زبور ۴۱: علالت کے کمرے سے دعا
داؤد بیمار ہے اور اُس کے دشمنوں کا خیال ہے کہ یہ کوئی معمولی بیماری نہیں ہے۔ وہ بہت زیادہ خوش ہیں کہ بلاشبہ یہ بیماری جان لیوا ثابت ہو گی۔ داؤد کے غم میں اِس بات سے اضافہ ہوا ہے کہ غداروں میں سے ایک پہلے اُس کا قریبی دوست تھا۔
۴۱: ۱۔۳ لیکن مریض بالکل پُرسکون ہے۔ سب سے پہلے تو وہ یہ یاد کرتا ہے کہ خداوند اُس شخص کو برکت دیتا ہے جو غریب کا خیال رکھتا ہے۔ غالباً یہاں ’’غریب‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ داؤد معاشی طور پر غریب ہے بلکہ یہ کہ وہ بیماری کے باعث بہت کمزور ہو گیا ہے۔ داؤد اپنے آپ کو اِس خیال سے تسلی دیتا ہے کہ اُس نے وہی سلوک دکھایا ہے جو خداوند بھی مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ کرتا ہے ۔۔۔یعنی اُس نے اُن کی مدد کی، اُنہیں تسلی دی اور اُن سب کو خوش کیا جو بیماری کے بندھن میں تھے۔ اب وہ اِس وعدے کے لئے مطالبہ کرتا ہے کہ خداوند مصیبت کے دن اُسے چھڑائے گا۔ ہاں خداوند اُسے محفوظ رکھنے کے لئے اُس کی نگہبانی کرے گا۔ چونکہ داؤد کی بیماروں اور مصیبت زدہ لوگوں کی دیکھ بھال کے لئے اچھی شہرت تھی، اِس لئے وہ پُراعتماد ہے کہ خدا اُسے اُس کے بدباطن دشمنوں کی مرضی کے مطابق نہیں چھوڑے گا۔ بلکہ وہ داؤد کو علالت کے دوران مطلوبہ فضل دے گا اور ایک بار پھر اُسے صحت اور قوت عطا کرے گا۔ خداوند کو تیمار دار (نرس) کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو مریض کے آرام کے پیش نظر اُس کے بستر کا خیال رکھتا ہے۔
۴۱: ۴ لیکن زبور نویس کا کلی طور سے اپنے ماضی پر انحصار نہیں تھا کہ اُس نے غریبوں اور کمزوروں کا خیال رکھا۔ اُس نے بڑی دانش مندی سے اپنی بیماری کو خداوند کے سامنے دعا میں رکھا، اپنے گناہ کا اقرار کیا اور شفا کے لئے یوں التجا کی جیسا کہ وہ اُس کا مستحق نہیں تھا۔ ایماندار کی زندگی میں ہر ایک بیماری براہِ راست گناہ کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ بوڑھے لوگوں کی اکثر بیماریاں عمر کی وجہ سے توڑ پھوڑ کے عام جسمانی عمل کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ تاہم بعض اوقات گناہ اور بیماری کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے اور جہاں اِس کا ہلکا سا امکان بھی نظر آئے توایماندار کو فوری طور پر خداوند کی حضوری میں جا کر دل کی گہرائیوں سے اپنے گناہ کا اقرار کرنا چاہئے۔ اِن تمام صورتوں میں عظیم طبیب کی معافی مقامی ڈاکٹروں کے علاج معالجہ پر سبقت لے جائے گی۔
۴۱: ۵ اِسی دوران زبور نویس کے دشمن اُس کی موت کی خبر کے منتظر ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’وہ کب مرے گا اور ہم کب سنیں گے کہ یہ شخص ختم ہو گیا ہے؟‘‘
۴۱: ۶ اکثر اوقات اِن بدخواہوں میں سے ایک شخص اوقاتِ ملاقات کے دوران آتا ہے، لیکن وہ تسلی کی کوئی بات نہیں کرتا، اُس کے الفاظ میں اُمید اور حوصلہ افزائی کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ کچھ کہے بغیر گفتگو کرتا ہے۔ درحقیقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی خبر کی تلاش میں رہتا ہے جسے وہ داؤد کے خلاف استعمال کر سکے۔ وہاں سے جانے کے بعد وہ ہر منفی خبر کی تشہیر کرنا شروع کر دیتا ہے۔
۴۱: ۷، ۸ اِس بیمار شخص کے خلاف افواہوں کی مہم جاری ہے اور انجامِ بد کے یہ انبیا داؤد کے لئے مصیبتوں کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے یہ خبر پھیلا دی کہ اُسے مُہلک مرض لگ گیا ہے اور اگلا قدم یہ ہو گا کہ وہ مر جائے گا۔
۴۱: ۹ شاید سب سے گہرا زخم اُس شخص کی غداری تھی جو کسی وقت اُس کا قریبی دوست تھا۔ ایسا عمل بہت تلخ ہوتا ہے۔ یہوداہ نے جب یسوع کو پکڑوایا تو یسوع نے یہی کچھ محسوس کیا اور جو اُس کی پیروی کرتے ہیں اُن کی زندگیوں میں یہ ایک عام تجربہ ہوتا ہے۔
یسوع نے یہوداہ کے سلسلہ میں آیت ۹ کا اقتباس کیا۔ تاہم یہ واضح ہے کہ اُس نے اِن الفاظ کو نظر انداز کر دیا: ’’ میرے دلی دوست نے جس پر مجھے بھروسا تھا۔‘‘ خداوند پہلے سے جانتا تھا کہ یہوداہ اُسے پکڑوائے گا اور اُسے اُس پر کبھی بھی بھروسا نہیں تھا،چنانچہ اُس نے محض یہ کہا، ’’جو میری روٹی کھاتا ہے اُس نے مجھ پر لات اُٹھائی‘‘ (یوحنا ۱۳: ۱۸)۔
