صفنیاہ تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

صفنیاہ

Zephaniah

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’جو شخص نبیوں کی ساری پوشیدہ نبوتوں کو مختصر طور پر یکجا دیکھنا چاہتا ہو وہ صفنیاہ کی چھوٹی سی کتاب پڑھ لے۔‘‘ (‏۱۵۲۸ء Martin Bucer)‏

۱۔ کتبِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام

بہت سے لوگ شاہی خاندان پر نگاہ رکھنے کے شوقین ہوتے ہیں اور مشاہیر کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنا پسند کرتے ہیں۔ صفنیاہ نیک بادشاہ حزقیاہ کا پڑپوتا اور اس تعلق سے فی الوقت حکمران اور خدا پرست اور دین دار بادشاہ یوسیاہ کا دُور کے رشتہ سے بھائی تھا۔ اِس طرح وہ شاہی خاندان کا رُکن تھا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اِن دو دین دار بادشاہوں کے ادوارِ حکومت کے درمیان امون اور منسی کا بدی اور بُرائی سے بھرا ہوا دورِ حکومت آتا ہے جو تقریباً آدھی صدی پر محیط تھا۔ صفنیاہ کو جنوبی سلطنت یہوداہ کے صدر مقام میں شاہی دربار میں بھی رسائی حاصل تھی۔ 

۲۔ مصنف

ہمیں صفنیاہ بن کوشی کے بارے میں کم معلومات ہیں۔ اُس کے نام کا مطلب ہے یہوواہ چھپاتا ہے یعنی پناہ میں رکھتا ہے یا خزانے کی طرح رکھتا ہے۔ غور کریں کہ اُس کا شجرۂ نسب ایک شاہی جد اَمجد تک پہنچتا ہے۔ وہ روشن کو تاریک اور تاریک کو روشن کے مقابل رکھنا پسند کرتا تھا۔ اُس نے خداوند کے دن کی بہت افسردہ تصویر پیش کی ہے۔ البتہ اِسرائیل کی مستقبل میں آنے والی شان و شوکت کی اور غیر قوموں کے خداوند کی طرف پھرنے (‏ایمان لانے)‏ کی خوبصورت جھلک دِکھائی ہے۔ Hewitt J. B. نے توجہ دلائی ہے کہ صفنیاہ نبی تصنع سے کام نہیں لیتا بلکہ دو ٹوک بات کرتا ہے۔ 

’’زبان پر کوئی مفاہمت نہیں۔ وہ نہایت بے خوفی اور پوری دلیری کے ساتھ گناہ کی مذمت کرتا ہے۔ اور کتاب کو ایک ولولہ انگیز گیت کے ساتھ ختم کرتا ہے جس میں ہزار سالہ بادشاہی کو شروع ہوتے دیکھنے کی اُمید نمایاں ہے۔‘‘

۳۔ سنِ تصنیف

صفنیاہ نے یوسیاہ بادشاہ کے ایام (‏۶۴۰_ ۶۰۹ ق م)‏ میں خدمت کی۔ دین دار علما میں اِس بات پر اِتفاقِ رائے نہیں ہے کہ اُس نے ۶۲۱ ق م میں آنے والی بڑی بیداری سے پہلے لکھا تھا یا بعد میں۔ وہ حال ہی میں دوبارہ دریافت ہونے والی شریعت سے اِقتباس کرتا ہے۔ یہ اور ایسی کئی تفاصیل سے اِشارہ ملتا ہے کہ اُس نے ۶۲۱ ق م کے بعد لکھا۔ چونکہ صفنیاہ ۲:‏ ۱۳ میں بیان کرتا ہے کہ نینوہ ابھی تک سلامت قائم تھا اِس لئے سنِ تصنیف اس شہر کی ۶۱۲ ق م میں بربادی سے پہلے کا ہونا چاہئے۔ اِس لئے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کتاب ۶۲۱ اور ۶۱۲ ق م کے درمیان کسی وقت لکھی گئی۔ 

۴۔ پس منظر اور موضوع

صفنیاہ نے غالباً یروشلیم (‏’’اِس مکان‘‘ ۱:‏۴)‏ میں نبوت کی۔ اُس کی نبوت کا تواریخی پس منظر ۲۔سلاطین ابواب ۲۱۔۲۳ میں اور یرمیاہ کے اِبتدائی ابواب میں ملتا ہے۔ 

