وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
«دُنیا کی خوبصورت ترین کتاب» (ارنسٹ رینان۔ Ernest Renan)
۱۔ فہرست ِمُسلَّمہ میں منفرد مقام
«خوبصورت ترین کتاب۔» کسی کتاب کی اِس سے بڑھ کر اَور کیا تعریف ہو سکتی ہے اور خصوصاً جب ایک منکرِ اِلہام کے قلم سے نکلے۔ مگر فرانسیسی نقاد رینان (Renan) نے لوقا کی اِنجیل کے بارے میں یہی رائے دی ہے۔ کون سا ایسا حساس ایمان دار ہے جو اِس اِنجیل نویس کے اِلہامی شاہکار کو پڑھتا ہو اور رینان کے مقولے سے اِختلاف کرے؟ غالباً لوقا واحد غیر قوم مصنف ہے جس کو خدا نے اپنا پاک کلام قلم بند کرنے کے لئے منتخب کیا۔ اور غالباً اِسی وجہ سے یونان و روم کی ثقافت کے وارث مغربی لوگ اِس کو خاص طور سے پسند کرتے ہیں۔
لوقا طبیب جن باتوں پر خاص زور دیتا ہے اُن کے بغیر ہم روحانی طور پر خداوند یسوع اور اُس کے کام کو سمجھنے میں بڑی حد تک ناکام رہتے۔ مثلاً خداوند کی تمام بنی نوعِ اِنسان کے لئے محبت اور نجات کی پیش کش، خداوند کی انفرادی طور پر ہر ایک میں دلچسپی، ہاں غریبوں اور معاشرے کے راندے ہوؤں کے لئے خاص فکر۔ ایسی باتیں سوائے لوقا کے اَور کون اُجاگر کرتا ہے؟ لوقا حمد و ستائش، دعا اور روح القدس پر بھی خاص زور دیتا ہے (قدیم ترین مسیحی گیتوں یا نغموں کے نمونے لوقا باب ۱ اور ۲ میں ملاحظہ کیجئے) ۔
۲۔مصنف
لوقا نسل کے اِعتبار سے اِنطاکی اور پیشے کے لحاظ سے طبیب تھا۔ وہ عرصے تک پولس رسول کا ساتھی اور ہم خدمت رہا۔ اُس نے دوسرے رسولوں کے ساتھ نہایت احتیاط اور توجہ سے گفتگو کی اور اپنی دو کتابوں میں روحانی دوا کے وہ نمونے چھوڑے جو اُن سے حاصل ہوئے تھے۔
مشہور مورِّخ یوسیبیس (Eusebius) نے اپنی کتاب «تاریخِ کلیسیا» میں زیر نظر اِنجیل یعنی تیسری اِنجیل کی تصنیف کے بارے میں جو «خارجی شہادت» چھوڑی ہے، وہ عالم گیر مسیحی روایت کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ ایرینیس نے بہت سے اِقتباس تیسری اِنجیل سے لئے ہیں اور اِس کو لوقا کی اِنجیل قرار دیتا ہے۔ علاوہ ازیں یوسطین شہید (Justin Martyr) ، Hegesiphus، سکندریہ کا کلیمنٹ (Clement) اور طرطلیان (Tertullian) بھی لوقا ہی کو اِس اِنجیل کا مصنف تسلیم کرتے ہیں۔ مارقیون ایک مشہور بدعتی ہوا ہے۔ اُس کی تصنیف اگرچہ بہت متعصبانہ ہے مگر وہ بھی جانتا ہے کہ اِس اِنجیل کا مصنف لوقا ہے۔ مرتوروی فہرست ِاسفار کے جو حصے ملے ہیں، اُن میں بھی تیسری اِنجیل کو «لوقا» کا نام دیا گیا ہے۔ لوقا واحد اِنجیل نویس ہے جس نے اپنے اِنجیل کے بعد کے دَور کو قلم بند کیا ہے یعنی «رسولوں کے اعمال کی کتاب» کی صورت میں۔ یہ کتاب بھی حتمی طور پر ثابت کرتی ہے کہ تیسری اِنجیل کا مصنف لوقا ہے۔ اعمال کے جن حصوں میں «ہم» کا لفظ استعمال ہوا ہے (۱۶:۱۰؛۲۰:۵،۶؛ ۲۱:۵۱؛ ۲۷:۱؛ ۲۸:۶۱ بحوالہ ۲۔تیمتھیس ۴:۱۱) وہاں لوقا خود بھی پولس رسول کا ہم سفر اور ہم خدمت تھا۔ صرف لوقا ہی ہے جو اِن ایام کے لئے موزوں ثابت ہوتا ہے۔ زیر نظر انجیل اور اعمال کی کتاب دونوں کو تھیفلس کے نام «اِنتساب» کیا گیا ہے اور اندازِ بیان سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اِن دونوں کا مصنف ایک ہی شخص ہے۔
پولس رسول لوقا کو «پیارا طبیب» (کلسیوں ۴:۴۱) کہتا ہے اور اُس کا نام یہودی مسیحیوں سے الگ فہرست میں لکھتا ہے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ نئے عہدنامے کے مصنفین میں صرف لوقا ہی غیر اقوام میں سے تھا۔ جسامت کے لحاظ سے لوقا اور اعمال مجموعی طور پر پولس کی تمام تصانیف سے بڑی ہیں۔
داخلی شہادتیں سارے دستاویزی ثبوتوں اور کلیسیا کی روایت کو تقویت دیتی ہیں۔ ذخیرۂ الفاظ (نئے عہدنامے کے دوسرے مصنفین کی نسبت طبی اصطلاحات کو بہت درستی اور صحت کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے) اور عالمانہ یونانی اسلوب سے اِس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہ کتابیں کسی تعلیم یافتہ، سلجھے ہوئے غیر قوم مسیحی طبیب کے زورِ قلم کا نتیجہ ہیں۔ لیکن یہ غیر قوم شخص یہودی موضوعات سے پوری طرح واقف ہے۔ لوقا صحیح تاریخیں دینے اور تحقیق پر مبنی بات کرنے کا شوقین ہے (۱:۱-۴؛ ۳:۱ وغیرہ) ۔ ہم اُسے کلیسیا کا اوّلین مورِّخ کہہ سکتے ہیں۔
۳۔ سنِ تصنیف
لوقا کی اِنجیل پہلی صدی کے دوران ۶۰ء کے دہے کے آغاز میں وجود میں آ چکی ہو گی۔ بعض علما اِسے ۷۵ء تا ۸۵ء (بلکہ دوسری صدی) کا مصنف قرار دیتے ہیں۔ اِس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اِس بات سے اِنکار کیا جاتا ہے کہ یسوع یروشلیم کی بربادی کی اِتنی صحیح پیش گوئی کر سکتا تھا۔ یہ شہر ۷۰ء میں برباد ہوا، اِس لئے خداوند کی نبوت لازماً اِس سن سے پہلے قلم بند ہونی چاہئے تھی۔
سب اِس بات پر متفق ہیں کہ لوقا کی اِنجیل اعمال کی کتاب سے پہلے لکھی گئی۔ اور اعمال کا اِختتام ۶۳ء میں ہوتا ہے جب پولس روم میں قید تھا۔ چنانچہ لوقا کی اِنجیل لازماً اِس تاریخ سے پہلے احاطۂ تحریر میں آئی۔ چند ایسے واقعات ہیں کہ اگر کلیسیا کا مورِّخِ اوّل بعد میں قلم اُٹھاتا تو اُن کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔ مثلاً روم کی عظیم آتش زدگی اور اِس کے نتیجے میں نیرو کا مسیحیوں کو قربانی کے بکرے بنا کر اُن پر ظلم و ستم (۶۴ء) اور پطرس اور پولس کی شہادت۔ چنانچہ یہی ماننا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ اِنجیل ۶۱-۶۲ء میں لکھی گئی۔
