زبُور ۴۴

زبور ۴۴ :‏ ذبح ہونے والی بھیڑیں

گذشتہ فتوحات کی یادوں سے شکست کی تکلیف اَور بھی بڑھ جاتی ہے اور جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ خدا کا چہرہ ہم سے چھپا ہوا ہے تب ہم اُس کی رفاقت کی زیادہ قدر کرنے لگتے ہیں۔

۴۴:‏ ۱۔۳ اسرائیل کی تاریخ ایسے زبردست واقعات سے بھری پڑی ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ خدا نے اُن کی مدد کی ہے۔ اُس نے مُلکِ کنعان سے غیرقوموں کو نکال کر اُسے اپنی برگزیدہ قوم کو دے دیا۔ اُس نے کنعانیوں کو محکوم کرکے اسرائیل کو اپنے ملک میں آزادی دی۔ یہودیوں نے کسی فوجی برتری کی وجہ سے ملک پر قبضہ نہ کیا اور نہ اُنہوں نے اپنی قوت سے ہی فتوحات حاصل کیں۔ یہ سب کچھ خدا کے قوی دہنے ہاتھ‏، اُس کے قادرِ مطلق ہاتھ اور اُن پر اُس کی شفقت کی وجہ سے ہوا۔ 

۴۴:‏ ۴۔۸ خداوند نے جو کچھ ہمارے لئے کیا اِس سے ہمارے دل میں تحریک پیدا ہوتی ہے کہ اُس کی ستائش کریں۔ وہ عظیم بادشاہ اور قادرِ مطلق خدا ہے جو غیر مستحق یعقوب کے غیر مستحق بیٹوں کو فتوحات دیتا ہے۔ اُسی کے ذریعے اسرائیل نے اپنے دُشمنوں کو شکست دی اور اپنے حملہ آوروں پر حاوی رہے۔ اُنہوں نے آزما کر دیکھ لیا کہ جنگ میں کمان پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا اور نہ تلوار ہی اُن کی نجات دہندہ ثابت ہو سکتی ہے۔ خدا ہی ہے جس نے اپنے لوگوں کو مخلصی دلائی اور اُن کے دُشمنوں کو پریشان کر دیا۔ چنانچہ حیرت کی بات نہیں کہ لوگ اُس کے ساتھ تعلق کے لئے فخر کرتے رہے اور کہتے رہے کہ وہ اُس کا شکر ادا کرتے رہیں گے۔

۴۴:‏ ۹۔۱۲ لیکن اِسی اثنا میں کوئی ایسی بات ہوئی ہے جس سے نغمہ نوحہ میں بدل گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خدا نے اپنے لوگوں کو چھوڑ دیا ہے اور اُنہیں رُسوا ہونے دیا۔ فوجوں نے خدا کی حضوری اور مدد کے بغیر کوچ کیا اور بہت جلدی پریشانی کی حالت میں پسپا ہو گئیں اور دُشمنوں نے اسرائیل کا سارا مال لوٹ لیا۔ خداوند نے اپنی بھیڑوں کو ذبح ہونے کے لئے چھوڑ دیا اور جو باقی بچے تھے اُنہیں غیر قوموں کے درمیان پراگندہ کر دیا۔ یہ سب کچھ ایسے دکھائی دیتا تھا کہ کوئی سودا ہو چکا ہے جس میں خدا نے اپنے لوگوں کو مفت میں بیچ ڈالا تھا۔ اور بظاہر دشمن نتائج بھگتے بغیر یہ سب کچھ لے گیا۔ 

۴۴:‏ ۱۳۔۱۶ بے چاری اسرائیل قوم دوسری اقوام کے لئے تمسخر‏، تضحیک اور مذاق کا باعث بن گئی۔ اِن یہودیوں کو رسوا کرنے کے لئے تضحیک کی ضرب الامثال اور القاب استعمال کئے گئے۔ خدا کی قدیم قوم پر غیر قومیں پھبتیاں کسنے لگیں۔ وہ اِس قدر ذلت کا نشانہ بن چکے تھے کہ اِس سے راہِ فرار مشکل تھی۔ اِنتقام لینے والے دشمنوں کے باعث اُن کے چہروں پر مسلسل شرمندگی چھائی رہتی تھی۔

