زبور ۱۲۷: ہمارے کاموں میں خدا کا ہاتھ
تھوڑا بھی بہت ہے اگر خدا کا ہاتھ اُس میں ہو، لیکن اِس کے اُلٹ بھی درست ہے: بہت زیادہ کچھ بھی نہیں، اگر خدا کا ہاتھ اُس میں نہ ہو۔ اِس زبور میں یہی کہا گیا ہے۔ جب تک ہمارے کام میں خدا راہنمائی نہ کرے تب تک یہ وقت اور قوت کا ضیاع ہے۔ ہم اپنے منصوبے شروع کر سکتے ہیں، ہم بہت بڑی تنظیمیں بنا سکتے ہیں اور ہم اعداد و شمار سے بہت اعلیٰ نتائج پیش کر سکتے ہیں، لیکن اگر ہم خداوند کو اپنے منصوبوں میں شامل نہیں کرتے تو وہ بے کار ثابت ہوں گے۔
زبور نویس اِس نکتے کی وضاحت کے لئے زندگی کی چار عام سرگرمیوں کو منتخب کرتا ہے۔ وہ ہیں گھر کی تعمیر، شہر کا دفاع، عام ملازمت اور خاندان کی نشوونما۔
۱۲۷: ۱ گھر بنانے کے دو طریقے ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ ہم اپنے علم، مہارت اور مالی وسائل کی بنیاد پر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں اور پھر تعمیر شدہ گھر پر خدا کی برکت مانگیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انتظار کریں کہ خدا ہماری راہنمائی کرے اور پھر اُس پر تکیہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ پہلی صورت میں منصوبہ ہماری جسمانی سوچ سے آگے نہیں بڑھتا۔ دوسری صورت میں ہم مطلوبہ وسائل کی بہم رسانی اور حالات میں خدا کا شفقت بھرا ہاتھ دیکھیں گے۔ جب ہم خدا کے ساتھ مل کر تعمیر کرتے ہیں تو ہم بہت فرق محسوس کریں گے۔
دوسری مثال یہ ہے کہ حفاظت کے سلسلے میں انسانی کوششیں خدا کے بغیر غیر موثر ہیں۔ ’’اگر خداوند ہی شہر کی حفاظت نہ کرے تو نگہبان کا جاگنا عبث ہے۔‘‘ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پولیس اور دیگر حفاظتی ایجنسیوں کا انتظام نہ ہو، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ بالآخر ہمارا تحفظ خداوند میں ہے اور جب تک ہم کلی طور پر اُس پر اعتماد نہ کریں تب تک ہمارے عام حفاظتی اقدامات ہمیں محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
۱۲۷: ۲ ہماری روزمرہ ملازمت میں بڑی محنت سے روزی کمانے کے لئے زیادہ گھنٹوں تک کام کرنا بے سود ہے، اگر خدا نے ہمیں اِس کام کے لئے برکت نہ دی ہو۔ مہربانی کرکے مجھے غلط نہ سمجھئے۔ ساری بائبل میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ ہمیں اپنی ضروریات، اپنے خاندان کی ضروریات اور دوسروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جاں فشانی سے کام کرنا چاہئے۔ اِس زبور میں اِس امر کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی کہ ہم سارا دن صرف کھانے پینے اور دوستوں سے گپ شپ میں وقت گزار دیں۔ لیکن بنیادی حقیقت یہ ہے: اگر کام کرتے ہوئے ہمارا خدا پر انحصار نہیں تو ہم فی الحقیقت کہیں بھی نہیں پہنچ سکتے۔ حجی نبی اِس صورتِ حال کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:
’’تم نے بہت سا بویا پر تھوڑا کاٹا۔ تم کھاتے ہو پر آسودہ نہیں ہوتے۔ تم پیتے ہو پر پیاس نہیں بجھتی۔ تم کپڑے پہنتے ہو پر گرم نہیں ہوتے اور مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے‘‘ (حجی ۱:۶)۔
