کتابِ مقدس کی تفسیر
زبور کی کتاب
Psalms
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
۱۔ فہرستِ مسلمہ میں منفرد مقام
اگر آپ کو کسی جزیرہ پر تنہا چھوڑ دیا جائے، اور آپ کو وہاں بائبل کی صرف ایک کتاب ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے تو آپ کون سی کتاب لے جانا پسند کریں گے؟
خدا نہ کرے کہ مجھے کبھی ایسا انتخاب کرنے کی ضرورت پڑے۔ لیکن اگر مجھے انتخاب کرنا بھی پڑے تو مَیں زبور کی کتاب منتخب کروں۔ اِس کتاب کے مضامین اِس قدر وسیع ہیں، اِس میں زندگی کے تجربات اِس قدر زیادہ ہیں اور اِس میں پرستش کا انداز اِس قدر اعلیٰ ہے کہ مجھے بڑی دیر تک دعا اور شکرگزاری کے لئے عمدہ روحانی خوراک میسر ہو گی۔
غالباً جان کیلون بھی زبوروں کو ہی منتخب کرتا۔ اِسی طرح گراہم سکروگی بھی غالباً زبوروں کے حق میں ہی اپنی رائے دیتا۔ اُس نے کہا:
یہ زبور خدا کی حمد سے کس قدر لبریز ہیں! اِن میں تخلیق، پروردگاری اور مخلصی کی سُریں کس طرح روح پر وجد طاری کرتی ہیں! آسمان اور زمین، سمندر اور آسمان، بے جان اور جاندار سب چیزوں کو خداوند کی حمد کی دعوت دی جاتی ہے۔
شروع میں بعض زبوروں کے مطالعہ سے ہم پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم اِن کے تخیلات کا ربط تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ بعض اوقات تسلسل صاف نہیں لگتا اور بعض اوقات یہ پوشیدہ اور بعض اوقات بالکل مفقود ہوتا ہے۔ البرٹ بارنز اور سی۔ایس۔ لوئیس کے مشاہدات ہمارے لئے معاون ہوں گے۔ بارنز نے کہا:
زبوروں میں زیادہ تر غنائیہ شاعری ہے، یعنی اِس شاعری کا ربط اور ہم آہنگی بربط سے ہے کہ اِسے سازوں کے ساتھ استعمال کیا جائے، یعنی اِسے گایا جائے نہ کہ پڑھا جائے۔
بعینہٖ لوئیس نے وضاحت کی:
زیادہ موثر طریقہ یہ ہے کہ زبوروں کو نظموں کی طرح پڑھا جائے، غنائیہ شاعری کی طرح تمام ضابطوں اور وضع داری کے ساتھ، منطقی انداز سے نہیں بلکہ جذباتی انداز سے پڑھا جائے جو کہ غنائیہ شاعری کے لئے موزوں ہے۔
ایسی سوچیں ہمارے لئےفہم کے نئے دریچے کھول سکتی ہیں۔
۲۔ مصنف
زبوروں کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ’’داؤد کے زبور‘‘، لیکن اِن میں سے صرف نصف (۷۳) براہِ راست ’’اسرائیل کے شیریں نغمہ سنج‘‘ سے منسوب ہیں۔ بارہ آسف سے، دس بنی قورع سے، دو سلیمان سے اور ایک ایک موسیٰ، ایتان، ہیمان اور عزرا سے۔ ہم ۴۹ یا تقریباً ایک تہائی زبوروں کے مصنفین کے نام بھی نہیں جانتے۔
جب ہم زبوروں کے بارے میں سوچتے ہیں تو عموماً ہمارے ذہن میں داؤد کی زندگی کا تصور اُبھرتا ہے۔ ایک نامعلوم مصنف اِسے بہت خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے:
داؤد کا بربط اب بھی ہمارے کانوں میں گونجتا ہے۔ کسی نے کہا زبور دل کا راگ ہیں بعض اوقات درد ناک، بعض اوقات پُرمسرت، بعض اوقات تلخی اور تاریکی سے معمور، بعض اوقات پُرسکون۔ یہ داؤد کی روح کی موسیقی ہیں، جسے روح القدس نے محفوظ کر لیا تاکہ اِسے سن کر ہم خدا کے قریب آئیں۔
