گلتیوں تعارُف

کتابِ مقدس کی تفسیر

گلتیوں

The Epistle to Galatians

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


تعارُف

«ساری دُنیا اور ہر زمانے کے لئے روحانی آزادی کا منشورِ اعظم۔» (‏چارلس آر۔ اَرڈمن ۔ ‏Charles R. Erdman)

۱۔ فہرست ِمُسلَّمہ میں منفرد مقام

 انگریزی بولنے والی قوموں کا ایک بہت بڑا حصہ،‏ اور فرانسیسی قوم نسلاً Celtic (‏ہند جرمنی زبانوں کی ایک شاخ)‏ ہیں __ یعنی سکاچ،‏ آئرش،‏ ویلش (‏ویلز کے باشندے)‏ یا بریٹان (‏فرانس کے علاقے برٹینی کے باشندے)‏۔ یہ نسلی گروہ یہ جان کر بہت ہی خوش ہوں گے کہ پولس رسول کے اوّلین خطوط میں سے ایک اِن کے آبا و اجداد کو لکھا گیا تھا (‏گلتیہ،‏Celt اور گال [قدیم فرانس] کے الفاظ آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں)‏۔

 تقریباً ۲۷۸ ق م میں یورپی گالوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کر کے اُس علاقے میں آ گئی جو آج کل ترکی کہلاتا ہے۔ اُن کی حدود پکی ہو گئیں اور اُن کا ملک گلتیہ کہلایا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کئی باتوں میں Celtic خصائص نظر آتے ہیں۔ مثلاً گلتیوں کی تبدل پذیری (‏متلون مزاجی)‏ (‏اعمال باب ۱۳،‏ گلتیوں ۳:‏۱ وغیرہ)‏۔

 یہ معاملہ تو جو ہو،‏ سو ہو،‏ لیکن گلتیوں کے نام پولس رسول کا خط ابتدائی مسیحیت میں بہت فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ کچھ مفسر اِس خط کو رومیوں کے نام خط کا پہلا مسودہ سمجھتے ہیں (‏کیونکہ اِس میں بھی فضل کی خوش خبری،‏ ابرہام،‏ شریعت وغیرہ کے موضوعات پر اُسی انداز میں بات کی گئی ہے)‏۔ گلتیوں کے نام خط مسیحیت کو شریعت پرست یہودیت کا ایک فرقہ بننے سے روکنے کی نہایت جذباتی اور پُرزور کوشش ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ خود گلتیوں کا ردِّ عمل کیا تھا،‏ لیکن فضل کی خوش خبری جو شریعت کے کاموں سے الگ رہی،‏ وہ واقعی فتح مند ہوئی اور مسیحیت تمام دُنیا میں پھیل گئی۔

 اِصلاحِ کلیسیا کے زمانے میں گلتیوں کا خط لوتھر کے لئے اِتنا اہم بن گیا تھا کہ وہ اِسے «میری کیتھی   » (‏ Kaethe ۔ اُس کی بیوی کا محبت بھرا نام)‏ کہا کرتا تھا۔ اُس نے گلتیوں کی تفسیر لکھی۔ اِس تفسیر نے صرف علما ہی کو نہیں،‏ عام لوگوں کو بھی بے حد متاثر کیا۔ یہ آج بھی چھپتی اور پڑھی جاتی ہے۔

۲۔ مصنف

 اِس حقیقت پر کبھی کوئی وزنی اعتراض نہیں ہوا کہ پولس ہی گلتیوں کے خط کا مصنف ہے۔ پولی کارپ (‏Polycarp)‏،‏ اِغناطِسیُوس (‏Ignatius)‏،‏ یوسطین شہید(‏Justin Martyr)‏،‏ اورِغین (‏Origen)‏،‏ ایرینیس (‏Irenaeus)‏،‏ طرطلیان (‏Tertullian)‏ اور سکندریہ کے کلیمنٹ (‏Clement)‏نے اِس خط سے اِقتباسات کئے ہیں۔ مرتوروی فہرست ِاسفار میں بھی اِس کو پولس کی تصنیف مانا گیا ہے۔ اِس خط کا اسلوب اور زبان یہودیت نوازی (‏مسیحیت میں بھی یہودی رسم و رواج کو رائج کرنا)‏ کے سخت خلاف ہے۔ غالباً اِسی وجہ سے مارقیون (‏Marcion)‏ اِسے اپنی فہرست ِکتب میں اوّل جگہ دیتا ہے۔ چنانچہ خارجی شہادتیں بہت مضبوط ہیں۔

