زبور ۱۳۹: خدا کس قدر عظیم ہے!
خدا اِس قدر عظیم ہے کہ
کوئی ایسی چیز نہیں جسے وہ نہ جانتا ہو
کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ موجود نہ ہو
اور کوئی ایسا کام نہیں جسے وہ نہ کر سکے۔
اگر لوگ اِس قدر عظیم خدا کے دشمن ہونے کے لئے ضد کریں تو وہ بُرے انجام کے مستحق ہیں۔ یہ اِس زبور میں داؤد کے گیان دھیان کا خلاصہ ہے۔
۱۳۹ : ۱، ۲ سب سے پہلے وہ خداوند تعالیٰ کی اِس عظیم صفت کو بیان کرتا ہے کہ وہ خدائے علیم و بصیر ہے۔ خدا ہر ایک بات کو جانتا ہے۔
کوئی ایسی شے نہیں جسے وہ نہ جانتا ہو۔ گو یہ کائنات بہت وسیع اور پُرشکوہ ہے، تاہم وہ ریت کے ہر ذرے کی ازلی کہانی سے واقف ہے۔
یہاں اِس اَمر پر زور دیا گیا ہے کہ خدا ہر ایک فرد کی زندگی کے بارے میں جانتا ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق اِس وقت دنیا میں ۰۰۰،۰۰۰،۰۰۰،۶ (چھ ارب) لوگ بستے ہیں۔ تاہم خدا ہر ایک شخص کو بہت قریب سے جانتا ہے۔ وہ ہم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔
اُس نے ہمیں جانچ اور پہچان لیا ہے! وہ ہمارے اقوال و افعال، سوچوں اور مقاصد اور ہمارے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ جب ہم آرام کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں تو وہ ہمیں اُس وقت بھی جانتا ہے اور جب ہم زندگی کے مختلف کاموں کے لئے اُٹھتے ہیں تو وہ اُن سے بھی واقف ہے۔ جو کچھ ہم سوچ رہے ہوں وہ ہمیں بتا سکتا ہے بلکہ وہ ہمارے خیالات پہلے سے بیان کر سکتا ہے۔
۱۳۹: ۳ جب ہم چلتے اور جب ہم لیٹ جاتے ہیں تو وہ ہمیں دیکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ہم پر کڑی نگاہ رکھتا ہے۔ ہماری کوئی بھی روش اُس سے چھپی نہیں ہوتی۔
۱۳۹: ۴ وہ ہمارے کہنے سے پہلے جانتا ہے کہ ہم کیا کہنے والے ہیں۔ ہمارا مستقبل، حال اور ماضی کلی طور پر اُس کے سامنے کھلا ہے۔
۱۳۹: ۵ ’’اور اُس سے مخلوقات کی کوئی چیز چھپی نہیں بلکہ جس سے ہم کو کام ہے اُس کی نظروں میں سب چیزیں کھلی اور بے پردہ ہیں‘‘ (عبرانیوں ۴:۱۳)۔ چونکہ اُس کا علم ہمارے بارے میں نہایت حتمی ہے اِس لئے وہ آگے پیچھے سے ہماری حفاظت کر سکتا ہے۔ اُس کا ہاتھ ہمیشہ ہمیں محفوظ رکھتا ہے۔
۱۳۹: ۶ خدا کے لامحدود علم کے بارے میں ہمارا ذہن ٹھٹک جاتا ہے۔ ہمارا انسانی ذہن تصور کے بوجھ تلے کھچاؤ/تناؤ محسوس کرتا ہے۔ یہ تصور اِس قدر بلند ہے کہ مَیں اِس کو سمجھ نہیں سکتا۔ لیکن جب ہم سمجھنے کے لئے اپنے ظرف کی حد تک آتے ہیں اور اِس سے آگے نہیں پہنچ سکتے، تو ہم اُس خدا کے آگے سجدہ ریز ہو جائیں جس کا علم نہایت وسیع ہے۔