| مسیح سے متعلق مزامیر | ||
| زبور | تصویر کشی | تکمیل |
| ۲:۷ | خدا کا بیٹا | متی ۳: ۱۷ |
| ۸:۲ | بچوں نے حمد کی | متی ۲۱: ۱۵،۱۶ |
| ۸:۶ | سب کا حکمران | عبرانیوں ۲:۸ |
| ۱۶:۱۰ | مُردوں میں سے زندہ ہونا | متی ۲۸:۷ |
| ۲۲:۱ | خدا نے چھوڑ دیا | متی ۲۷: ۴۶ |
| ۲۲:۷،۸ | دشمنوں نے اُس کا مذاق اڑایا | لوقا ۲۳: ۳۵ |
| ۲۲:۱۶ | ہاتھوں اور پاؤں کو چھیدا گیا | یوحنا ۲۰: ۲۷ |
| ۲۲: ۱۸ | کپڑوں کے لئے قرعہ ڈالا گیا | متی ۲۷: ۳۵،۳۶ |
| ۳۴: ۲۰ | ہڈیاں نہ توڑی گئیں | یوحنا ۱۹: ۳۲،۳۳،۳۶ |
| ۳۵:۱۱ | جھوٹے گواہوں نے الزام لگایا | مرقس ۱۴: ۵۷ |
| ۳۵: ۱۹ | بلاوجہ اُس سے نفرت کی گئی | یوحنا ۱۵: ۲۵ |
| ۴۰: ۷،۸ | خدا کی مرضی میں خوش ہوتا ہے | عبرانیوں ۱۰:۷ |
| ۴۱:۹ | ایک دوست نے پکڑوایا | لوقا ۲۲: ۴۷ |
| ۴۵:۶ | ابدی بادشاہ | عبرانیوں ۱:۸ |
| ۶۸:۱۸ | آسمان پر اُٹھایا گیا | اعمال ۱: ۹- ۱۱ |
| ۶۹:۹ | خدا کے گھر کے لئے غیرت | یوحنا ۲: ۱۷ |
| ۶۹:۲۱ | اندرائن اور سرکہ دیا گیا | متی ۲۷: ۳۴ |
| ۱۰۹:۴ | دُشمنوں کے لئے دعا کرتا ہے | لوقا ۲۳:۳۴ |
| ۱۰۹: ۸ | اُس کے پکڑوانے والے کی جگہ پُر کی گئی | اعمال ۱: ۲۰ |
| ۱۱۰: ۱ | اپنے دشمنوں پر حکومت کرتا ہے | متی ۲۲: ۴۴ |
| ۱۱۰: ۴ | اب تک کاہن | عبرانیوں ۵:۶ |
| ۱۱۸:۲۲ | خدا کی عمارت کے کونے کے سرے کا پتھر | متی ۲۱: ۴۲ |
| ۱۱۸: ۲۶ | خداوند کے نام میں آتا ہے | متی ۲۱:۹ |
۳۔ سنِ تصنیف
زبور موسیٰ سے عزرا تک (تقریباً ۱۴۰۰ سے ۴۰۰ ق۔م تک) تقریباً ایک ہزار سال کے عرصہ کے دوران لکھے گئے۔ تاہم اُن میں سے بیشتر داؤد سے حزقیاہ تک(تقریباً ۱۰۰۰ سے ۷۰۰ ق۔م) تقریباً تین سو سالوں کے دوران لکھے گئے۔
۴۔ پس منظر اور موضوعات
مزامیر کو پانچ کتابوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک کتاب کو تعریفی کلمات کے ساتھ ختم کیا گیا ہے۔ پانچویں کتاب کے لئے تعریفی کلمات پورا زبور ۱۵۰ ہے۔
اِن پانچ کتابوں کے مساوی توریت کی پانچ کتابیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً دوسری کتاب مصر سے غلامی اور تیسری احبار سے مطابقت رکھتی ہے جس میں پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے۔
مزامیر کو مختلف درجہ بندیوں کے تحت تقسیم کیا جا سکتا ہے، گو بعض ایک مزامیر ایک سے زائد درجہ بندیوں میں شامل ہو سکتے ہیں:
- تواریخی۔ ان کا زبور نویس کی زندگی یا اسرائیل کی تاریخ میں کسی ایک یا زائد حتمی واقعات سے تعلق ہے۔
- مسیح سے متعلق۔ ان کا مسیح کے دُکھوں اور اُس کے بعد جلال سے تعلق ہے۔ (دیکھئے گذشتہ صفحے کا جدول)
- نبوتی یا ہزار سالہ دَور۔ اِن کا تعلق اسرائیل کی آئندہ مصیبت اور مابعد امن اور ترقی کے دَور سے ہے۔
- توبہ سے متعلق مزامیر۔ اِن مزامیر میں زبور نویس دل کی گہرائیوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کرتا اور شکستہ دلی سے معافی کے لئے فریاد کرتا ہے۔
