زبور ۱۵ : وہ شخص جسے خدا چنتا ہے
۱۵: ۱ زبور ۱۵ کا موضوع وہ شخص ہے جسے خدا اپنا دوست ہونے کے لئے چنتا ہے۔ گو اِس زبور میں یہ نہیں کہا گیا تاہم خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کی بنیادی شرط نئے سرے سے پیدا ہونا ہے۔ نئی پیدائش کے بغیر کوئی شخص آسمان کی بادشاہی کو نہ تو دیکھ سکتا اور نہ اِس میں داخل ہی ہو سکتا ہے۔ نئی پیدائش کا تجربہ فضل سے ایمان کے ذریعے ہوتا ہے اور یہ کلی طور پر انسان کے نیکی کے کاموں کے بغیر حاصل ہوتا ہے۔
اِس زبور سے یوں لگتا ہے کہ ہماری نجات کسی لحاظ سے ہمارے راست کردار یا نیکی کے کاموں پر مبنی ہے۔ لیکن کتابِ مقدس کے باقی ماندہ حصوں کی روشنی میں ہم اِس سے صرف یہ مطلب اخذ کر سکتے ہیں کہ جو ایمان نجات کا باعث بنتا ہے، اُسی ایمان سے پاکیزگی کی زندگی پیدا ہوتی ہے۔ یعقوب کے خط کی طرح داؤد یہاں کہہ رہا ہے کہ خداوند میں حقیقی ایمان سے وہ نیک کام جنم لیتے ہیں جن کا اِس زبور میں بیان کیا گیا ہے۔
اِس زبور میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ اِس میں صیون کے شہری کی صفات کی مکمل فہرست دی گئی ہے۔ یہ خاکہ خیال آفرین ضرور ہے لیکن جامع نہیں۔
۱۵: ۲ اوّل، صیون کا باسی راستی سے چلتا ہے۔ راستی سے چلنے والا شخص اخلاقی طور بھی مضبوط ہوتا ہے۔ وہ کلی طور پر متوازن زندگی گزارتا ہے۔
دوم، صیون کا باسی صداقت کے کام کرتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کے لحاظ سے محتاط رہتا ہے کہ وہ کسی کے لئے ٹھوکر کھلانے کا باعث نہ ہو۔ وہ بُرے ضمیر کے ساتھ زمین پر رہنے کے بجائے اچھے ضمیر کے ساتھ آسمان پر جانے کو ترجیح دے گا۔
آپ ایسے شخص پر بھروسا کر سکتے ہیں کیونکہ وہ دل سے سچ بولتا ہے۔ وہ جھوٹ بولنے کے بجائے مر جانے کو پسند کرے گا۔ اُس کی بات اُس کا ضمانت نامہ ہے۔ اُس کی ہاں کا مطلب ہاں اور اُس کی نہ کا مطلب نہ ہوتا ہے۔
۱۵: ۳ وہ اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ دوسروں کے بارے میں افواہیں نہیں پھیلاتا۔ وہ اپنی زبان سے تہمت نہیں لگاتا اور نہ کسی پر کیچڑ اُچھالتا ہے۔ وہ اپنی زبان پر ضبط رکھتا ہے اور وہ کردار کشی کی بجائے ہر ایک کی ترقی کا خواہاں ہوتا ہے۔
وہ اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سنتا۔ اُس کی سراسر یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کرے، اُن کی حوصلہ افزائی اور راہنمائی کرے۔ جب وہ اپنے دوست کے متعلق کوئی واقعہ رسوائی سنتا ہے تو اُسے وہیں نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ اِس کا کسی سے ذکر نہیں کرتا۔
۱۵: ۴ اُس کی بصیرت میں اخلاقی امتیاز بالکل دھندلانے نہیں پاتا۔ وہ گناہ اور راست بازی، تاریکی اور روشنی، نیکی اور بدی میں امتیاز کرتا ہے۔ وہ رذیل آدمی سے اِن معنوں میں حقارت کرتا ہے کہ وہ کھلے بندوں اُس کی بے دینی اور ناراستی کے خلاف گواہی دیتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ ایمان کے گھرانے میں ہر ایک شخص کو قبول کرتا ہے۔
اگر اُس نے ایک بار وعدہ کر لیا تو وہ اُس پر قائم رہتا ہے خواہ اُسے مالی طور پر نقصان اُٹھانا پڑے۔ مثلاً ایک ایماندار نے ۸ کروڑ میں اپنا گھر بیچنے کا سودا کر لیا، لیکن کاغذات پر دستخط کرنے سے قبل اُسے پتہ چلتا ہے کہ وہ یہی گھر کسی کو ۹ کروڑ میں بیچ سکتا تھا۔ لیکن چونکہ اُس نے پہلے خریدار سے وعدہ کر لیا ہے، اِس لئے وہ اپنے معاہدہ پر قائم رہے گا۔
۱۵:۵ خدا کا دوست، خدا کے گھرانے کے کسی دوسرے فرد کو سود پر اپنا روپیہ نہیں دیتا۔ موسوی شریعت کے تحت بنی اسرائیل غیرقوموں کو سود پر روپیہ اُدھار دے سکتے تھے (استثنا ۲۳: ۱۹،۲۰)۔ لیکن اپنے یہودی بھائی سے ایسا کرنا ممنوع قرار دیا گیا تھا (خروج ۲۲: ۲۵، ۲۵: ۳۵۔۳۷)۔
اگر یہودیوں کو شریعت کے ماتحت رہتے ہوئے اِس اصول کی پابندی کرنا پڑتی تھی، تو مسیحی کو فضل کے تحت اِس سے کہیں زیادہ خیال رکھنا ہو گا۔
با لآخر راست باز شخص کسی بے گناہ سے رشوت نہیں لیتا۔ وہ انصاف کا گلا گھونٹنے سے نفرت کرتا اور اِس قدیم کہاوت کو رد کرتا ہے کہ ’’ہر شخص کی اپنی قیمت ہوتی ہے۔‘‘
یہ ایسا شخص ہے جو اِس زمانہ اور ابدیت میں خدا کے لئے زندہ رہتا ہے۔ ایسے شخص کے علاوہ دوسرے لوگ خدا کی حضوری میں دلیری کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکیں گے۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند تیرے خیمہ میں کون رہیگا؟ تیرے کوہِ مقدس پر کون سکونت کریگا؟
۲ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دِل سے سچ بولتا ہے۔
۳ وہ جو اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا۔ اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سُنتا
۴ وہ جس کی نظر میں رذیل آدمی حقیرہے پر جو خُداوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عزت کرتا ہے۔ وہ جو قسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائے۔
۵ وہ جو اپنا روپیہ سُود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والے کبھی جنبش نہ کھائے گا۔