زبُور ۶۹

زبور ۶۹:‏ اے خدا!مجھے بچا لے

ہمارے مبارک نجات دہندہ کے دُکھ اور موت اُس کے لئے خدا کے غضب کے سمندر میں غوطہ لگانے کے مترادف تھا۔ اُس نے اپنے متوقع دُکھوں کو بپتسمہ لینے سے تشبیہ دی:‏

’’مجھے ایک بپتسمہ لینا ہے اور جب تک وہ نہ ہو لے مَیں بہت ہی تنگ رہوں گا‘‘ (‏لوقا ۱۲:‏۵۰)‏۔

اور زبور ۴۲:‏ ۷ میں ہم اُس کو اِن الفاظ میں پکارتے ہوئے سنتے ہیں:‏ 

’’ تیرے آبشاروں کی آواز سے گہراؤ گہراؤ کو پکارتا ہے۔تیری سب موجیں اور لہریں مجھ پر سے گزر گئیں۔‘‘

اپنی موت کی تلخی میں ہمارا نجات دہندہ ہمارے گناہوں پر خدا کی عدالت کی گہرائیوں میں دھنس گیا۔

۶۹:‏ ۱۔۳ زبور ۶۹ میں ہمیں آواز سنائی دیتی ہے کہ خداوند یسوع کی مقدس جان موت کی دلدل میں دھنس رہی ہے۔ پانی اُس کی گردن تک آ پہنچا ہے اور وہ اُسے مکمل طور پر ڈبو دے گا۔ اُس کے کھڑا رہنے کے لئے کوئی چیز نہیں‏، سوائے دلدل کے اُس کے پاؤں کے نیچے کچھ نہیں۔ اب سیلاب اُس کے سر کے اوپر سے گزر رہے ہیں۔ پانی بہت گہرا ہے۔ اِتنا گہرا کہ نجات یافتہ اُس کی گہرائی کو نہیں جان سکتے۔ یوں لگتا ہے جیسے خدا نے تمام پانیوں کو یکجا یعنی کلوری پر اکٹھا کر دیا ہے اور اُس کا پیارا بیٹا ہمارے گناہوں کی سزا کی تلافی کے لئے عدالت کے بہت بڑے سمندر کا سامنا کر رہا ہے۔

اِس بے پایاں سمندر سے اُس کی فوری اپیل کی گونج متواتر سنائی دیتی ہے‏، ’’اے خدا! مجھ کو بچا لے۔‘‘ یوں لگتا ہے جیسے وہ بڑی دیر سے التجا کر رہا ہو۔ اُس کا گلا سوکھ گیا اور چلاتے چلاتے بیٹھ گیا ہے۔ خدا سے مدد کے لئے افق کی طرف مسلسل تکتے تکتے اُس کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں ‏، لیکن کسی قسم کی مدد نظر نہیں آتی۔

۶۹:‏۴ غصہ میں بپھری ہوئی بھیڑ صلیب کے سامنے نفرت‏، تلخی اور ظلم کے زہر کو اُگل رہی ہے۔ کیسا کرب ناک منظر ہے!کائنات کا خالق اور اُسے سنبھالنے والا مجرم کی صلیب پر لٹک رہا ہے۔ اُس کے قاتل اُس کے سامنے جمع ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں؟ یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جو اُس مصلوب کے طفیل سانس لیتے ہیں‏، لیکن وہ بلاوجہ اُس سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ اُسے ختم کرنے کے لئے وہاں جمع ہیں اور وہ جھوٹ کے ساتھ اُس پر حملے کرتے ہیں۔

اب نجات دہندہ کے لبوں سے ایک دل دوز جملہ نکلتا ہے‏، ’’جو مَیں نے چھینا نہیں مجھے دینا پڑا۔‘‘ انسان کے گناہ نے خدا کی خدمت‏، پرستش‏، فرماں برداری اور حشمت پر ڈاکہ ڈالا اور انسان خود بھی زندگی‏، شادمانی اور خدا کے ساتھ رفاقت سے محروم ہو گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسیح نے جو چھینا نہیں وہ اُسے بحال کرنے کے لئے آیا۔

