مشکل وقت آنے پر مقدسین شرمندہ نہ ہوں گے۔اُن کے پاس اِن مشکلات کا جائزہ لینے کے لئے پوشیدہ روحانی وسائل ہیں۔ کال اور قلت کے دنوں میں وہ خاص قسم کی فراوانی سے لطف اندوز ہوں گے۔ اوّل، اُنہوں نے ایثار کی زندگی بسر کرنا سیکھا ہے، چنانچہ جب اُن کے پاس کھانے کی کمی ہوگی تو وہ کسی طرح کے احساس محرومی کا شکار نہ ہوں گے۔ لیکن اُن کے پاس خداوند بھی ہے جو بیابان میں اُن کے لئے دستر خوان بچھاتا ہے۔ وہ معجزانہ طور پر خدا کی پروردگاری کا تجربہ کرتے ہیں اور آسمان سے ایسے من کا ایک خاص پوشیدہ مزہ ہوتاہے۔
۳۷:۲۰ لیکن شریر ہلاک ہوں گے۔سارے زبور کے دوران خداوند کے دشمنوں کے لئے موت کا یہ اعلان صادر ہوتا ہے۔ اُنہیں شریر اور بدکار کہا گیا ہے،جو اپنی روِشوں میں ترقی کرتے اور برے منصوبے باندھتے ہیں۔ وہ خداوند کے دشمن ہیں، جو خداوند کی طرف سے ملعون ہیں۔ وہ بدکاروں کی اولاد ہیں اور ناراست ہیں۔ لفظ’’شریر‘‘ اِس زبور میں کلیدی نوعیت رکھتا ہے کیوں کہ یہ چودہ بار استعمال ہوا ہے۔
خداوند کے دشمن چراگاہوں کی سرسبزی کی مانند ہیں جو ایک دن ہری بھری اور پھولوں سے لدی ہوتی ہے، لیکن اگلے دن کٹ جاتی ہے یا موسم کی تبدیلی سے مرجھا جاتی ہے۔ وہ دھوئیں کی طرح ناپائیدارہیں اور جلد ہی ختم ہوجائیں گے۔
۳۷: ۲۱ شریر قرض لیتا ہے اور ادا نہیں کرتا۔اِس کا شاید یہ مطلب ہے کہ وہ ادائیگی کے لئے بے پروائی سے کام لیتا ہے یا وہ ادا نہیں کر سکتا۔لیکن اپنے سارے مال میں سے وہ کیوں ادا نہیں کرسکتا ؟ اِس کاجواب یہ ہے کہ وسائل کی نسبت اُس کے اخراجات وسیع ہوتے ہیں۔ روپے کے لالچ میں وہ سٹے بازی کرتا رہتا ہے۔ جب اُسے گھاٹا پڑتا ہے تووہ اپنے نقصان کو پورا کرنے کے لئے اُدھار لیتا ہے۔ یہ ایک پرانا طریق کار ہے کہ زید سے اُدھار لے کر بکر کو ادا کر دیں۔ وہ قرض پر اپنا محل کھڑا کرتا ہے اور جب بُرے دن آتے ہیں تو وہ پریشانی میں اپنے تباہ ہوتے ہوئے وسائل کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ خوش حالی کی ظاہری آڑ کے پیچھے مالی ابتری ہوتی ہے۔
گو صادق اِس قدر دولت مند تو نہیں ہوتے، لیکن وہ بہت زیادہ فیاض طبع ہوتے ہیں، اور اُن کا ہمیشہ یہ مطمع نظر ہوتا ہے کہ دینا لینے سے مبارک ہے۔ اُنہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر ایماندار فی الحقیقت دیناچاہتا ہے ، تو اِس کے لئے اُس کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہو گی ۔ جیسا کہ پولس رسول نے سکھایا:
’’ اور خدا تم پر ہر طرح کا فضل کثرت سے کر سکتا ہے تا کہ تم کو ہمیشہ ہر چیز کافی طور پر ملا کرے اور ہر نیک کام کے لئے تمہارے پاس بہت کچھ موجود رہا کرے ‘‘ (۲۔کرنتھیوں ۹:۸)۔
۳۷:۲۲ راست باز اور شریر کے مقدر کا انحصار خداوند کے ساتھ اُن کے تعلق پر ہوتا ہے۔ جو ایمان سے راست باز ٹھہرائے گئے ہیں، خداوند اُنہیں برکت دیتا ہے۔ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔ جنہوں نے خدا کی نجات کی پیش کش سے انکار کر دیا ہے، وہ لعنت کے تحت ناقابل رشک حالت میں ہیں، وہ کاٹ ڈالے جائیں گے۔
