زبُور ۶۱

زبور ۶۱:‏ چٹان جو میری نسبت بلند ہے

داؤد کے خداوند کے ساتھ بہت خوبصورت تعلقات تھے۔ خصوصی طور پر خطرے کے لمحات میں جب حالات بالکل مایوس کن دکھائی دیتے تھے‏، وہ خداوند پر اپنی فکریں ڈالنا جانتا تھا۔ 

یہاں پر ایک اَور ہنگامی صورتِ حال نظر آتی ہے۔ حالات کے دباؤ سے اُس کے دل سے ایک ایسی دعا نکلتی ہے جو نہایت دل دوز اور موثر ہے۔ یہ خدا کے ہزاروں لوگوں کی زبان بن گئی ہے جب وہ مصیبت‏، تکلیف اور دکھ میں سے گزر رہے تھے کیونکہ جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں‏، وہ بڑی خوبصورتی سے اِس دعا میں بیان کیا گیا ہے۔ 

۶۱:‏ ۱ کائنات کی تخت گاہ میں داؤد کی مانوس آواز سنائی دیتی ہے:‏

’’اے خدا! میری فریاد سن! میری دعا پر توجہ کر۔‘‘

خدا کا دل خوش ہے۔ اُس کے خادم کا بچوں کا سا ایمان اِس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ قادرِ مطلق نے فوری طور پر اُس کی دعاکو سن لیا ہے۔

۶۱:‏۲ ’’ مَیں اپنی افسردہ دلی میں زمین کی انتہا سے تجھے پکاروں گا۔‘‘

زبور نویس فی الحقیقت زمین کی انتہا پر نہیں‏، لیکن وہ واقعی انتہا کے ایسے مقام پر ہے جہاں تحفظ اور مخلصی بعید معلوم ہوتی ہے‏، جہاں زندگی ختم ہو جاتی اور موت شروع ہوتی ہے۔ جسمانی اور جذباتی طور پر وہ تھک چکا ہے‏، لیکن وہ جانتا ہے کہ فضل کا تخت اُس کے بہت قریب ہے‏، چنانچہ وہ ضرورت کے لمحات میں مدد اور رحم حاصل کرنے کے لئے پاس آتا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ فاصلے اور زندگی کی کوئی بھی حد دعا کا راستہ نہیں روک سکتی۔

’’مجھے اُس چٹان پر لے چل جو مجھ سے اونچی ہے۔‘‘

داؤد پہچان لیتا ہے کہ اُسے تحفظ کے لئے چٹان کی ضرورت ہے اور لازم ہے کہ وہ چٹان اُس سے اونچی ہو۔ یہ چٹان خداوند ہے (‏۲۔سموئیل ۲۲:‏ ۳۲)‏۔ بائبل میں یہ استعارہ کسی انسان کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ لازم ہے کہ چٹان انسان سے اونچی ہو‏، ورنہ انسان اُس میں پناہ نہیں ڈھونڈ سکتا۔ اِس کا مسیح کی الوہیت کی طرف اشارہ ہے (‏اور لازم ہے کہ چٹان میں شگاف ہو تاکہ وہ دشمن سے بچنے کے لئے چھپنے کی جگہ مہیا کرے)‏۔ بالآخر داؤد تسلیم کرتا ہے کہ اُس میں نہ تو حکمت ہے اور نہ قوت جو اُس کی راہنمائی کریں۔ چنانچہ وہ زمانوں کی چٹان یعنی خداوند سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُس کی راہنمائی کرے۔

۶۱:‏ ۳ ’’کیونکہ تُو میری پناہ رہا ہے اور دشمن سے بچنے کے لئے اونچا بُرج۔‘‘

یہ الفاظ اِس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ خدا چٹان ہے۔ داؤد پر ثابت ہو چکا تھا کہ وہ قابل اعتماد پناہ گاہ اور محکم برج ہے جہاں راست باز بھاگ کر پناہ لے سکتا ہے (‏امثال ۱۸:‏ ۱۰)‏۔ خدا جو کچھ تھا‏، وہ وہی کچھ رہے گا۔

