زبور ۱۰: سب سے بڑا دشمن
یہاں زبور نویس سب سے بڑے بدمعاش کا بیان کرتا ہے۔
خدا کی خاموشی (۱۰:۱)
اِس زبور کے آغاز میں ایک سوال پیش کیا جاتا ہے جو ہم سب کبھی نہ کبھی پوچھتے ہیں۔ جب بے گناہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور شریر کو کوئی نہیں پوچھتا تو خدا کیوں خاموش رہتا ہے؟ ایسے حالات میں ہمارا ایمان کارفرما ہوتا ہے اور جب ہم نہیں سمجھ سکتے تو وہ بھروسا رکھنے کے لئے ہماری حوصلہ افزائی کرتا اور ہمیں چیلنج کرتا ہے کہ ہم آخر تک برداشت کریں۔
مظلوم کی دعا (۱۰:۲)
شریر اپنے تکبر میں بڑی بے رحمی سے بے کس مقدسوں کا پیچھا کرتے ہیں۔ اُن کے لئے اِس سے بڑھ کر اَور کون سی مناسب سزا ہو گی کہ وہ جو حشر راست باز کا کرنا چاہتے تھے، وہی اُن کا انجام ہو؟
دشمن کا خاکہ (۱۰: ۳۔۱۱)
۱۰: ۳،۴ شریر کا یہ خاصہ ہے کہ وہ اپنے منصوبوں کے بارے میں بڑ ہانکتا رہتا ہے۔ امیر ہونے کی دُھن میں وہ کفر بکتا اور خدا کی اہانت کرتا ہے، کیونکہ سونے کی پرستش کرنا خدا کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ اُس کے طرزِ زندگی میں خود کفالت ہے۔ وہ خدا کی ضرورت کو محسوس نہیں کرتا اور وہ ایسے زندگی بسر کرتا ہے جیسے کہ خدا کا کوئی وجود نہ ہو۔
۱۰: ۵،۶ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حالات اُس کے لئے سازگار ہیں۔ کسی نہ کسی طرح وہ اُن مشکلات سے بچتا ہے جو دیگر انسانوں کے سکون کو خراب کرتی ہیں۔ جو اصول خدا نے اپنے لوگوں کے لئے متعین کئے ہیں وہ شریر کی سمجھ سے باہر ہیں۔ وہ روحانی سچائیوں اور الٰہی اصولوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ وہ اپنے سارے دشمنوں کا حقارت سے مذاق اڑاتا ہے۔ اُس کا خیال ہے کہ کوئی چیز بھی اُس کے تحفظ میں حائل نہیں ہو سکتی اور جب تک وہ زندہ ہے وہ مشکلات سے آزاد رہے گا۔
۱۰: ۷،۸ جب کبھی وہ آپ کے آس پاس ہو گا آپ محسوس کر سکیں گے کہ آپ کے ارد گرد کوئی دین کی بے حرمتی کرنے والا شخص موجود ہے۔ اگر وہ کسی کو دھوکا نہیں دے رہا تو وہ غالباً کسی کو دبا رہا ہو گا۔ وہ کبھی کوئی تعمیری بات نہیں کرے گا۔ دوسرے جرائم پیشہ لوگوں کی طرح وہ وہاں انتظار کرتا ہے جہاں کوئی اُسے نہ دیکھ سکے۔ وہ کمین گاہوں میں بے گناہوں کے لئے گھات لگا کر بیٹھتا ہے اور جب وہ پاس سے گزرتے ہیں وہ اُنہیں قتل کر ڈالتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کے لئے انتظار کرتا ہے جو بے خبر اور مجبور و غریب ہوں۔
۱۰: ۹۔۱۱ شیر کی طرح اپنی کچھار میں وہ اپنے شکار پر حملہ کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ شکاری کی طرح وہ اپنے شکار کے لئے جال بچھاتا ہے، وہ اِس مقصد کے لئے بلیک میل کرتا ہے، جبراً استحصال کرتا ہے، رشوت لیتا ہے، غلام بنا لیتا یا موت کے گھاٹ اُتار دیتا ہے۔ بدقسمت ستم رسیدہ مجبور ہو کر مجرم کی بہت زیادہ قوت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ مایوسی کی حالت میں وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا اُسے بھول گیا ہے۔ وہ کسی اَور طرف دیکھ رہا ہے اور اپنے فرزند کی خطرناک صورتِ حال کی طرف کبھی نہیں دیکھے گا۔
وفادار کی فریاد (۱۰: ۱۲۔۸ا)
۱۰: ۱۲،۱۳ لیکن اب خداوند کا وقت ہے کہ وہ ظالم پر عدل کے لئے اپنا ہاتھ بلند کرے اور مصیبت زدہ پر رحم کرے۔ بدی کی قوتوں کو کیوں اجازت دی جائے کہ وہ بے دینی کی راہوں پر چلتی رہیں؟ اُن کی کیوں حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ سوچیں کہ خدا اُن کے جرائم کی کبھی باز پُرس نہیں کرے گا؟
