زبُور ۸۹

زبور ۸۹:‏ داؤد کے ساتھ خدا کا عہد

۸۹:‏ ۱‏، ۲ خدا نے داؤد کے ساتھ وفاداری اور دائمی محبت کا عہد باندھا تھا‏، چنانچہ شروع میں ہی ایتان اِس عہد میں اپنی شخصی خوشی کا اعلان کرتا ہے۔ اُس نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ ہمیشہ خدا کی شفقت کے گیت گائے گا کیونکہ اُس کی شفقت ابد تک ہے۔

۸۹:‏ ۳‏، ۴ ایمان نہایت ادب سے خدا کو اُس کے عہد کے بارے میں یاد دلاتا ہے جو اُس نے داؤد کے ساتھ باندھا تھا۔ چونکہ داؤد اُس کا برگزیدہ بندہ تھا‏، اِس لئے اُس نے قسم کھائی تھی کہ اُس کے تخت پر بیٹھنے کے لئے وارث کی کمی نہ ہو گی اور اُس کی بادشاہی پشت در پشت رہے گی۔ خاندانی حکومت تخت پر ہمیشہ قائم رہے گی۔

۸۹:‏ ۵ اِس کے بعد ایمان اُس خداوند کے عجائب کو یاد کرتا ہے جس نے عہد باندھا تھا۔ یوں لگتا ہے جیسے ایتان خدا کو یاد دلاتا ہے کہ اُس کے نام کی عزت خطرہ میں ہے۔ 

۸۹:‏ ۶۔۸ وہ آسمان میں تمام فرشتوں کے لشکر سے بڑا ہے۔ اوپر فرشتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اُس کے عجائب اور اُس کی وفاداری کی تعریف کریں۔ وہ تمام آسمانی مخلوق سے اعلیٰ و افضل ہے۔ اُن میں بڑے سے بڑا تعظیم و تعجب کے ساتھ اُس کی حضوری میں کھڑا ہے۔ وہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ہر لحاظ سے بڑا ہے۔ لشکروں کے خداوند خدا کی مانند کوئی زورآور نہیں ہے اور وہ وفاداری کے لباس میں درخشاں و تابندہ ہے۔ 

۸۹:‏ ۹‏، ۱۰ لیکن یہی سب کچھ نہیں۔ خدا تخلیق‏، پروردگاری اور اخلاقی کاملیت میں بڑا ہے (‏آیات ۹۔۱۵)‏۔ تخلیق میں اُس کی عظمت کی یہ ایک ڈرامائی مثال ہے جس سے وہ سمندر کے جوش و خروش اور اُس کی لہروں کو تھما دیتا ہے۔ کئی سال قبل اُس نے گلیل کی جھیل پر اِس حقیقت کو ثابت کیا تھا اور وہ اپنے لوگوں کی طوفانوں میں گھری ہوئی زندگیوں میں متواتر یہ کام سرانجام دیتا ہے۔ جہاں تک پروردگاری میں اُس کی عظمت کا تعلق ہے تو بنی اسرائیل کے خروج کے وقت مصر (‏رہب)‏ کی فتح سے بڑھ کر اَور کون سی مثال پیش کی جا سکتی ہے؟ اُس نے متکبر قوموں کو ایسے کچل دیا جیسے شیر اپنے شکار کو چیرپھاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کو ایسے پراگندہ کر دیتا ہے جیسے پتے ہوا میں بکھر جاتے ہیں۔ 

۸۹:‏ ۱۱۔۱۳ تخلیقی حق کے تحت آسمان و زمین خدا کے ہیں کیونکہ اُس نے اُنہیں خلق کیا۔ یہ جہان اور اِس کی ہر ایک شے اُس کی ہے کیونکہ اُس نے اِنہیں قائم کیا۔ وہی شمال اور جنوب کو خلق کرنے والا ہے۔ کوہِ تبور اور کوہِ حرمون اپنے سربلند کئے ہوئے ہیں جیسے وہ خوشی سے یہ تسلیم کرتے ہوں کہ وہی اُن کا خالق ہے۔ اُس کے بازو میں قدرت ہے اور اُس کا ہاتھ قوی ہے۔ اُس کا دہنا ہاتھ دُنیا کی ہر ایک طاقت سے زیادہ زور آور ہے۔