۶۱:‏۴ ’’ مَیں ہمیشہ تیرے خیمہ میں رہوں گا۔
مَیں تیرے پروں کے سایہ میں پناہ لوں گا۔‘‘

ایسی دعا خدا کے تخت تک پہنچنے میں ناکام نہیں ہو سکتی۔ ایسی معصوم محبت اور سادہ اعتماد کا کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ عجب نہیں کہ خدا نے داؤد کے بارے میں کہا کہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو اُس کے دل کے موافق ہے (‏۱۔سموئیل ۱۳:‏۱۴)‏۔ ممکن ہے ’’تیرے پروں کے سایہ‘‘ سے مراد کروبیوں کے پَر ہوں جو سرپوش کے اوپر سایہ کئے رہتے تھے۔

۶۱:‏۵ ’’کیونکہ اے خدا تُو نے میری منتیں قبول کی ہیں۔
تُو نے مجھے اُن لوگوں کی سی میراث بخشی ہے
جو تیرے نام سے ڈرتے ہیں۔‘‘

عہد عتیق میں لفظ ’’میراث‘‘ کا اطلاق ملک کنعان (‏خروج ۶:‏۸)‏‏، قوم اسرائیل (‏زبور ۹۴:‏۵)‏‏، خدا کے کلام (‏زبور ۱۱۹:‏۱۱۱)‏‏، خاندان میں بچوں (‏زبور ۱۲۷:‏۳)‏‏، نقصان سے تحفظ (‏یسعیاہ ۵۴:‏۱۷)‏ اور بالآخر خیمہ اجتماع یا ہیکل پر ہوتا ہے (‏یرمیاہ ۱۲:‏۷)‏۔ غالباً یہاں آخری معافی مراد ہیں کیونکہ گذشتہ آیت میں خدا کے خیمہ اور کروبیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ہم جو مسیح کے بدن میں شامل کئے گئے ہیں ہماری میراث ابدی زندگی ہے (‏کلسیوں ۱:‏۱۲)‏۔

۶۱:‏ ۶‏،۷ الف ’’تُو بادشاہ کی عمر دراز کرے گا۔
اُس کی عمر بہت سی پشتوں کے برابر ہو گی۔
وہ خدا کے حضور ہمیشہ قائم رہے گا۔
تُو شفقت اور سچائی کو اُس کی حفاظت کے لئے مہیا کر۔
یوں مَیں ہمیشہ تیری مدح سرائی کروں گا
تاکہ روزانہ اپنی منتیں پوری کروں۔‘‘

یہ امر دلچسپ ہے کہ داؤد دو آیات میں صیغہ غائب میں بات کرتا ہے (‏’’ مَیں‘‘ کی جگہ ’’وہ‏، اُس‘‘)‏۔ یہ اِس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ اگرچہ وہ بلاشبہ اپنے بارے میں اور اُس عہد کے متعلق اشارہ کر رہا ہے جو خدا نے اُس کے ساتھ باندھا تھا (‏۲۔سموئیل ۷ باب)‏ تو بھی اُس کے الفاظ ایک اَور بادشاہ کے بارے میں زیادہ مناسب ہیں۔ اگر ہم اِن الفاظ کا داؤد پر اطلاق کریں تو اِس سے ہم صرف یہی اخذ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی عمر کی درازی اور سلطنت کے دوام کے لئے درخواست کر رہا ہے۔ لیکن اِن کی پوری تکمیل یسوع مسیح پر اطلاق کرنے سے ہوتی ہے:‏

  • دکھوں کے باوجود اُس کی زندگی ابدی طورپر دراز ہوئی(‏عبرانیوں ۷:‏۱۶)‏۔
  • اُس کی عمر تمام پشتوں کے برابر ہو گی (‏عبرانیوں ۱:‏۱۲)‏۔
  • وہ خدا کے سامنے ہمیشہ کے لئے تخت نشین ہو گا (‏عبرانیوں ۱:‏۸)‏۔
  • شفقت اور سچائی محافظوں کی طرح اُس کی نگہبانی کریں گی (‏زبور ۹۱:‏ ۱۔۱۶)‏۔

