زبُور ۱۸

زبور ۱۸:‏ وہ قوت جس نے مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کیا

اِس زبور کا تعلق خداوند مسیح کے ساتھ ہے‏، کیونکہ آیت ۴۹ کا رومیوں ۱۵:‏ ۹ میں اقتباس کیا گیا ہے جو اُس کی ذات کے بارے میں ہے:‏ 

’’اِس واسطے مَیں غیر قوموں میں تیرا اقرار کروں گااور تیرے نام کے گیت گاؤں گا۔‘‘

فی الحقیقت یہ سارا زبور خداوند یسوع مسیح کے متعلق ہے۔ یہ بڑی وضاحت سے اُس کی موت‏، جی اُٹھنے‏، صعود‏، آمد ثانی اور جلالی بادشاہت کے متعلق بیان کرتا ہے۔

بائبل میں کہیں اَور ایسا واضح بیان نہیں دیا گیا جس میں ہمارے نجات دہندہ کے جی اُٹھنے کے وقت نادیدنی دُنیا میں ہونے والی بہت بڑی جنگ کے متعلق بتایا گیا ہو۔ 

۱۸:‏ ۱۔۳ اِس زبور کا آغاز خدا کی تعریف سے ہوتا ہے کیونکہ اُس نے اپنے پیارے بیٹے کی دعاؤں کو سنا اور جواب دیا۔ زبان کی اصطلاحات کو ملاحظہ فرمائیے جو خدا میں پائی جانے والی قوت‏، تحفظ‏، اطمینان اور نجات کے لئے استعمال کی گئیں۔ میری قوت … میری چٹان … میرا قلعہ… میرا چھڑانے والا … میری سپر اور میری نجات کا سینگ‏، میرا اونچا برج۔

۱۸:‏ ۴۔۶ موت بڑی تیزی سے دُکھ اُٹھانے والے نجات دہندہ کے قریب آ رہی ہے۔ بڑی تیزی سے بدلتے ہوئے مناظر میں وہ اپنے بارے میں بیان کرتا ہے کہ اُسے رسیوں سے باندھا گیا‏، مسلسل مختلف طریقوں سے اُس کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور اُس کے لئے ایسے پھندے تیار کئے گئے ہیں جن سے بچنا مشکل ہے۔

ایسی مایوس کن صورتِ حال میں صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ خدا سے دعا کی جائے۔ مسیح نے یہ دعا نہیں کی کہ اُسے موت سے مخلصی دی جائے‏، کیونکہ اُس کے دُنیا میں آنے کا یہی واحد مقصد تھا (‏یوحنا ۱۲:‏ ۲۷)‏۔ اُس کی التجا یہ تھی کہ اُسے موت کی حالت میں نہ رہنے دیا جائے۔ ’’ اُس نے اپنی بشریت کے دنوں میں زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر اُسی سے دعائیں اور التجائیں کیں جو اُس کو موت سے بچا سکتا تھا‘‘(‏عبرانیوں ۵:‏۷)‏۔

نہایت پریشانی کے عالم میں مسیح کو یقین تھا کہ اُس کی دعا سنی گئی اور اُس کا جواب دے دیا گیا ہے۔ باقی ماندہ زبور میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کس طرح عمانوایل کی گلگتا اور گتسمنی سے درد ناک فریادوں نے اُس کے لئے قادرِ مطلق کی قوتوں کو متاثر کیا۔ ایف۔بی۔مائر نے لکھا‏، ’’وہ آواز کمزور اور تنہا تھی‏، لیکن اُس کے جواب نے کائنات کو ہلا کر رکھ دیا۔‘‘

۱۸:‏ ۷۔۱۵ جب ہم ۷۔۱۹ آیات پر پہنچتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے جنگ چھڑ گئی ہو۔ اور مسیح کے جی اُٹھنے پر بالکل یہی ہوا۔ یہ خدا اور دوزخ کی فوجوں کے درمیان جنگ تھی۔ شیطان اور اُس کی ساری بدروحیں یروشلیم کے باہر قبر پر اِس عزم کے ساتھ جمع ہو گئیں کہ مسیح دوبارہ کبھی نہ زندہ ہو۔ اگر وہ مُردوں میں سے زندہ ہو گیا تو ابنِ خدا کو مصلوب کرنے میں اُن کی ساری کامیابی مکمل طور پر ناکام ہو جائے گی۔ چنانچہ وہ نجات دہندہ کی مہرشدہ قبر پر جمع ہو گئیں۔

