زبور ۳۰: شفا کا گیت
ہم میں سے اکثر لوگوں نے کبھی نہ کبھی کسی شدید بیماری سے صحت یابی کا مزہ حاصل کیا ہے۔ ہم بڑی آسانی سے جدید طب پر انحصار کرتے ہوئے، اُس خدا کی شکرگزاری میں گیت گانا بھول جاتے ہیں، جو ہماری ساری شفایابی کے عمل کا ذمہ دار ہے۔
لیکن داؤد نہیں بھولا۔ ممکن ہے کہ جب وہ اپنا مکان (جس عبرانی لفظ کا ترجمہ ’’ہیکل‘‘ ہوا ہے اُس کا لفظی ترجمہ ’’مکان‘‘ ہے) مخصوص کرنے کو تھا تو اُس وقت اسے شدید بیماری سے شفا مل گئی ہو۔ بہرکیف یہ مخصوصیت یہوواہ اپنے شافی کے لئے شکرگزاری کا موقع تھا۔
۳۰: ۱۔۴ سب سے پہلے اِس زبور سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ صحت یابی کے لئے خداوند کی شکرگزاری کریں۔ داؤد بہت پژمردہ ہو گیا تھا۔ اُس کے بچنے کی اُمید بہت کم تھی۔ اُس کے دشمن خوش ہو رہے تھے کہ وہ بہت جلد مر جائے گا۔ تب اُس نے اپنی مصیبت میں خداوند سے فریاد کی اور خداوند نے اُسے موت کے دہانہ سے واپس کر کے اُس کی فریاد کا جواب دیا۔ وہ پاتال میں جانے سے بمشکل بچا اور قبر میں اترتے اُترتے بچ گیا۔
زبور ۳۰ میں ہمیں سکھایا گیا ہے کہ ہم نہ صرف خدا کا شکر کریں بلکہ مقدسوں کو بھی اپنی خوشی میں شریک کریں اور اُنہیں دعوت دیں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر اُس کی حمد اور شکرگزاری کریں۔ ہم اکیلے گیت نہ گائیں بلکہ کوائر بن جائیں۔ اسرائیل کا شیریں نغمہ پرواز خدا کے سب لوگوں کو بلاتا ہے کہ وہ خدا کی ستائش کریں اور اُس کے مقدس نام کی شکرگزاری کریں۔
۳۰: ۵ تب وہ دو غیر معمولی اور خوبصورت موازنوں میں اِس شکرگزاری کی وجہ بیان کرتا ہے۔ اِن خوبصورت آیات کو ملاحظہ فرمائیے:
’’اُس کا قہر دَم بھر کا ہے۔
اُس کا کرم عمر بھر کا۔
رات کو شاید رونا پڑے، پ
ر صبح کو خوشی کی نوبت آتی ہے۔‘‘
اس موقع پر مَیں آپ کو ایک شخصی واقعہ بتاتا ہوں۔ ایک دفعہ ہمارے خاندان کو بہت بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ بہت سے دوستوں نے اظہار افسوس کیا، لیکن ہمارے غم کی شدت میں کسی طرح سے کمی نہ آئی۔ وہ بہت اچھی نیت سے باتیں کرتے تھے، لیکن اُن کی یہ باتیں ناکافی تھیں۔ تب ڈاکٹر ایچ۔اے۔ آئرن سائڈ نے ایک مختصر سا خط لکھا جس میں اُنہوں نے زبور ۳۰: ۵ کا اقتباس بھی درج کیا:
’’رات کو شاید رونا پڑے، پر صبح کو خوشی کی نوبت آتی ہے۔‘‘
یہ آیت ہمارے لئے ایک حقیقت بن گئی۔ غم کا طوفان تھم گیا۔
اِس کے بعد مَیں نے کئی دوسرے ایمانداروں کی جو غم سے دوچار تھے، اِس آیت سے مدد کی اور اِس آیت نے ہمیشہ اُنہیں خداوند کا شکر کرنے کی طرف مائل کیا۔
۳۰: ۶،۷ ہمیں اِس زبور سے دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ ہم مادی خوش حالی پر نہیں بلکہ خدا پر تکیہ کریں۔ اِس بیماری سے قبل داؤد خوش حال تھا اور اُس کا اپنے آپ پر بھروسا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ مشکلات اور پریشانیوں سے محفوظ اور ایک بڑے پہاڑ کی طرح ناقابلِ جنبش ہے۔ اُسے ہر ممکنہ تحفظ حاصل تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اُسے کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔
اِس کے بعد کچھ وقوع پذیر ہوا۔ گویا کہ راتوں رات خداوند نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ ایسا لگتا تھا کہ خدا ناراض ہے اور اُس نے اپنی حمایت روک لی ہے۔ زندگی محض ایک ڈراؤنا خواب بن گئی۔
۳۰: ۸۔۱۰ لیکن اِس ڈراؤنے خواب نے داؤد کی زندگی میں اچانک ایک تبدیلی پیدا کی۔ اُس کی خوش حالی میں اُس کی دعائیں بے اثر تھیں اور اُن کا کہیں بھی کوئی شمار نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اب بیماری کی حالت میں اُس نے خلوص دلی سے دعا کی۔ اُس نے خدا کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ اگر وہ مر گیا تو خدا کو اِس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ زبور نویس کی بے جان ہڈیاں اُس کی ستائش نہیں کر سکیں گی، اور نہ اُس کی خاک ہی خدا کی وفاداری کو بیان کر سکے گی۔
’’جب مَیں گور میں جاؤں تو میری موت سے کیا فائدہ؟
کیا خاک تیری ستائش کرے گی؟ کیا وہ تیری سچائی کو بیان کرے گی؟‘‘
شاید ہمیں یہ دلیل زور دار معلوم نہ ہو۔ درحقیقت اِعتقادی نقطۂ نگاہ سے اِس میں بہت زیادہ کمی نظر آتی ہے۔ لیکن ہم محتاط رہیں کہ عہدعتیق کے مقدسین کے ساتھ ہمارا رویہ سخت نہ ہو۔ کئی لحاظ سے اُنہیں آئینہ میں سے دھندلا دکھائی دیتا تھا۔ اِس زبور میں ہمارے سامنے دو مثالیں ہیں۔
آیت ۵ میں داؤد کا یہ خیال تھا کہ اُس کی بیماری خدا کے غصہ کی علامت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی تنبیہ اُس کے غصہ کی نہیں بلکہ اُس کی محبت کی علامت ہوتی ہے (عبرانیوں ۱۲:۶)۔ لیکن ہم بھی اکثر اِس غلط سوچ کے مرتکب ہو جاتے ہیں کہ مصیبتیں اُس کی ناراضی کی علامت ہیں۔
تب آیت ۹ میں داؤد کہتا ہے کہ گویا موت سے ایماندار کی طرف سے ہر طرح کی ستائش ختم ہو جاتی ہے۔ جہاں تک اِس دُنیا میں ستائش اور گواہی کا تعلق ہے، وہ حق بجانب ہے۔ لیکن ہم نئے عہدنامہ کی تعلیم سے جانتے ہیں کہ موت کے وقت جب ایماندار کا بدن قبر میں اتارا جاتا ہے تب اُس کی روح مسیح کے پاس جا چکی ہوتی ہے (۲۔کرنتھیوں ۵: ۸؛ فلپیوں ۱:۲۳)۔ ایماندار خداوند کی حضوری میں باہوش و حواس موجود ہوتا ہے اور اِس طرح اُس کی پرستش کرتا ہے جس طرح اُس نے زمین پر کبھی نہ کی تھی۔ عہد عتیق کے مقدسین کو اِس کا علم نہیں تھا۔ مسیح نے زندگی اور بقا کو اپنی خوش خبری کے وسیلہ سے روشن کر دیا (۲۔تیم ۱: ۱۰)۔
اِس کے باوجود حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عہدعتیق کے اکثر مقدسین کئی لحاظ سے ایمان، دعا، جانفشانی اور عقیدت میں ہم سے آگے نکل گئے۔