قدیم یہودی تفسیر تارگوم میں بھی بتایا گیا ہے کہ یہاں المسیح بادشاہ کا ذکر آیا ہے۔

۶۱:‏ ۷ ب ’’یوں مَیں ہمیشہ تیری مدح سرائی کروں گاتاکہ روزانہ اپنی منتیں پوری کروں۔‘‘

اور یوں جو زبور پریشانی اور مصیبت میں شروع ہوا تھا‏، سکون کے جذبات کے ساتھ ختم ہوا۔ داؤد اُس چٹان تک پہنچ چکا ہے جو اُس سے اونچی ہے۔ اور وہ اِس قدر شکرگزار ہے کہ اُس نے عزم کر لیا کہ وہ مسلسل خدا کی مدح سرائی کرے گا اور پرستش‏، محبت اور خدمت کی منتیں پوری کرے گا۔ وہ اُن لوگوں کی مانند نہیں ہے جو مصیبت کے وقت ایسی نامعقول منتیں مانتے ہیں جو بعد میں بھول جاتے ہیں۔ وہ ایسا شخص نہیں جو دعا کے وقت تو چھلانگیں مارتا‏، لیکن شکرگزاری کے وقت لنگڑانے لگتا ہے۔ 

زبور ۶۱ نے اِس خوبصورت گیت کو لکھنے کی تحریک دی:‏

بعض اوقات سائے گہرے ہوتے ہیں اور
منزل کی طرف جانے والا راستہ مشکل ہوتا ہے۔
بعض اوقات غم کس طرح نڈھال کر دیتے ہیں
جب وہ طوفان کی طرح مجھ پر آ جاتے ہیں۔
ترجیح:‏ 
تب مجھے اُس چٹان کی طرف بھاگ جانے دیں۔
اُس چٹان کی طرف جو مجھ سے اونچی ہے‏،
مجھے اُس چٹان کی طرف بھاگ جانے دیں۔
اُس چٹان کی طرف جو مجھ سے اونچی ہے۔
بعض اوقات دن کس قدر طویل دکھائی دیتا ہے۔
اور بعض اوقات میرے پاؤں کس قدر تھک جاتے ہیں۔
لیکن زندگی کے گرد آلود راستہ میں‏،
چٹان کا سایہ کس قدر بھلا لگتا ہے۔
مجھے اُس چٹان کے قریب رہنے دیں
خواہ برکتیں یا غم موجود ہوں‏،
یا پہاڑ پر چڑھنے کا راستہ دشوار گزار ہو‏،
خواہ تاریک وادی میں سے مجھے گزرنا پڑے۔
(‏اراستس جانسن)‏

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا میری فریاد سُن! میری دُعا پر توجُّہ کر۔
۲ میَں اپنی افسُردہ دِلی میں زمین کی انتہا سے تجھے پُکارونگا۔ تُو مجھے اُس چٹان پر لے چل جو مجھ سے اُونچی ہے۔
۳ کیونکہ تُو میری پناہ راہ ہے اور دُشمن سے بچنے کے لئے اُونچا بُرج۔
۴ میَں ہمیشہ تیرے خَیمہ میں رہوں گا۔ میَں تیرے پروں کے سایہ میں پناہ لوں گا۔
۵ کیونکہ اَے خُدا تُو نے میری منّتیں قبول کی ہیں۔تُو نے مجھے اُن لوگوں کی سی مِیراث بخشی ہے جو تیرے نام سے ڈرتے ہیں۔
۶ تُو بادشاہ کی عُمر دراز کرے گا ۔ اُسکی عُمر بُہت سی پُشتوں کے برابر ہو گی۔
۷ وہ خُدا کے حضُور ہمیشہ قائم رہے گا۔ تُو شفقت اور سچّائی کو اُسکی حِفاظت کے لئے مُہیا کر۔ یوں میَں ہمیشہ تیری مدح سرائی کرونگا تاکہ روزانہ اپنی منّتیں پوری کروں۔
۸