اِس لحاظ سے وہ ہمیں جرم کی قربانی کی یاد دلاتا ہے جس کا ذکر احبار (‏باب ۵)‏ میں آتاہے۔ اِس قربانی کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ جرم کرنے والے نے جو نقصان کیا تھا‏، اُس کی اُسے تلافی کرنا ہوتی تھی اور اُس کے ساتھ پانچواں اضافی حصہ ادا کرنا ہوتا تھا۔ ہماری جرم کی قربانی کے طور پر خداوند یسوع مسیح نے نہ صرف اُس کی تلافی کی جو انسان کے گناہ کی وجہ سے چھینا گیا تھا‏، بلکہ اُس نے اِس سے بڑھ کر ادا کیا۔ یوں خدا کو مسیح کے مکمل کئے ہوئے کام سے زیادہ جلال ملا۔ گناہ کی وجہ سے اُس نے ’’مخلوق‘‘ کو کھو دیا‏، لیکن فضل سے اُس نے ’’بیٹوں‘‘ کو حاصل کیا۔

۶۹:‏ ۵ آیت ۵ سے ہم یہ اخذ کریں کہ ’’ہمارے گناہوں‘‘ سے مراد وہ گناہ ہیں جو یسوع نے اپنے اوپر اُٹھا لئے۔ اُس کی اپنی تو کوئی غلطی نہیں تھی‏، لیکن ’’اُس نے ہمارے گناہ اور ہمارے غموں کو برداشت کیا اور اُس نے اُنہیں اپنا بنا لیا۔‘‘ اپنے عظیم فضل کی بدولت وہ ہمارے اِس قدر قریب ہو گیا کہ اُس نے ہمارے گناہوں کو اپنے گناہ تسلیم کیا۔

۶۹:‏۶ پھر اُس کے پاک دل میں خوف آتا ہے۔ اُسے ڈر ہے کہ بعض ایک مخلص ایماندار کہیں اِس بات سے ٹھوکر نہ کھا جائیں کہ خدا نے اُس کی دعاؤں کا جواب نہیں دیا۔ وہ دعا کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جو کچھ اُس کے ساتھ ہو رہا تھا اُس کے باعث خدا پر کسی کی اُمید شرمندہ نہ ہو‏، کہ اُس کے چھوڑے جانے اور تذلیل سے اسرائیل کے خدا کے کسی متلاشی کی تضحیک نہ ہو۔

۶۹:‏ ۷‏، ۸ وہ اپنے باپ کی مرضی کو پورا کرنے کے لئے ملامت کو برداشت کر رہا تھا۔ خدا کو خوش کرنے میں اُس کی خوشی تھی اور اُسی خدا نے لوگوں کو اجازت دی کہ ناقابلِ بیان ندامت اور تھوکنے سے شرمندگی اُس کے منہ پر چھا جائے۔ اِس فرماں برداری کی قیمت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اُسے اُس کی ماں کے فرزندوں نے چھوڑ دیا‏، اُسے یہ غم بھی تھا۔ اپنے ہی بھائیوں کے نزدیک وہ اجنبی تھا۔ 

۶۹:‏ ۹ خداوند یسوع کو اُس کے باپ کے گھر کی غیرت کھا گئی۔ جب کبھی اُس نے لوگوں کو خدا کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرتے سنا‏، اُس نے اِسے شخصی توہین متصور کیا۔ اُس دن جب اُس نے یروشلیم میں ہیکل کے صحن سے صرافوں کو باہر نکالا‏، تو اُس کے شاگردوں کو یاد آیا کہ اُس کے بارے میں یہاں زبور ۶۹ میں لکھا ہوا ہے:‏ ’’تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا جائے گی‘‘ (‏یوحنا ۲:‏۱۷)‏۔

۶۹:‏ ۱۰۔ ۱۲ خداوند یسوع نے انسانِ کامل کی حیثیت سے اِس دنیا میں جو کچھ بھی کیا‏، اُس کے نقاد اُس سے کبھی بھی خوش نہ ہوئے۔ اگر روزہ رکھنے سے اُس کی جان نے زاری کی تو اُنہوں نے اِس بات میں بھی اُس میں نقص نکالا۔ شاید اُنہوں نے یہ کہا ہو کہ وہ یہ سب کچھ صرف دکھاوے کے لئے کر رہا ہے۔ جب اُس نے بہت زیادہ ماتم کیا تو لوگوں نے اظہارِ ہمدردی کے بجائے اُسے ملامت کا نشانہ بنایا۔ معاشرہ کے ہر ایک طبقہ میں اُس کی مخالفت کی گئی۔ پھاٹک پر بیٹھنے والے سرداروں سے لے کر مقامی شراب خانوں کے شرابیوں تک سب اُس کی تضحیک کے گیت گاتے تھے۔ جلال اور زندگی کا خداوند دُنیا میں آیا اور وہ نشہ بازوں کا گیت ہے۔

