زبور ۳: مصیبت میں خدا پر اعتماد
۳:۱۔۲ داؤد شروع میں ہی اپنے دشمنوں سے مرعوب نظر آتا ہے۔ اُن کی بہت زیادہ تعداد سے اُس کا دل دہل جاتا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں ایک تنہا شخص کی کیا حیثیت ہے؟ علاوہ ازیں اُسے اُن کے طعنوں سے تکلیف ہوتی ہے۔ وہ اُس پر الزام لگاتے ہیں کہ اُس کے گناہ کی وجہ سے اُسے خدا کی طرف سے مدد حاصل نہیں ہو گی۔
آیت ۲ ’’سلاہ‘‘ سے اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اِس کا مفہوم کچھ مبہم سا ہے۔ مزامیر میں یہ لفظ ستر بار استعمال ہوا ہے اور یہاں یہ پہلی بار آیا ہے، اِس لئے یہاں ہم اِس کی تشریح کریں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم پورے طور پر نہیں جانتے کہ اِس لفظ کا کیا مطلب ہے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ بعض ایک مجوزہ معانی کی فہرست پیش کریں اور قاری پر چھوڑ دیں کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کون سا مفہوم اُسے پسند ہے۔
- ۔۔ اونچی آواز میں گانا یا سازوں کے ساتھ گانا یعنی اونچے سُروں میں گانا بجانا۔
- ۔۔ وقفہ یا ٹھہراؤ یعنی ٹھہرو اور اِس کے بارے میں غور کرو۔
- ۔۔ ہفتادی ترجمہ میں مستعمل لفظ diapsalmos کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: اونچے سروں میں بجانا یا موسیقی کا وقفہ۔
- ۔۔ دہرانا
- ۔۔ شاعری میں بند کا اختتا م
- ۔۔ جسم کو سجدے میں جھکانا
۳:۳ زبور کی کیفیت آیت ۳ میں تبدیل ہوتی ہے۔ داؤد اپنے دشمنوں سے نگاہیں ہٹا کر اپنے خداوند پر مرکوز کرتا ہے، اور اِس سے اُس کا نقطۂ نظر کلی طور پر تبدیل ہو جاتا ہے۔ اُسے فوراً احساس ہوتا ہے کہ یہوواہ اُس کی سپر ہے، وہ اُس کا فخر اور اُسے سرفراز کرنے والا ہے۔ سپر کے طور پر خداوند اُسے اُس کے دشمنوں کے حملوں سے مکمل تحفظ دیتا ہے، اُس کے فخر کی حیثیت سے خداوند اُسے ملامت اور ندامت کی جگہ عزت، وقار اور جرأت دیتا ہے۔ اُسے سرفراز کرنے والے کی حیثیت سے خداوند اُس کی حوصلہ افزائی کرتا اور اُسے سربلند کرتا ہے۔
۳: ۴ خدا کے بارے میں اِن عظیم اور حقیقی خیالات سے تحریک حاصل کرکے داؤد خداوند سے دعا کرتا ہے اور اُسے فوری طور پر یقین آ جاتا ہے کہ اُس کی دعا سن لی گئی اور اُس کا جواب دیا جا چکا ہے۔ خداوند اپنے کوہِ مقدس پر سے جواب دیتا ہے یعنی یروشلیم میں جہاں وہ اپنے لوگوں میں سکونت کرتا تھا۔
۳: ۵،۶ زبور نویس یہوواہ کے تحفظ کی یقین دہانی سے لیٹ کر سو جاتا ہے۔ یہ بہت میٹھی قسم کی نیند ہے اور یہ اُن لوگوں کے لئے خدا کی نعمت ہے جو زندگی کے بہت زیادہ پریشان کن حالات میں بھی اُس پر بھروسا رکھتے ہیں۔
آرام دہ رات کے بعد داؤد اِس احساس کے ساتھ بیدار ہوتا ہے کہ خداوند نے اُسے متوقع اندیشوں اور خوف سے سکون دیا۔ اور اب اُسے جرأت حاصل ہوتی ہے کہ وہ بلا خوف اپنے دشمنوں کا سامنا کر سکے، خواہ اُن کی تعداد دس ہزار ہی کیوں نہ ہو۔
۳: ۷ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ دعا کی اب مزید ضرورت نہیں۔ جس فضل نے گذشتہ رات ہمیں سنبھالا وہ آج کے لئے کافی نہ ہو گا۔ اِس لئے ہمیں ہر روز خدا کے تازہ فضل کی ضرورت ہے۔ چنانچہ داؤد مسلسل مخلصی کے لئے خداوند کے پاس اِس ایمان کے ساتھ آتا ہے کہ خدا اُن کے جبڑوں پر مارے گا اور اُن کے دانت توڑ ڈالے گا۔
۳:۸ یہوواہ ہی وہ واحد ذات ہے جو کسی بھی شخص کو مخلصی دے سکتی ہے، نجات صرف خداوند کی طرف سے ہے۔ چنانچہ وہ التجا کرتا ہے کہ خدا مسلسل اپنی عظیم مخلصی کو ظاہر کرنے سے اپنے لوگوں کو برکت دے۔
اِس مردِ خدا کے پریشان جذبات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے ہمیں اِس زبور کے عنوان پر نگاہ ڈالنی چاہئے:
’’داؤد کا مزمور۔ جب وہ اپنے بیٹے ابی سلوم کے سامنے سے بھاگا۔‘‘
داؤد کے دشمنوں کا قائد اُس کا اپنا بیٹا تھا۔ اگر اُس کے مخالفین غیرملکی حملہ آور ہوتے تو یہ بھی بہت حد تک بُری صورتِ حال ہوتی، لیکن چونکہ اُن کا قائد داؤد کا بیٹا تھا اِس لئے اُس کی تلخی اور غم اَور زیادہ ہو گیا۔
مقدس کتاب
۱ اِے خُداوند میرے ستانے والے کتنے بڑھ گئے! وہ جو میرے خلاف اُٹھتے ہیں بہت ہیں۔
۲ بہت سے میری جان کے بارے میں کہتے ہیں کہ خُدا کی طرف سے اُس کی کمک نہ ہو گی۔ (سلاہ)
۳ لیکن تُو اَے خُداوند! ہر طرف میری سِپر ہے۔ میرا فخر اور سرفراز کرنے والا۔
۴ میں بلند آواز سے خُداوند کے حضُور فریاد کرتا ہوں اور وہ اپنے کوہِ مُقدس پر سے مجھے جواب دیتا ہے۔ (سلاہ):
۵ میں لیٹ کر سو گیا۔ میں جاگ اُٹھا کیونکہ خُداوند مجھے سبنھالتا ہے۔
۶ میں اُن دس ہزار آدمیوں سے نہیں ڈرنے کا جو گرد اگرد میرے خِلاف صف بستہ ہیں۔
۷ اُٹھ اَے خُداوند! اَے میرے خُدا! مجھے بچالے! کیونکہ تُونے میرے سب دُشمنوں کو جبڑے پر مارا ہے۔ تُو نے شِریروں کے دانت توڑ ڈالے ہیں۔
۸ نجات خُداوند کی طرف سے ہے۔ تیرے لوگوں پر تیری برکت ہو! (سلاہ)