۳۰:۱۱ ہم داؤد کی طرف واپس آتے ہیں۔ آیات ۹ اور ۱۰ ہمیں وہ دعا پیش کرتی ہیں جو اُس نے کی جب وہ شدید بیماری کے دُکھ میں مبتلا تھا۔ اِس کے بعد آیات ۱۰ اور ۱۱ کے درمیان دعا کا جواب آتا ہے۔ خداوند نے اُسے شفا دے دی۔ آخری دو آیات میں وہاپنی صحت یابی پر خوشی مناتا ہے۔ داؤد کے لئے یہ ایسے تھا جیسے کہ جنازہ کے ماتم اور شادی کی خوشی کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ اُس نے ایک اَور تشبیہ استعمال کی۔ یہ ایسے تھا جیسے اُس نے نئے کپڑے پہن لئے ہوں۔ خدا نے اُس کا ٹاٹ اتار کر اُسے خوشی سے ملبس کر دیا تھا۔
۳۰ : ۱۲ داؤد کی شفا کا ایک یہ نتیجہ تھا کہ وہ قبر میں خاموش پڑے رہنے کے بجائے اب زندگی میں خدا کی مدح سرائی کر سکتا تھا۔ اب وہ ہمیشہ اُس کا شکر کرنا چاہتا تھا۔ درحقیقت وہ یہ کہہ رہا ہے ’’خداوند نے جو کچھ میرے لئے کیا ہے، مَیں کبھی نہیں بھول سکتا اور مَیں کبھی اُس کی شکرگزاری کرنا بند نہیں کروں گا۔‘‘
مَیں نہیں جانتا کہ اِس زبور کا آپ پر کیا اثر ہو گا، لیکن اِس سے میرا سر ندامت سے جھک جاتا ہے۔ مَیں اُن تمام اوقات کے بارے میں سوچتا ہوں جب مَیں نے بیمار ہو کر پریشانی کی حالت میں دعائیں کیں کہ خداوند فوری طور پر جواب دے اور خداوند نے اپنے فضل سے اُن کا جواب دیا۔ لیکن اس کے بعد مَیں شکرگزاری کی قربانی کے لئے اُس کے پاس حاضر نہ ہوا۔ مَیں نے شفا کو معمولی بات سمجھ لیا۔ مَیں نے شکرگزاری کو نظر انداز کر دیا۔
خدا نے ہمیں داؤد کا نمونہ دیا ہے کہ ہم اُس کی نہ صرف تعریف کریں بلکہ تقلید بھی۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند! مَیں تیری تمجید کرونگا کیونکہ تُو نے مجھے سرفراز کیا ہے۔ اور میرے دُشمنوں کو مجھ پر خُوش ہونے نہ دِیا۔
۲ اَے خُداوند میرے خُدا! مَیں نے تجھ سے فریاد کی اور تُو نے مجھے شفا بخشی۔
۳ اَے خُداوند! تُو میری جان کو پاتال سے نکال لایا ہے۔ تُو نے مجھے زندہ رکھا ہے کہ گور میں نہ جاؤں۔
۴ خُدا کی ستائش کرو اَے اُس کے مُقدسو! اور اُس کے قُدس کو یاد کرکے شُکر گذاری کرو۔
۵ کیونکہ اُس کا قہر دم بھر کا ہے۔ اُس کا کرم عُمر بھر کا۔ رات کو شاید رونا پڑے پر صُبح کو خُوشی کی نوبت آتی ہے۔
۶ مَیں نے اپنی اقبال مندی کے وقت یہ کہا تھا کہ مجھے کبھی جنبش نہ ہوگی۔
۷ اَے خُداوند! تُو نے اپنے کرم سے میرے پہاڑ کو قائم رکھا تھا۔ جب تُو نے اپنا چہرہ چھپایا تو مَیں گھبرا اُٹھا۔
۸ اَے خُداوند! مَیں نے تجھ سے فریاد کی۔ مَیں نے خُداوند سے مَنت کی۔
۹ جب مَیں گور میں جاؤں تو میری مَوت سے کیا فائدہ؟ کیا خاک تیری ستائش کریگی؟ کیا وہ تیری سچائی کو بیان کریگی؟
۱۰ سُن لے اَے خُداوند! اور مجھ پر رحم کر۔ اَے خُداوند! تُو میرا مدد گار ہو۔
۱۱ تُو نے میرے ماتم کو ناچ سے بدل دیا۔ تُو نے میرا ٹاٹ اُتار ڈالا اور مجھے خُوشی سے کمربستہ کیا۔
۱۲ تاکہ میری رُوح تیری مدح سرائی کرے اور چُپ نہ رہے۔اَے خُداوند میرے خُدا! مَیں ہمیشہ تیرا شکر کرتا رہونگا۔