کتابِ مقدس کی تفسیر
۱۔سلاطین
1 Kings
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
’’سلاطین کی پہلی کتاب میں قوم کی تاریخ داؤد کے عہدِ حکومت کے اِختتام سے آخز کے دَورِ سلطنت کے وَسط تک درج کی گئی ہے۔ سلیمان کا تخت ہمارے خداوند کی ہزار سالہ بادشاہت کا پیش خیمہ ہے۔ کسی قوم کی ترقی اور زوال کا اِنحصار حکمران اور اُس کی رعایا کے کردار پر ہوتا ہے، اور اِس سے ہمارے لئے ایک اہم اصول متعین ہوتا ہے کہ برکت کی شرط فرماں برداری ہے۔ ‘‘(ایف۔بی۔ مائیر۔ F.B. Meyer)
۱۔مُسلَّمہ فہرست میں منفرد مقام
سلاطین کی دو کتابیں شروع میں ایک ہی کتاب تھیں۔ اِن کی اہمیت کا اِس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سلیمان کے دورِ حکومت کے آغاز سے بابلی اسیری تک ۴۰۰ سالہ تاریخ پر محیط ہیں۔ یہ نہ صرف یہوداہ کی حکومتوں (جیسے کہ تواریخ کی کتاب بیان کرتی ہے) بلکہ شمال میں برگشتہ قوم ’’اِسرائیل‘‘ یا افرائیم کی حکومتوں کا بھی بیان کرتی ہیں۔ یہ محض تاریخ کی کتابیں ہی نہیں، بلکہ سلاطین کی کتب بادشاہوں کا روحانی تجزیہ بھی پیش کرتی ہیں کہ آیا اُنہوں نے خداوند کی پرستش کی یا بتوں کی۔ یا کہ اُنہوں نے خداوند کی خدمت میں نیم دلی کا مظاہرہ کیا۔
ایلیاہ اور اُس کے جانشین الیشع نبی کی خدمات قارئین کے لئے خاص ترقی کا باعث ہوں گی۔
سلاطین کی کتب کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ خدا وفاداری کا اَجر اور برگشتگی کی سزا دیتا ہے۔ حزقیاہ اور یوسیاہ اوّل الذکر کی واضح مثالیں ہیں (۲۔سلاطین ۱۸:۳؛ ۲۲:۲) اور موخر الذکر کی واضح مثال یہ ہے کہ قومی سطح پر پہلے تو شمالی بادشاہت (۷۲۲ ق م)، اور بعد ازاں جنوبی بادشاہت (۵۸۶ ق م) اسیری میں چلی گئی۔
۲۔ مصنف
سلاطین کی کتب کا اِنسانی مصنف نامعلوم ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اِن کا بیشتر حصہ دستاویزات کی بنا پر روح القدس کی راہنمائی سے تالیف کیا گیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اِن دو کتابوں کا کوئی کاہن مصنف ہے، لیکن برگشتہ شمالی بادشاہت میں کہاں کوئی ایسا کاہن ہو گا؟ ممکن ہے کہ کسی نبی نے اِن کتابوں کو لکھا ہو۔ اگر اِن کتب کا کوئی کاہن مولف تھا تو ممکن ہے کہ وہ عزرا ہو اور اگر کسی نبی نے اُنہیں تالیف کیا ہو تو ہو سکتا ہے کہ یا تو حزقی ایل یا پھر یرمیاہ ہو۔
۳۔ سنِ تصنیف