۸۹:‏۱۴ جہاں تک اُس کی اخلاقی کاملیت کا تعلق ہے اُس کا تخت صداقت اور عدل کے دو اصولوں پر قائم ہے۔ وہ جہاں جہاں جاتا ہے شفقت اور وفاداری اُس کے ساتھ ساتھ جاتی ہیں۔ 

۸۹:‏ ۱۵۔۱۸ عہدباندھنے والے خدا کی عظمت کو بیان کرنے کے بعد ایتان اب اُس کے لوگوں کی مبارک حالی کو بیان کرتا ہے۔ ’’مبارک ہے وہ قوم جو خوشی کی للکار کو پہچانتی ہے۔‘‘ دیندار یہودی جانتا تھا کہ خوشی کی للکار اُن لوگوں کی ہوتی تھی جو عیدوں یا مقدّس ایام کے لئے یروشلیم میں آتے تھے۔ ہمارے لئے ہمیشہ یہ خوش خبری کی خوشی کی للکار ہے۔ اُن خوش باش لوگوں کے کردار میں یہ امور شامل ہیں:‏ وہ اُس کے چہرے کے نور میں چلتے ہیں‏، یعنی وہ اُس کی شفقت میں چلتے ہیں اور اُس کی حضوری سے اُن کی راہنمائی ہوتی ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہی اُن کی تمام خوشیوں کا منبع ہے اور اُس کی صداقت میں ہمیشہ خوشی مناتے ہیں۔ وہ اپنی قوت پر نہیں بلکہ اُس کی قوت پر ہمیشہ فخر کرتے ہیں۔ صرف اُس کے کرم سے اُن کا سینگ بلند ہوتا ہے‏، دوسرے لفظوں میں اُنہیں مضبوط بنایا جاتا ہے۔ ’’کیونکہ ہماری سپر خداوند کی طرف سے ہے اور ہمارا بادشاہ اسرائیل کے قدوس کی طرف سے۔‘‘

۸۹:‏۱۹ اِس کے بعد ایتان اُس عہد کو بیان کرتا ہے جو یہوواہ نے داؤد کے ساتھ باندھا (‏آیات ۱۹۔۳۷)‏۔ کئی سال قبل خدا اپنے وفادار بندہ سے رویا میں ہم کلام ہوا تھا۔ مقدسوں سے مراد شاید سموئیل (‏۱۔سموئیل ۱۶:‏ ۱۔۱۲)‏‏، ناتن (‏۲۔ سموئیل ۷:‏ ۱۔۱۷)‏‏، یا یہوواہ کا خادم خداوند یسوع مسیح ہو۔ اُس نے مفت فضل کا ایک غیر مشروط عہد باندھا‏، ایک زبردست کی تاجپوشی کی اور اُسے قوم میں سے چن کر سرفراز کیا۔ داؤد کے بارے میں اُن بہت سے بیانات میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم داؤد کے بعد آنے والے مسیح بادشاہ کو دیکھتے ہیں۔ 

