کتابِ مقدس کی تفسیر
کُرِنتھیوں کے نام پہلا خط
First Epistle to the Corinthians
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
تعارُف
«تاریخِ کلیسیا کا بے مثال ٹکڑا۔» (وائزیکر – Weizacker)
۱۔ فہرست ِمُسلَّمہ میں منفرد مقام
کرنتھیوں کے نام پولس کے پہلے خط کو صحیفۂ مسائل بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اِس میں مصنف نے اُن مسائل پر بحث کی ہے جن کا کرنتھس کے شریر شہر میں کلیسیا کو سامنا تھا۔ اِس لحاظ سے آج کی کلیسیائوں کو اِس خط کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ دینی مسائل پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ تفرقے، لیڈروں کو ہیرو بنا کر اُن کے کن گانا، بداخلاقی، قانونی جھگڑے، ازدواجی زندگی سے متعلق مسائل، مشکوک رسومات، روحانی نعمتوں کے بارے میں ضوابط، اِس خط میں اِن سارے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
لیکن یہ کہنا بھی غلط ہے کہ سارا خط مسائل ہی کا تصفیہ کرتا ہے اور بس! یہی وہ خط ہے جس میں ۱۔کرنتھیوں باب ۱۳ شامل ہے، جو نہ صرف بائبل مقدس میں بلکہ دُنیا بھر کے تمام ادب میں محبت پر بے مثال مقالہ ہے۔ اِسی خط میں مسیح کی اور ہماری قیامت کا بیان (باب ۱۵)، عشائے ربانی کے ضوابط (باب ۱۱)، چندے میں حصہ دینے کا حکم (باب ۱۶)وغیرہ بھی موجود ہیں۔
اگر ہمارے پاس یہ خط نہ ہوتا تو ہم کس قدر تہی دامن ہوتے! یہ عملی مسیحی تعلیمات کا انمول خزانہ ہے۔
۲۔ مصنف
سارے علما متفق ہیں کہ جس صحیفے کو ہم کرنتھیوں کے نام پہلا خط کہتے ہیں وہ پولس کے قلم کا پھل ہے۔ بعض مصنفین (اکثر آزاد خیال) کو اِس خط میں کچھ اضافے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ محض اُن کی خیال آرائی ہے جس کی مسودے سے حمایت نہیں ہوتی۔ ۱۔کرنتھیوں ۵:۹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولس نے اِس سے پہلے بھی کرنتھیوں کو ایک خط (غیر مصدقہ) لکھا تھا، مگر وہ اُس کو صحیح طور پر سمجھ نہ پائے تھے۔
۱۔ کرنتھیوں کے حق میں خارجی شہادتیں بہت پرانی ہیں۔ روم کے کلیمنٹ (Clement)۔تقریباً ۹۵ءنے اِس کا خاص ذکر کرتے ہوئے اِسے مبارک پولس رسول کا خط کہا ہے۔ کلیسیا کے دیگر قدیم مصنفین جنہوں نے اِس کتاب سے اِقتباس کئے ہیں، اُن میں پولی کارپ (Polycarp)، یوسطین شہید(Justin Martyr)، اثیناگرس (Athenagoras)، ایرینیس(Irenaeus)، سکندریہ کا کلیمنٹ اور طرطلیان (Tertullian) شامل ہیں۔ یہ کتاب (۱۔کرنتھیوں )مرتوروی فہرست میں شامل ہے۔ اور بدعتی مرقیون کی اپنی فہرست ِ کتبِ مقدسہ میں اِسے گلتیوں کے بعد رکھا گیا ہے۔
داخلی شہادت بھی بہت مضبوط ہے۔ مصنف نے ۱:۱ اور ۱۶: ۲۱ میں خود کو پولس کہہ کر متعارف کرایا ہے۔ اِس کے علاوہ ۱: ۱۲۔۱۷؛ ۳: ۴، ۶، ۲۲ کے دلائل بھی تائید کرتے ہیں کہ یہ پولس کی تصنیف ہے۔ اعمال کی کتاب اور پولس کے دوسرے خطوط کے ساتھ مطابقت اور رسول کی فکرمندی کا نمایاں رنگ اِس خیال کی تردید کرتے ہیں کہ کتاب جعلی ہے۔ چنانچہ پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اِس کا مصنف پولس رسول ہی ہے۔
۳۔ سنِ تصنیف
پولس کہتا ہے کہ مَیں یہ خط اِفسس سے لکھ رہا ہوں (۱۶: ۸،۹ بحوالہ آیت ۱۹)۔ اُس نے وہاں تین برس تک خدمت کی۔ کرنتھیوں کے نام پہلا خط اِس طویل خدمت کے نصف آخر میں (۵۵ء یا ۵۶ء) لکھا گیا ہو گا۔ بعض علما کے مطابق یہ خط اِس سے بھی پہلے لکھا گیا تھا۔