۳۷: ۲۳،۲۴ نیک مرد کی روشیں خداوند کی طرف سے قائم ہیں …گو لفظ ’’نیک‘‘ اصلی متن میں درج نہیں ہے لیکن آیات ۲۳،۲۴ میں یہ خیال موجود ہے۔ جو شخص خداوند کے ساتھ رفاقت رکھتا ہے، خداوند ہی اُس کی روشوں کو ترتیب دیتا ہے۔ جس کی راہوں سے خدا خوش ہے، وہ اُسے سنبھالتا ہے۔ گو ایسا شخص آزمائشوں اور پریشانیوں میں گر جائے، لیکن وہ اِن میں گرا نہیں رہے گا کیونکہ خداوند اُسے اپنے ہاتھوں میں سنبھالتے ہوئے اُس کی حفاظت کرتا ہے۔ بے شک یہ بھی صحیح ہے کہ اگر صادق گناہ میں گر جائے، تو خداوند اُسے چھوڑ نہیں دے گا، لیکن اِس آیت سے ہم یہ خیال اخذ نہیں کر سکتے۔
۳۷: ۲۵ داؤد نے اپنی ساری زندگی میں (وہ بوڑھا تھا جب اُس نے یہ زبور لکھا) کبھی بھی صادق کو بے کس اور اُس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔ شاید کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اُسے کئی ایک ایسے واقعات یاد ہیں جہاں یہ باتیں فی الحقیقت وقوع پذیر ہوئیں۔ جواب میں ہم اِس کے بارے میں دو آرا پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اوّل، داؤد کا شاید یہ مطلب ہو کہ اُسے کسی ایسے صادق شخص کے بارے میں علم نہیں جسے بالآخر چھوڑا گیا یا وہ بے کس ہو۔ دوم، وہ یہاں صرف ایک عمومی اصول بیان کر رہا ہو۔
۳۷: ۲۶ صادق شخص کے لئے یہ کہیں بعید ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بھیک مانگنے کے لئے بھیجے، بلکہ وہ فیاضی سے خیرات دیتا ہے اور اکثر قرض دیتا ہے۔ خدا کے کلام پر عمل کرتے ہوئے وہ محنت، کفایت شعاری اور قدامت پسندی سے کام لیتا ہے۔ سخت محنت، احتیاط سے خریداری کرنے، فضول خرچی سے احتراز کرنے اور وسائل ضائع نہ کرنے سے وہ اپنی دولت میں اضافہ کرتا ہے تاکہ ضرورت مندوں کو دے سکے۔ اُس کی اولاد برکت کا باعث بنتی ہے کیونکہ اُنہوں نے گھر پر یہ اصول سیکھے ہیں اور اپنی ساری زندگی میں اُن پر عمل کرتے ہیں۔
۳۷: ۲۷ بائبل کی کئی آیات میں سے یہ بھی ایک ایسی آیت ہے جو بظاہر یہ تعلیم دیتی ہے کہ ہمیں اعمال سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ہم افسیوں ۲: ۸۔ ۱۰ اور طِطس ۳:۵ ایسے کلام کے حصوں سے سیکھتے ہیں کہ یہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اِن تینوں حوالہ جات کو ایک ہی وقت پڑھنے سے ہم ضرور یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ اگر کوئی شخص نجات یافتہ ہے تو اُس سے نیک کام ظاہر ہوں گے اور ایسے وفادار مقدسین وہ واحد لوگ ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قائم رہیں گے۔
۳۷: ۲۸ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے اور وہ اپنے انصاف سے اپنے مقدسین کو ہمیشہ کے لئے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ بات نہیں کہ مقدسین ابدی زندگی کے مستحق ہیں، بلکہ خداوند مسیح نے اِس زندگی کو خریدنے کے لئے اپنی جان دی اور لازم ہے کہ خدا اِس ادائیگی کی شرائط کی پابندی کرے۔