 اِس خط کے پولس کی تصنیف ہونے کی داخلی شہادتوں کا آغاز ۱:‏ ۱ سے ہوتا ہے جہاں وہ اپنا ذکر کرتا ہے۔ اور پھر ۵:‏۲ (‏مَیں پولس)‏ اور اِختتام کے قریب ۶:‏۱۱ (‏مَیں نے کیسے بڑے حرفوں …)‏ بھی یہی شہادت دیتے ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ۶:‏ ۱۱ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پولس کو آنکھ کا مرض تھا۔ شاید اِس کی تائید اِس حقیقت سے بھی ہو کہ ایک وقت تھا جب گلتی اپنی آنکھیں بھی نکال کر پولس کو دینے کو تیار تھے (‏۴:‏ ۱۵)‏۔ بہت سی تواریخی باتیں اعمال کی کتاب سے میل کھاتی ہیں۔ ۵۰ء اور ۷۰ء کے درمیانی عرصے کے دوران دو موضوعات پر گرما گرم بحثیں ہوتی رہیں۔ اوّل ختنہ اور دوسرے کیا پولس حقیقی رسول ہے یا نہیں۔ بعد میں جلد ہی یہ بحثیں ٹھنڈی پڑ گئیں،‏ بلکہ ختم ہو گئیں۔

۳۔ سنِ تصنیف

 اِس خط کی تصنیف کے سن کا اِنحصار اِس بات پر ہے کہ گلتیہ کی کلیسیائوں اور گلتیوں کا ٹھیک ٹھیک مفہوم کیا ہے۔ اگر اِس سے مراد ایشیائے کوچک کا جنوبی حصہ ہے تو پھر سنِ تصنیف بہت پہلے،‏ غالباً یروشلیم کی کونسل سے بھی پہلے کا ہو گا۔ اور اگر مراد شمالی حصہ ہے تو پھر تاریخ بعد کی ہو گی۔

 گلتیہ __ جغرافیائی لحاظ سے یہ نام گلتیہ کے رومی صوبے کے شمالی حصے کے لئے اور سیاسی لحاظ سے جنوبی حصے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔

 یہ نظریہ کہ گلتیہ سے مراد شمالی حصہ ہے اُنیسویں صدی میں معیاری نظریہ مانا جاتا رہا،‏ اور جرمنی کے علما آج بھی اِسی کو مانتے ہیں۔ کوئی شہادت نہیں ملتی کہ پولس نے اِس علاقے کے گلتیوں میں کبھی خدمت کی ہو،‏ مگر صرف اِتنی بات پر اِس نظریے کو ردّ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

 برطانیہ اور امریکہ کے بیشتر مفسر اِس نظریے کے حامی ہیں کہ گلتیہ سے مراد جنوبی علاقہ ہے۔ چونکہ اعمال کی کتاب میں لوقا اِس علاقے میں پولس کے کام کی کافی تفصیل دیتا ہے (‏پسدیہ کا انطاکیہ،‏ اِکنیُم،‏ لُسترہ اور دربے)‏ اِس لئے ممکن نظر آتا ہے کہ پولس نے اِس علاقے کے نومریدوں کو خط لکھا ہو۔ اور چونکہ پولس نے اپنے پہلے بشارتی دَورہ کے دوران جنوبی گلتیہ میں منادی کی،‏ اور دوسرے دَورے کے دوران دوبارہ وہاں گیا،‏ اِس لئے ممکن ہے کہ گلتیوں کے نام خط بہت پہلے لکھا گیا تھا۔ اگر یہ خط اعمال باب ۱۵ میں مذکور یروشلیم کی کونسل (‏۴۹ء)‏ سے پہلے لکھا گیا تھا تو وضاحت ہو جاتی ہے کہ ابھی ختنے کا مسئلہ ایک گرما گرم موضوع تھا۔ جرمنی کے مشہور عالم تھوڈور زاہن کے مطابق پولس نے یہ خط اپنے دوسرے بشارتی دورے کے دوران کرنتھس سے لکھا تھا۔ اِس طرح یہ پولس کا پہلا خط قرار پاتا ہے۔

 اگر ہم جنوبی علاقے والے نظریے کو درست مانیں اور خصوصاً یہ مانیں کہ پولس نے یروشلیم کی کونسل میں شرکت کرنے سے پہلے یہ خط لکھا تھا (‏اِس کونسل نے غیر قوموں میں سے ایمان لانے والوں کے لئے ختنے کے مسئلے کا فیصلہ کر دیا)‏ تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ خط ۴۸ء میں لکھا گیا۔