۴۔ پس منظر اور موضوع
قدیم کرنتھس جنوبی یونان میں اتھینے کے مغرب میں واقع تھا (اور ہے)۔ پولس کے زمانے میں تجارتی شاہراہیں یہیں سے گزرتی تھیں۔ کرنتھس تجارت کا بڑا مرکز تھا۔ ہر طرف سے قافلے اِس شہر میں آتے تھے۔ یہاں کے لوگوں کا مذہب سراپا برگشتگی تھا۔ اِس لئے یہ شہر ہر طرح کی بداخلاقی اور بدکاری کا اڈا بھی بن گیا تھا۔ یہاں تک کہ لفظ کرنتھس ہر قسم کی شہوت پرستی اور ناپاکی کا مترادف سمجھا جاتا تھا۔ شہر زناکاری میں اِتنا بدنام تھا کہ لوگوں نے ایک لفظ گھڑ لیا تھا کرنتھیازومائی (korinthiazomai) جس کا مطلب ہی ذلت کی زندگی بسر کرنا ہے۔
پولس اپنے دوسرے مشنری دَورے کے دوران پہلی دفعہ کرنتھس گیا تھا (اعمال باب ۱۸)۔ پہلے اُس نے اپنے ہم پیشہ خیمہ دوزوں پرسکلہ اور اکوِلہ کے ساتھ مل کر یہودیوں کے درمیان تبلیغی محنت کی۔ جب اکثر یہودیوں نے اُس کے پیغام کو قبول نہ کیا تو وہ کرنتھس کے غیر قوم لوگوں کی طرف متوجہ ہوا۔ خوش خبری کی منادی سے لوگوں نے نجات پائی اور ایک کلیسیا قائم ہو گئی۔
کوئی تین برس بعد پولس اِفسس میں منادی کر رہا تھا کہ اُسے کرنتھس سے ایک خط موصول ہوا جس میں وہاں کی جماعت کے اندر پائی جانے والی مشکلات کا ذکر تھا۔ علاوہ ازیں عملی مسیحی زندگی سے متعلق کئی سوال بھی پوچھے گئے تھے۔ اِسی خط کے جواب میں کرنتھیوں کے نام پہلا خط تحریر ہوا۔
اِس خط کا موضوع یہ ہے کہ ایک دُنیوی اور جسمانی کلیسیا کو کس طرح درست کیا جا سکتا ہے۔ ایسی کلیسیا بہت سے غلط خیالوں، غلط کاموں اور بدعتی تعلیموں کا محاسبہ نہیں کرتی۔ اِن پر پولس رسول بڑی فکر مندی سے نظر ڈالتا ہے۔ مافٹ نے اِس کا لب لباب یوں بیان کیا ہے: کلیسیا دُنیا میں تھی، جیسا کہ ہونی چاہئے تھی، لیکن دُنیا کلیسیا کے اندر تھی، جیسا کہ نہیں ہونی چاہئے تھی۔
چونکہ دورِ حاضر میں بھی بہت سی کلیسیائوں میں حالات ایسے ہی ہیں، اِس لئے کرنتھیوں کے پہلے خط کی افادیت دائمی ہے۔
| خاکہ | |||
| باب | |||
| ۱۔ | تعارُف | ۱: ۱۔۹ | |
| الف۔ | سلام | ۱: ۱۔۳ | |
| ب۔ | شکر گزاری | ۱: ۴۔۹ | |
| ۲۔ | کلیسیا کے اندر بدنظمی | ۱: ۱۰۔۶:۲۰ | |
| الف۔ | ایمان داروں میں تفرقے | ۱: ۱۰۔۴: ۲۱ | |
| ب۔ | ایمان داروں میں بداخلاقی | ۵ | |
| ج۔ | ایمان داروں میں مقدمہ بازی | ۶: ۱۔۱۱ | |
| د۔ | ایمان داروں میں اخلاقی ڈِھیلا پن | ۶: ۱۲۔۲۰ | |
| ۳۔ | رسول کی طرف سے کلیسیا کے سوالوں کے جواب | ۷۔۱۴ | |
| الف۔ | شادی اور تجرد کے بارے میں | ۷ | |
| ب۔ | بتوں کی قربانیوں کا گوشت کھانے کے بارے میں | ۸: ۱۔۱۱:۱ | |
| ج۔ | عورتوں کے سر ڈھانکنے کے بارے میں | ۱۱: ۲۔۱۶ | |
| د۔ | عشائے ربانی کے بارے میں | ۱۱: ۱۷۔۳۴ | |
| ہ۔ | روح القدس کی نعمتوں اور کلیسیا میں اُن کے استعمال کے بارے میں | ۱۲۔۱۴ | |
| ۴۔ | قیامت کے منکروں کو پولس کا جواب | ۱۵ | |
| الف۔ | قیامت اٹل ہے | ۱۵: ۱۔۳۴ | |
| ب۔ | قیامت پر اعتراضات پر غور و فکر | ۱۵: ۳۵۔۵۷ | |
| ج۔ | قیامت کی روشنی میں اِختتامی اپیل | ۱۵: ۵۸ | |
| ۵۔ | پولس کی آخری نصیحتیں | ۱۶ | |
| الف۔ | چندے کے بارے میں | ۱۶: ۱۔۴ | |
| ب۔ | اپنے ذاتی منصوبوں کے بارے میں | ۱۶: ۵۔۹ | |
| ج۔ | اِختتامی نصیحتیں اور سلام | ۱۶: ۱۰۔۲۴ | |