۲۔سلاطین کی کتاب ایک مصالحت کُن تحریر کے ساتھ اِختتام پذیر ہوتی ہے کہ شاہِ بابل اویل مرودک نے شاہِ یہوداہ یہویاکین کو ۳۷ سالہ قید کے بعد سرفراز کیا (۵۶۰ ق م)۔ لیکن ایک اَور حوصلہ افزا واقعہ جو واضح طور پر کتاب میں موجود نہیں، وہ یہودیوں کی فلستین میں واپسی کا آغاز ہے (۵۳۶ ق م)۔ چونکہ یہ بعید از قیاس ہے کہ سلاطین کی کتاب کا ایسا محبِ وطن مصنف اِس واپسی کو نظر انداز کر دے، لہٰذا واپسی کا آغاز اِس کتاب کی تصنیف کے بعد ہی ہوا ہو گا۔ یوں لگتا ہے کہ سلاطین کی تالیف ۵۶۰ اور ۵۳۶ ق م کے درمیانی عرصے میں ہوئی۔
۴۔ پس منظر اور موضوعات
سلاطین کی کتابوں میں نمایاں طور پر بادشاہوں اور انبیا کا ذکر کیا گیا ہے۔ کسی بادشاہ کی سزا و جزا کا اِنحصار اُس کی خداوند سے وفاداری یا نافرمانی پر ہوتا۔ اور انبیا کی خدمت یہ تھی کہ وہ برگشتہ قوم کو یہوواہ کی طرف رجوع لانے کی دعوت دیتے۔
او۔ جے۔ گِبسن (Gibson) اِن دونوں کتابوں کا درج ذیل خلاصہ پیش کرتا ہے:
’’یہ بادشاہوں کے دو تواریخی خاندانوں کا ملا جلا بیان ہے۔ دس قبائل پر مشتمل اِسرائیل کو بعض اوقات شمالی سلطنت بھی کہا گیا ہے کیونکہ اِس کا علاقہ یروشلیم کے شمال میں تھا۔ اپنے پہلے بادشاہ یربعام سے لے کر اِس کی تباہی اور اسور کی اسیری تک یہ سلطنت مسلسل خدا کے حضور نافرمانی اور بت پرستی کی مُرتکب رہی۔ جنوبی سلطنت یہوداہ سے بھی اپنے خداوند سے وفاداری کے ضمن میں بہت سی کوتاہیاں ہوئیں، تاہم اِس کا قلیل بقیہ وفادار رہا۔ سب سے شان دار دَور سلیمان کی بادشاہت کا دَور تھا۔ ہیکل کی تعمیر اور اِس کی مخصوصیت دیگر تمام اَدوار کی نسبت زیادہ اہمیت کی حامل رہی، اور یہ خدا کی نظر میں بہت اہم تھی۔ سلیمان کی حکومت اِنحراف اور سزا کے ساتھ اِختتام پذیر ہوئی۔ یہ ہمارے لئے آگاہی ہے کہ جب خدا کے کلام کی تحقیر کی جائے اور اُس کی مراعات اور دی ہوئی عزت کا غلط استعمال کیا جائے، تو اِس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ جب مسلسل نافرمانی سے فضل کی ہر ایک دعوت کو ردّ کر دیا گیا تو غیر اقوام نے نہیں بلکہ خدا نے پہلے تو شمالی اور بعد ازاں جنوبی سلطنت کو برباد کر دیا۔ ‘‘
| خاکہ | ||||
| باب | ||||
| ۱۔ | داؤد کے آخری ایام | ۱:۱۔۲:۱۱ | ||
| الف۔ | ادونیاہ کی تخت پر قابض ہونے کی کوشش | ۱:۱۔۳۸ | ||
| ب۔ | سلیمان کا جیحون پر مسح کیا جانا | ۱:۳۹۔۵۳ | ||
| ج۔ | داؤد کا سلیمان کو حتمی طور پر فرائضِ سلطنت سونپنا | ۲: ۱۔۱۱ | ||
| ۲۔ | سلیمان بادشاہ کا سنہری دورِ حکومت | ۲: ۱۲۔۱۱:۴۳ | ||
| الف۔ | سلیمان کا مخالف عناصر کو ختم کرنا | ۲: ۱۲۔۴۶ | ||
| ب۔ | سلیمان کی حکمت | ۳ | ||
| ج۔ | سلیمان کے منتظمین | ۴: ۱۔۱۹ | ||
| د۔ | سلیمان کی شان و شوکت | ۴: ۲۰۔۳۴ | ||