تب خدا نے آسمانوں کو جھکا دیا اور اِس قدر بڑی قدرت اور قوت کے ساتھ نیچے اُتر آیا کہ دُنیا والوں نے ایسی قوت پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ بعد میں پولس رسول نے اِس کے بارے میں کہا‏، ’’اُس کی بڑی قوت کی تاثیر کے موافق جو اُس نے مسیح میں کی جب اُسے مُردوں میں سے جلا کر اپنی دہنی طرف آسمانی مقاموں میں بٹھایا‘‘ (‏افسیوں ۱:‏ ۱۹‏،۲۰)‏۔ یہ اُس قوت سے بڑی تھی جس نے کائنات کو خلق کیا‏، اور یہ اُس قوت سے عظیم تر تھی جس نے بنی اسرائیل کو مصر سے مخلصی دلائی۔ مسیح کو زندہ کرنے والی خدا کی قوت نے حکومتوں اور اختیار والوں اور بدروحوں کے لشکر کو ایسٹر کی صبح کو پیچھے دھکیل دیا۔

خدا کے آنے پر زمین تھرتھرانے لگی۔ اُس کے نتھنوں سے دھواں اُٹھنے‏، اُس کے منہ سے نکلنے والی بھسم کرنے والی آگ‏، اُس کے دشمنوں کے خلاف دہکتے ہوئے کوئلوں کی تصویر سے خدا کے خوف ناک غضب کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ جب وہ کروبی سے مشابہ بادل پر سوار ہو کر نیچے اُترا تو دُنیا تاریکی‏، بادل کی گرج‏، بجلی اور اولوں کے شدید طوفان سے ہل گئی۔ یہ دشمن کے خلاف پے در پے حملے تھے۔ بحرقلزم کو عبور کرنے کی مانند‏، سمندر اور دریا قادرِ مطلق کے غضب کے خوف سے دبک کر پیچھے ہٹ گئے۔

۱۸:‏ ۱۶۔۱۹ خدا دشمن کو مارتا‏، کوٹتا‏، زخمی اور اپاہج بنا دیتا ہے حتیٰ کہ وہ شکست کھا کر مکمل طور پر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ تب وہ نیچے آ کر مسیح کو مہرشدہ قبر سے نکال لیتا ہے۔ ہیلیلویاہ! مسیح جی اُٹھا ہے۔ خدا نے مسیح کو نہ صرف مُردوں میں سے جلایا بلکہ دشمن کی عمل داری میں سے اُسے فتح مندی سے آسمان پر اُٹھا لیا اور اپنے دہنے ہاتھ بٹھا کر اُسے جلال دیا۔ پولس رسول یوں فرماتا ہے‏، ’’اُس نے حکومتوں اور اختیاروں کو اپنے اوپر سے اُتار کر اُن کا برملا تماشا بنایا‘‘ (‏کلسیوں ۲:‏ ۱۵)‏۔

۱۸:‏ ۲۰۔۳۰ یہاں مسیح کے جی اُٹھنے کی وجہ پیش کی گئی ہے۔ خدا کے لئے مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کرنے کی کسی حد تک اخلاقی ضرورت تھی۔ مسیح کی بے گناہ اور بے عیب زندگی‏، اپنے باپ کی مرضی کو پورا کرنے کے لئے خلوص و عقیدت اور کلوری کی صلیب پر اپنے کام کی تکمیل سے یہ ضرورت پیدا ہوئی۔ خدا کے تمام راست باز اوصاف اِس امر کے متقاضی تھے کہ وہ نجات دہندہ کو قبر سے نکالے۔ اِس عظیم بیان کا یہ مطلب ہے:‏ ’’مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مُردوں میں سے جلایا گیا‘‘ (‏رومیوں ۶:‏۴)‏۔ خدا کے جلالی کردار نے مسیح کے جی اُٹھنے کو ایک اخلاقی ضرورت بنا دیا۔ یہ مسیح کی کامل اور شخصی راست بازی کا اجر تھا۔

