زبور ۵۵ : اپنا بوجھ اُتار دے
اخیتفل داؤد کا بہت ہی بااعتماد مشیر تھا جو بعد میں دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر غاصب ابی سلوم کا ساتھی بن گیا۔ اِس زبور میں ہم داؤد کے دل کی شدید ٹیسوں کو محسوس کر سکتے ہیں۔ جب یہوداہ نے ہمارے خداوند کو پکڑوایا تو مسیح نے بھی یہی محسوس کیا ہو گا۔
۵۵: ۱۔ ۲ سخت پریشانی کے عالم میں داؤد کی روح خدا کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانے کے لئے مختلف انداز اپناتی ہے۔ وہ درخواست کرتا ہے کہ التجا پر کان لگائے اور ’’اپنا منہ نہ پھیرے‘‘۔ شرفِ باریابی کے لئے اپیل یہ ہے کہ ’’میری طرف متوجہ ہو۔‘‘ اور عمل کے لئے اپیل یہ ہے کہ ’’مجھے جواب دے۔‘‘
۵۵: ۲ب ۔ ۵ اِس کے بعد شخصی غم اور اشد ضرورت کی دل دوز فہرست ہے :
وہ غم سے بے قرار ہو کر کراہتا ہے۔
وہ دشمنوں کے آوازہ سے گھبرا گیا ہے۔
وہ شریر کے ظلم سے پسا ہوا ہے۔
وہ بدی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
اُسے قہر سے ستایا گیا ہے۔
پریشانی سے اُس کا دل بے تاب ہوا ہے۔
وہ آنے والے انجام سے خوف زدہ ہے۔
خوف سے اُس پر کپکپی طاری ہے جس پر وہ قابو نہیں پا سکتا۔
ہیبت نے اُسے دبا لیا ہے۔
۵۵: ۶۔۸ اُس کی اوّلین خواہش تو یہ ہے کہ وہ اپنی مصیبتوں سے چھٹکارا پانے کے لئے اُڑ کر کہیں دُور چلا جائے۔ اگر اُس کے پَر ہوتے تو وہ بیابان میں کسی پُرسکون جگہ میں جا کر بسیرا کر لیتا۔ وہ اپنے گرد طوفان سے بچنے کے لئے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتا۔
۵۵: ۹ الف لیکن اب اُس کا خوف سخت نفرت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ وہ سازشوں کے فریب سے اِس قدر مشتعل ہو گیا ہے کہ وہ خداوند سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اُنہیں ہلاک کرے۔ وہ واضح نہیں کرتا کہ آیا خدا لوگوں کو برباد کرے یا اُن کے منصوبوں کو۔ وہ خدا سے یہ بھی التجا کرتا ہے کہ وہ اُن کی زبان میں تفرقہ ڈال دے۔ ممکن ہے کہ یہ داؤد کی اُس دعا کی طرف اشارہ ہو جب اُس نے التجا کی کہ خداوند اخیتفل کی مشورت کو حماقت میں تبدیل کر دے (۲۔سموئیل ۱۵: ۳۱)۔
۵۵: ۹ب۔۱۱ جب یسی کا بیٹا یروشلیم شہر پر نگاہ ڈالتا ہے جسے اُس نے فتح کیا اور چنا تھا تو وہ دیکھتا ہے کہ یہ ظلم اور جھگڑے سے بھرا ہے۔ یہ دونوں برائیاں شہر کی فصیل پر گشت کرتی ہیں۔ سلامتی کا شہر اب شرارت اور ظلم کا شہر ہے۔ بربادی اب یہاں کی باسی ہے۔ عوامی جگہوں پر جہاں انصاف اور قانون کو موجود ہونا چاہئے، وہاں اب ظلم اور فریب کا راج ہے۔
۵۵: ۱۲۔۱۵ داؤد کی بنیادی شکایت یہ ہے کہ اُس کے ساتھ غداری کی گئی ہے۔ اگر مجرم علانیہ دشمن ہوتا تو یہ تکلیف قابل برداشت ہوتی۔ اگر اُس کا کوئی بیرونی دشمن اُسے لعنت ملامت کرتا تو زبور نویس اُس سے چھپ جاتا۔ لیکن یہ تو اُس کا رفیق، عزیز اور پُراعتماد دوست تھا جس نے اُس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ پہلے زبور نویس اُس کے ساتھ خیمہ اجتماع کے صحنوں میں پھرتے ہوئے گہری رفاقت رکھتا تھا۔ یہ بے وفا شخص اور اُس کے ساتھی فوری طور پر ہلاکت کے مستحق ہیں کہ وہ جلد از جلد پاتال میں چلے جائیں، ’’کیونکہ شرارت اُن کے مسکنوں میں اور اُن کے اندر ہے‘‘ (گلینو)۔
۵۵: ۱۶۔۲۱ تاہم اپنی ساری جذباتی پریشانی میں داؤد کو تسلی حاصل ہوتی ہے کہ اُسے مدد ملے گی۔ شام، صبح اور دوپہر کے وقت اُس کی آہیں اور سسکیاں خدا نجات دہندہ کے کان تک پہنچیں گی۔ اُس کے خلاف جنگ کرنے والوں کی عددی برتری کے باوجود داؤد سلامتی سے بچ جائے گا۔ خدا جو ابد سے تخت نشین ہے اُس کی دعا کو سنے گا اور اُن کو سزا دے گا۔ یہ اُن لوگوں کی سزا ہے جن میں کسی طرح کی تبدیلی (توبہ) نہیں اور جو خدا سے نہیں ڈرتے۔ یہ غدار کی سزا ہے یعنی اُس دلی دوست کی سزا جس نے اپنے دوستوں کو نقصان پہنچانے کے لئے ہاتھ بڑھایا اور جس نے دوستی اور وفاداری کے عہد کو توڑا۔ ’’اُس کی باتیں تیل سے زیادہ ملائم … پر وہ ننگی تلواریں تھیں۔‘‘