’’صفنیاہ دیکھتا ہے کہ اُفق میں سکُوتیوں (‏Scythians)‏ کے تباہ کن غول اُبھر رہے ہیں۔ وہ خوف ناک اور تیز رفتار ہیں … یہوداہ کی حالت نازک اور مشکل تھی کیونکہ وہ اپنے محدود وسائل اور ذرائع کے ساتھ اِن زبردست طاقتوں پر غالب آنے یا اُن کے سامنے ٹھہرنے کی اُمید نہیں کر سکتا تھا۔ جب یہوداہ کے شمال اور جنوب کی زیادہ بڑی قومیں عالمی طاقت بننے کی جدوجہد کر رہی تھیں تو درمیان میں بسنے والی مقابلتاً کمزور قومیں بھی ملوث ہو جاتی تھیں اور بھاری نقصان اُٹھاتی تھیں۔ صفنیاہ چاروں طرف پھیلے ہوئے اضطراب اور بداَمنی سے خوب آگاہ تھا۔ اُس نے سخت اور صاف لفظوں میں اپنے زمانے کی برائیوں کی مذمت کی اور راست بازی کی منادی کی۔‘‘

(‏J.B.Hewitt)‏

اِس چھوٹی سی کتاب میں صفنیاہ نے خداوند کے دن کا بار بار ذکر کیا ہے۔کم سے کم تین دفعہ خداوند کا دن / روز کے الفاظ اور دس سے زیادہ دفعہ اُس روز یا قہر / غضب کا دن کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ۱:‏۱۴‏،۱۵ یعنی صرف دو آیات میں دن/ روز کا لفظ آٹھ دفعہ آیا ہے۔ اور دو دفعہ اِسی کے لئے اسمِ ضمیر ’’وہ‘‘ آیا ہے __ دوسرے کلیدی الفاظ ہیں؛ ’’غیرت‘‘ اور ’’اُس کے اندر‘‘۔ خدا اِس مفہوم میں غیرت رکھتا ہے کہ اپنے لوگوں کی بت پرستی پر سخت ناراض ہے۔ وہ ایک تو صادق منصف (‏۳:‏۵)‏ کی حیثیت سے اور دوسرے اُن کے دشمنوں کا فاتح کی حیثیت سے اپنے لوگوں کے اندر (‏۳:‏۱۵)‏ یعنی اُن کے درمیان ہے۔ 

 

خاکہ
        باب
۱۔ خدا کا فیصلہ کہ مَیں غضب نازل کروں گا ‏ ۱‏
  الف۔ ساری زمین پر ‏۱:‏ ۱۔۳‏
  ب۔ یہوداہ اور یروشلیم پر __ بت پرستی کے باعث ‏۱:‏ ۴۔۶‏
  ج۔ ذبیحہ کی مثال کے تحت خداوند کا دن ‏۱:‏ ۷۔۱۳‏
    ‏۱‏ مہمان __ یہوداہ کے دشمن ‏۱:‏۷‏
    ‏۲‏ قربانیاں __ یہوداہ کے شریر لوگ ‏۱:‏ ۸۔۱۳‏
  د۔ خداوند کے دن کی دہشت ‏۱:‏ ۱۴۔۱۸‏
۲۔ یہوداہ کو توبہ کرنے کی تلقین ‏۲:‏ ۱۔۳‏
۳۔ غیر قوموں کا انجامِ بد ‏۲:‏ ۴۔۱۵‏
  الف۔ فلستی ‏۲:‏ ۴۔۷‏
  ب۔ موآبی اور عمونی ‏۲:‏ ۸۔۱۱‏
  ج۔ کوشی (‏اہلِ ایتھوپیا)‏ ‏۲:‏ ۱۲‏
  د۔ اسوری اور خاص طور پر نینوہ کا شہر ‏۲:‏ ۱۳۔۱۵‏
۴۔ یروشلیم پر افسوس کا اعلان ‏۳:‏ ۱۔۷‏
  الف۔ نافرمانی‏، بے حسی‏، بے اعتقادی اور توبہ کرنے سے اِنکار ‏۳:‏۱‏،۲‏
  ب۔ اُمرا اور قاضیوں کا لالچ ‏۳:‏۳‏
  ج۔ نبیوں کا چھچھورا پن اور دغابازی اور کاہنوں کی بے دینی ‏۳:‏۴‏
  د۔ خداوند کا غضب کے ساتھ موجود ہونا ‏۳:‏ ۵۔۷‏
۵۔ ایمان دار اور وفادار بقیہ کے لئے تسلی کا پیغام ‏۳:‏ ۸۔۲۰‏
  الف۔ شریر غیر قوموں کی بربادی / ہلاکت ‏۳:‏۸‏
  ب۔ باقی ماندہ قوموں کا ایمان لانا ‏۳:‏۹‏
  ج۔ پراگندہ اِسرائیل کی بحالی ‏۳:‏ ۱۰۔۱۳‏
  د۔ مسیح کی آمدثانی پر شادمانی ‏۳:‏ ۱۴۔۱۷‏
  ہ۔ خدا اپنے لوگوں کے لئے جو کچھ کرے گا ‏۳:‏ ۱۸۔۲۰‏