زبور ۲۱: فتح کی شکرگزاری
اِس زبور اور گذشتہ زبور میں بہت گہرا تعلق ہے۔ وہاں ہم نے لوگوں کو دعا کرتے سنا کہ جب بادشاہ جنگ کے لئے نکلے تو خداوند اُسے فتح بخشے۔ یہاں دعا کا جواب مل گیا ہے اور یہی لوگ خدا کی فتح کو بیان کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ اُس سنسنی خیز انداز کو بیان کرتے ہیں جس سے خدا نے اُنہیں کامیابی دی (آیات ۱۔۷)۔ تب وہ اِس بات کی توقع کرتے ہیں کہ بالآخر بادشاہ کے سب دُشمن مطیع ہو جائیں گے (آیات ۸۔۱۲)۔ آخر میں وہ یہوواہ کی قوت اور قدرت کی تعریف کرتے ہیں (آیت ۱۳)۔
فتح کا مزہ (۲۱: ۱۔۷)
۲۱: ۱۔۴ بادشاہ خوشی مناتا ہے کہ خداوند نے کس خوبصورت انداز میں اپنی قوت سے ظاہر کیا کہ وہ جنگ کا خدا ہے۔ جب وہ یہوواہ کی عین موقع پر مدد کے بارے میں سوچتا ہے تو اُس کا دِل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ جس فتح کی اُسے خواہش تھی خدا نے اُسے دی یعنی اُس نے جس کامیابی کے لئے دعا کی وہ اُس نے اُسے عطا کی۔ یہوواہ نے اُسے فتح اور خوش حالی کی برکتیں دینے کے لئے پیش قدمی کی۔ قادر مطلق نے اُس کے سر پر خالص سونے کا لازوال تاج رکھا۔ تحفظ کے لئے بادشاہ کی درخواست کے جواب میں خدا نے اُسے زندگی دی— ہاں عمر کی درازی ہمیشہ کے لئے عطا کی۔ اِن الفاظ کا داؤد پر اطلاق یہ ہے کہ اُس کی زندگی دراز ہو گی، لیکن یہ بات مکمل طور پر مسیح کی دائمی زندگی پر صادق آتی ہے۔
۲۱: ۵۔۷ اِس پیرے کے حسن میں اَور اضافہ ہو جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اِس کا تعلق خداوند یسوع مسیح سے ہے۔ خدا کی نجات بخش مدد نے اُسے عظیم شوکت دی ہے۔ خدا نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کرنے اور اپنے دہنے ہاتھ بٹھانے سے اُسے حشمت و جلال سے آراستہ کیا (عبرانیوں ۲: ۹)۔ ہاں خداوند نے اُسے ہمیشہ کے لئے برکتوں سے مالا مال کیا ہے اور اُسے ساری دُنیا کے لئے برکت کا باعث ٹھہرایا ہے۔ سب سے اعلیٰ مقام پر بیٹھے ہوئے، مسیح اپنے باپ کی حضوری میں خوش و خرم ہے۔ اُس کے خداوند پر کامل اعتقاد نے اُسے عزت کے اِس مقام تک پہنچایا اور حق تعالیٰ کی شفقت اُس کی دائمی سربلندی کی ضمانت ہے۔
بادشاہ کے دشمنوں کا انجام (۲۱: ۸۔۱۲)
۲۱:۸۔۱۰ اِس مقام پر لوگ بادشاہ سے براہِ راست مخاطب ہیں (گذشتہ حصہ میں وہ خداوند سے باتیں کر رہے تھے)۔ اگر بادشاہ سے مراد مسیح ہے تو یہ پیرا مسیح کی دوسری آمد کے وقت اُس کے دشمنوں کے انجام کو بیان کرتا ہے۔
