زبُور ۵۷

زبور ۵۷:‏ خدا کے پروں کے سائے تلے

داؤد نے جب یہ زبور لکھا تو اُس وقت وہ ساؤل کے ڈر سے یا تو عدلام یا عین جدی کی غار میں چھپا ہوا تھا۔ اُسے ہمیشہ دو حقائق‏، یعنی پُرفضل خدا اور سخت دشمن کا احساس رہتا تھا‏، لیکن زبور اِن دونوں کے درمیان میزان کی مانند ہے اور دشمن کے خوف کی نسبت خدا پر ایمان زیادہ ہے‏، ایمان والا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔

ہمہ وقت حاضر خدا (‏۵۷:‏ ۱۔۳)‏

زبور نویس حق کے طور پر مخلصی کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ وہ اِسے خدا کے رحم کے طور پر مانگتا ہے‏، گویا کہ یہ ایک ایسی برکت ہے جس کا وہ مستحق نہیں اور جو اُس کے رحم سے جنم لیتی ہے۔ اپنے نم دار اور تاریک ماحول سے غافل وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ خدا کے پروں کے سایہ تلے محفوظ ہے‏، جیسے مرغی کا بچہ اپنی ماں کے پروں میں اپنے آپ کو محفوظ پاتا ہے۔ اور وہ (‏داؤد)‏ وہاں اُس وقت تک رہتاہے جب تک زندگی کے طوفان گزر نہیں جاتے۔ اِس قربت کے احساس سے وہ خدا تعالیٰ سے فریاد کرتا ہے کہ اپنے لوگوں کی زندگیوں میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کوئی شے رکاوٹ نہ بننے دے۔ جب آسمان سے جواب آئے گا تو یہ پُراعتماد دل کے لئے مخلصی اور اُس کا پیچھا کرنے والوں کے لئے ذلت کا باعث ہو گا۔ یہ خدا کی محبت اور اُس کی وفاداری کا ناقابل فراموش اظہار ہو گا۔

ہمہ وقت حاضر دشمن (‏۵۷:‏ ۴)‏

دشمن بہت خوف ناک ہیں — اُن وحشی ببروں کی طرح جو پھاڑتے اور نگل جاتے ہیں۔ اُن لوگوں کے دانت برچھیوں اور تیروں کی مانند تیزہیں۔ اِس کے باوجود داؤد اِس خطرے کے دوران لیٹا آرام کر رہا ہے۔ یہ ایمان کا نہایت اعلیٰ کارنامہ ہے۔

ہمہ وقت حاضر خدا (‏۵۷:‏ ۵)‏

آیت ۱۱ میں دُہرائی ہوئی اِس آیت میں داؤد کی آرزو یہ ہے کہ خدا اُس کے دشمنوں کو کچلنے اور اُس کا انصاف کرنے سے اپنا جلال ظاہر کرے۔ یوں خدا کا جلال آفاقی ہو گا۔ 

ہمہ جا حاضر دشمن (‏۵۷:‏ ۶)‏

اُس کے دشمنوں نے نہایت محتاط طریقے سے یسی کے بیٹے کے لئے دام بچھائے تھے۔ اِس سے اُس کی جان عاجز آ گئی تھی۔ تاہم جو گڑھا اُنہوں نے اُسے گرانے کے لئے کھودا تھا‏، وہ خود ہی اُس میں گر گئے۔ 

ہمہ جا حاضر خدا (‏۵۷:‏ ۷۔۱۱)‏

پھر عجب نہیں کہ زبور نویس کا دل خداوند کی مدح سرائی کے لئے قائم ہے۔عجب نہیں ہے کہ وہ اپنی روح کو بیدار کرتا اور اپنی بربط اور بین کو استعمال کرنے کے لئے صاف کرتا ہے۔ عجب نہیں کہ وہ تہیہ کر چکا ہے کہ صبح صادق کو حمدیہ گیتوں سے خوش آمدید کہے گا۔

یہ کوئی نجی یا علاقائی گیت نہیں ہو گا۔ وہ قوموں میں خدا کا شکر ادا کرے گا اور قوموں کے درمیان مدح سرائی کرے گا‏، کیونکہ خداوند کی شفقت آسمانوں کی طرح لامحدود اور اُس کی سچائی بادلوں کی طرح بے پایاں ہے۔

ایف۔بی۔مائر لکھتا ہے کہ ’’داؤد کے دل میں خدا کا جلال بڑھانے کی خواہش اِتنی زور دار تھی کہ وہ اپنے شخصی غم سے بالا ہو گیا۔‘‘ چنانچہ ہمارے دلوں میں بھی داؤد کی سی خواہش ہو اور ہم اپنی چھوٹی موٹی مصیبتوں کو اوّلیت نہ دیں بلکہ خدا کے جلال کو۔

مقدس کتاب

۱ مجھُ پر رحم کر اَ ے خُدا ! مجھُ پر رحم کر کیو نکہ میر ی جان تیر ی پناہ لیتی ہے میَں تیر ے َپر وں کے سا یہ میں پناہ لُو ں گا ۔ جِب تک یہ آفتیں گُزر نہ جائیں
۲ میں خُدا تعالی سے فر یا د کرُوں گا ۔ خُدا سے جو میر ے لئے سب کچھ کر تا ہے۔
۳ وہ میر ی نجا ت کے لئے آسمان سے بھیجےگا ۔ جب وہ مجھے نگِلنا چا ہتا ہے ۔ ملا مت کر تا ہو ۔ خُدا اپنی شفقت اور سچائی کو بھیجے گا۔
۴ میر ی جان ببر و ں کے درمیان ہے ۔ میِں آ تش مزاج لوگو ں میں پڑا ہوں یعنی اَیسے لو گو ں میں جِنکے دانت بر چھیا ں اور تِیر ہیں ۔ جنِکی زبا ِن تیز تلو ار ہے ۔
۵ اَے خُدا تُو آسما ن پر سر فراز ہو ! تیر ا جلا ل سار ی زمین پر ہو !
۶ اُنہو ں نے میر ے پاؤں کے لئے جال لگا یا ہے ۔ میر ی جان عا جز آ گئی ۔ اُنہو ں نے میر ے آ گے گڑ ھا کھو دا ۔ وہ خُو د میں گرِ پڑ ے
۷ میرا د ل قائم ہے ۔ اَے خُدا میر ا دل قا ئم ہے ۔ میں گا وؑ ں گا ۔ بلکہ میں مدح سر ائی کرُو ں گا۔
۸ اَے میر ی شو کت !بیِدار ہو ۔ اَے بر بط اور سِتار جاگو ۔ میَں خُود صُبح سو یر ے جاگ اُٹھو ں گا ۔
۹ اَے خُداوند ! میںِ لوگو ں میں تیر ا شُکر کرؤں گا ۔میں اُمتو ں میں تیر ی مد ح سُر ائی کرُؤں گا ۔
۱۰ کیو نکہ تیر ی شفقت آسما ن کے اور تیر ی افلا ک کے بر ابر بلند ہے ۔
۱۱ اَے خُدا تُو آسما ن پر سر فراز ہو! تیر ا جلال سا ر ی زمین پر ہو!