زبور ۷۵: سرفرازی کا منبع
زبور ۷۴ کی دعا کا زبور ۷۵ میں جواب دیا گیا ہے۔ خداوند اُٹھ کر اپنے موقف کی وکالت کرے گا (۷۴:۲۲) اور ہر طرح کی بغاوت کو فرو کرے گا۔ بالآخر زبور نویس تاریخ کے اُن لمحات پر نگاہ ڈالتا ہے جب خداوند یسوع صداقت سے زمین پر بادشاہی کرنے کے لئے آئے گا۔
۷۵: ۱ چونکہ نجات دہندہ کو اِس کے بارے میں پورا یقین ہے اِس لئے وہ خدا کی شکرگزاری کرنے میں اپنے لوگوں کی قیادت کرتا ہے۔ خدا کے تمام عجیب کام اِس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے برگزیدہ لوگوں کی مخلصی کے لئے نزدیک ہے اور وہ اپنے دشمنوں کو سزا دینے والا ہے۔ اُس کے تمام معجزات اِس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کی فکر کرتا ہے۔
۷۵: ۲ وہی متکلم کہتا ہے، ’’جب میرا معین وقت آئے گا تو مَیں راستی سے عدالت کروں گا۔‘‘ خدا باپ نے یہ وقت خود مقرر کیا ہے (مرقس ۱۳: ۳۲)۔ جب مقررہ وقت آئے گا تو وہ (بادشاہ) یسعیاہ کی پیش گوئی کو پورا کرے گا: ’’ایک بادشاہ صداقت سے سلطنت کرے گا‘‘ (یسعیاہ ۳۲:۱)۔
۷۵: ۳ اِس فیصلہ کن موقعے پر جب انسانی حکومت کی بنیادیں ہل جائیں گی تو وہ ایک ایسی حکومت قائم کرے گا جسے کوئی نہ ہلا سکے گا۔ گو انسانی معاشرہ روحانی، سیاسی اور اخلاقی طورپر بالکل بگڑ جائے، لیکن اُس (بادشاہ) کی سلطنت کے ستون قائم اور محفوظ رہیں گے۔
۷۵: ۴،۵ وہ مغروروں سے کہتا ہے ’’اپنے تکبر کو ترک کر دو‘‘ اور شریروں سے کہتا ہے، ’’تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟ اِس قدر متکبر، پُراعتماد اور سرکش نہ بنو۔ اپنے آپ کو سربلند کرتے ہوئے اپنی ذات کو فریب نہ دو۔‘‘
۷۵: ۶۔۷ حقیقی سرفرازی اِس طریقے سے نہیں آتی۔یہ نہ تو مشرق اور نہ مغرب سے اور نہ ہی جنوب میں بیابان سے آتی ہے۔ شمال کا ذکر نہیں کیا گیا، شاید اِس حقیقت کے پیش نظر کہ حملہ آور عموماً شمال سے آتے تھے اور اِس کا مطلب سرفرازی کی نسبت حملہ تھا۔ یا شاید اِس کا یہ مطلب ہو کہ کئی جگہوں پر شمال کو خدا کی سکونت گاہ سے منسوب کیا جاتا ہے (یسعیاہ ۱۴: ۱۳؛ زبور ۴۸:۲)۔ بہرکیف یہ تصور بالکل واضح ہے کہ ’’سرفرازی‘‘ انسان یا زمینی وسائل سے نہیں آتی بلکہ صرف اور صرف خدا سے آتی ہے۔ وہ سب سے اعلیٰ حکمران ہے، وہی پست کرتا اور وہی سرفرازی بخشتا ہے۔
۷۵: ۸ پست کرنے والے کی حیثیت سے پیالہ اُس کے ہاتھ میں ہے۔ اِس پیالے میں سزا کی مے ہے۔ اِس میں جھاگ ہے، یہ سرخ ہے اور پورے طور پر ملی ہوئی ہے یعنی بہت زیادہ ہلچل مچانے والی اور موثر ہے۔ جب وہ اِسے اُنڈیلتا ہے تو زمین کے شریر باشندے اِسے تلچھٹ تک پینے کے لئے مجبور ہوں گے۔
۷۵: ۹، ۱۰ آخری دو آیات میں یسوع ابھی تک متکلم ہے۔ وہ یعقوب کے خدا کی ہمیشہ مدح سرائی کرے گا جس نے اپنے غیر مستحق لوگوں کو سرفراز کیا۔ وہ شریروں کے سینگ یعنی اُن کی عزت اور قوت کاٹ ڈالے گا، لیکن صادقوں کی قوت اور حشمت بڑھتی جائے گی۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُدا ! ہم تیرا شُکر کرتے ہیں۔ ہم تیرا شُکر کرتے ہیں کیونکہ تیرا نام نزدیک ہے۔ لوگ تیرے عجیب کاموں کا ذِکر کرتے ہیں۔
۲ جب میرا معُیّن وقت آئے گا تو میں راستی سے عدالت کروں گا۔
۳ زمین اور اُسکے سب باشِندے گُداز ہو گئے ہیں۔ میَں نے اُسکے سُتو نوں کو قا ئم کر دیا ہے ۔
۴ میَں نے مغرُور ں سے کہا غُر ور نہ کر و اور شرِ یرو ں سے کہ سینگ اُو نچا نہ کر و۔
۵ اپنا سِینگ اوُنچا نہ کرو۔ گردن کشی سے بات نہ کرو ۔
۶ کیو نکہ سر فر ازی نہ تو مشرِ ق سے نہ مغُر ب سے اور نہ جنُو ب سے آتی ہے ۔
۷ بلکہ خُدا ہی عدا لت کر نے والا ہے ۔ وہ کِسی کو پِست کرتا ہے اور کسی کو سر فر ازی بخشتا ہے ۔
۸ کیو نکہ خُدا وند کے ہا تھ میں پیالہ ہے اور مےَ جھا گ والی ہے ۔ وہ ملِی ہو ئی شر اب سے بھر ا ہے ۔ اور خُدا وند اُسی میں سے اُنڈ یلتا ہے ۔ بِیشک اُسکی تلچھٹ زمین کے سب شِر یر نچوڑ نچو ڑ کر پیئں گے ۔
۹ لیکن مَیَں تُو ہمیشہ ذِ کر کر تا رہوُ ںگا میں یعقُو ب کے خُدا کی مداح سر ائی کر و ں گا
۱۰ اور میں شِر یر و ں کے سب سینگ کاٹ ڈالوں گا ۔ لیکن صا دقُو ں کے سینگ اونچے کئے جائے گے ۔