وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
«مرقس کی اِنجیل میں ایسی تازگی اور قوت ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور اُس کے دل میں اُمنگ پیدا کرتی ہے کہ مَیں بھی اپنے خداوند کی طرز پر خدمت کروں۔» (اوگست وان رِن ۔ August Van Ryn)
۱۔ فہرست ِمُسلَّمہ میں منفرد مقام
چونکہ مرقس کی اِنجیل سب سے چھوٹی اِنجیل ہے اور اِس کا نوے فیصد حصہ متی اور لوقا یا دونوں میں بھی موجود ہے اِس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اِنجیل کیا کچھ پیش کرتی ہے جس کے بغیر ہمارا گزارا نہیں ہو سکتا تھا؟
مرقس کی اِنجیل اپنے اِختصار اور صحافیانہ سادگی کے باعث مسیحی ایمان کو متعارف کرانے میں مثالی مقام رکھتی ہے۔ جہاں بھی مشن کا نیا کام شروع ہوتا ہے وہاں سب سے پہلے عموماً اِسی اِنجیل کا نئی زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے۔
مگر اِس کی اہمیت صرف اِس کے براہِ راست اور فعال انداز ہی کے باعث نہیں جو رومیوں اور آج کے دَور میں اُن جیسے دیگر افراد کے لئے نہایت موزوں ہے بلکہ اِس کا مواد بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔
مرقس نے اگرچہ بہت سے ایسے واقعات کا بیان کیا ہے جو متی اور لوقا میں بھی درج ہیں، لیکن وہ ایسی رنگین اور خوبصورت تفاصیل بھی درج کرتا ہے جو دوسروں کے ہاں موجود نہیں۔ علاوہ ازیں وہ چند یکتا واقعات کا بیان بھی کرتا ہے۔ مثلاً وہ بیان کرتا ہے کہ یسوع نے شاگردوں پر کس طرح نگاہ کی۔ کس طرح ناراض ہوا اور یروشلیم کو جاتے ہوئے وہ کس طرح اُن کے آگے آگے چلا۔ اِس میں شک نہیں کہ اُسے اِن باتوں کا پتا پطرس رسول سے ملا تھا کیونکہ پطرس کی زندگی کے آخری ایام میں مرقس اُس کے ہمراہ تھا۔ روایت غالباً درست ہی کہتی ہے کہ مرقس کی اِنجیل دراصل پطرس کی یادداشتیں ہیں اور غالباً اِسی لئے اِس کتاب میں شخصی تفاصیل، عمل و حرکت اور عینی شاہد ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے۔
عام خیال ہے کہ جو نوجوان چادر چھوڑ کر ننگا بھاگ گیا تھا، وہ مرقس ہی تھا (۱۴:۵۱)۔ اور یہ بیان گویا کتاب کے مصنف کی طرف سے مودٔبانہ سا دستخط ہے (اِبتدا میں اناجیل کے نام اِن کتابوں کا حصہ نہیں تھے)۔ چونکہ یوحنا مرقس یروشلیم میں رہتا تھا اِس لئے یہ چھوٹی سی کہانی بیان کرنے کی کوئی وجہ نہیں جب تک کہ اِس نوجوان کا اِس اِنجیل کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ روایت درست معلوم ہوتی ہے۔
۲۔ مصنف
اِبتدا ہی سے کلیسیا کی متفقہ رائے ہے کہ اِس انجیل کا مصنف یوحنا مرقس ہے اور اکثر مصنفین اور مفسرین اِس رائے کو مانتے ہیں۔ وہ یروشلیم کی مریم کا بیٹا تھا۔ وہ ایک گھر کی مالکہ تھی اور مسیحی اکثر اِس گھر میں فراہم ہوا کرتے تھے۔
اِس کے بارے میں خارجی شہادت بہت قدیم اور مضبوط ہے۔ اِس شہادت کا تعلق سلطنت کے مختلف حصوں سے ہے۔ پپیاس (تقریباً ۱۱۰ء) بزرگ یوحنا (غالباً یوحنا رسول مگر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اِسی نام کا ایک اَور شخص ہو) کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اِس اِنجیل کو پطرس کے ساتھی مرقس نے تصنیف کیا تھا۔ یوسطین شہید(Justin Martyr)، ایرینیُس(Irenaeus)، طرطلیان (Tertullian)، سکندریہ کا کلیمنٹ (Clement)، اورغین (Oregin) اور «مرقیون (Marcion) کے خلاف آغازِ مقالہ» اِس بیان سے اتفاق کرتے ہیں۔
مرقس کے اِس اِنجیل کے مصنف ہونے کے بارے میں داخلی شہادت اگرچہ اِتنی وسیع نہیں مگر مسیحیت کی اِبتدائی روایت کے ساتھ بہت میل کھاتی ہے۔
صاف معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ملک ِفلستین سے اور خصوصاً یروشلیم سے تو بہت اچھی طرح واقف تھا (بالا خانے کے بارے میں اُس کا بیان دوسروں کی نسبت زیادہ تفصیلی ہے۔ اور اِس بیان پر کوئی حیرت نہیں ہو گی اگر شاید اُس کا لڑکپن اُسی گھر میں بسر ہوا ہو)۔ یہ انجیل کچھ ارامی (فلستین کی زبان) پس منظر بھی پیش کرتی ہے۔ مصنف یہودی رسم و رواج کو اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہے۔ بیان میں شگفتگی اور وضاحت اِس قدر ہے کہ گہرا احساس ہوتا ہے کہ مصنف کسی عینی شاہد کا قریبی ساتھی ہے۔ کتاب کا خاکہ اعمال باب ۱۰ میں پطرس کے وعظ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