جب داؤد ۲۰۔۳۰ آیات لکھتا ہے تو فی الحقیقت کلی طور پر اِن کا اُس کی ذات پر اطلاق نہیں ہوتا‏، بلکہ وہ نبوتی طور پر روح القدس کی تحریک سے اُس کے بارے میں بیان کر رہا تھا جو اُس کا بیٹا اور خداوند بھی تھا (‏متی ۲۲:‏ ۴۱۔۴۶)‏۔

۱۸:‏ ۳۱۔۴۲ اِن آیات میں مسیح کی آمد ثانی کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ ’’اپنے قوی فرشتوں کے ساتھ بھڑکتی ہوئی آگ میں آسمان سے ظاہر ہو گا اور جو خدا کو نہیں پہچانتے اور ہمارے خداوند یسوع کی خوش خبری کو نہیں مانتے اُن سے بدلہ لے گا‘‘ (‏۲۔تھسل۱:‏ ۷‏،۸)‏۔ ’’وہ خون کی چھڑکی ہوئی پوشاک پہنے ہوئے ہے … اور قوموں کے مارنے کے لئے اُس کے منہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے اور وہ لوہے کے عصا سے اُن پر حکومت کرے گا اور قادرِ مطلق خدا کے سخت غضب کی مے کے حوض میں انگور روندے گا‘‘ (‏مکاشفہ ۱۹:‏ ۱۳‏،۱۵)‏۔

بنیادی طور پر یہاں مسیح کی ایک جنگی مرد کی حیثیت سے تصویر پیش کی گئی ہے۔ یہ کتابِ مقدس کے دیگر حوالہ جات سے بھی ہم آہنگ ہے جن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اُس کے آنے کا اوّلین مقصد یہ ہو گا کہ ’’سب آدمیوں کا انصاف کرے اور سب بے دینوں کو اُن کی بے دینی کے اُن سب کاموں کے سبب سے جو اُنہوں نے بے دینی سے کئے ہیں اور اُن سب سخت باتوں کے سبب سے جو بے دین گناہ گاروں نے اُس کی مخالفت میں کہی ہیں قصور وار ٹھہرائے‘‘ (‏یہوداہ آیت ۱۵)‏۔

خدا باپ کی طرف سے جنگ کے لئے مسلح ہونے کے بعد (‏آیات ۳۱۔۳۷)‏ مسیح اپنے دشمنوں کا تعاقب کرکے کلی طور پر اُن کو برباد کر دیتا ہے (‏آیات ۳۷۔۴۲)‏۔

۱۸:‏ ۴۳۔۴۵ دشمنوں کو برباد کرنے کے بعد مسیح زمین پر اپنی بادشاہی قائم کرتا اور بادشاہوں کے بادشاہ اور خداوندوں کے خداوند کے طور پر حکمرانی کرتا ہے۔ اب وہ زمین پر تمام قوموں کا سردار ہے۔ اسرائیل اور غیر اقوام میں سے نجات یافتہ لوگ جلالی مسیح کی راست بادشاہت کے مطیع ہیں۔ اجنبی اقوام بھی خوشی سے فرماں برداری کر رہی ہیں۔

۱۸:‏ ۴۶۔۵۰ یہ زبور جیسے شروع ہوا تھا‏، ویسے ہی خدا کی ستائش سے اختتام پذیر ہوتا ہے۔ خدا نے یسوع مسیح کی بے گناہی کو ثابت کر دیا ہے۔ اُس نے اپنے بادشاہ کو بہت بڑی فتح دی ہے اور اپنے ممسوح یعنی اپنے بیٹے پر شفقت کر دکھائی ہے۔

جو کچھ خدا نے کیا ہے اِس کے لئے ہم بھی غیر قوموں میں اُس کی تعریف کریں اور اُس کے نام کی مدح سرائی کریں۔ 