۱۳۹: ۷، ۸ خدا نہ صرف خدائے علیم و بصیر ہے بلکہ وہ ہمہ جا حاضر بھی ہے۔ وہ بیک وقت ہر جگہ حاضر ہے۔ لیکن خدا کے ہمہ جا حاضر ہونے کا مطلب وحدت الوجود نہیں ہے۔ اِس نظریئے کی تعلیم یہ ہے کہ تخلیق ہی خدا ہے۔ اِس کے برعکس بائبل یہ تعلیم دیتی ہے کہ خدا ایک شخصیت ہے جو اپنی تخلیق سے علیٰحدہ اور مختلف ہے۔ کیا کوئی ایسا مقام ہے جہاں انسان خدا کے پاک روح سے بچ سکے؟ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں وہ خدا کی حضوری سے چھپ سکے؟ فرض کریں کہ انسان آسمان پر چڑھ جائے تو کیا وہ وہاں اُس کی ذات سے گریز کر سکے گا؟ بالکل نہیں، کیونکہ آسمان خدا کا تخت ہے (متی ۵: ۳۴)۔ اگر وہ پاتال میں اپنا بستر بچھالے جہاں وہ بغیر جسم کی حالت میں ہو گا، تو خدا وہاں بھی موجود ہو گا۔
۱۳۹: ۹، ۱۰ ’’اگر مَیں صبح کے پر لگا کر سمندر کی انتہا میں جا بسوں تو وہاں بھی تیرا ہاتھ میری راہنمائی کرے گا اور تیرا دہنا ہاتھ مجھے سنبھالے گا۔ صبح کے پروں سے مراد صبح کے وقت سورج کی کرنیں ہیں جو آسمان سے مشرق و مغرب کی طرف ۰۰۰،۱۸۶ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے پھیلتی ہیں۔ اگر ہم کائنات کے دُور دراز علاقے کی طرف روشنی کی رفتار سے سفر کریں، تو خداوند وہاں بھی ہمارا منتظر ہو گا تاکہ ہماری راہنمائی کرے اور ہمیں سنبھال لے۔
جب مَیں ۱۹۶۹ء میں اپنی خدمت کے سلسلے میں دورے پر جانے والا تھا، تو خداوند اِس قیمتی وعدے کے ذریعے مجھ سے ہم کلام ہوا اور مَیں اِس واقعہ کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ بہت سے جہاز جن میں مَیں نے سفر کیا، صبح کے پروں کی طرح تھے جو مجھے زمین کی انتہا تک لے جا رہے تھے۔ رفتار اور فاصلے کے باوجود مجھے ہمیشہ خداوند کی حضوری اور تحفظ کا احساس تھا۔ یاد رکھیں کہ یہ دعویٰ آپ کے لئے ہے اور اپنے اُن مسیحی ساتھیوں کو بتائیے جو ہوائی سفر کرتے ہیں۔
۱۳۹: ۱۱، ۱۲ اگر کوئی شخص تاریکی کو خدا کی نظر سے چھپانے کے لئے ہے، تو وہ ایک باطل پناہ گاہ پر تکیہ کر رہا ہے۔ تاریکی خداوند کی حضوری کو دُور نہیں رکھ سکتی۔ تاریکی اُس کے لئے تاریکی نہیں ہے۔ ’’رات بھی دن کی مانند روشن ہے، اندھیرا اور اُجالا دونوں یکساں ہیں۔‘‘
خدا سے ہم کبھی بھی فرار حاصل نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ پاسکل نے کہا، ’’اُس کا مرکز ہر کہیں ہے اور اُس کا محیط کہیں بھی نہیں۔‘‘
۱۳۹: ۱۳، ۱۴ یہاں تک تو خدا کے ہمہ جا حاضر ہونے کے بارے میں بیان کیا گیا۔ داؤد اب اُس کی قدرت اور مہارت پر غور کرتا ہے۔ خدا کے قادرِ مطلق ہونے کے لئے وہ ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوو نما کی مثال پیش کرتا ہے۔ ایک نقطہ سے بھی کم مواد میں وہ بچے کے مستقبل کی خصوصیات کو ترتیب دیتا ہے۔ یعنی اُس کی جلد کا رنگ، آنکھیں اور بال، اُس کے چہرے کے نقوش اور اُس کی فطری صلاحیتیں وغیرہ۔ اُس میں بچے کی جسمانی اور ذہنی ہیئت پوشیدہ ہے۔