۴۴:‏ ۱۷ اِس تمام شکست اور ندامت کے بارے میں عجیب بات یہ تھی کہ یہ اسرائیل کی کسی برگشتگی کے باعث نہیں ہوئی۔ تاریخ میں دوسرے موقعوں پر گناہ اور مصیبت کے درمیان ایک حتمی تعلق تھا۔ لیکن اِس خصوصی صورتِ حال میں ایسا نہیں تھا۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کی یہ بُری حالت اِس لئے تھی کہ وہ خدا کے چنے ہوئے لوگ تھے۔ وہ خدا اور اُس کے عہد کی وجہ سے مصیبت اور دُکھ سہتے تھے۔

۴۴:‏ ۱۸‏،۱۹ اُن لوگوں پر مصیبتیں نازل ہوئیں جو نہ تو خدا سے برگشتہ ہوئے اور نہ اُنہوں نے اُس کے عہد کو ہی توڑا تھا۔ اُنہوں نے اُس کے لئے اپنی محبت کو ترک نہیں کیا تھا اور نہ ہی اُن راہوں سے مُڑے جو اُس نے اُن کے لئے مقرر کی تھیں۔ اِس کے باوجود خدا نے اُنہیں گیدڑوں کی جگہ میں خوب کچلا اور اُنہیں موت کے سایہ میں چھپایا۔

۴۴:‏ ۲۰۔۲۲ اگر وہ خدا کے نام کو بھولتے یا بتوں کی پوجا کرتے‏، تو کیا خدا کو اِس کے بارے میں معلوم نہ ہوتا؟ وہ تو انسان کے دل کے خیالوں اور اُن کی نیتوں سے واقف ہے۔ نہیں! یہ وجہ نہیں تھی۔ لوگ اِس لئے مصیبتیں اُٹھا رہے تھے کیونکہ اُن کا تعلق یہوواہ سے تھا۔ وہ صرف اُسی کی خاطر زندہ درگور تھے اور اُن سے جانوروں کا سا سلوک ہو رہا تھا جنہیں ذبح کرنے کے لئے لے جایا جا رہا ہو۔

کئی صدیوں بعد پولس رسول نے اپنے آپ کو اُسی صورتِ حال میں پایا اور ہر زمانہ میں خدا کے لوگوں کی مصیبت کو بیان کرنے کے لئے رومیوں ۸:‏ ۳۶ میں زبور ۴۴:‏ ۲۲ کا اقتباس کیا۔

۴۴:‏ ۲۳۔۲۶ آیت ۲۳ میں زبور فوری توجہ کے لئے نقطۂ عروج تک پہنچتا ہے‏، جب خداوند کو اُس کی ظاہری نیند سے جگایا گیا اور اُس سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے لوگوں کی مدد کرے۔ یہ زبور نویس کی سمجھ سے کہیں بالا ہے کہ خدا کس طرح اپنا منہ چھپاتا اور بے توجہی میں اپنے لوگوں کو نظر انداز کرتا ہے جب کہ اُس کے لوگوں کی جان خاک میں مل گئی ہے۔ چنانچہ وہ ایک بار پھر پکارتا ہے:‏ 