زبور نویس ایماندار کے تحفظ پر سوچ بچار کرنا پسند کرتا ہے (دیکھیں آیات ۱۸، ۲۴، ۲۸ اور ۳۳)۔ وہ سب جو ایمان سے خداوند یسوع مسیح میں نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں، خدا کے کلام کی روشنی میں جان سکتے ہیں کہ اُنہیں ابدی طور پر نجات ملی ہے۔ ایف۔ ڈبلیو۔ ڈکسن نے لکھا:
اگر آپ میں اپنی نجات کے بارے میں یقین کا فقدان ہے تو اِسے حاصل کرنے یا دوبارہ حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ خدا کے کلام کو لیں اور اُس پر اعتقاد رکھیں۔ خدا کہتا ہے کہ آپ اُس کے ہیں، آپ محفوظ ہیں، بالکل محفوظ ہیں۔ وہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔
صادق ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں، لیکن شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔ غیرنجات یافتہ کے انجام پر غور و خوض بہت ہی پریشان کن امر ہے۔ خدا، مسیح اور تمام ابدیت کے لئے اُمید سے علیٰحدہ ہونے کا کتنا بُرا انجام ہو گا؟
۳۷: ۲۹ اسرائیل کی سب سے بڑی اُمید یہ تھی کہ وہ مسیح کی حکومت کے تحت ملک میں بسے رہیں۔ حقیقی یہودیوں کی آسمانی اُمید بھی تھی (عبرانیوں ۱۱:۱۰)، لیکن عہد عتیق کے دَور میں اِس بات پر زور دیا جاتا تھا کہ امن و خوش حالی کے سنہری زمانہ میں مُلکِ اسرائیل میں مادی برکتیں حاصل ہوں گی۔ جب ہم پڑھتے ہیں کہ صادق مُلک میں ہمیشہ بسے رہیں گے تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ مسیح کی زمینی بادشاہت ایک ہزار سال کے لئے ہو گی اور پھر یہ ابدی بادشاہت میں تبدیل ہو جائے گی۔ ممکن ہے کہ ابدی مملکت میں نجات یافتہ اسرائیل نئی زمین میں بسے رہیں گے جن کا ذکر مکاشفہ ۲۱:۱ میں ہے۔ اگر یہ بات دُرست ہے تو زمین کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وارث ہونے کا مطلب لغوی طور پر لیا جا سکتا ہے۔
صادق اور شریر کا موازنہ جاری رہتاہے۔
۳۷: ۳۰،۳۱ صادق کی گفتگو حکمت سے لبریز ہوتی ہے۔ وہ کلام پر مبنی درست اور ٹھوس باتیں کرتا ہے۔ وہ عیاری اور فریب کی نہیں بلکہ انصاف کی باتیں کرتا ہے۔ وہ مسلسل خدا کے کلام پر سوچ بچار کرتا ہے اور اِس سے اُس کے پاؤں گناہ اور ندامت میں نہیں پھسلتے جیسا کہ سپرجن نے ذکر کیا
’’اُس کے پاس سب سے بہتر شے ہے یعنی خدا کی شریعت۔ اِس کی سب سے بہتر جگہ اُس کا دل ہے۔ اور اِس کا سب سے بہتر نتیجہ نکلتا ہے کہ اُس کے پاؤں نہیں پھسلتے۔‘‘
۳۷: ۳۲،۳۳ شریر موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ کب صادق پر جھپٹ کر اُسے ہلاک کرے۔ لیکن یہوواہ صادق کو نہ تو دشمن کی قوت میں چھوڑے گا اور نہ عدالت ہی میں اُسے مجرم ٹھہرنے دے گا۔ خدا اپنے سب لوگوں کا سرپرست اور وکیل ہے۔
۳۷:۳۴ ہماری بہترین حکمتِ عملی یہ ہے کہ بھروسا (آس) رکھیں اور اُس کی فرماں برداری کریں (اُس کی راہ پر چلتے رہیں)۔ مسیح میں خوش رہنے کا کوئی اَور راستہ نہیں ہے۔
لیکن یہی کافی نہیں ہے۔ یہاں زبور نویس چھٹی دفعہ وعدہ کرتا ہے کہ ایسے تمام لوگ زمین کے وارث ہوں گے۔ پھر وہ مزید یقین دہانی کا اضافہ کرتا ہے۔ جب شریر کاٹ ڈالے جائیں گے تو ایماندار کی حیثیت محض تماشائی کی ہو گی۔ وہ اِس خوف ناک واقعہ سے خوش نہیں ہوں گے، لیکن وہ خود ہر طرح کی سزا سے آزاد ہوں گے۔