اُس کا دہنا ہاتھ اُس کے سارے دشمنوں کو ڈھونڈ نکالے گا، اُس سے نفرت کرنے والا کوئی شخص بھی راہِ فرار حاصل نہیں کر سکے گا۔ آگ اُن کی تباہی کا سبب بنے گی۔ وہ ’’بھڑکتی ہوئی آگ میں آسمان سے ظاہر ہو گا اور جو خدا کو نہیں پہچانتے اور ہمارے خداوند یسوع کی خوش خبری کو نہیں مانتے اُن سے بدلہ لے گا‘‘ (۲۔تھسل ۱: ۷،۸)۔ وہ اُن کے پھل کو زمین پر سے اور اُن کی نسل کو بنی آدم میں سے نابود کر دے گا۔
۲۱: ۱۱،۱۲ مسیح کے عالم گیر حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے میں حائل سازش (زبور ۲:۲، ۳ میں بیان کی گئی ہے) بُری طرح ناکام ہو جائے گی۔ جب باغیوں پر آگ نازل ہو گی تو وہ پسپا ہو جائیں گے۔
خداوند کی تعریف (۲۱:۱۳)
اختتامی حصہ میں خداوند کی تعریف کی گئی ہے کہ اُس نے کس قدر اپنی قوت کو ظاہر کیا۔ جب خدا نے اپنے لوگوں کی مخلصی اور اپنے تمام دشمنوں کو نیچا دکھانے کے لئے اپنی قوت کو ظاہر کیا، تو شکرگزاری کا یہ گیت زبان پر آ گیا۔ یہ اسرائیل کے بقیہ کا گیت ہے جو مسیح کی سربلندی کے لئے دعا کرے گا اور بالآخر تسلیم کرے گا کہ وہی سب کا خداوند ہے۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند! تیری قوت سے بادشاہ خُوش ہوگا اور تیری نجات سے اُسے نہایت شادمانی ہوگی۔
۲ تُو نے اُس کے دِل کی آرزُو پُوری کی ہے اور اُس کے مُنہ کی درخواست کو نامنظور نہیں کیا۔ (سِلاہ)
۳ کیونکہ تُو اُسے عمدہ برکتیں بخشنے میں پیش قدمی کرتا اور خالص سونے کا تاج اُس کے سر پر رکھتا ہے۔
۴ اُس نے تجھ سے زندگی چاہی اور تُو نے بخشی۔ بلکہ عمر کی درازی ہمیشہ کے لئے۔
۵ تیری نجات کے سبب سے اُس کی شوکت عظیم ہے۔ تُو اُسے حشمت وجلال سے آراستہ کرتا ہے۔
۶ کیونکہ تُو ہمیشہ کے لئے اُسے برکتوں سے مالا مال کرتا ہے اور اپنے حضُور اُسے خُوش وخُرم رکھتا ہے۔
۷ کیونکہ بادشاہ کا تُوکل خُداوند پر ہے اور حق تعالیٰ کی شفقت کی بدولت اُسے ہرگز جنبش نہ ہوگی۔
۸ تیرا ہاتھ تیرے سب دُشمنوں کو ڈھونڈنِکالیگا۔ تیرادہنا ہاتھ تجھ سے کینہ رکھنے والوں کا پتہ لگالیگا۔
۹ تُو اپنے قہر کے وقت اُن کو جلتے تنورکی مانند کردیگا۔ خُداوند اپنے غضب میں اُن کو نگل جائیگا اور آگ اُن کو کھا جائیگی۔
۱۰ تُو اُن کے پھل کو زمین پر سے نابُود کردیگا اور اُن کی نسل کو بنی آدم میں سے۔
۱۱ کیونکہ اُنہوں نے تجھ سے بدی کرنا چاہا۔ اُنہوں نے ایسا منصُوبہ باندھا جِسے وہ پُورا نہیں کرسکتے۔ کیونکہ تُو اُنکا مُنہ پھیردیگا۔ تُو اُنکے مُقابلہ میں اپنے چِلّے چڑھائیگا۔
۱۲ اَے خُداوند! تُو اپنی ہی قوت میں سربلند ہو! اور ہم گا کر تیری قُدرت کی ستائش کرینگے۔
۱۳