یَعقُوب کا عام خَط ۳

۳۔ خُدا کا کلام (۱۸:۱۔۲۷)

یعقوؔب خُدا کو نُوروں کا باپ بتاتا رہا ہے۔ اب وُہ ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ وُہ ہمارا بھی باپ ہے، اور کہ اُس نے اپنی وسیع کائنات میں ہمیں ایک اہم کردار عطا کیا ہے۔ ہم وُہ کردار سچّائی کے کلام (کلامِ حق) کی فرمانبرداری کرنے سے ادا کر سکتے ہیں (آیات۲۷:۱۹)۔

۱۸:۱- اِن آیات میں بیان کِیا گیا ہے کہ اِنسان کی نئی پیدائش کے وقت خُدا کا کلام کیا کِردار ادا کرتا ہے۔ ’’اُس نے اپنی مرضی سے ہمیں کلامِ حَق کے وسیلہ سے پَیدا کیا تاکہ اُس کی مخلُوقات میں سے ہم ایک طرح کے پہلے پھل ہوں‘‘۔ ’’اپنی مرضی سے‘‘۔ یہ الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ کِس چِیز نے اُسے ہمیں بچانے کے لئے اُکسایا۔ وُہ ہمیں بچانے کے لئے ہماری کِسی خُوبی کے باعث مجبُور نہیں ہؤا۔ یہ اُس نے ’’اپنی‘‘ آزاد ’’مرضی‘‘ سے کِیا ہے۔ اُس کی ہم سے محبّت ہماری کِسی خُوبی کی وجہ سے نہیں تھی اور نہ ہم نے اُسے تلاش کیا۔ یہ سب اُس نے اپنی رضا سے کیا ہے۔ اِس وجہ سے ہمیں اُس کی پرستش کرنی چاہئے۔ ’’اُس نے ہمیں پَیدا کیا‘‘ــــــــ یہ نئی پیدائِش کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ اِس رُوحانی پیدائش سے ہم اُس کے فرزند بن جاتے ہیں ــــــــ یہ ایک ایسا رِشتہ ہے جسے کبھی بَدلا نہیں جاسکتا کیونکہ پیدائش کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ’’کلام حق کے وسیلہ سے‘‘ـــــــــــ خُدا کا کلام نئی پیدائش کا ذریعہ ہے۔ ہر ایک کی نجات میں پاک نوِشتوں کا حِصّہ ہوتا ہے، خواہ وُہ زبانی ہو یا تحریری۔ بائبل کے بغیر ہمیں راہِ نجات معلُوم نہیں ہو سکتی تھی، اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں عِلم ہی نہ ہوتا کہ نجات دستیاب ہے!

’’تا کہ اُس کی مخلُوقات میں سے ہم ایک طرح کے پہلے پھَل ہوں‘‘۔ ’’پہلے پھل‘‘ کے بارے میں تین مشہُور خیالات پائے جاتے ہیں۔ پہلا، کِسی بھی فَصل کا ’’پہلا پھل‘‘ پکے ہُوئے اناج کا پہلا پُولا تھا۔ یعقؔوب جِن مسیحیوں کو یہ لِکھ رہا تھا وُہ ابتدائی مسیحیوں میں سے پہلے مسیحی تھے۔ بے شک تمام مسیحی ’’ایک طرح کے پہلے پھل‘‘ ہیں لیکن یہاں بُنیادی اِشاره یہُودی مسیحیوں کی طرف ہے جِن کو یعقوؔب نے یہ خط لِکھا۔ دُوسرا، ’’پہلا پھل‘‘ خُدا کو اُس کی برکات اور اس بات کے لئے کہ سب کُچھ اُس کی طرف سے مِلتا ہے اور اُس کی مِلکیّت ہے بطور شُکر گُزاری پیش کیا جاتا تھا۔ چنانچہ تمام ایمان داروں کو اپنے آپ کو بطور زِندہ قُربانی اُس کے حضُور پیش کرنا چاہئے (رومیوں ۲،۱:۱۲)۔ تیسرا، ’’پہلا پھل‘‘ پُوری فَصل کے آنے کا عہد تھا ــــــــ یعقؔوب اپنے قارئین کو مسیح کی فَصل میں اناج کے پہلے پُولوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ اُن کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ اور لوگ آتے رہیں گے لیکن اُنہیں مُقدّسین سے نمُونہ کے طور پر رکھا گیا تا کہ وُہ نئی مخلوق کے پھَلوں کو ظاہر کریں۔ بالآخر خُداوند اُن جیسے لوگوں سے تمام زمین کو بھر دے گا (رومیوں ۱۹:۸۔۲۳)- پوری فصل اُس وقت ہوگی جب خُداوند یسؔوع مسیح زمین پر حکوُمت کرنے کے لئے واپس آئے گا۔ دریں اثنا اُنہیں مسیح کی ویسی ہی فرمانبرداری کرنی ہے جیسے کہ ہزار سالہ حکُومت میں تمام دُنیا کرے گی۔ اور اگرچہ یہ حصّہ بُنیادی طور پر پہلی صدی کے مسیحیوں کو لکھا گیا، تاہم اِس کا اِطلاق ہم میں سے ہر ایک پر بھی ہے جو مسیح کے نام کو عِزّت دیتے ہیں۔