۸۹:‏ ۲۰۔ ۲۴ یہوواہ نے سموئیل کے ذریعے داؤد کو اُس کے بھائیوں میں سے منتخب کیا اور بادشاہ بنانے کے لئے مقدّس تیل سے اُسے مسح کیا۔ اِس عہد میں یہ ضمانت دی گئی کہ خدا کا ہاتھ ہمیشہ داؤد پر ہو گا اور اُس کے تخت کے وارثوں کو تحفظ کے لئے اُس کا ہاتھ تمام مطلوبہ مدد فراہم کرے گا۔ اُس بادشاہ کے دشمن اُس پر جبر نہیں کر سکیں گے اور نہ شریر اُسے ستا سکیں گے۔ خدا نے اِس امر کی بھی ضمانت دی کہ وہ اُس کے دشمنوں کو کچل ڈالے گا اور اُس سے عداوت رکھنے والوں کو مارے گا۔ خداوند کی وفاداری اور شفقت اُس کے ساتھ رہیں گی اور داؤد کا گھرانا اُس سے قوت حاصل کرے گا۔

۸۹:‏ ۲۵ ابرہام سے وعدہ کے مطابق (‏پیدائش ۱۵:‏ ۱۸)‏ بادشاہت کی حتمی سرحدیں بحیرہ روم سے دریائے فرات تک ہوں گی۔ پیدائش ۱۵ باب میں لکھا ہے کہ دریائے مصر سے دریائے فرات تک۔ چونکہ دریائے مصر بحیرہ روم میں گر جاتا ہے‏، اِس لئے سرحدیں وہی ہیں۔ 

۸۹:‏ ۲۶۔۲۷ داؤد تسلیم کرے گا کہ یہوواہ اُس کا باپ‏، اُس کا خدا اور اُس کی نجات کی چٹان ہے اور خدا اُسے اپنا پہلوٹھا اور دُنیا کا شہنشاہ بنائے گا۔

لفظ ’’پہلوٹھا‘‘ کا بعض اوقات یہ مطلب ہے کہ وقت کے لحاظ سے پہلے جیسے جب مریم کا پہلوٹھا بیٹا پیدا ہوا (‏لوقا ۲:‏ ۷)‏۔ لیکن داؤد کے سلسلے میں یہ مطلب اخذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ تو یسی کا آخری یعنی سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ یہاں اِس کا مطلب ہے عہدہ اور مرتبہ کے لحاظ سے اوّل‏، جیسا کہ آیت کے باقی ماندہ حصے میں بیان کیا گیا ہے:‏ ’’اور دُنیا کا شہنشاہ۔‘‘ جب پولس رسول یسوع کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ ’’تمام مخلوقات سے پہلے مولود‘‘ (‏کلسیوں ۱:‏۱۵)‏ تو اِس کا بھی یہی مطلب ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ یسوع مخلوقات میں سب سے پہلے خلق کیا گیا‏، جیسا کہ بعض فرقے تعلیم دیتے ہیں‏، بلکہ تمام مخلوقات اُس کے تحت ہیں۔ 

۸۹:‏ ۲۸‏، ۲۹ کوئی شے بھی داؤد سے خدا کی محبت کو تبدیل نہیں کر سکے گی اور کوئی شے اُس کے باندھے ہوئے عہد کو متاثر نہیں کر سکے گی۔ داؤد کا تخت ہمیشہ قائم رہے گا‏، اور اُس کی شاہی نسل ابد تک قائم رہے گی۔

۸۹:‏ ۳۰۔ ۳۲ اگر داؤد کے فرزند گناہ کریں تو یہ عہد اُنہیں سزا سے مستثنیٰ نہیں رکھے گا۔ شریعت کی خلاف ورزی کا ٹھیک ٹھیک بدلہ دیا جائے گا۔ تواریخی طور پر یہ وقوع پذیر ہو چکا ہے۔ داؤد کی نسل یہوواہ سے بے وفا ہو گئی اور اُس نے اُنہیں بابلی اسیری کی چھڑی اور کوڑوں سے سزا دی۔

۸۹:‏ ۳۳ تاہم عہد ابھی تک قائم ہے اور گو کچھ عرصہ کے لئے بادشاہت ختم ہو گئی اور یروشلیم میں کوئی بادشاہ حکمرانی نہیں کرتا تھا‏، تاہم خدا نے شاہی نسل کو معجزانہ طور پر محفوظ رکھا اور اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت پر اِس بادشاہت کو پھر قائم کیا۔ 