اِس سے وہ ساٹھ کھرب خلئے، ایک لاکھ میل لمبی نسیں، ساٹھ ہزار میل لمبی رگیں جو جسم کو خون پہنچاتی ہیں اور ۲۵۰ ہڈیاں وغیرہ پیدا کرتا ہے۔
داؤد بیان کرتا ہے کہ خدا کس خوبصورتی اور عمدگی سے بچے کو ماں کے پیٹ میں تشکیل دیتا ہے۔ ’’کیونکہ میرے دل کو تُو ہی نے بنایا۔ میری ماں کے پیٹ میں تُو ہی نے مجھے صورت بخشی۔‘‘ ہاں خدا نے ہمارے اندرونی اعضا کو بنایا، اُن میں سے ہر ایک الٰہی کاری گری کا ایک عجوبہ ہے۔ مثلاً دماغ پر غور کریں۔ اُس میں حقائق، آوازوں، خوشبوؤں، نظاروں، لمس اور درد محسوس کرنے اور یاد کرنے کی صلاحیت ہے، اُس میں کسی واقعہ کو دہرانے کی صلاحیت ہے، اُس میں گننے کی قوت ہے، اُس میں فیصلے کرنے اور مسائل کو حل کرنے کی طاقت ہے۔
خدا نے ہمیں ماں کے پیٹ میں تشکیل دیا۔ اِس میں پٹھوں، ریشوں، نسوں، خون کے خلیوں اور انسانی ڈھانچے کی ہڈیوں کی تشکیل شامل ہے۔
داؤد خداوند کی تہ دل سے شکرگزاری کرتا ہے۔ جب وہ اشرف المخلوقات یعنی انسان کے بارے میں سوچتا ہے، تو وہ اقرار کرتا ہے کہ وہ عجیب و غریب اور حیرت انگیز طریقے سے بنا ہے۔ جس قدر ہم انسانی بدن کے عجائب یعنی اُس کی ترتیب، اُس کی پیچیدگی، اُس کی خوبصورتی، اُس کی جبلت اور اُس کے موروثی عوامل کے بارے میں سوچتے ہیں، تواُسی قدر ہم حیران ہوتے ہیں کہ فطری سائنس میں ماہر شخص کیوں لامحدود خالق پر ایمان نہ لائے۔
۱۳۹: ۱۵ زبور نویس پھر سے اُس وقت کو یاد کرتا ہے جب وہ ماں کے پیٹ میں تشکیل پا رہا تھا۔ ملاحظہ فرمائیے کہ یہاں وہ ’’ مَیں، مجھ، مجھے‘‘ استعمال کرتے ہوئے ابتدائی تشکیل کی بات کرتا ہے۔ چنانچہ بائبل کا نظریہ یہ ہے کہ پیدائش سے پہلے ہی انسانی شخصیت کا وجود ہوتا ہے، اِس لئے شدید طبی مجبوری کے علاوہ اسقاطِ حمل قتل کے مترادف ہے۔
داؤد کو اِس امر کا شعور تھا کہ خدا شروع سے ہی اُسے پورے طور پر جانتا تھا۔ اُس کا قالب یعنی ڈھانچا خدا سے نہیں چھپا تھا جب داؤد زمین کے اسفل میں عجیب طور سے مرتب ہو رہا تھا۔ اِس کا مطلب زمین کی سطح کے نیچے نہیں کیونکہ وہاں کوئی بھی مرتب نہیں ہوا۔ سیاق و سباق کے حوالے سے اِس کا صرف یہی مطلب ہے کہ ’’ماں کے پیٹ میں۔‘‘ ایسا ہی بیان افسیوں ۴:۹ میں پایا جاتا ہے جہاں ذکر کیا گیا کہ مسیح نیچے کے علاقے میں اُترا تھا۔ وہاں بھی اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا میں کنواری کے پیٹ کے ذریعے داخل ہوا یعنی خداوند کے تجسم کا نظریہ پیش کیا گیا ہے۔