(الف)۱۹:۱- اِس باب کا باقی حِصّہ عملی ہدایات پر مشتمل ہے کہ ہم اُس کی مخلُوقات میں پہلا پھل کیسے ہو سکتے ہیں۔ یہاں اُس عملی راست بازی کو بیان کیا گیا ہے جو کلامِ حق کے ذریعہ نئے سِرے سے پیدا ہونے والوں کی خصوصیّت ہونی چاہئے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کلام کے ذریعہ اِس لئے پَیدا ہُوئے کہ خُدا کی سچّائی کو ظاہر کریں ــــــــ ’’پَس‘‘ آئیے ہم اپنی ذمّہ داری کو پُورا کریں۔

ہمیں ’’سُننے میں تیز‘‘ ہونا چاہیئے۔ یہ ایک غیر معمُولی حُکم ہے اور اِس میں تھوڑا سا مزاح بھی پایا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں خُدا کے کلام، نِیز اُس کی نیک صَلاح اور تنبیہ کو بھی ’’سُننے‘‘ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ہمیں پاک رُوح سے سیکھنے کے قابل ہونا چاہئے۔ ہمیں ’’بولنے میں دھیرا‘‘ ہونا چاہئے۔ یہ بڑی حیران کُن بات ہے کہ یعقوؔب ہمارے بولنے کے بارے میں بُہت کُچھ کہتا ہے۔ وُہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہم اپنی گفتگو میں مُحتاط رہیں۔ فِطرت بھی ہمیں یہی سکھاتی ہے۔ اپکطؔیط نے کافی عرصہ پہلے اِس کا مُشاہدہ کیا۔ وُہ لِکھتا ہے ’’فِطرت نے انسان کو ایک زُبان دو کان دِئے ہیں تاکہ ہم دُوسروں سے دو مرتبہ سُنیں اور خُود ایک مرتبہ بولیں‘‘۔ سلؔیمان یقیناً یعقوؔب سے خوشی سے اتفاق کرتا، کیونکہ اُس نے خُود کہا ہے : ”اپنے مُنہ کی نگہبانی کرنے والا اپنی جان کی حِفاظت کرتا ہے لیکن جو اپنے ہونٹ پَسارتا ہے ہلاک ہو گا‘‘ (امثال۳:۱۳)- اُس نے یہ بھی کہا ’’کلام کی کثرت خطا سے خالی نہیں لیکن ہونٹوں کو قابُو میں رکھنے والا دانا ہے‘‘ (امثال۱۹:۱۰)۔ بُہت بولنے والے بالآخر حَد سے بڑھ جاتے ہیں۔

۲۰-(ب)۱۹:۱- ہمیں ’’قہر کرنے میں دِھیما‘‘ ہونا چاہئے۔ اگر ایک آدمی جلد غُصّے میں آجاتا ہے تو وُہ اُس قسم کی ’’راست بازی‘‘ پَیدا نہیں کرتا جِس کی ’’خُدا‘‘ اپنے بچّوں سے توقع رکھتا ہے۔ غُصّے کے تیز لوگ مسیحیت کے بارے میں لوگوں پر غَلط تاثر چھوڑتے ہیں۔ یہ اَب بھی درُست ہے کہ ’’جو قہر کرنے میں دِھیما ہے پہلوان سے بہتر ہے اور وُہ جو اپنی رُوح پر ضابط ہے اُس سے جو شہر کو لے لیتا ہے‘‘
(اَمثال۳۲:۱۶)۔