۴۔ پس منظر اور موضوع

 اپنے اِبتدائی بشارتی دَوروں کے دوران پولس نے ایشیائے کوچک جا کر یہ بشارت دی تھی کہ نجات صرف مسیح پر ایمان کے وسیلے سے ہے۔ بہت سے لوگوں نے اِس پیغام پر ایمان لا کر نجات پائی اور کلیسیائیں قائم ہوئی تھیں۔ اِن میں سے کئی کلیسیائیں گلتیہ میں تھیں۔ گلتیہ کے باشندے اپنی بے چین،‏ جنگجو اور تبدل پذیر طبیعت کے لئے مشہور تھے۔

 پولس کے وہاں سے آنے کے بعد جھوٹے اُستاد اُس علاقے میں گھس کر غلط عقائد کا پرچار کرنے لگے تھے۔ وہ تعلیم دیتے تھے کہ نجات کے لئے مسیح پر ایمان کے ساتھ ساتھ شریعت کے اعمال بھی ضروری ہیں۔ اُن کا پیغام مسیحیت اور یہودیت کا،‏ فضل اور شریعت کا،‏ مسیح اور موسیٰ کا ایک آمیزہ تھا۔ وہ گلتیوں کو پولس سے بھی دُور ہٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ اِس مقصد کے لئے کہتے تھے کہ پولس مسیح کا اصلی رسول نہیں ہے اِس لئے اُس کا پیغام قابلِ اعتماد نہیں۔ وہ پیغام لانے والے پر اعتماد کی جڑیں کاٹ کر دراصل پیغام پر اعتماد کی جڑیں کاٹتے تھے اور گلتیہ کے بہت سے مسیحی اُن کے شرانگیز پیغام سے متاثر تھے۔

 جب گلتیہ سے ایسی خبریں پولس کو پہنچیں تو اُس کے دل کو کیسا رنج اور کیسی مایوسی ہوئی ہو گی! کیا اُن لوگوں کے درمیان میری محنت عبث اور رائیگاں تھی؟ کیا اَب بھی اُن مسیحیوں کو اِس یہودیت نواز،‏ شریعت نواز تعلیم سے بچایا جا سکتا ہے؟ پولس نے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اُس نے قلم اُٹھایا اور ایمان میں اپنے فرزندوں کو یہ غصے بھرا خط لکھا۔ اِس خط میں وہ نجات کی حقیقی نوعیت کو ثابت کرتا ہے کہ نجات شروع سے آخر تک فضل سے ہے۔ نجات یا اِس کے کسی حصے کا اِنحصار شریعت کے اعمال پر نہیں ہے۔ نجات کمائی نہیں جا سکتی۔ نیک اعمال نجات پانے کی شرط نہیں بلکہ اِس کا پھل ہیں۔ مسیحی شریعت کے اِعتبار سے مر جاتا ہے۔ وہ پاکیزگی کی زندگی گزارتا ہے،‏ مگر اپنی کوشش اور محنت سے نہیں بلکہ خد اکے پاک روح کی قوت اور توفیق سے جو اُس کے اندر بستا ہے۔

خاکہ
      باب
۱۔ شخصی __ پولس اپنے اِختیار کا دفاع کرتا ہے  ۱،‏۲
  الف۔ پولس کا مقصدِ تحریر ۱:‏ ۱۔‏۱۰
  ب۔ پولس اپنے پیغام اور خدمت کا دفاع کرتا ہے ۱:‏ ۱۱۔‏۲:‏۱۰
  ج۔ پولس پطرس کو جھڑکتا ہے ۲:‏ ۱۱۔‏۲۱
۲۔ عقائد اور تعلیم __ پولس ایمان سے راست باز ٹھہرائےجانے کا دفاع کرتا ہے ۳:‏ ۱۔‏۵:‏۱
  الف۔ اِنجیل (‏خوش خبری)‏ کی عظیم سچائی ۳:‏ ۱۔‏۹
  ب۔ شریعت بمقابلہ وعدہ ۳:‏ ۱۰۔‏۱۸
  ج۔ شریعت کا مقصد ۳:‏ ۱۹۔‏۲۹
  د۔ بچے اور بیٹے ۴:‏ ۱۔‏۱۶
  ہ۔ غلامی یا آزادی ۴:‏ ۱۷۔‏۵:‏۱
۳۔ عملی __ پولس روح میں مسیحی آزادی کا دفاع کرتا ہے ۵:‏ ۲۔‏۶:‏۱۸
  الف۔ شریعت پرستی کا خطرہ  ۵:‏ ۲۔‏۱۵
  ب۔ پاکیزگی کے لئے توفیق ۵:‏۱۶۔‏۲۵
  ج۔ عملی نصیحتیں ۵:‏ ۲۶۔‏۶:‏۱۰
  د۔ اِختتامیہ ۶:‏ ۱۱۔‏۱۸