زبُور ۹۴

زبور ۹۴:‏ انتقام لینے والا خدا

آرتھر پنک لکھتا ہے:‏ 

یہ جان کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ بہت سے مسیحی محسوس کرتے ہیں کہ اُنہیں خدا کے غضب کے لئے معذرت کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض اِس مغالطہ میں پڑ جاتے ہیں کہ خدا کا غضب اُس کی بھلائی سے ہم آہنگ نہیں ہے‏، اِس لئے وہ اِس تصور کو اپنے ذہن سے نکال دیتے ہیں۔ لیکن خدا یہ بتانے میں ندامت محسوس نہیں کرتا کہ غضب اور انتقام اُس کی ذات کا حصہ ہیں۔ خدا کا غضب ایک ایسی ہی الٰہی کاملیت ہے جیسے اُس کی وفاداری‏، قدرت اور رحم ہے … خدا کی فطرت جہنم کو بھی اُتنا ہی ضروری متصور کرتی ہے جتنا کہ فردوس کو۔ 

۹۴:‏ ۱۔۳ زبور ۹۴ میں ہم اسرائیل کے بقیہ کو یہ التجا کرتے ہوئے سنتے ہیں کہ آخری ایام میں انتقام لینے والا خدا اپنے آپ کو ظاہر کرے کہ وہ بدی سے نفرت کرتا ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ جہان کا انصاف کرنے والا خدا اپنی برگزیدہ قوم کے خلاف بُرے حکمرانوں کے جرائم کا بدلہ لے۔ پکار ’’کب تک؟‘‘ خاموش ہو جائے گی۔ شریروں کے شادیانے بہت جلد خاموش ہو جائیں گے۔

۹۴:‏ ۴۔۷ متکبر ظالموں کی برائیوں کو ترتیب وار بیان کیا گیا ہے۔ اُن کی بکواس کو سن۔ وہ بڑا بول بولتے ہیں‏، یہ بدکردار کیسے لاف زنی کرتے ہیں۔ وہ یہوواہ کے لوگوں کو اپنے پاؤں تلے پیسے ڈالتے ہیں۔ وہ اُس کی شاہی میراث کو دُکھ دیتے ہیں۔ وہ لاچار و بے کس بیواؤں‏، معصوم پردیسیوں اور بے سہارا یتیموں پر ظلم کرتے ہیں۔ اور اُن کا خیال یہ ہے کہ یعقوب کے خدا کو کوئی پروا نہیں کہ کیا کچھ ہو رہا ہے۔ 

۹۴:‏ ۸۔۱۱  اُن احمقوں کی یہ کیسی سوچ ہے کہ خدا کو کچھ پتہ نہیں! اگر وہ انسانی جسم میں کان لگا سکتا ہے تو کیا اُس میں یہ قدرت نہیں کہ شریر جو کچھ کہتے ہیں اُسے سن سکے؟ کیا آنکھ کا خالق خود اندھا ہو گا کہ وہ نہ دیکھ سکے کہ کیا کچھ ہو رہا ہے؟ اگر اُس میں یہ قدرت ہے کہ اُس نے قوموں کو تنبیہ کی جیسا کہ تاریخ سے ظاہر ہے‏، تو کیا وہ اُنہیں تنبیہ نہیں کر سکتا جو اُس کی برگزیدہ قوم پر ظلم کر رہے ہیں؟ کیسے ممکن ہے کہ اُس کا علم اُس کی طرف سے انسان کو دیئے ہوئے علم سے کم ہو؟ حقیقت تو یہ ہے کہ خدا ہر ایک بات کو جانتا ہے۔ اُسے علم ہے کہ یہ کج رَو لوگ کیا کچھ سوچ رہے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اُن کے خیال باطل ہیں۔ 

۹۴:‏ ۱۲۔۱۵ ایمان مصیبت زدہ زبور نویس کو توفیق دیتا ہے کہ وہ دکھوں کو اِس نقطۂ نگاہ سے دیکھ سکے کہ یہ خدا کی طرف سے تعلیم کا ایک حصہ ہیں۔ خدا کی طرف سے یوں تنبیہ اور اُس کی شریعت کی تعلیم پانا ایک عظیم بات ہے۔ خداوند اُسے مصیبت کے دنوں میں آرام بخشتا ہے‏، جب تک شریر کے لئے گڑھا نہ کھودا جائے۔ وہ بالکل پُر اعتماد ہے کہ یہوواہ اپنے لوگوں کو کبھی ترک نہیں کرے گا اور نہ وہ اپنی میراث ہی کو جس سے وہ محبت کرتا ہے چھوڑے گا۔ بالآخر انصاف کو اِس کا مناسب مقام دیا جائے گا اور دیانت دار لوگ دوسروں سے انصاف کریں گے اور اِس کے عوض انصاف پائیں گے۔ 