۲۱:۱- ایک اَور طریقہ جِس سے ہم ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم اُس کی مخلُوق میں پہلا پھل ہیں یہ ہے کہ ہم ’’ساری نجاست اور بَدی کے فُضلہ کو دُور‘‘ کریں۔ یہ بُری باتیں جو کہ گَندے کپڑوں کی مانند ہیں ہمیں ہمیشہ کے لئے دُور کر دینی چاہئیں۔ ’’فُضلہ‘‘ میں ہر قِسم کی گندگی آجاتی ہے خواہ وُہ رُوحانی ہے یا ذہنی یا جِسمانی۔ مُمکن ہے یہاں ’’ساری نجاست‘‘ کا تعلق اُن تمام قِسم کی نجاستوں سے ہو جو تبدیل ہونے سے پیشتر ہم میں پائی جاتی تھیں۔ شاید اِس کا اِشارہ اُن گناہوں کی طرف ہو جو ہماری زِندگی سے صادر ہوتے اور دُوسروں پر بھی اثر انداز ہوتے تھے۔ خُدا کے کلام کی سچائی کو پالینے کے لئے ضرُوری ہے کہ ہم اخلاقی طور پر پاک ہوں۔

اِلہیٰ سچائی کو پالینے کا ایک اَور تقاضا ’’حلیمی‘‘ ہے۔ یہ عین مُمکن ہے کہ ہم بائبل تو پڑھیں لیکن یہ ہم پر اثرانداز نہ ہو۔ ہم اُس سے اثر لئے بغیر اُسے ایک دَرسی کتاب کی طرح پڑھ سکتے ہیں۔ ہمارا تکبّر، دِل کی سختی اور گُناہ ہمیں اُسے قبول نہیں کرنے دیتا۔ صِرف وہی لوگ جو فروتن اور حلیم ہیں کلام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ ’’وُہ حلیموں کو اِنصاف کی ہدایت کرے گا۔ ہاں وُہ حلیموں کو اپنی راہ بتائے گا‘‘ (زبور۹:۲۵)۔ ’’مَیں اُس شخص پر نِگاہ کروں گا۔ اُسی پر جو غریب اور شکستہ دِل ہے اور میرے کلام سے کانپ جاتا ہے‘‘ (یسعیاہ۲:۶۶)۔

یعقوؔب کلام کے بارے میں کہتا ہے کہ وُہ ’’دِل میں بویا گیا اور تُمہاری رُوحوں کو نجات دے سکتا ہے‘‘۔ یہاں خیال یہ ہے کہ جب کوئی نئے سِرے سے پَیدا ہوتا ہے تو کلام اُس کے دِل میں ایک مُقدّس امانت بن جاتا ہے۔ یہ کلام ’’رُوحوں کو نجات دے سکتا ہے‘‘۔ بائبل ایک ذریعہ ہے جِسے خُدا نئی پیدائش کے لئے اِستعمال کرتا ہے۔ وُہ اِسے نہ صِرف رُوح کو گُناہ کی سزا سے بچانے کے لئے اِستعمال کرتا ہے بلکہ اُس کی قُوت اور تسلُّط سے بھی۔ وُہ اِسے نہ صِرف ابدیت میں عذاب سے بچانے کے لئے اِستعمال کرتا ہے بلکہ اِس زِندگی میں نُقصان سے بھی۔ یعقؔوب آیت ۲۱ میں یقیناً نجات کے اِس موجُودہ اور جاری رہنے والے پہلُو کو بیان کرتا ہے۔