۵۵: ۲۲ زبور ۵۵ کی معراج آیت ۲۲ میں درج ہے:
’’اپنا بوجھ خداوند پر ڈال دے۔ وہ تجھے سنبھالے گا۔
وہ صادق کو کبھی جنبش نہ کھانے دے گا۔‘‘
زبور نویس اِس نتیجہ پر پہنچا کہ دُکھوں کے لمحات میں راہِ فرار حاصل کرنا بڑی بات نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اُن دُکھوں کا بوجھ خداوند پر ڈال دیں۔ بشپ ہورن نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’وہ جس نے ایک بار ہمارے گناہوں اور غموں کا بوجھ اُٹھا لیا، ہم سے التجا کرتا ہے کہ اب ہم ہمیشہ اُسے اپنی فکروں کا بوجھ اُٹھانے دیں۔‘‘
۵۵: ۲۳ قاتل اور دغاباز وقت سے پہلے تشدد سے ہلاک ہو جائیں گے۔ ا خیتفل (۲۔سموئیل ۱۷: ۱۴،۲۳) اور یہوداہ (متی ۲۷: ۵) کا یہی انجام ہوا۔ لیکن خدا کے لوگوں کا اُس پر بھروسا ہو گا کہ وہ اُنہیں بچائے۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُدا! میری دُعا پر کان لگااور میری منِت سے مُنہ نہ پھیر۔
۲ میری طرف مُتوجِہ ہو اور مجھے جواب دے۔ میَں غم سے بَیقرار ہو کر کراہتا ہوں۔
۳ دُشمن کے آوازہ سے اور شریر کے ظلُم کے باعث کیونکہ وہ مجھ پر بدی لادتے اور قہر میں مجھے ستاتے ہیں۔
۴ میرا دِل مجھ میں بیتاب ہے اور مات کا ہَول مجھ پر چھا گیا ہے۔
۵ خُوف اور کپکپی مجھ پر طاری ہے۔ ہیبَت نے مجھے دبا لیِا ہے۔
۶ اور میَں نے کہا کاشکہ کبُوتر کی طرح میرے پر ہوتے تو میَں اُڑ جاتا اور آرام پاتا!۔
۷ پھِر تو میں دُور نِکل جاتا اور بیابان میں بسیرا کرتا۔
۸ میَں آندھی کے جھوکے اور طُوفان سے کِسی پناہ کی جگہ میں بھاگ جاتا۔
۹ اَے خُداوند! اُنکو ہلاک کر اور اُن کی زُبان میں تفرقہ ڈال کیونکہ میَں نے شہر میں ظُلم اور جھگڑا دیکھا ہے۔
۱۰ دِن رات وہ اُسکی فصیِل پر گشت لگاتے ہیں۔ بدی اور فساد اُسکے اندرہیں۔
۱۱ شرارت اُس کے بیچ میں بسی ہوئی ہے۔ستِم اور فریب اُسکے کوچوں سے دُور نہیں ہوتے۔
۱۲ جِس نے مجھے ملامت کی وہ دُشمن نہ تھا ورنہ میَں اُس کو برداشت کر لیتا اور جِس نے میرے خلاف تکبُر کیا وہ مجھ سے عداوت رکھنے والا نہ تھا نہیں تو میَں اُس سے چھِپ جاتا۔
۱۳ بلکہ وہ تو تُو ہی تھا جو میرا ہمسر میرا رفیِق اور دِلی دوست تھا۔
۱۴ ہماری باہمی گفُتگو شیرین تھی اور ہُجُوم کے ساتھ خُدا کے گھر میں پھرتے تھے۔
۱۵ اُنکو مَوت اچانک آدبائے۔ وہ جیتے جی پاتال میں اُتر جائیں کیونکہ شرارت اُنکے مسکنوں میں اور اُنکے اندر ہے۔
۱۶ پر میَں تو خُدا کو پُکاروں گا اور خُداوند مجھے بچا لے گا۔
۱۷ صُبح و شام اور دوپہر کو میَں فریاد کرونگا اور کراہتا رہونگا اور وہ میری آواز سُن لیگا۔
۱۸ اُس نے اُس لڑائی سے جو میرے خلاف تھی میری جان کو سلامت چھُڑا لیا۔ کیونکہ مجھ سے جھگڑا کرنے والے بہت تھے۔
۱۹ خُدا جو قدیم سے ہے سُن لے گا اور اُنکو جواب دیگا۔ یہ وہ ہیں جِنکے لئے اِنقلاب نہیں اور جو خُدا سے نہیں ڈرتے ۔
۲۰ اُس شخص اَیسوں پر ہاتھ بڑھایا ہے جو اُس سے صُلح رکھتے تھے۔ اُس نے اپنے عہد کو توڑ دِیا ہے۔
۲۱ اُسکا مُنہ مکھن کی ماننِد چِکنا تھا پر اُس کے دِل میں جنگ تھی۔اُسکی باتیں تیل سے زیادہ مُلائم پر ننگی تلواریں تھیں۔
۲۲ اپنا بوجھ خُداوند پر ڈالدے۔ وہ تھے سنبھالے لیگا۔ وہ صادق کو کبھی جُنبش نہ کھانے دیگا۔
۲۳ لیکن اَے خُدا! تُو اُنکو ہلاکت کے گڑھے میں اُتاریگا۔ خُونی اور دغا باز اپنی آدھی عُمر تک جیِتے نہ رہینگے پر میَں تجھ پر توکُل کرونگا۔