| ہ۔ | سلیمان کی ہیکل | ۵۔۷ | ||
| ۱ | سلیمان کا حیرام بادشاہ سے معاہدہ | ۵ | ||
| ۲ | ہیکل کا نقشہ اور تعمیر | ۶ | ||
| ۳ | دیگر عمارتوں کی تعمیر | ۷: ۱۔۱۲ | ||
| ۴ | ہیکل کا ساز و سامان | ۷: ۱۳۔۵۱ | ||
| و۔ | ہیکل کی مخصوصیت | ۸ | ||
| ز۔ | سلیمان کی شہرت | ۹،۱۰ | ||
| ۱ | سلیمان کے ساتھ خدا کا عہد | ۹:۱۔۹ | ||
| ۲ | حیرام کے لئے تحائف | ۹: ۱۰۔۱۴ | ||
| ۳ | اُس کی رعایا اور قربانیاں | ۹: ۱۵۔۲۵ | ||
| ۴ | اُس کی بحریہ | ۹: ۲۶۔۲۸ | ||
| ۵ | سبا کی مَلِکہ | ۱۰: ۱۔۱۳ | ||
| ۶ | سلیمان کی دولت | ۱۰: ۱۴۔۲۹ | ||
| ح۔ | سلیمان کی برگشتگی اور موت | ۱۱ | ||
| ۳۔ | منقسم سلطنت | ۱۲۔۲۲ | ||
| الف۔ | یہوداہ کا بادشاہ رحبعام | ۱۲: ۱۔۲۴ | ||
| ب۔ | اسرائیل کا بادشاہ یربعام | ۱۲: ۲۵۔۱۴:۲۰ | ||
| ۱ | یربعام کے باطل مذہبی مراکز | ۱۲: ۲۵۔۳۳ | ||
| ۲ | یربعام اور مردِ خدا | ۱۳: ۱۔۳۲ | ||
| ۳ | یربعام کی باطل کہانت | ۱۳: ۳۳،۳۴ | ||
| ۴ | یربعام کے بیٹے کی موت | ۱۴: ۱۔۲۰ | ||
| ج۔ | یہوداہ کا بادشاہ رحبعام (جاری ہے) | ۱۴: ۲۱۔۳۱ | ||
| د۔ | یہوداہ کا بادشاہ ابیام | ۱۵: ۱۔۸ | ||
| ہ۔ | یہوداہ کا بادشاہ آسا | ۱۵: ۹۔۲۴ | ||
| و۔ | اسرائیل کا بادشاہ ندب | ۱۵: ۲۵۔۲۷ | ||
| ز۔ | اِسرائیل کا بادشاہ بعشا | ۱۵:۲۸۔۱۶:۷ | ||
| ح۔ | اِسرائیل کا بادشاہ اَیلہ | ۱۶: ۸۔۱۰ | ||
| ط۔ | اِسرائیل کا بادشاہ زِمری | ۱۶: ۱۱۔۲۰ | ||
| ی۔ | اسرائیل کا بادشاہ تِبنی | ۱۶: ۲۱،۲۲ | ||
| ک۔ | اِسرائیل کا بادشاہ عُمری | ۱۶: ۲۳۔۲۸ | ||
| ل۔ | اِسرائیل کا بادشاہ اخی اَب اور ایلیاہ نبی | ۱۶:۲۹۔۲۲:۴۰ | ||
| ۱ | اخی اب کے گناہ | ۱۶: ۲۹۔۳۴ | ||
| ۲ | ایلیاہ اور کال | ۱۷: ۱۔۷ | ||
| ۳ | ایلیاہ اور صارپت کی بیوہ | ۱۷: ۸۔۲۴ | ||
| ۴ | بعل کے پجاریوں کو ایلیاہ کا چیلنج | ۱۸: ۱۔۱۹ | ||
| ۵ | ایلیاہ کی بعل کے پجاریوں پر فتح | ۱۸: ۲۰۔۴۰ | ||
| ۶ | بارش کے لئے ایلیاہ کی دعا | ۱۸: ۴۱۔۴۶ | ||
| ۷ | ایلیاہ کا حورب کو بھاگ جانا | ۱۹: ۱۔۱۸ | ||
| ۸ | ایلیاہ کا الیشع کو مقرر کرنا | ۱۹: ۱۹۔۲۱ | ||
| ۹ | اخی اب کی ارام پر پہلی فتح | ۲۰: ۱۔۲۲ | ||
| ۱۰ | اخی اب کی ارام پر دوسری فتح | ۲۰: ۲۳۔۳۴ | ||
| ۱۱ | اخی اب کی نافرمانی | ۲۰: ۳۵۔۴۰ | ||
| ۱۲ | اخی اب کے نبوت کے خلاف جرائم | ۲۱ | ||
| ۱۳ | اخی اب کی آخری جنگ | ۲۲: ۱۔۴۰ | ||
| م۔ | یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط | ۲۲: ۴۱۔۵۰ | ||
| ن۔ | اسرائیل کا بادشاہ اخزیاہ | ۲۲: ۵۱۔۵۳ | ||