مقدس کتاب

۱ اَے خُداوند! اَے میری قوت! میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔
۲ خُداوند میری چٹان اور میرا قلعہ اور میرا چھُڑانے والا ہے۔ میرا خُدا۔ میری چٹان جس پر میں بھروسا رکھونگا۔ میری سِپر اور میری نجات کا سینگ۔ میرا اُونچا بُرج۔
۳ میں خُداوند کو جو ستائش کے لائق ہے پُکارُونگا۔ یوں میں اپنے دشمنوں سے بچایا جاؤنگا۔
۴ موت کی رسیوں سے مجھے گھیر لیا بے دینی کے سیلابوں نے مجھے ڈریا۔
۵ پاتال کی رسیاں میرے چُوگرد تھیں موت کے پھندے مجھ پر آپڑے تھے۔
۶ اپنی مصیبت میں مَیں نے خُداوند کو پُکارا اور اپنے خُدا سے فریاد کی۔ اُس نے اپنی ہیکل میں سے میری آواز سُنی اور میری فریاد جو اُس کے حضُور تھی اُس کے کان میں پہنچی۔
۷ تب زمین مل گئی اور کانپ اُٹھی۔ پہاڑوں کی بنیادوں نے جنبش کھائی اور ہل گئیں اِس لئے کہ وہ غضبناک ہوا۔
۸ اُس کے نتھنوں سے دُھواں اُٹھا اور اُس کے مُنہ سے آگ نکلکر بھسم کرنے لگی۔ کوئلے اُس سے دہک اُٹھے۔
۹ اُس نے آسمانوں کو بھی جھکا دِیا اور نیچے اُتر آیا اور اُس کے پاؤں تلے گہری تاریکی تھی۔
۱۰ وہ کروبی پر سوار ہو کر اُڑا۔ بلکہ وہ تیزی سے ہوا کے باؤزوں پر اُڑا۔
۱۱ اُس نے ظلمت یعنی ابر کی تاریکی اور آسمان کے دلدار بادلوں کو اپنے چُوگرد اپنے چھپنے کی جگہ اور اپنا شامیانہ بنایا۔
۱۲ اُسکی حضُوری کی جھلک سے اُس کے دلدار بادل پھٹ گئے۔ اولے اور انگارے۔
۱۳ اور خُداوند آسمان میں گرجا۔ حق تعالیٰ نے اپنی آواز سُنائی اولے اور انگارے۔
۱۴ اُس نے اپنے تِیر چلا کر اُنکو پراگندہ کیا۔ بلکہ تابڑ توڑ بجلی سے اُن کو شکست دی۔
۱۵ تب تیری ڈانٹ سے اَے خُداوند! تیرے نتھنوں کے دم کے جھوکے سے پانی تھاہ دِکھائی دینے لگی اور جہان کی بنیادیں نمودار ہوئیں۔
۱۶ اُس نے اُوپر سے ہاتھ بڑھا کر مجھے تھام لیا اور مجھے بہت پانی میں سے کھینچ کر باہرنکالا۔
۱۷ اُس نے میرے زور اور دُشمن اور میرے عداوت رکھنے والوں سے مجھے چھُڑا لیا کیونکہ وہ میرے لئے نہایت زبردست تھے۔
۱۸ وہ میری مصیبت کے دِن مجھ پر آپڑےپر خُداوند میرا سہارا تھا۔
۱۹ وہ مجھے کُشادہ جگہ میں نکال بھی لایا۔ اُس نے مجھے چھُڑایا۔ اِس لئے کہ وہ مجھے سے خُوش تھا۔
۲۰ خُداوند نے میری راستی کے موافق مجھے جزا دی اور میرے ہاتھوں کی پاکیزگی کے مطابق مجھے بدلہ دِیا۔
۲۱ کیونکہ میں خُداوند کی راہوں پر چلتا رہا۔ اور شرارت سے اپنے خُدا سے الگ نہ ہوا۔
۲۲ کیونکہ اُس کے سب فیصلے میرے سامنے رہے اور میں اُس کے آئین سے برگشتہ نہ ہوا۔
۲۳ میں اُ سکے حضُور کامل بھی رہا اور اپنے کو اپنی بدکاری سے باز رکھا۔
۲۴ خُداوند نے مجھے میری راستی کے موافق اور میرے ہاتھوں کے پاکیزگی کے مطابق جو اُس کے سامنے تھی بدلہ دِیا۔