روایت ہے کہ مرقس نے یہ اِنجیل روم میں لکھی۔ اِس کی وضاحت اِس اَمر سے ہوتی ہے کہ اِس اِنجیل میں لاطینی زبان کے الفاظ (مثلاً صوبہ دار، اِسم نویسی، دینار، لشکر اور پریتورین کے لئے لاطینی لفظ استعمال ہوئے ہیں) دوسری اناجیل کی نسبت زیادہ ہیں۔
نئے عہدنامے میں ہمارے مصنف کو دس مرتبہ اُس کے غیر قوم (لاطینی) نام مرقس سے اور تین مرتبہ غیر قوم اور یہودی مشترکہ نام یوحنا مرقس سے یاد کیا گیا ہے۔ مرقس «خادم» یا خدمت گار تھا۔ پہلے پولس کا، پھر برنباس کا اور معتبر روایت کے مطابق پطرس کی موت سے پہلے اُس کا بھی خادم تھا۔ اِس لئے وہ «کامل خادم» کی اِنجیل لکھنے کے لئے نہایت موزوں شخص تھا۔
۳۔ سنِ تصنیف
مرقس کی اِنجیل کی تاریخِ تصنیف کے بارے میں راسخ الاعتقاد علما میں بھی اِختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ اگرچہ تاریخ کا تعین تو نہیں کیا جاتا لیکن اِتنا ضرور مانا جاتا ہے کہ یہ اِنجیل یروشلیم کی بربادی سے پہلے تصنیف ہوئی تھی۔
اِس بارے میں بھی روایت میں اختلاف ہے کہ مرقس نے ہمارے خداوند کے بارے میں پطرس کی تعلیمات اور منادی کو اُس کی شہادت (۶۴ء- ۶۸ء سے پیشتر) سے پہلے قلم بند کیا تھا یا بعد میں۔
اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ مرقس کی اِنجیل سب سے پہلے لکھی گئی تھی، توسنِ تصنیف کافی پہلے ہونا چاہئے کیونکہ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ لوقا نے مرقس کا مواد استعمال کیا ہے۔ کئی علما کہتے ہیں مرقس کی اِنجیل ۵۰ اور ۵۵ عیسوی کے درمیانی عرصے میں لکھی گئی۔ لیکن زیادہ اِمکان یہ ہے کہ یہ اِنجیل ۵۷ء اور ۶۰ء کے درمیان تحریر ہوئی۔
۴۔ پس منظر اور موضوع
اِس اِنجیل میں خدا کے «کامل خادم» ہمارے خداوند یسوع مسیح کی کہانی کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ اُس ہستی کی کہانی ہے جس نے آسمان میں اپنے جاہ و جلال کو چھوڑ دیا اور زمین پر خادم کی صورت اِختیار کی (فلپیوں ۲:۷)۔ یہ اُس ہستی کی بے مثال کہانی ہے جو «اِس لئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اِس لئے کہ خدمت کرے» (مرقس ۱۰:۴۵)۔
اگر ہم یاد رکھیں کہ یہ کامل خادم خدا کا بیٹا ہی تھا جس نے غلام کا رومال اپنی کمر کے گرد باندھ لیا تھا تاکہ بنی نوعِ اِنسان کا خادم بن جائے تو ہمیں یہ اِنجیل مستقل نور سے چمکتی ہوئی نظر آئے گی۔ اُس نے جو کام کیا خدا کی کامل مرضی کی کامل تابع فرمانی سے کیا۔ اُس کے سارے کام روحِ اقدس کی قدرت سے کئے گئے۔
مصنف یوحنا مرقس خداوند کا ایک خادم تھا۔ اُس نے خدمت کا آغاز بڑی عمدگی سے کیا۔ پھر تھوڑی دیر کے لئے نظروں سے اوجھل ہو گیا (اعمال ۱۵:۳۸) لیکن پھر مفید کاموں کے لئے بحال ہو گیا (۲۔تیمتھیس ۴:۱۱)۔
مرقس کا اندازِ بیان تیز رفتار، جوشیلا اور اجمالی ہے۔ وہ خداوند کی باتوں کی نسبت کاموں پر زیادہ زور دیتا ہے۔ اِس کا ثبوت یہ ہے کہ اُس نے اُنیس معجزات مگر صرف چار تمثیلیں قلم بند کی ہیں۔
اِس اِنجیل کے مطالعے کے دوران ہم تین باتیں دریافت کریں گے (۱) یہ اِنجیل کیا کہتی ہے؟ (۲) اِس کا مطلب کیا ہے؟ (۳) اِس میں میرے لئے کیا سبق ہے؟ جتنے لوگ بھی «خداوند کے سچے اور وفادار خادم» بننا چاہتے ہیں، یہ اِنجیل اُن کے لئے بہت مفید ہدایت نامہ ثابت ہو گی۔
| خاکہ | ||
| باب | ||
| ۱۔ | خادم کی تیاری | ۱:۱-۱۳ |
| ۲۔ | خادم کی گلیل میں اِبتدائی خدمت | ۱:۱۴-۳:۱۲ |
| ۳۔ | خادم کا شاگردوں کو بلانا اور تربیت دینا | ۳:۱۳-۸:۳۸ |
| ۴۔ | خادم کا یروشلیم کو سفر | ۹، ۱۰ |
| ۵۔ | خادم کی یروشلیم میں خدمت | ۱۱، ۱۲ |
| ۶۔ | خادم کا کوہِ زیتون پر درس | ۱۳ |
| ۷۔ | خادم کا دُکھ اُٹھانا اور موت | ۱۴، ۱۵ |
| ۸۔ | خادِم کی فتح یابی | ۱۶ |