۱۳۹: ۱۶ جب زبور نویس اپنے بے ترتیب مادے کی بات کرتا ہے تو وہ عبرانی میں ایک ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جس کا مطلب ہے ’’باہم لپٹا ہوا۔‘‘ بارنز اور دیگر مفسرین کا خیال ہے کہ اِس لفظ سے مراد بچہ دانی ہے ’’جہاں جسم کے تمام اعضا لپٹے ہوتے ہیں اور اُن کی نشو و نما پورے طور پر نہیں ہوئی ہوتی، یعنی واضح صورت اختیار کرنے سے قبل۔‘‘ وجود کے ابتدائی مرحلے میں خدا کی آنکھوں نے اسرائیل کے شیریں نغمہ ساز کو دیکھا۔
جب داؤد کی دنیا میں آمد کے وقت پہلی بار رونے کی آواز سنائی دی تو اُس تاریخی لمحہ سے قبل الٰہی معمار یعنی خدا نے اُس کی زندگی کے تمام ایام کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا تھا۔
۱۳۹: ۱۷،۱۸ الف زبور نویس اپنی روح، بدن اور جان کی تخلیق کے سلسلہ میں خدا کی محتاط منصوبہ بندی کے بارے میں سوچتا ہے۔ اُس کے خیال کیسے بیش بہا ہیں کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کے لئے توجہ دیتا ہے۔ آج ہمیں علم ہے کہ ہر ایک خلیہ جانتا ہے کہ اُسے جسم کی فلاح کے لئے کیا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔
۱۳۹ : ۱۸ ب ’’جاگ اُٹھتے ہی تجھے اپنے ساتھ پاتا ہوں۔‘‘ میرے خیال میں زبور نویس یہاں اپنی پیدائش کے لمحہ کی بات کر رہا ہے۔ گذشتہ آیات (۱۳۔۱۸ الف) میں وہ اپنی پیدائش سے نو ماہ قبل اپنے ساتھ خدا کی قربت پر زور دے رہا تھا۔ لیکن پیدائش کے بعد بھی خدا کی قربت میں تبدیلی نہیں ہوئی۔ وہ ابھی تک خداوند کے ساتھ ہے جو اُس کا سنبھالنے والا، محافظ اور راہنما ہے۔
۱۳۹: ۱۹۔۲۲ خداوند علیم و بصیر ، ہمہ جا حاضر اور قادر مطلق ہے۔ اِن مضامین پر غور و خوض کرنے کے بعد زبور نویس اُن شریر لوگوں کے بارے میں غور کرتا ہے جو خدا کی مخالفت کی جرأت کرتے ہیں اور وہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ وہ اپنی سزا کے مستحق ہیں۔ بعض لوگ آیات ۱۹۔۲۲ میں داؤد کی دعا کے بارے میں ناک بھوں چڑھائیں گے کہ اِس دعا کا لہجہ مسیحی معیار سے ادنیٰ و کمتر ہے۔ وہ یہ احتجاج کریں گے کہ زبور نویس کے جذبات انتقامی ہیں اور خدا کی محبت سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ آج کل خدا کی محبت پر اِتنا زور دیا جاتا ہے کہ اُس کی پاکیزگی اور راست بازی کم نظر آتی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ خدا محبت ہے، لیکن یہی ساری حقیقت نہیں ہے۔ یہ اُس کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ مزید برآں اِس حقیقت کا کہ ’’خدا محبت ہے‘‘ یہ مطلب نہیں کہ وہ نفرت نہیں کر سکتا۔ ’’ظلم دوست سے اُس کی روح کو نفرت ہے‘‘ (زبور ۱۱: ۵)۔ اُسے تمام بدکاروں سے نفرت ہے (زبور ۵:۵)۔ اُسے اونچی آنکھوں، جھوٹی زبان، بے گناہ کا خون بہانے والے ہاتھوں، برے منصوبے باندھنے والے دل، شرارت کے لئے تیز رَو پاؤں، جھوٹے گواہوں جو دروغ گوئی کرتے ہیں اور جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے، سے نفرت ہے (امثال ۶: ۱۶۔۱۹)۔
