زبور ۱۱۵ : بنی اسرائیل بتوں کو مسترد کرتے ہیں
بنی اسرائیل اب بابل کی اسیری سے اپنے ملک میں واپس آ چکے ہیں۔ لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اُن کی اپنی کسی کارکردگی کی وجہ سے نہیں ہے۔ اُن کی بحالی صرف اور صرف یہوواہ کی وجہ سے ہے۔ اُس نے اپنی قوم سے یہ سب کچھ اپنی دائمی محبت اور اپنے وعدہ سے وفاداری کی وجہ سے کیا۔
۱۱۵ : ۱، ۲ کافی عرصے سے غیر قومیں اسرائیلیوں کو طعنے دیتی رہی ہیں: ’’اب تمہارا خدا کہاں ہے؟ لگتا ہے کہ اُسے تمہارے ساتھ کوئی محبت نہیں کیونکہ اُس نے تمہیں ستر سال تک اسیری میں رہنے دیا۔‘‘ لیکن اب وہ مزید یہ نہیں کہہ سکیں گے۔ اُن کی حقارت اور مضحکہ کو خاموش کر دیا گیا ہے۔ خدا نے اپنے نام کے خلاف الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
۱۱۵ : ۳ اب تو ساری دنیا کو معلوم ہونا چاہئے کہ حقیقی خدا بلند و برتر ہے۔ ’’ہمارا خدا تو آسمان پر ہے‘‘ اور وہ قادر مطلق ہے ’’اُس نے جو کچھ چاہا وہی کیا۔‘‘ خدا کے بلند و برتر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ کائنات سے بلند و بالا ہے۔ اُس کی ذات اِس سے جدا ہے۔ خدا کے قادر مطلق ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جو کچھ وہ چاہتا ہے اُسے کرنے کے لئے آزاد ہے اور جو کچھ وہ چاہتا ہے ہمیشہ بھلا، راست اور پُرحکمت ہوتا ہے۔
۱۱۵ : ۴۔۷ خدا نے یہودیوں کو بت پرستی کی وجہ سے بابل کی اسیری میں جانے دیا۔ لیکن اب اُنہیں معلوم ہو گیا کہ بت کمزور اور بے وقعت ہیں، اِس لئے وہ غیر قوموں پر اُن کی کُھدی ہوئی مورتوں کی وجہ سے طنز کرتے ہیں۔
بت چاندی اور سونے کے بنے ہوئے ہیں، اِس لئے اُن کی قدر و قیمت کا تعین منڈی کے بھاؤ سے ہوتا ہے۔ انسان نے اُنہیں بنایا ہے اِس لئے وہ اپنے پجاریوں سے بھی کمتر ہیں۔ اُن کا منہ تو ہے، لیکن وہ نہ تعلیم دے سکتے ہیں اور نہ مستقبل کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ اُن کی آنکھیں تو ہیں، لیکن وہ اپنے لوگوں کے مسائل نہیں دیکھ سکتے۔ اُن کے کان توہیں، لیکن اُن میں دعائیں سننے کی سکت نہیں ہے۔ اُن کے ناک تو ہیں، لیکن وہ اُس لوبان کو نہیں سونگھ سکتے جو اُن کے سامنے جلایا جاتا ہے۔ اُن کے ہاتھ تو ہیں، لیکن اُن میں محسوس کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اُن کے پاؤں تو ہیں لیکن جس جگہ پر اُنہیں رکھا گیا ہے وہاں سے وہ چل کر آگے نہیں جا سکتے۔ حتیٰ کہ اُن کے گلے سے آواز بھی نہیں نکلتی۔
۱۱۵: ۸ اُن کے بنانے والے اُن کی مانند ہیں۔ یہ ایک روحانی اصول ہے کہ لوگ اپنے معبود کی مانند بن جاتے ہیں۔ اُن کے اخلاقی معیار اُن کے دیوتا طے کرتے ہیں۔ ہر شخص جو اِن بتوں پر بھروسا کرتا ہے وہ ناپاک، کمزور، کند ذہن اور احمق بن جاتا ہے۔
۱۱۵:۹ صرف یہوواہ ہی قابلِ بھروسا ہے۔ اب اسرائیل کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ایسی زندگی اختیار کریں کہ اُن کا خداوند پر غیر متزلزل ایمان ہو۔ کوائر اقرار کے ذریعے جواب دیتی ہے کہ وہی اُن کی کمک اور سپر ہے۔
۱۱۵ : ۱۰، ۱۱ اِس کے بعد ہارون کے کہانتی گھرانے کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ کھل کر خداوند پر ایمان رکھیں۔ اور کوائر پھر یہ تسلیم کرتے ہوئے جواب دیتی ہے کہ وہ اُن کا آزمایا ہوا مددگار اور محافظ ہے۔ پھر چیلنج کو اُن سب تک وسیع کیا جاتا ہے جو خداوند سے ڈرتے ہیں۔ غالباً اُن میں غیر قوم نومرید بھی شامل ہیں۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ وہی اُن کی حقیقی کمک اور سپر ہے۔