لیکن دوسری طرف اگر ہم فی الحقیقت خداوند کے تابع ہیں اور اُس کے جلال کے لئے زندگی گزارتے ہیں تو وہ ہمیں نیند میں ہی وہ نعمتیں دے سکتا ہے جنہیں ہم اُس کے بغیر طویل اور تھکا دینے والی محنت کے ساتھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ اِس جملے کا یہی مطلب ہے، ’’وہ اپنے محبوب کو تو نیند ہی میں دے دیتا ہے۔‘‘
۱۲۷: ۳ چوتھی اور آخری مثال خاندان کے پالنے کے بارے میں ہے۔ بچے بھی خدا کی نعمت ہیں۔ ’’دیکھو اولاد خدا کی طرف سے میراث ہے اور پیٹ کا پھل اُسی کی طرف سے اجر ہے۔‘‘
یہاں بچوں کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ جس گھرانے میں پرورش پائیں وہاں خدا کی عزت ہو اور اُس کے حکموں کی تعمیل کی جائے۔ وہاں اُنہیں خداوند کی باتوں کی تعلیم دی جائے اور اُنہیں ضبط سکھایا جائے۔
۱۲۷ : ۴ ’’جوانی کے فرزند ایسے ہیں جیسے زبردست کے ہاتھ میں تیر۔‘‘ جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے دیندار بچوں پر بھروسا کر سکتے ہیں کہ وہ اُن کے لئے جنگجو کی طرح لڑیں گے اور اپنے تیر اور کمان سے شکار کرکے اُنہیں کھلائیں گے۔
۱۲۷: ۵ ’’خوش نصیب ہے وہ آدمی جس کا ترکش اُن سے بھرا ہے۔‘‘ خداوند اُس شخص کو مبارک کہتا ہے جس کا ترکش بچوں سے بھرا ہے۔ لیکن یہ بات بھی اِس پر مبنی ہے کہ وہ ایماندار فرزند ہوں اور ایمان کے گھرانے کے افراد ہوں۔ ورنہ وہ برکت کی بجائے تکلیف اور زحمت کا باعث ہوں گے۔
’’ جب وہ اپنے دشمنوں سے پھاٹک پر باتیں کریں گے تو شرمندہ نہ ہوں گے۔‘‘ ایک محصور شہر کی فوجیں اپنے شہر کے پھاٹک پر لڑتی تھیں۔ چنانچہ یہاں پر یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ کسی شخص کے فرزند دیوانی یا قانونی معاملات میں اُس کا دفاع کریں گے تاکہ اُسے کسی طرح کا نقصان برداشت نہ کرنا پڑے۔
اِس زبور کی زکریاہ نے بڑی خوبصورتی سے وضاحت کی ہے: ’’نہ تو زور سے اور نہ توانائی سے بلکہ میری روح سے، رب الافواج فرماتا ہے‘‘ (زکریاہ ۴:۶)۔ خطرہ ہے کہ ہم اپنے روپے پیسے یا اپنی ہنر مندی پر بھروسا رکھیں۔ لیکن خداوند کی مرضی اِس طریقے سے پوری نہیں ہوتی۔ لازم ہے کہ ہمارا خدا کے روح پر بھروسا ہو۔ ہم اپنے وسائل سے خدا کے لئے کام نہیں کرتے ، بلکہ وہ ہمیں اپنی قدرت سے اپنے لئے استعمال کرتا ہے۔ ہم تو صرف لکڑی، بھوسا اور ڈنٹھل پیدا کر سکتے ہیں، لیکن وہ ہمیں سونا، چاندی اور قیمتی ہیرے پیدا کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ جب ہم اپنی قوت سے کام کرتے ہیں تو ہمارا کام موثر نہیں ہوتا۔ لیکن جب ہم ہر کام میں خدا کو شامل کرتے ہیں تو ہماری زندگیاں فی الحقیقت موثر ہوتی ہیں۔ جسمانی طریقے جسمانی نتائج پیدا کرتے ہیں، روحانی طریقے روحانی نتائج پیدا کرتے ہیں۔
مقدس کتاب
۱ اگر خُداوند ہی گھر نہ بنائے تو بنانے والے کی محنت عبث ہے۔ اگر خُداوند ہی شہر کی حفاظت نہ کرے تو نگہبان کا جاگنا عبث ہے۔
۲ تمہارے لئے سویرے اُٹھنا اور دیر میں آرام کرنا اور مُشقت کی روٹی کھانا عبث ہے۔ کیونکہ وہ اپنے محبوب کو تو نیند میں ہ دیدیتا ہے۔
۳ دیکھو! اولاد خُداوند کی طرف سے میراث ہے۔ اور پیٹ کا پھل اُس کی طرف سے اجر ہے۔
۴ جوانی کے فرزند ایسے ہیں جیَسے زبردست کے ہاتھ میں تیر۔
۵ خُوش نصیب ہے وہ آدمی جِسکا تر کش اُس نے بھرا ہے۔ جب وہ اپنے دُشمنوں سے پھاٹک پر باتیں کرینگے تو شرمندہ نہ ہونگے۔