۸۹:‏ ۳۴۔۳۷ بڑے زور دار الفاظ سے خدا یاد دلاتا ہے کہ وہ اپنے عہد کو نہیں توڑے گا اور اپنے عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ داؤد کے ساتھ اپنے وعدے کو پورا کرے گا۔ داؤد کی نسل ہمیشہ قائم رہے گی اور جب تک آسمان میں چاند اور سورج قائم ہے‏، اُس کا تخت قائم رہے گا۔

۸۹:‏ ۳۸‏،۳۹ ظاہری طور پر تو شاید یہ معلوم ہو کہ خدا داؤد کے ساتھ باندھے ہوئے عہد کو بھول چکا ہے۔ بابلیوں نے یہوداہ پر حملہ کیا اور اُنہیں اسیر کرکے لے گئے۔ اُس وقت سے اِس دن تک کوئی بھی داؤد کے تخت پر نہیں بیٹھا تھا۔ لیکن خدا نہیں بھولا تھا۔ دوہزار سال قبل یسوع مسیح داؤد بادشاہ کے شہر میں پیدا ہوا۔ چونکہ وہ یوسف کا لے پالک بیٹا تھا اور یوسف کا براہِ راست یہوداہ کے بادشاہوں سے تعلق تھا‏، اِس لئے یسوع کا اُس کے ذریعے داؤد کے تخت پر قانونی حق تھا (‏متی پہلا باب)‏۔ یسوع مریم کا حقیقی بیٹا تھا۔ مریم بھی داؤد کی نسل سے تھی‏، اِس لئے ہمارا خداوند داؤد کی نسل سے ہے (‏لوقا ۳:‏ ۲۳۔۳۸)‏۔ چنانچہ خداوند یسوع مسیح میں اِس عہد کی تکمیل ہو گئی ہے۔ داؤد کا تخت اُس کے ذریعے قائم و دائم ہے‏، اور چونکہ وہ ابد تک زندہ ہے‏، اِس لئے داؤد کے تخت پر اُس کی نسل قائم رہے گی۔ ایک دن شاید بہت جلد وہ داؤد کے تخت پر مسند نشین ہونے کے لئے آئے گا اور داؤد کے عظیم ترین بیٹے کی حیثیت سے حکمرانی کرے گا۔ 

لیکن ایتان یہ سب کچھ نہ دیکھ سکا۔ اُسے تو یہی دکھائی دیتا تھا جیسے کہ یہ عہد بالکل ختم ہو چکا ہے۔ وہ شکایت کرتا ہے کہ خدا نے شاہی نسل کو رد کرکے ترک کر دیا ہے۔ وہ اُس بادشاہ سے ناراض ہے جسے اُس نے مسح کیا تھا۔ ایتان تو یہی سمجھتا تھا کہ خدا نے داؤد کے ساتھ اپنے وعدہ کو قائم نہیں رکھا‏، اُس عہد کو رد کر دیا اور اُس کے تاج کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ایتان دلی طور پر جانتا تھا کہ خدا اپنے وعدہ سے انحراف نہیں کر سکتا‏، لیکن تمام ظاہری حالات سے ایسا ہی معلوم ہوتا تھا۔

۸۹:‏ ۴۰۔۴۵ یروشلیم کی فصیلوں میں شگاف پڑے تھے اور قلعے برباد ہو چکے تھے۔ مسافر اِس غیر محفوظ شہر کو لوٹتے تھے اور اُن کے غیر اقوام پڑوسی یہوداہ کی مصیبت پر ہنستے تھے۔ اسرائیل کے سارے دشمن حاوی تھے اور وہ اپنی فتح پر خوش تھے۔ خدا کی قوم کے ہتھیار جنگ میں بے کار ثابت ہوئے اور اُن کے سپاہی دشمنوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ بادشاہ کو معزول کر دیا گیا اور اُس کے تخت کو خاک میں ملا دیا گیا۔ ندامت اور شرم سے وہ وقت سے پہلے بوڑھا دکھائی دینے لگا۔