۳۷: ۳۵ داؤد کی انسانی زندگی کے مشاہدہ میں گہری دلچسپی تھی۔ اُس نے ایک دفعہ ایک شریر کو دیکھا جو بہت ہی زور آور شخص تھا اور اُس کا اقتدار اُس ہرے درخت کی طرح تھا جو اپنی اصلی زمین میں پھیلتا ہے۔ بظاہر یہ خیال ہے کہ اِس درخت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا دُکھ برداشت کرنا نہیں پڑا۔ وہ ابھی تک اپنی اصلی زمین میں زور آور اور تن آور تھا۔ یہ شریر شخص طاقتور اور خوش حال تھا۔
۳۷: ۳۶ لیکن اگلی بار جب داؤد کا اُس طرف سے گزر ہوا تو اُس کا وجود وہاں نہیں تھا۔ اُس نے دیکھا اور وہ تھا ہی نہیں۔ اُس شخص کو وقتی طور پر خوش حالی ملی۔ اُس کا اقتدار تھوڑے عرصہ کے لئے رہا، لیکن وہ ختم ہو چکا تھا اور یہی حال اُس کے اقتدار اور خوش حالی کا تھا۔
۳۷: ۳۷، ۳۸ زبور نویس ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ ہم کامل و راست باز اور خطا کار آدمی کے درمیان موازنہ کریں۔ صلح جو آدمی کے لئے اجر ہے جب کہ شریروں کا انجام ہلاکت ہے۔ کامل اور راست باز شخص کی نسل بے شمار ہو گی۔ صلح جو شخص کے لئے تھولک کہتا ہے، ’’بہرکیف ایسے شخص کا انجام اچھا ہو گا۔‘‘ لیکن شریر کے لئے ایسا کوئی درخشاں مستقبل نہیں ہے۔
۳۷: ۳۹، ۴۰ صادق کے لئے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اُس کا تعلق خدا سے ہے۔ مصیبت کے وقت وہ اُن کی قوت اور نجات دہندہ ہے۔ عجیب بات نہیں کہ مسیحی ضرورت کے وقت جبلی طور پر اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ اُن کی مدد کرتا، اُنہیں مخلصی دلاتا اور نجات دیتا ہے، کیونکہ وہ کلی طور سے اُس پر توکل کرتے ہیں۔ کیا اِس وقت آپ پریشان ہیں؟ اُس میں پناہ لیں۔ وہ آپ کی مدد کرے گا۔
مقدس کتاب
۱ تُو بدکرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہواور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر۔
۲ کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ ڈالے جائینگے اور سبزہ کی طرح مُرجھا جائینگے۔
۳ خُداوند پر تُوکل کر اور نیکی کر۔ ملک میں آباد رہ اور اُس کی وفاداری سے پرورش پا۔
۴ خُداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پُوری کریگا۔
۵ اپنی راہ خُداوند پر چھوڑ دے اور اُس پر تُوکل کر۔ وہی سب کچھ کریگا۔
۶ وہ تیری راستبازی کو نُور کی طرح اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح روشن کریگا۔
۷ خُداوند میں مطمئن رہ اور صبر سے اُس کی آس رکھ۔ اُس آدمی کے سبب سے جو اپنی راہ میں کامیاب ہوتا اور بُرے منصوبوں کو انجام دیتا ہے بیزار نہ ہو۔
۸ قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے بیزار نہ ہو۔ اِس سے بُرائی ہی نکلتی ہے۔
۹ کیونکہ بدکردار کاٹ ڈالے جائینگے لیکن جنکو خُداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہونگے۔
۱۰ کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابُود ہوجائیگا۔ تُو اُس کی جگہ کو غور سے دیکھیگا پروہ نہ ہوگا۔
۱۱ لیکن حلیم ملک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔
۱۲ شریر راست باز کے خلاف بندشیں باندھتا ہے اور اُس پر دانت پیستا ہے۔
۱۳ خُداوند اُس پر ہنسیگا کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اُس کا دِن آتا ہے۔
۱۴ شریروں نے تلوار نکالی اور کمان کھینچی ہے تاکہ غریب اور محتاج کو گرا دیں اور راست رُو کو قتل کریں۔
۱۵ اُن کی تلواراُن ہی کے دل کو چھیدیگی اور اُن کی کمانیں توڑی جائینگی۔
۱۶ صادِق کا تھوڑا سا مال بہت سے شریروں کی دولت سے بہتر ہے
۱۷ کیونکہ شریروں کے بازو توڑے جائینگے لیکن خُداوند صاوقوں کو سنبھالتا ہے۔
۱۸ کامل لوگوں کے ایام کو خُداوند جانتا ہے۔ اُن کی میراث ہمیشہ کے لئے ہوگی۔
۱۹ وہ آفت کے وقت شرمندہ ہونگے اور کال کے دنوں میں آسودہ رہینگے۔
۲۰ لیکن شریر ہلاک ہونگے۔ خُداوند کے دُشمن چراگاہوں کی سرسبزی کی مانند ہونگے۔ وہ فنا ہوجائینگے۔ وہ دھوئیں کی طرح جاتے رہینگے۔
۲۱ شریر قرض لیتا ہے اور ادا نہیں کرتا لیکن صادق رحم کرتا ہے اور دیتا ہے۔
۲۲ کیونکہ جنکو وہ برکت دیتا ہے وہ زمین کے وارث ہونگے اور جن پر وہ لعنت کرتا ہے وہ کاٹ ڈالے جائینگے ۔
۲۳ انسان کی روشیں خُداوند کی طرف سے قائم ہیں اور وہ اُس کی راہ سے خُوش ہے۔
۲۴ اگر وہ گر بھی جائے تو پڑا نہ رہیگا کیونکہ خُداوند اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھالتا ہے۔
۲۵ میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوں تُو بھی میں نے صادق کو بیکس اور اُس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔
۲۶ وہ دِن بھر رحم کرتا ہے اور قرض دیتا ہے اور اُس کی اولاد کو برکت ملتی ہے۔
۲۷ بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر اور ہمیشہ تک آباد رہ۔
۲۸ کیونکہ خُداوند انصاف کو پسند کرتا ہے اور اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں۔ پر شریروں کو نسل کاٹ ڈالی جائینگی۔
۲۹ صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔
۳۰ صادق کے منہ سے دانائی نکلتی ہے اور اُس کی زبان سے انصاف کی باتیں۔
۳۱ اُس کے خُدا کی شریعت اُس کے دِل میں ہے۔ وہ اپنی روش میں پھسلیگا نہیں
۳۲ شریر صادق کی تاک میں رہتا ہے اور اُسے قتل کرنا چاہتا ہے۔
۳۳ خُداوند اُسے اُس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑیگا اور جب اُس کی عدالت ہو تو اُسے مجرم نہ ٹھہرائیگا۔
۳۴ خُداوند کی آس رکھ اور اُسی کی راہ پر چلتا رہ اور وہ تجھے سرفراز کر کے زمین کا وارث بنائیگا۔ جب شریر کاٹ ڈالے جائینگے تو تُو دیکھیگا۔
۳۵ میں نے شریر کو بڑے اِقتدار میں اور ایسا پھیلتے دیکھا جیسے کوئی ہرا درخت اپنی اصلی زمین میں پھیلتا ہے۔
۳۶ لیکن جب کوئی اُدھر سے گُذرا اور دیکھا تو وہ تھا ہی نہیں بلکہ میں نے اُسے ڈھونڈا پر وہ نہ ملا۔
۳۷ کامل آدمی پر نگاہ کر اور راستباز کو دیکھ کیونکہ صُلح دوست آدمی کے لئے اجر ہے۔
۳۸ لیکن خطا کار اِکٹھے مرمٹینگے۔ شریروں کا انجام ہلاکت ہے۔
۳۹ لیکن صادقوں کی نجات خُداوند کی طرف سے ہے مُصیبت کے وقت وہ اُن کا محکم قلعہ ہے
۴۰ اور خُداوند اُن کی مدد کرتا اور اُن کو بچاتا ہے وہ اُن کو شریروں سے چھڑاتا اور بچالیتا ہے۔