’’ہماری مدد کے لئے اُٹھ اور اپنی شفقت کی خاطر ہمارا فدیہ دے۔‘‘

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا ! ہم نے اپنے کانوں سے سُنا ۔ ہمارے باپ دادا نے ہم سے بیان کیا۔ کہ تو نے اُنکے دِنوں میں قدیم زمانہ میں کیا کیا کام کئے۔
۲ تو نے قوموں کو اپنے ہاتھ سے نِکالدیااور ا،ن کو بسایا۔تُو نے اُمتوں کو تباہ کیا اور اِن کو چاروں طرف پھیلایا۔
۳ کیونکہ نہ تو یہ اپنی تلوار سے اِس مُلک پر قابض ہوئے اور نہ اِنکے بازُو نے اِنکو بچایا۔ بلکہ تیرے دہنے ہاتھ اور تیرے بازُو اور تیرے چہرے کے نُور نے اِنکو فتح بخشی کیونکہ تو اِن سے خوشنود تھا۔
۴ اَے خُدا! تُو میرا بادشاہ ہے۔ یعقُوب کے حق میں نجات کا حُکم صادر فرما۔
۵ تیری بدولت ہم اپنے مُخالفُوں کو گرِا دینگے۔ تیرے نام سے ہم اپنے خِلاف اُٹھنے والوں کو پامال کرینگے۔
۶ کیونکہ نہ تو میَں اپنی کمان پر بھروسا کروںگااور نہ میری تلوار مجھے بچائے گی۔
۷ لیکن تو نے ہمکو ہمارے مُخالِفوں سے بچایا ہے ۔ اور ہم سے عداوت رکھنے والوں کو شرمندہ کیا۔
۸ ہم دِن بھر خُدا پر فخر کرتے رہے ہیں۔ اور ہمیشہ ہم تیرے ہی نام کا شُکریہ ادا کرتے رہینگے۔
۹ لیکن تُو نے اَب ہم کو ترک کر دِیا اور ہم کو رُسوا کیا ۔ اور ہمارے لشکروں کے ساتھ نہیں جاتا ۔
۱۰ تُو ہم کو مُخالفوں کے آگے پسپا کرتا ہے۔ اور ہم سے عداوت رکھنے والے لوُٹ مار کرتے ہیں۔
۱۱ تو نے ہم کو ذبح ہونے والی بھیڑوں کی مانند کر دیا اور قوموں کے درمیان ہم کو پرگندا کیا ۔
۱۲ تُو اپنے لوگوں کو مفت بیچ ڈالتا ہے۔ اور اُن کی قیمت سے تیری دُولت نہیں بڑھتی۔
۱۳ تُو ہم کو ہمارے پڑوسیوں کی ملامت کا نشانہ اور ہمارےا ٓس پاس کے لوگوں کے تمسخُر اور مذاق کا باعث بناتا ہے۔
۱۴ تُو ہمکو قوموں کے درمیان ضربُ المثل اور اُمتوں میں سَر ہِلانے کا باعث ٹھہراتا ہے ۔
۱۵ میری رُسوائی دِن بھر میرے سامنے رہتی ہے اور میرے مُنہ پر شرمِندگی چھا گئی ۔
۱۶ ملامت کرنے والے اور کُفر بکنے والے کی باتوں کے سبب سے اور مُخالِف اور اِنتقام لینے والے کے باعث۔
۱۷ یہ سب کچھ ہم پر بیتا تو بھی ہم تُجھ کو نہیں بھولے نہ تیرے عہد سے بے وفائی کی ۔
۱۸ نہ ہمارے دِل برگشتہ ہوئے نہ ہمارے قدم تیری راہ سے مُڑے ۔
۱۹ جو تُو نے ہم کو گیِدڑوں کی جگہ میں خوُب کُچلا اور موت کے سایہ میں ہمکو چھپایا۔
۲۰ اگر ہم اپنے خُدا کے نام کو بھُولے یہ ہم نے کسی اجنبی معبُود کے آگے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوں ۔
۲۱ تو کیا خُدا اِسے دریافت نہ کر لے گا ؟ کیونکہ وہ دِلوں کے بھید جانتا ہے۔
۲۲ بلکہ ہم تو دِن بھر تیری خاطر جان سے مارے جاتے ہیں اور گویا ذبح ہونے والی بھیڑیں سمجھے جاتے ہیں۔
۲۳ اَے خُداوند! جاگ تُو کیوں سوتا ہے؟ اُٹھ ہمیشہ کے لئے ہمکو ترک نہ کر۔
۲۴ تُو اپنا مُنہ کیوں چھُپاتا ہے اور ہماری مُصیبت اور ہماری مظلومی کو بھُولتا ہے؟
۲۵ کیونکہ ہماری جان خاک میں مِل گئی۔ ہمارا جِسم مٹی ہو گیا۔
۲۶ ہماری مدد کے لئے اُٹھ ۔ اور اپنی شفقت کی خاطر ہمارا فدِیہ دے۔