۲۲:۱- دِل میں بویا گیا کلام کافی نہیں ہے۔ ہمیں اُس پر عمل بھی کرنا ہے۔ بائبل رکھنا، یہاں تک کہ اُسے ادب کے طور پر پڑھنا کوئی وَقعت نہیں رکھتا۔ ہمارے دِلوں میں خُدا کو کلام کرتے ہُوئے سُننے اور جو کُچھ وُہ کہتا ہے اُس پر بِلاحیل و حُجّت عمل کرنے کی گہری خواہش ہونی چاہئے۔ ہمیں بائبل کو اعمال میں ضرُور ہی منتقِل کرنا چاہئے۔ کلام کو ہماری زِندگیوں میں زِندہ بن جانا چاہئے۔ ایسا وقت کبھی نہیں آنا چاہئے کہ ہم کلام تو پڑھیں لیکن اپنی زِندگی کو زیادہ بہتر بنانے کے لئے اُسے اِجازت نہ دیں۔ اگر خدا کے کلام سے محبّت ہمیں خداوند یسؔوع کا زیادہ ہم شکل نہ بنائے تو اِس کے مُطالعہ کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ بائبل کی تابع فرمانی کئے بغیر محض اُس کا عقلی طور پر علم حاصِل کرنا برکت کی بجائے پھَندا بن سکتا ہے۔ اگر ہم متواتر یہ سیکھتے رہتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے لیکن کرتے نہیں تو ہم بے دِل، مایُوس اور بے حِس ہو جاتے اور خُدا کے سامنے زیادہ جواب دِہ بن جاتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ہم کلام کو پڑھیں اور اُس پر پُورے طور پر عمل کریں۔

۲۴-۲۳:۱- ’’جو کوئی کلام‘‘ کو سنتا ہے لیکن اپنا روّیہ نہیں بدلتا ’’وُہ اُس شخص کی مانند ہے‘‘ جو ہر صُبح اپنا چہرہ آئینے میں دیکھتا ہے لیکن پھِر قطعی ’’بھُول جاتا ہے‘‘ کہ اُس نے کیا دیکھا تھا۔ بلاشُبہ، ہماری شکل و شباہت میں کُچھ باتیں ایسی ہیں جو بدل نہیں سکتیں۔ لیکن کم از کم جو کُچھ ہم دیکھتے ہیں اُس کے بارے میں ہمیں حلیمی اِختیار کرنی چاہئے۔ چنانچہ جب آئینہ کہتا ہے ’’مُنہ دھو لو‘‘ یا ’’شیو بنالو‘‘ یا ’’بالوں میں کنگھی کر لو‘‘ تو ہمیں وہی کرنا چاہئے جو کہا گیا ہے۔ ورنہ آئینہ ہمارے لئے قطعی فائدہ مند نہیں۔ عین مُمکِن ہے کہ ہم کبھی کبھار بائبل پڑھ لیں یا فرض کے طور پر پڑھا کریں لیکن اُس سے قطعی متاثر نہ ہوں۔ جَیسا ہمیں ہونا چاہئے وَیسا ہم دیکھتے تو ہیں لیکن فوراً بھُول جاتے ہیں اور ایسے زِندگی بسر کرنے لگتے ہیں گویا کہ ہم میں کوئی نقص نہیں۔ اِس قِسم کی جھُوٹی تسلّی رُوحانی ترقی کو روک دیتی ہے۔

۲۵:۱- اِس کے مُقابلے میں ایسا آدمی بھی ہے جو خُدا کے کلام پر’’غَور سے نظر کرتا ہے‘‘ اور عادتاً اُس پر عمل کرتا ہے۔ اُس کا اُس پر غَور و فِکر کرنا اُس کی زِندگی میں عملی نتائج پَیدا کرتا ہے۔ اُس کے نزدیک بائبل ’’آزادی کی کامِل شریعت‘‘ ہے۔ اِس کی ہِدایات اُس کے لئے بوجھ نہیں ہیں۔ وُہ اُسے بالکُل وُہی کُچھ کرنے کو کہتی ہیں جِس پر عمل کرنے کے لئے اُس کی نئی فِطرت بڑی مُشتاق ہوتی ہے۔ جب وُہ اُس پر عمل کرتا ہے تو اُسے اِنسانی روایات اور جسمانی دلائِل سے آزادی مِل جاتی ہے۔ جو کُچھ اُس نے پڑھا ہوتا ہے وُہ اُسے بھُولتا نہیں بلکہ اپنی روز مرّہ زِندگی میں اُس پر عمل کرتا ہے۔ اُس کی بچّوں جیسی فرمانبرداری بے انداز برکت کا باعث بنتی ہے۔ ایسا شخص جو کُچھ وُہ کرتا ہے اُس میں ’’برکت پائے گا‘‘۔