۹۴:‏ ۱۶۔۱۹ ایسے بھی حالات تھے جب زبور نویس پریشان تھا کہ بدکرداروں کی بہت زیادہ قوت کے خلاف کون اُس کا دفاع کرے گا۔ لیکن اُسے کبھی بھی تنہا نہ چھوڑا گیا۔ خداوند نے ہمیشہ اُس کی مدد کی ورنہ وہ بہت جلد شہرخموشاں میں دفن کر دیا جاتا۔ جب کبھی محسوس ہوا کہ وہ لوگوں کے شدید حملوں میں پسپا ہو جائے گا تو اُسے یہ تجربہ حاصل ہوا کہ خداوند نے عجیب و غریب طریقہ سے اُسے سنبھال لیا۔

۹۴:‏ ۲۰۔۲۳ کیا یہوواہ اور اُن شریر حکمرانوں کے مابین کسی طرح کی رفاقت ہو سکتی ہے؟ کیا مسیح اور مخالفِ مسیح ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ کیا خداوند اُن لوگوں کی تصدیق کر سکتا ہے جو گناہ کو جائز قرار دینے کے لئے قوانین بناتے ہیں؟ سوال پوچھتے ہی اِس کا جواب ملتا ہے۔ طاقت کے نشے میں چور حکمران صادق کو قتل کرتے اور بے گناہ پر قتل کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ لیکن خداوند اپنے لوگوں کا قلعہ اور چٹان ہے جس میں وہ چھپ سکتے ہیں۔ وہ ناراست کو پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ اُن کی بدی کے بدلے میں اُنہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دے گا‏، ہاں وہ اُنہیں کاٹ ڈالے گا۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُداوند! اَے انتقام لینے والے خُداوند! اَے انتقام لینے والے خُدا! جلوہ گر ہو۔
۲ اَے جہان کا انصاف کرنے والے! اُٹھ۔ مغرورں کو بدلہ دے۔
۳ اَے خُداوند! شریر کب تک شریر کب تک شادیانہ بجایا کرینگے؟
۴ وہ بکواس کرتے اور برا بول بولتے ہیں۔ سب بدکردار لافزنی کرتے ہیں۔
۵ اَے خُداوند! وہ تیرے لوگوں کو پیسے ڈالتے ہیں اور تیری میراث کو دُکھ دیتے ہیں۔
۶ وہ بیوہ اور پردیسی کو قتل کرتے اور یتیم کو مار دالتے ہیں۔
۷ اور کہتے ہیں خُداوند نہیں دیکھیگا۔ اور یعقُوب کا خُدا خیال نہیں کرے گا۔
۸ اَے قوم کے حیوانو! ذرا خیال کرو؟ اَے احمقو ! تمہیں کب عقل آئے گی؟
۹ جِس نے کان دیا کیا وہ خُود نہیں سُنتا؟ جِس نے آنکھ بنائی کیا وہ دیکھ نہیں سکتا؟
۱۰ کیا وہ قوموں کو تنبیہ کرتا ہے۔اور اِنسان کو دانش سِکھاتا ہے سزا نہ دیگا؟
۱۱ خُداوند انسان کے خِیالوں کو جانتا ہے کہ وہ باطل ہیں۔
۱۲ اَے خُداوند! مُبارِک ہے وہ آدمی جِسے تُو تنبیہ کرتا اور اپنی شریعت کی تعلیم دیتا ہے۔
۱۳ تاکہ اُسکو مُصیبت کے دِنوں میں آرام بخشے جب تک شریر کے لئے گڑھا نہ کھودا جائے۔
۱۴ کیونکہ خُداوند اپنے لوگون کو ترک نہیں کریگا اور وہ اپنی میراث کو نہیں چھُوڑیگا۔
۱۵ کیونکہ عدل صداقت کی طرف رجوع کریگا اور سب راست دِل اُسکی پیَروی کرینگے۔
۱۶ شریروں کے مُقابلہ میں کوَن میرے لئے اُٹھیگا؟ بدکرداروں کے خلاف کون میرے لئے کھڑا ہو گا؟
۱۷ اگر خُداوند میرا مددگار نہ ہوتا۔ تو میری جان کب کی عالمِ خاموشی میں جابسی ہوتی۔
۱۸ جَب میَں نے کہا میرا پاؤں پھِسل چلا تو اَے خُداوند ! تیری شفقت نے مجھے سنبھال لیا۔
۱۹ جب میرے دِل میں فِکروں کی کثرت ہوتی ہے تو تیری تسلی میری جان کو شاد کرتی ہے۔
۲۰ کیا شرارت کے تخت سے تجھے کچھ واسطہ ہو گا جو قانون کی آڑ میں بدی گھڑتا ہے؟
۲۱ وہ صادق کی جان لینے کو اکٹھے ہوتے ہیں اور بے گُناہ پر قتل کا فتویٰ دیتے ہیں۔
۲۲ لیکن خُداوند میرا اُونچا بُرج اور میرا خُدا میری پناہ کی چٹان رہا ہے۔
۲۳ وہ اُنکی بدکاری اُن ہی پر لائیگا اور اُن کی شرارت میں اُنکو کاٹ ڈالیگا خُداوند ہمارا خُدا اُنکو کاٹ ڈالیگا۔