۱۱۵ : ۱۲۔۱۵ یوں لگتا ہے جیسے اِس کے بعد اب کاہن گیت گانا شروع کرتے اور لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہی خدا جس نے قوم کو بحال کرنے کے لئے یاد رکھا، اُنہیں برکت دے گا یعنی لوگوں، کاہنوں، نومریدوں، ہر عمر اور طبقہ کے لوگوں کو برکت دے گا۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم اور اُس کی نسل کو بڑھائے۔۔ یہاں غالباً بڑھانے کا مطلب ہے کہ اُن کی تعداد کو بڑھائے کیونکہ قوم کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔ لیکن اِس دعا میں روحانی اور مادی ترقی دونوں شامل ہیں۔ مزید برآں وہ دوسروں کے لئے خداوند کی جس نے آسمان اور زمین کو بنایا برکت چاہتے ہیں۔
۱۱۵ : ۱۶ خدا نے آسمان کو اپنا مسکن بنایا ، لیکن اُس نے سکونت کے لئے زمین بنی آدم کو دی تاکہ وہ اِس سکونت گاہ میں اُس کی پرستش اور خدمت کر سکیں۔
۱۱۵ : ۱۷، ۱۸ آیت ۱۷ میں عہدعتیق کے مقدسین کا عمومی نظریہ منعکس ہوتا ہے کہ موت کے بعد انسان میں خدا کی تعریف کرنے کی صلاحیت نہیں رہتی۔ جہاں تک اُنہیں علم تھا، مُردے ایک قسم کی بے حس و حرکت خاموشی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ جو ایمان میں مرتے ہیں وہ فوراً خداوند کی حضوری میں پہنچ جاتے ہیں۔ گو اُن کے جسم قبر میں بے حس و حرکت پڑے ہوتے ہیں، تاہم اُن کی روحیں خداوند کی حمد و ستائش کے لئے آزاد ہوتی ہیں۔ لیکن اُن کی دلیل کا نقطہ عروج ہمارے لئے درست ہے ۔۔ یعنی جب تک ہم زندہ ہیں خداوند کی ستائش کریں۔ اور اِسی عہد کے ساتھ زبور اختتام پذیر ہوتا ہے:
’’لیکن ہم اب سے ابد تک خداوند کو مبارک کہیں گے۔ خداوند کی حمد کرو۔‘‘
مقدس کتاب
۱ ہمکو نہیں! اَے خُداوند! ہمکو نہیں بلکہ تُو اپنے ہی نام کو اپنی شفقت اور سچّائی کی خاطر جلال بخش۔
۲ قومیں کیوں کہیں اب اُنکا خُدا کہاں ہے؟
۳ ہمارا خُدا تو آسمان پر ہے۔ اُس نے جو کچھ چاہا وہی کیا۔
۴ اُنکے بُت چاندی اور سونا ہیں یعنی آدمی کی دستکاری۔
۵ اُنکے مُنہ ہیں پر وہ بولتے نہیں۔ آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں۔
۶ اُنکے کان ہیں پر وہ بولتے نہیں ناک ہے پر وہ سُونگھتے نہیں۔
۷ اُنکے ہاتھ ہیں پر وہ چھُوتے نہیں پاؤں ہیں پر وہ چلتے نہیں اور ۔ اور اُن کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔
۸ اُنکے بنانے والے اُن ہی کی مانند ہو جائینگے۔بلکہ وہ سب جو اُن پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
۹ اَے اِسرائیؔل ! خُداوند پر توکل کر وُہی اُنکی کُمک اور اُنکی سِپر ہے۔
۱۰ اَے ہاروؔن کے گھرانے! خُداوند پر توکل کرو وہی اُنکی کُمک اور اُنکی سِپر ہے۔
۱۱ اَے خُداوند سے ڈرنے والو! خُداوند پر توکل کرو۔وہی اُنکی کُمک اور اُنکی سِپر ہے۔
۱۲ خُداوند نے ہمکو یاد رکھا۔ وہ برکت دیگا۔ وہ اِسرائؔیل کے گھرانے کو برکت دیگا۔ وہ ہاروؔن کے گھرانے کو برکت دیگا۔
۱۳ جو خُداوند سے ڈرتے ہیں کیا چھوٹے کیا بڑے وہ اُ سب کو برکت دیگا۔
۱۴ خُداوند تمکو بڑھائے تمکو اور تمہاری اولاد کو۔
۱۵ تُم خُداوند کی طرف سے مُبارِک ہو جِس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔
۱۶ آسمان تو خُداوند کا آسمان ہے لیکن زمین اُس نے بنی آدم کو دی ہے ۔
۱۷ مُردے خُداوند کی ستایش نہیں کرتے نہ وہ جو خاموشی کے عالم میں اُتر جاتے ہیں لیکن ہم اب سے ابدتک خُداوند کو مُبارِک کہینگے۔ خُداوند کی حمد کرو۔
۱۸