۸۹:‏ ۴۶۔۴۸ جس خدا نے عہد باندھا‏، یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں سے چھپ گیا ہے۔ اُن کے خلاف اُس کا غصہ بھڑک رہا تھا۔ ’’کب تک؟‘‘ ایسی فریاد ہے جو آسمان تک پہنچتی ہے۔ ایتان خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ یاد رکھے کہ اُس نے کس قدر انسانی زندگی کے دن مختصر مقرر کئے ہیں‏، انسان کس قدر کمزور ہے اور وہ کس قدر بے وقعت اور بے معنی ہے۔ ہر شخص کی موت یقینی ہے اور قبر کی قوت بالآخر اُس پر حاوی ہو جائے گی۔ ایتان کی نسبت ہماری بہتر اُمید ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سب نہیں مریں گے‏، بلکہ سب بدل جائیں گے جب خداوند یسوع اپنی کلیسیا کو آسمان پر لے جانے کے لئے واپس آئے گا (‏۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏ ۵۱؛ ۱‏،تھسل ۴:‏ ۱۳۔۱۸)‏۔ لیکن یہ باتیں عہدعتیق کے مقدسین میں چھپی ہوئی تھیں۔

۸۹:‏ ۴۹۔۵۱ ایتان کی التجا میں جرأت اور اصرار ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ خدا کی شفقت کو کیا ہوا جو اُس نے ہر ممکن طریقہ سے داؤد پر ظاہر کی۔ وہ بڑی شدت سے اسرائیل کے دشمنوں کے طعنوں کو محسوس کرتا ہے کہ وہ کس طرح ایتان کی بے عزتی کرتے ہیں اور جلا وطن بادشاہ کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ 

۸۹:‏ ۵۲ لیکن اختتامی آیت میں ایمان فتح مند ہے۔ گو ایتان کو اپنی پریشانی کا کوئی جواب نہیں ملا‏، تو بھی وہ یہوواہ کو مبارک کہہ سکتا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ یہ کہہ رہا ہے‏، ’’اے خداوند! مَیں سمجھ نہیں سکتا لیکن تو بھی میرا تجھ پر بھروسا ہے۔‘‘ چنانچہ وہ اپنی دعا کو خوشی کے الفاظ سے ختم کرتا ہے:‏ ’’خداوند ابدا لآباد مبارک ہو! آمین ثم آمین۔‘‘