۴۱: ۱۰ داؤد اُس شخص سے ہٹ کر جس نے اُس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اب رحم کے لئے خداوند کی طرف نگاہ اُٹھاتا ہے۔ دوسرے لوگ اُس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں، لیکن وہ خداوند پر بھروسا کرتا ہے جو اُس کے ساتھ وفادار ہے۔ اِس کے بعد وہ ایک عجیب سی التجا کرتا ہے: ’’مجھے اُٹھا کھڑا کر تاکہ مَیں اُن کو بدلہ دوں۔‘‘ پہلی نظر میں داؤد کی یہ التجا مناسب نہیں لگتی، لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ خدا کا مسح کیا ہوا اسرائیل کا حکمران تھا۔ اور بادشاہ کی حیثیت سے یہ اُس کا فرض تھا کہ وہ غداری کی سزا دے۔ گو فرد کی حیثیت سے وہ اِس دشمنی اور غداری کو برداشت کر لیتا، لیکن بادشاہ کی حیثیت سے اُس پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ وہ حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوششوں کو دبائے۔
۴۱: ۱۱، ۱۲ داؤد اپنے دشمنوں کی سازشوں کی ناکامی کو اِس نقطہ نظر سے دیکھتا ہے کہ یہ اُس پر خداوند کی مہربانی کی علامت ہے۔ تب وہ اِس بات کا اضافہ کرتا ہے:
’’مجھے تو تُو ہی میری راستی میں قیام بخشتا ہے
اور مجھے ہمیشہ اپنے حضور قائم رکھتا ہے۔‘‘
اگر ہم اِس ترجمہ کو ترجیح دیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ داؤد گویا بہت زیادہ فخر کر رہا ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ اپنے گناہوں اور ناکامیوں کے باوجود ایک راست شخص تھا۔ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں وہ مجسم نیکی تھا۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ خداوند نے اُسے قیام بخشا کیونکہ اُس نے اُس کی زندگی میں راستی اور خلوص دیکھا۔
اِس آیت کا یہ ترجمہ بھی ممکن ہے:
’’اگر تُو مجھے قیام بخشے تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا
اور مَیں ہمیشہ تیرے حضور قائم رہوں گا۔‘‘ (گلینو)
اِس ترجمہ میں ہر بات کے لئے داؤد کا اپنی راستی پر نہیں بلکہ کلی طور سے خداوند پر انحصار ہے۔ خداوند کا سنبھالنے والا فضل اِس زندگی میں حفاظت کی ضمانت دیتا ہے اور آسمانی بادشاہ کی حضوری میں ہمیشہ کے لئے قائم رکھتا ہے۔
۴۱: ۱۳ بڑے پُرسکون اور پُراعتماد لہجہ میں زبور نویس اب آخر میں تعریف کے لئے اپنی آواز بلند کرتا ہے۔ یہوواہ، عہد پر قائم رہنے والا اسرائیل کا خدا اِس لائق ہے کہ ازل سے ابد تک اُس کی پرستش کی جائے۔ داؤد نے اِس خراجِ تحسین کے لئے دوبارہ آمین کہا اور ہم بھی ایسا کریں۔
مقدس کتاب
۱ مُبارک ہے و ہ جو غریب کا خیال رکھتاہے۔خُداوند مُصیبت کے دِن اُسے چھڑائیگا۔
۲ خُداوند اُسے محفوظ اُور جِیتا رکھیگا اور وہ زمین پر مُبارِک ہو گا۔تُو اُسے اُس کے دُشمنوں کی مرضی پر نہ چھوڑ۔
۳ خُداوند اُسے بیماری کےبِستر پر سنبھالے گا۔ تُواُسکی بیماری میں اُس کے پورے بِستر کو ٹھیک کرتا ہے۔
۴ میں نے کہا اَے خُداوند! مُجھ پر رحم کر ۔میری جان کو شِفا دے کیونکہ میں تیرا گنہگار ہوں۔
۵ میرے دُشمن یہ کہکر میری بُرائی کرتے ہیں۔کہ وہ کب مرَے گا اور اُس کا نام کب مِٹیگا؟
۶ جب وہ مُجھ سے مِلنے کو آتا ہے تو جُھوٹی باتیں بکتا ہے۔ اُسکا دِل اپنے اندر بدی سمیٹتا ہے۔ وہ باہر جاکر اُسی کا ذِکر کرتا ہے۔
۷ مُجھ سے عداوت رکھنے والے سب میری غِیبت کرتے ہیں۔ وہ میرے خِلاف میرے نُقصان کے منصوبے باندھتے ہیں۔
۸ وہ کہتے ہیں اِسے تو بُرا روگ لگ گیا ہے ۔ اَب جو وہ پڑا ہے تو پھراُٹھنے کا نہیں۔
۹ بلکہ میرے دِلی دُوست نےجِس پر مُجھے بھروسہ تھا اور جو میری روٹی کھاتا تھامُجھ پر لات اُٹھائی ہے۔
۱۰ پر تو اَے خُداوند !مُجھ پررحم کر کے مُجھے اُٹھا کھڑا کر تاکہ میں اُن کو بدلہ دوں۔
۱۱ اِس سے میں جان گیا کہ تو مُجھ سے خوش ہے۔ کہ میرا دُشمن مُجھ پر فتح نہیں پاتا۔
۱۲ مُجھ تو تُو ہی میری راستی میں قیام بخشتا ہے اور مُجھے ہمیشہ اپنے حضور قائم رکھتا ہے۔
۱۳ خُدا وند اِسرائیل کا خُدا ازل سے ابد تک مُبارِک ہو! آمین ثُم آمین۔