۲۵ رحم دِل کے ساتھ تُو رحیم ہوگا۔ اور کامل آدمی کے ساتھ کامل۔
۲۶ نیکو کار کے ساتھ نیک ہوگا۔ اور کجرو کے ساتھ ٹیڑھا۔
۲۷ کیونکہ تُو مصیبت زدہ لوگوں کو بچائیگا لیکن مغروروں کی آنکھوں کی نیچا کریگا۔
۲۸ اِس لئے کہ تُو میرے چراغ کو روشن کریگا۔ خُداوند میرا خُدا میرے اندھیرے کو اُجالا کردیگا۔
۲۹ کیونکہ تیری بدولت میں فوج پر دھاوا کرتا ہوں اور اپنے خُدا کی بدولت دیوار پھاندجاتا ہوں۔
۳۰ لیکن خُدا کی راہ کامل ہے۔ خُداوند کا کلام تایا ہوا۔ وہ اُن سب کی سِپر ہے جو اُس پر بھروسا رکھتے ہیں۔
۳۱ کیونکہ خُداوند کے سِوا اور کون چٹان ہے؟
۳۲ خُدا ہی مجھے قوت سے کمر بستہ کرتا ہے اور میری راہ کا مل کرتا ہے۔
۳۳ وہی میرے پاؤں ہرنیوں کے سے بنا دیتا ہے اور مجھے میری اونچی جگہوں میں قائم کرتا ہے۔
۳۴ وہ میرے ہاتھوں کو جنگ کرتا سکھاتا ہے یہاں تک کہ میرے بازو پیتل کی کمان کو جھکا دیتے ہیں۔
۳۵ تُو نے مجھ کو اپنی نجات کی سِپر بخشی اور تیرے دہنے ہاتھ نے مجھے سنبھالا اور تیری نرمی نے مجھے بزرگ بنایا ہے۔
۳۶ تُو نے میرے نیچے میری قدم کُشادہ کر دِئے۔ اور میرے پاؤں نہیں پھسلے۔
۳۷ میں اپنے دُشمنوں کا پیچھا کرکے اُن کو جالونگا اور جب تک وہ فنا نہ ہو جائیں واپس نہیں آؤنگا۔
۳۸ میں اُن کو ایسا چھیدونگا کہ وہ اُٹھ نہ سکینگے۔ وہ میرے پاؤں کے نیچے گر پڑینگے۔
۳۹ کیونکہ تُو نے لڑائی کے لئے مجھے قوت سے کمربستہ کیا اور میرے مخالفوں کو میرے سامنے زیر کیا۔
۴۰ تُو نے میرے دُشمنوں کی پشت میری طرف پھیر دی تاکہ میں اپنے عداوت رکھنے والوں کو کاٹ ڈالوں۔
۴۱ اُنہوں نے دُہائی دی پر کوئی نہ تھا جو بچائے۔ خُداوند کو بھی پُکارا پر اُس نے اُن کو جواب نہ دِیا۔
۴۲ تب میں نے اُن کو کوٹ کوٹ کر ہوا میں اُڑتی ہوئی گرد کی مانند کر دِیا۔ مَیں نے اُن کو گلی کوچوں کی کیچڑ کی طرح نکال پھینکا۔
۴۳ تُو نے مجھے قوم کے جھگڑوں سے بھی چھُڑایا۔ تُو نے مجھے قوموں کا سردار بنایا ہے۔ جس قوم سے مَیں واقف بھی نہیں وہ میری مُطیع ہوگی۔
۴۴ میرا نام سُنتے ہی وہ میری فرمانبرداری کرینگے۔ پردیسی میرے تابع ہو جائینگے۔
۴۵ پردیسی مُرجھا جائینگے اور اپنے قلعوں سے تھرتھراتے ہوئے نکلینگے۔
۴۶ خُداوند زندہ ہے۔ میری چٹان مُبارک ہو۔ اور میرا نجات دینے والا خُدا ممتاز ہو!
۴۷ وہی خُدا جو میرا نتقام لیتا ہے اور اُمتوں کو میرےسامنے زیر کرتا ہے۔
۴۸ وہ مجھے میرے دُشمنوں سے چھُڑاتا ہے بلکہ تُو مجھے میرے مخالفوں پر سرفراز کرتا ہے تُو مجھے تُند خُو آدمی سے رہائی دیتا ہے۔
۴۹ اِس لئے اَے خُداوند! مَیں قوموں کے درمیان تیری شکرگذاری اور تیرے نام کی مدح سرائی کرونگا۔
۵۰ وہ اپنے بادشاہ کو بڑی نجات عنایت کرتا ہے اور اپنے ممسوح داؤد اور اُس کی نسل پر ہمیشہ شفقت کرتا ہے۔