ایڈورڈ جی۔ینگ ہمیں یاد دلاتا ہے:
اِس سے پیشتر کہ ہم داؤد کی دعا کے لئے اُس کی عیب جوئی کریں، یہ ملاحظہ فرمائیں کہ ہم بھی اُسی بات کے لئے دعا کرتے ہیں، جب ہم دعائے ربانی میں اِلتجا کرتے ہیں، ’’تیری بادشاہی آئے، تیری مرضی پوری ہو۔‘‘
مسیح کی بادشاہی آنے سے پہلے اُس کے دشمنوں کی تباہی ہو گی، چنانچہ ایک بات کے لئے دعا کرنا دوسری بات کے لئے دعا کرنے کے مترادف ہے۔ داؤد بلا جھجک اُس وقت کا منتظر ہے جب خدا شریروں کو ہلاک کرے گا۔ جب خونخوار ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اُسے پریشان نہیں کر سکیں گے (آیت ۱۹)۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شرارت سے خدا کے خلاف باتیں کرتے ہیں، جو بُری نیت سے خدا کی مخالفت کرتے ہیں۔
داؤد اِس وجہ سے اُن لوگوں سے نفرت کرتا تھا کہ وہ خدا سے نفرت کرتے تھے اور اُنہوں نے حق تعالیٰ کے خلاف بغاوت کی۔ وہ خداوند کی عزت کے لئے غیرت محسوس کرتا تھا اور اِس لئے اُن سے عداوت رکھتا تھا اور اُن کو اپنے دشمن سمجھتا تھا۔ یہ بات ہمیں یسوع مسیح کی یاد دلاتی ہے جس نے اپنے باپ کے گھر کی غیرت کی بنا پر صرافوں کو باہر نکال دیا۔ ینگ اِس کی یوں وضاحت کرتا ہے:
داؤد نفرت کرتا تھا، لیکن اُس کی نفرت خدا کی نفرت کی مانند تھی۔ یہ کسی غلط جذبہ سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ کلی طور پر پُرخلوص خواہش تھی کہ خدا کے مقاصد پورے ہوں اور شریر ضرور برباد ہوں۔ اگر داؤد نفرت نہ کرتا تو وہ بدی کی کامیابی اور خدا کی ناکامی کا خواہش مند ہوتا۔ جب ہم داؤد کی نفرت کی ماہیت پر غور کریں تو ہمیں اِن خیالوں کو اچھی طرح ذہن میں رکھنا چاہئے۔
۱۳۹: ۲۳، ۲۴ یہ زبور ایک نہایت موزوں دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے اور جب تک زمین پر گناہ گار مقدسین موجود ہیں یہ دعا ختم نہیں ہو گی۔ اِس میں التجا کی گئی ہے کہ قادر مطلق دل کو جانچے، پہچانے ، نہایت محتاط طریقے سے آزمالے اور اُس کے خیالوں یا فکر مندی کو جان لے۔ اِس میں یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اُس پر ہر ایک بُری روش کو ظاہر کرے تاکہ وہ اقرار کرکے اُسے ترک کر دے۔ اور بالآخر وہ خداوند سے کہتا ہے کہ وہ اُسے ابدی راہ میں لے چلے۔
یہ ایسے شخص کا اعتراض نہیں ہے جو اپنی بے گناہی یا راست بازی کے لئے احتجاج کرتا ہے، بلکہ یہ ایک ایسے شخص کا اقرار ہے جو خداوند کی حضوری میں رہا ہے اور اپنی گناہ گار حالت کے لئے قائل ہو چکا ہے۔ اُسے احساس ہے کہ وہ اپنی ساری بدیوں سے آگاہ نہیں ہے، لہٰذا وہ خداوند سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُنہیں اُس پر ظاہر کرے تاکہ وہ موثر طریقے سے اُن کا حل نکال سکے۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند ! تُو نے مجھے جانچ لیا اور پہچان لیا۔