۴۔ پس منظر اور موضوع
یونانی لوگ کسی کامل الٰہی اِنسانی ہستی کے منتظر تھے، یعنی ایسی ہستی جس میں مرد و زن کی بہترین خصوصیات اور صفات تو درجۂ کمال تک موجود ہوں مگر خامی کوئی نہ ہو۔ لوقا مسیح کو بطور ابنِ آدم ایسی ہی صورت میں پیش کرتا ہے کہ وہ مضبوط اور طاقت ورہے تاہم ترس اور رحم سے بھرا ہے۔ اِس اِنجیل میں اُس کی بشریت نمایاں ہے۔
مثال کے طور پر مسیح کی دعائیہ زندگی کا جتنا لوقا ذکر کرتا ہے کسی اَور اِنجیل میں نہیں ہے۔ اِسی طرح مسیح کی اِنسانی ہمدردی اور ترس اور رحم کا ذکر بار بار آتا ہے۔ شاید اِسی لئے ہمیں بچے اور عورتیں نمایاں مقام پر نظر آتے ہیں۔ لوقا کی اِنجیل کو «بشارتی اِنجیل» کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہاں اِنجیل غیر قوموں تک پہنچتی ہے اور خداوند یسوع کو «دُنیا کا نجات دہندہ» کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ اِنجیل شاگردوں کے لئے دستور العمل ہے۔ ہمیں اپنے خداوند کی زندگی سے شاگردیت کی شاہراہ تک راہنمائی ملتی ہے۔ اور جب وہ اپنے پیروکاروں کی تربیت کرتا ہے تو اِس راہ پر چلنے کے اصولوں کی تفسیر سنائی دیتی ہے۔ ہم بھی تشریح کرتے ہوئے اِسی خصوصیت کی پیروی کریں گے۔ اِنسانِ کامل کی زندگی میں ہم اُن عناصر کو دیکھیں گے جن سے مثالی زندگی تشکیل پاتی ہے۔ اُس کی بے مثال باتوں میں ہمیں صلیب کو جانے والا راستہ ملے گا جس پر چلنے کے لئے وہ ہمیں بلاتا ہے۔
جب ہم مقدس لوقا کی اِنجیل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم نجات دِہندہ کی پکار اور بلاہٹ پر کان لگائیں اور سب کچھ چھوڑ کر اُس کے پیچھے ہو لیں۔ فرماں برداری روحانی عرفان کا راز ہے۔ جب ہم اِس اِنجیل میں مذکور تجربات میں داخل ہوتے ہیں تو پاک کلام کا مطلب و مفہوم واضح ہو جاتا ہے اور ہم اِسے زیادہ پیار کرنے لگتے ہیں۔
| خاکہ | ||
| باب | ||
| ۱۔ | دیباچہ:لوقا کا مقصد اور طریقِ کار | ۱:۱-۴ |
| ۲۔ | ابنِ آدم اور اُس کے پیش رَو کی آمد | ۱:۵-۲:۵۲ |
| ۳۔ | ابنِ آدم خدمت کے لئے تیاری کرتا ہے | ۳:۱-۴:۳۰ |
| ۴۔ | ابنِ آدم اپنی قدرت کا ثبوت دیتا ہے | ۴:۳۱-۵:۲۶ |
| ۵۔ | ابنِ آدم اپنی خدمت کی وضاحت کرتا ہے | ۵:۲۷-۶:۴۹ |
| ۶۔ | ابنِ آدم اپنی خدمت کو وسعت دیتا ہے | ۷:۱-۹:۵۰ |
| ۷۔ | ابنِ آدم کی روز افزوں مخالفت | ۹:۵۱-۱۱:۵۴ |
| ۸۔ | یروشلیم کو سفر کرتے ہوئے تعلیم دینا اور شفا بخشنا | ۱۲-۱۶ |
| ۹۔ | ابنِ آدم اپنے شاگردوں کو ہدایات دیتا ہے | ۱۷:۱-۱۹:۲۷ |
| ۱۰۔ | ابنِ آدم یروشلیم میں | ۱۹:۲۸-۲۱:۳۸ |
| ۱۱۔ | ابنِ آدم کا دُکھ اُٹھانا اور موت | ۲۲-۳۳ |
| ۱۲۔ | ابنِ آدم کی فتح یابی | ۲۴ |