۲۷-۲۶:۱- یہاں ’’باطل دینداری‘‘ اور ’’خالِص اور بے عیب دِینداری‘‘ میں مُقابلہ ہے۔ یہاں دینداری کا مطلب کردار کا وُہ مظاہرہ ہے جِس کا تعلق اُس کے عقیدے سے ہوتا ہے۔ یہ باطنی روح کی ہجائے خارجی طرزِ عمل کو ظاہر کرتی ہے۔ اِس کا مطلب تعلیمی اعتقادات کی بجائے پرستش اور خِدمت میں اِیمان کے خارجی اِظہارات ہیں۔

’’اگر کوئی اپنے آپ کو دِیندار‘‘ سمجھتا ہے لیکن اپنی زُبان کو ’’لگام نہ دے‘‘ تو ’’اُس کی دِینداری باطل ہے‘‘۔ ممکِن ہے وُہ مذہب کی تمام رسُومات کا پابند ہو جس کی وجہ سے وُہ بڑا متقّی اور پرہیزگار نظر آتا ہو، لیکن وُہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہا ہو۔ خُدا اُس کی رسُومات سے مُطمئِن نہیں ہے۔ وُہ زِندگی میں عملی خُدا پرستی دیکھنا چاہتا ہے۔

بے لگام’’زُبان‘‘ ’’باطل دینداری‘‘ کی صِرف ایک مثال ہے۔ ہر ایک رویّہ جو مسیحی ایمان سے مُطابقت نہیں رکھتا باطل ہے۔ یہاں ہم ایک دُکاندار کی کہانی بیان کرتے ہیں جو اَپنے زُہد و تقویٰ کی آڑ میں دھوکا دیا کرتا تھا۔ وُہ اپنے سٹور کی بالائی منزل میں رہائِش پذیر تھا۔ ہر صبح وُہ نِیچے اپنے مدد گار کو آوازہ دیتا:

’’جؔان‘‘!

’’فرمائیے جناب‘‘

’’کیا تُم نے دُودھ میں پانی ملا دیا ہے؟‘‘

’’جی ہاں۔‘‘

’’کیا پِسی ہُوئی مِرچوں میں بُرادہ مِلا دیا ہے؟‘‘

’’جی ہاں‘‘

’’کیا موٹی چِینی میں باریک چینی مِلا دی ہے؟‘‘

’’جی ہاں‘‘

’’اچھّا تو پھِر صُبح کی دُعا بندگی کے لئے اُوپر آجاؤ۔‘‘

یعقؔوب کہتا ہے کہ ایسی ’’دینداری باطل‘‘ ہے۔

خُدا جِس بات کا متمنّی ہے وہ عملی قِسم کی خُدا پرستی ہے جو دُوسروں میں پُر محبّت دِلچسپی لیتی اور اپنی زِندگی کو پاک صاف رکھتی ہے۔ ’’خالِص اور بے عیب دینداری‘‘ کی مثالوں سے طور پر یعقوؔب اُس آدمی کی تعریف کرتا ہے جو ضرُورت مند ’’یتیموں اور بیواؤں‘‘ کی خبر گیری کرتا اور اپنے آپ کو ’’دُنیا سے بے داغ‘‘ رکھتا ہے۔ بالفاظِ دِیگر نئی پیدائِش کا عملی اِظہار ایک شخص کے ’’پُر فضل کاموں اور دُنیا سے علیٰحدگی‘‘ کی زِندگی بَسر کرنے سے ہوتا ہے۔

ہمیں اپنے ایمان کی جانچ مُندرجہ ذیل سُوالوں سے کرنی چاہئے: کیا بائبل کا مُطالعہ کرتے وقت میری دِلی خواہش ہے کہ خُدا مُجھے ملامت کرے، تعلیم دے اور تبدیل کرے؟ کیا مَیں چاہتا ہوں کہ میری زُبان کو لگام دی جائے؟ کیا مَیں اپنے غُصّے کو حق بجانب قرار دیتا ہوں یا اُس پر فتح حاصِل کرنا چاہتا ہُوں؟ میرا ردِّ عمل کیا ہوتا ہے جب کوئی گندا لطِیفہ سُنانے لگتا ہے؟ کیا میرے ایمان کا اِظہار اُن لوگوں کے ساتھ بھلائی کے کام کرنے سے ہوتا ہے جو مجھے بدلہ نہیں دے سکتے؟