مقدس کتاب

۱ میَں ہمیشہ خُداوند کی شفقت کے گیت گاؤنگا۔ میَں پُشت در پُشت اپنے مُنہ سے تیری وفاداری کا اعلان کروُنگا۔
۲ کیونکہ میَں نے کہا کہ شفقت ابدتک بنی رہے گی۔ تُو اپنی وفاداری کو آسمان میں قائم رکھے گا۔
۳ میَں نے اپنے برگزیدہ کے ساتھ عہد باندھا ہے۔ میَں نے اپنے بندہ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔
۴ میَں تیری نسل کو ہمیشہ کے لئے قائم کرونگا۔ اور تیرے تخت کو پُشت در پُشت بنائے رکھونگا۔
۵ اَے خُداوند! آسمان تیرے عجائب کی تعریف کریگا۔ مُقدسوں کے مجمع میں تیری وفاداری کی تعریف ہو گی۔
۶ کیونکہ افلاک پر خُداوند کا نظیر کُون ہے؟ فرِشتگان میں کُون خُداوند کی مانندہے؟
۷ اَیسا معبود جو مقُدسوں کی محفل میں نہایت تعظیم کے لائق ہے۔ اور اپنے سب اِرد کِرد والوں سے زیادہ مُہیب ہے۔
۸ اَے خُداوند لشکروں کے خُدا! اَے یاؔہ ! تجھ سا زبردست کون ہے؟ تیری وفاداری تیرے چوگرد ہے ۔
۹ سمُندر کے جُوش و خروش پر تُو حُکمرانی کرتا ہے تُو اُس کی اُٹھتی لہروں کو تھما دیتا ہے۔
۱۰ تُو نے رہؔب کو مقُتول کی مانند ٹُکڑے ٹُکڑے کیا۔ تُو نے اپنے قوی بازو سے اپنے دُشمنوں کو پراگندہ کر دیا۔
۱۱ آسمان تیرا ہے۔ زمین بھی تیری ہے۔ جہان اور اُس کی معموری کو تُو ہی نے قائم کیا۔
۱۲ شمال اور جنوب کو پیدا کرنے والا تُو ہی ہے۔تبؔور اور حرؔمون تیرے نام سے خُوشی مناتے ہیں۔
۱۳ تیرا بازو قُدرت والا ہے۔تیرا ہاتھ قوی اور تیرا دہنا ہاتھ بلند ہے۔
۱۴ صداقت اور عدل تیرے تخت کی بنیاد ہیں۔ شفقت اور وفاداری تیرے آگے آگے چلتی ہیں ۔
۱۵ مُبارک ہے وہ قوم جو خُوشی کی للکار کو پہچانتی ہے۔وہ اَے خُداوند! جو تیرے چہرے کے نور میں چلتے ہیں۔
۱۶ وہ دِن بھر تیرے نام سے خُوشی مناتے ہیں۔ اور تیری صداقت سے سرفراز ہوتے ہیں۔
۱۷ کیونکہ اُن کی قوت کی شان تُو ہی ہے۔اور تیرے کرم سے ہمارا سِینگ بلند ہو گا۔
۱۸ کیونکہ ہماری سِپر خُداوند کی طرف سے ہے۔اور ہمارا بادشاہ اِسرائیؔل کے قدوس کی طرف سے ہے۔
۱۹ اُس وقت تُو نے رویا میں اپنے مُقدسوں سے کلام کیا اور فرمایا کہ کیں نے ایک زبردست کو مددگار بنایا ہے۔اور قوم مین سے ایک کو چُن کر سرفراز کیا ہے۔
۲۰ میرا بندہ داؤُد مجھے مِل گیا ہے۔ اپنے مُقّدس تیل سے میَں نے اُسے مسح کیا ہے۔
۲۱ میرا ہاتھ اُس کے ساتھ رہے گا۔میرا بازو اُسے تقویت دے گا۔
۲۲ دُشمن اُس پر جَبر نہ کرنے پائے گا اور شرارت کا فرزند اُسے نہ ستائیگا۔
۲۳ میَں اُس کے مُخالفوں کو اُس کے سامنے مغلوب کروُں گا میَں اُس سے عداوت رکھنے والوں کو ماروں گا۔
۲۴ پر میری وفداری اور شفقت اُس کے ساتھ رہینگی۔اور میرے نام سے اُ سکا سینگ بُلند ہو گا۔