۲ تُو میرا اُٹھنا بیٹھنا جانتا ہے۔ تُو میرے خیال کو دور سے سمجھ لیتا ہے۔
۳ تُو میرے راستہ کی اور میری خوابگاہ کی چھان بین کرتا ہے۔ اور میری سب روشوں سے واقف ہے۔
۴ دیکھ! میری زُبان پر کوئی ایسی بات نہیں جِسے تُو اَے خُداوند! پُورے طور پر نہ جانتا ہو۔
۵ تُو نے مجھے آگے پیچھے سے گھیر رکھا ہے۔اور تیرا ہاتھ مجھ پر ہے۔
۶ یہ عرفان میرے لئے نہایت عجیب ہے۔ یہ بُلند ہے میَں اِس تک پہنچ نہیں سکتا۔
۷ میَں تیری روح سے بچ کر کہاں جاؤں۔ یا تیری حُضُوری سے کدھر بھاگُوں؟
۸ اگر آسمان پر چڑھ جاؤں تو تُو وہاں ہے۔ اگر میَں پاتال میں بستر بچھاؤں تو دیکھ! تو وہاں بھی ہے۔
۹ اگر میَں صُبح کے پر لگا کر سُمندر کی اِنتہا میں بسوں۔
۱۰ تو وہاں بھی تیرا ہاتھ میری راہنمائی کریگا۔ اور تیرا دہنا ہاتھ مجھے سنبھالیگا۔
۱۱ اگر میَں کہوں کہ یقیناً تاریکی مجھے چِھپا لیگی اور میری چاروں طرف کا اُجالا رات بن جائیگا۔
۱۲ تو اندھیرا بھی تجھ سے چِھپا نہیں سکتا۔ بلکہ رات بھی دِن کی مانند روشن ہے۔ اندھیرا اور اُجالا دونوں یکسان ہیں۔
۱۳ کیونکہ میرے دِلکو تُو ہی نے بنایا ۔ میری ماں کے پیٹ میں تُو ہی نے مجھے صورت بخشی ۔
۱۴ میَں تیرا شُکر کروُنگا کیونکہ میَں عجیب و غریب طور سے بنا ہوُں۔ تیرے کام حیرت انگیز ہیں۔ میرا دِل اِسے خوب جانتا ہے۔
۱۵ جب میَں پوشیدہ میں بن رہا تھا اور زمین کے اسفل میں عجیب طور سے مرتب ہو رہا تھا تو میرا قالب تجھ سےچھِپا نہ تھا۔
۱۶ تیری آنکھوں نے میرے بے ترتیب مادّے کو دیکھا اور جو ایام میرے لئے مقرر تھے وہ سب تیری کتاب میں لکھے تھے۔جبکہ ایک بھی وجود میں نہ آیا تھا۔
۱۷ اَے خُدا! تیرا خیال میرے لئے کیسے بَیش بہا ہیں۔ اُنکا مجموعہ کیَسا بڑا ہے؟
۱۸ اگر میَں اُنکو گِنوں تو وہ شُمار میں ریت سے بھی زیادہ ہیں۔ جاگ اُٹھتے ہی تجھے اپنے ساتھ پاتا ہوں۔
۱۹ اَے خُدا!کاشک تُو شریر کو قتل کرے۔ اِسلئے اَے خونخوارو! میرے پاس سے دوُر ہو جاؤ ۔
۲۰ کیونکہ وہ شرارت سے تیرے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ اور تیرے دُشمن تیرا نام بے فائدہ لیتے ہیں۔
۲۱ اَے خُداوند! کیا میَں تجھ سے عداوت رکھنے والوں کے سے عداوت نہیں رکھتا اور کیا میں تیرے مُکالفوں سے بیزار نہیں ہوُں؟
۲۲ مجھے اُن سے پوری عداوت ہے۔ میَں اُنکو اپنے دُشمن سمجھتا ہوں۔
۲۳ اَے خُدا! تُو مجھے جانچ اور میرے دِل کو پہچان۔ مجھے آزما اور میرے خیالوں کوجان لے۔
۲۴ اور دیکھ کہ مجھ میں کوئی بُری روِش تو نہیں اور مجھکو ابدی راہ میں لے چل۔