۱۰: ۱۴۔۱۵ خدا ضرور دیکھتا ہے۔ وہ ناانصافی اور بدی کے ہر ایک عمل کا حساب رکھتا ہے تاکہ آنے والے ایام میں اُن کا پورا پورا بدلہ چکا سکے۔ چنانچہ جب بے کس اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرتا ہے تو یہ بے سود نہیں ہے۔ کیا خدا نے ثابت نہیں کیا کہ وہ یتیم کا دوست ہے؟ خداوند ایماندار کی فریاد کو سنے گا۔ وہ شریر کا بازو توڑ دے گا اور اُس کی شرارت کو پورے طور پر بے نقاب کرے گا، جب تک کہ اُس کی چھوٹی سے چھوٹی شرارت کی سزا اُسے نہ مل جائے۔
۱۰: ۱۶ جب اِس دُنیا کے ممالک ہمارے خداوند یسوع مسیح کے تحت آئیں گے، تو یہ انتقام اور بدلہ کا دن ہو گا۔ جیسا کہ یسعیاہ نبی نے پیش گوئی کی ہے، اُس وقت شریر اور ایذا دینے والی قومیں تباہ ہو جائیں گی:
’’دیکھ وہ سب جو تجھ پر غضب ناک ہیں پشیمان اور رُسوا ہوں گے۔ وہ جو تجھ سے جھگڑتے ہیں ناچیز ہو جائیں گے اور ہلاک ہوں گے۔ تُو اپنے مخالفوں کو ڈھونڈے گا اور نہ پائے گا۔ تجھ سے لڑنے والے ناچیز و نابود ہو جائیں گے۔ کیونکہ مَیں خداوند تیرا خدا تیرا دہنا ہاتھ پکڑ کر کہوں گا مت ڈر، مَیں تیری مدد کروں گا‘‘(یسعیاہ ۴۱: ۱۱۔۱۳)۔
۱۰: ۱۷،۱۸ ہمیں پورے طور پر یقین ہونا چاہئے کہ خداوند حلیموں کی دعاؤں کو سنے گا اور اُن کا جواب دے گا۔ وہ ہر ایک آزمائش کے لئے اُنہیں فضل دے گا اور یہ دیکھنے کے لئے جھک جائے گا کہ انصاف مظلوموں اور یتیموں کا بخرہ ہو۔خداوند کی تعریف ہو کہ اِس دُنیا کے لوگ غریبوں اور بے کسوں پر کبھی ظلم نہیں کریں گے۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند! تُو کیوں دُور کھڑا رہتا ہے؟ مصیبت کے وقت تُو کیوں چھپ جاتا ہے؟
۲ شریر کے غُرور کے سبب سے غریب کا تُندی سے پیچھا کیا جاتا ہے۔ جو منصُوبے اُنہوں نے باندھے ہیں وہ اُن ہی میں گرفتار ہو جائیں۔
۳ کیونکہ شریر اپنی نفسانی خواہش پر فخر کرتا ہے اور لالچی خُداوند کر ترک کرتا بلکہ اُس کی اِہانت کرتا ہے۔
۴ شریر اپنے تکبُر میں کہتا ہے کہ وہ باز پُرس نہیں کریگا۔ اُس کا خیال سراسریہی ہے کہ کوئی خُدا نہیں۔
۵ اُس کی راہیں ہمیشہ اُستوار ہیں تیرے احکام اُس کی نظر سے بعیدوبلند ہیں۔ وہ اپنے سب مخالفوں پر پھُنکارتا ہے۔
۶ وہ اپنے دِل میں کہتا ہے میں جنبش نہیں کھانے کا۔ پشت درپشت مجھ پر کبھی مصیبت نہ آئیگی۔
۷ اُس کا مُنہ لعنت ودغا اور ظُلم سے پُر ہے۔ شرارت اور بدی اُس کی زبان پر ہیں۔
۸ وہ دیہات کی کمینگاہوں میں بیٹھتا ہے۔ وہ پوشیدہ مقاموں میں بے گُناہ کو قتل کرتا ہے اُس کی آنکھیں بیکس کی گھات میں لگی رہتی ہیں۔
۹ وہ پوشیدہ مقام میں شیرببر کی طرح دبک کر بیٹھتا ہے۔ وہ غریب کو پکڑنے کو گھات لگائے رہتا ہے۔ وہ غریب کو اپنے جال میں پھنسا کر پکڑ لیتا ہے۔
۱۰ وہ دبکتا ہے۔ وہ جُھک جاتا ہے اور بیکس اُس کے پہلوانوں کے ہاتھ سے مارے جاتے ہیں۔
۱۱ وہ اپنے دِل میں کہتا ہے خُدا بھُول گیا ہے۔ وہ اپنا مُنہ چھپاتا ہے۔ وہ ہرگز نہیں دیکھے گا۔
۱۲ اُٹھ اَے خُداوند! اَے خُدا اپنا ہاتھ بلند کر! غریبوں کو نہ بھُول۔
۱۳ شریر کس لئے خُدا کی اِہانت کرتا ہے اور اپنے دِل میں کہتا ہے کہ تُو باز پُرس نہ کریگا؟
۱۴ تُو نے دیکھ لیا ہے کیونکہ تُو شرارت اور بغُض دیکھتا ہے تاکہ اپنے ہاتھ سے بدلہ دے۔ بیکس اپنے آپ کو تیرے سُپرد کرتا ہے تُو ہی یتیم کا مددگار رہا ہے۔
۱۵ شریر کا بازو توڑ دے۔ اور بدکار کی شرارت کو جب تک نابُود نہ ہو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال۔
۱۶ خُداوند ابدلآباد بادشاہ ہے۔ قومیں اُکے ملک میں سے نابُود ہوگئیں۔
۱۷ اَے خُداوند! تُو نے حلیموں کا مُدعا سُن لیا ہے۔ تُو اُنکے دِل کو تیار کریگا۔ تُوکان لگا کر سُنیگا۔
۱۸ کہ یتیم اور مظُلوم کا اِنصاف کرے تاکہ انسان جو خاک سے ہے پھر نہ ڈرائے۔