۲۵ میَں اُ س کا ہاتھ سمُندر تک بڑھاؤنگا۔اور اُ سکے دہنے ہاتھ کو دریاؤں تک۔
۲۶ وہ مھے پُکار کر کہے گا تُو میرا باپ۔میرا خُدا اور میری نجات کی چٹان ہے۔
۲۷ میَں اُس کو اپنا پہلوٹھا بناؤ نگا۔ اور دُنیا کا شہنشاہ۔
۲۸ میَں اپنی شفقت کو اُسکے لئے ابدتک قائم رکھونگا۔ اور میرا عہد اُس کے ساتھ لا تبدیل رہیگا۔
۲۹ میَں اُس کی نسل کو ہمیشہ تک قائم رکھونگا۔ اور اُ سکے تخت کو جب تک آسمان ہے۔
۳۰ اگر اُ سکے فرزند میری شریعت کو ترک کر دیں اور میرے احکام پر نہ چلیں۔
۳۱ اگر وہ میرے آئین کو توڑیںاور میرے فرمان کو نہ مانیں۔
۳۲ تو میَں اُن کو چھڑی سے خطا کی اور کوڑوں سے بدکاری کی سزا دوں گا۔
۳۳ لیکن میَں اپنی شفقت اُس پر سے ہٹا نہ لونگا۔اور اپنی وفاداری کو باطل ہونے نہ دوں گا۔
۳۴ میَں اپنے عہد کو نہ توڑونگا۔ اور اپنے مُنہ کی بات کو نہ بدلوں گا۔
۳۵ میَں ایک بار اپنی قدوسی کی قسم کھا چُکا ہوں۔میَں داؤد سے جھوٹ نہ بولوں گا۔
۳۶ اُسکی نسل ہمیشہ قائم رہیگی۔اور اُس کا تخت آفتاب کی مانند میرے حضور قائم رہیگا۔
۳۷ وہ ہمیشہ چاند کی طرح اور آسمان کے سّچے گواہ کی مانند قائم رہیگا۔
۳۸ لیکن تُو نے تو ترک کر دیا ور چھوڑ دیا۔ تُو اپنے ممسوح سے ناراض ہؤا ہے۔
۳۹ تُو نے اپنے خادم کے عہد کو رّد کر دیا ہے۔ تُو نے اُسکے تاج کو خاک میں مِلا دیا۔
۴۰ تُو نے اُسکی باڑوں کو توڑ ڈالا۔ تُو نے اُس کے قلعوں کو کھنڈر بنا دیا۔
۴۱ سب آنے جانے والے اُسے لوٹتے ہیں۔وہ اپنے پڑوسیوں کی ملامت کا نشانہ بن گیا۔
۴۲ تُو نے اُس کے مُخالفوں کے دہنے ہاتھ کو بلند کیا۔ تُو نے اُسکے سب دُشمنوں کو خوش کیا ۔
۴۳ بلکہ تُو اُس کی تلوار کی دھار کو موڑ دیتا ہے۔ اور لڑائی میں اُس کے بازو کو جمنے نہیں دیا۔
۴۴ تُو نے اُس کی رونق اُڑا دی۔ اور اُسکا تخت خاک میں ملا دیا۔
۴۵ تُو نے اُسکی جوانی کے دِن گھٹا دئے۔ تُو نے اُسے شرم آلودہ کر دیا۔
۴۶ اَے خُداوند! کب تک ! کیا تُو ہمیشہ ک پوشیدہ رہیگا؟ تیرے قہر کی آگ کب تک بھڑکتی رہیگیَ؟
۴۷ یاد رکھ میرا قیام ہی کیا ہے۔تُو نے کِس بطالت کے لئے بنی آدم کو پیدا کیا؟
۴۸ وہ کونسا آدمی ہے جو جیتا ہی رہیگا۔اور موت کو نہ دیکھے گا۔ اور اپنی جان کو پاتال کے ہاتھ سے بچا لے گا۔
۴۹ یارب! تیری وہ پہلی شفقت کیا ہوئی جِسکی بابت تُو نے داؤؔد سے اپنی وفداری کی قسم کھائی تھی؟
۵۰ یارب! اپنے بندوں کی رُسوائی کو یاد کر میَں تو سب زبردست قوموں کی طعنہ زنی اپنے سینے میں لئے پھرتا ہوں۔
۵۱ اَے خُداوند! تیرے دُشمنوں نے کیَسسے طعنے مارے۔ تیرے ممسوح کے قدم قدم پر کیَسی طعنہ زنی کی ہے۔
۵۲ خُداوند ابدالاآباد مُبارک ہو! آمین ثُم آمین۔