- بددعا والے مزامیر۔ خدا سے فریاد کرتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کےدشمنوں سے انتقام لے۔
کئی دیگر مزامیر میں خدا کے سامنے انفرادی یا اجتماعی حمد اور پرستش کا اظہار ہے اور بعض مزامیر میں خداوند کے اپنے لوگوں کے ساتھ تعلق کا بیان ہے۔
مزامیر کی تفسیر
تفسیر الکتاب میں اسرائیل اور کلیسیا کے درمیان فرق کو قائم رکھا گیا ہے۔ کئی مزامیر میں شریر کے لئے لعنت کی گئی ہے، یہ یہودیوں کے لئے تو بالکل مناسب بات تھی جو شریعت کے تحت زندگی بسر کرتے تھے، لیکن کلیسیا کے لوگوں کے لئے یہ موزوں زبان نہیں ہے۔ اِس دَور میں ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ ہم اپنے دشمنوں سے محبت رکھیں اور جو ہم سے نفرت کرتے ہیں اُن کے ساتھ نیکی کریں۔ جب تک ہم دَور کے لحاظ سے اِس فرق کو تسلیم نہ کریں، ہمیں مزامیر کی تفسیر کے دوران بہت مشکل مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزامیر کا ہر ایک محتاط قاری فوری طور پر جان لے گا کہ زبور نویس کے تجربات، اسرائیل قوم اور خداوند مسیح کے درمیان بہت قریبی مشابہت ہے۔ اِن تینوں کو ایذا رسانی، دُکھ اور غم، نفرت اور رد کئے جانے کے تجربات سے گزرنا پڑا اور اُنہیں سربلندی بھی حاصل ہوئی، اُنہیں جلال اور خوشی بھی ملی۔ تفسیر الکتاب میں ہم اکثر اِن مشابہتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مزامیر کا اطلاق
گو ساری بائبل براہِ راست کلیسیا کے لئے نہیں لکھی گئی، لیکن ساری بائبل کلیسیا کے لئے مفید ہے۔ جب ہم زبور نویس کے تجربات کے آئینہ میں اپنے تجربات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں تسلی، تعلیم، ملامت اور نصیحت حاصل ہوتی ہے۔
اگرچہ ہم کلیسیا میں شامل ہیں تو بھی ہم بنیادی طور پر یہودیوں کے لئے لکھی ہوئی تعلیمات سے اہم اسباق سیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً یہودی ہیکل مسیح کی کلیسیا کی علامت تھی جو تمام ایمانداروں پر مشتمل ہے اور جس میں روح القدس سکونت کرتا ہے۔ زبوروں میں مذکور جنگیں ہمیں حکومتوں، اختیار والوں، آسمانی مقاموں میں تاریکی کی فوجوں کے خلاف جنگ کی یاد دلاتی ہیں۔ اور زمین پر اسرائیل کی برکتیں، آسمانی مقاموں میں ہماری برکتوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
اگر ہم اِن کنجیوں کو استعمال کریں تو زبور ہمارے لئے بہت بامعنی ثابت ہوں گے اور دورانِ تفسیر اکثر مسائل ختم ہو جائیں گے۔
مزامیر کے عنوانات
مزامیر کے عنوانات بہت قدیم ہیں۔ تاہم اِن میں سے اکثر مزامیر کے معانی اور مقاصد بہت مبہم ہیں اور اِس وجہ سے ہم نے اکثر ان کی تشریح کو نظر انداز کر دیا ہے۔ بار بار اِس بات کو دہرانا کہ ’’ہم نہیں جانتے کہ اِس کا کیا مطلب ہے‘‘ سود مند نہیں ہو گا۔
| خاکہ | ||
| زبور | ||
| ۱۔ | پہلی کتاب | ۱- ۴۱ |
| ۲۔ | دوسری کتاب | ۴۲- ۷۲ |
| ۳۔ | تیسری کتاب | ۷۳- ۸۹ |
| ۴۔ | چوتھی کتاب | ۹۰- ۱۰۶ |
| ۵۔ | پانچویں کتاب | ۱۰۷- ۱۵۰ |