۶۹:‏ ۱۳۔۱۸ ایک بار پھر وہ اپنے واحد مددگار یعنی خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اُس کی دعا میں کس قدر جوش اور اصرار ہے۔ وہ مدد کے لئے مسلسل التجاؤں سے آسمان کی فصیلوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے‏، لیکن اِس کے باوجود وہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا کا حق ہے کہ وہ اپنی خوشنودی کے وقت اُسے جواب دے۔ جب وہ دلدل میں دھنس جاتا ہے تو وہ خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اپنی وفادار مدد سے اُسے مخلصی دلائے‏، اُس کے دشمنوں کے ہاتھوں سے اُسے چھڑائے اور اُسے گہرے پانیوں یعنی سیلابوں اور گہراؤ سے رہائی دلائے۔ اپنی سخت مصیبت میں وہ خدا کی شفقت اور رحمت کی کثرت کو اپنی التجا کی بنیاد کہتا ہے۔ اُس کی التجا مختصر اور واضح ہے:‏ ’’جواب دے … میری طرف متوجہ ہو… مجھ سے رُوپوشی نہ کر … مجھے چھڑا لے … میرا فدیہ دے۔‘‘ ’’میرے دشمنوں کے روبرو میرا فدیہ دے‘‘ کا یہ مطلب ہے:‏ ’’تاکہ وہ میری مصیبت پر فخر نہ کریں۔‘‘

۶۹:‏ ۱۹‏، ۲۰ اُس کے دشمنوں کے ذکر سے وہ تمام دُکھ یاد آتے ہیں جو اُس نے انسانوں کے ہاتھوں اُٹھائے۔ اُس کی زندگی کا راستہ ملامت‏، ذلت اور بے عزتی سے اٹا پڑا تھا۔ اُس کی شیرخواری کے ایام سے اُس کے دشمن اُس کا پیچھا کرتے رہے۔ خداوند جانتا تھا کہ وہ کس قدر بے شمار ہیں۔ بے عزتی سے اُس کا دل ٹوٹ گیا‏، وہ دل جو انسانوں کی بھلائی کا خواہش مند تھا۔ اِن سب باتوں کی وجہ سے وہ مایوس ہو گیا۔ کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جو اُس کی مصیبت اور غم میں اُس پر ترس کھاتا۔ وہ تسلی دینے والوں کا منتظر رہا‏، لیکن یہ سب کچھ بے سود تھا۔ حتیٰ کہ اُس کے اپنے شاگرد اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ وہ تن تنہا تھا۔ 

۶۹:‏ ۲۱ داؤد کی چونکا دینے والی پیش گوئیوں میں سے درج ذیل ایک پیش گوئی ہے جس کی تکمیل مسیح میں ہوئی۔ یوں لکھا ہے:‏

’’اُنہوں نے مجھے کھانے کو اندراین بھی دیا
اور میری پیاس بجھانے کو اُنہوں نے مجھے سرکہ پلایا۔‘‘

اِس کی تکمیل متی ۲۷:‏ ۳۴ اور ۴۸ میں ہے:‏ 

’’پت ملی ہوئی مے اُسے پینے کو دی مگر اُس نے چکھ کر پینا نہ چاہا… اور فوراً اُن میں سے ایک شخص دوڑا اور سپنج لے کر سرکہ میں ڈبویا اور سرکنڈے پر رکھ کر اُسے چسایا۔‘‘

پت غالباً کڑوی اور زہریلی قسم کی شے تھی جو تھوڑی سی مقدار میں نشہ کاکام دیتی تھی۔ ہمارے خداوند نے اُسے نہ پیا کیونکہ لازم تھا کہ وہ اپنے پورے ہوش و حواس میں ہمارا فدیہ دے۔ سرکہ غالباً پیاس کو مزید بڑھاتا تھا۔

۶۹:‏ ۲۲ آیت ۲۲ میں زبور کا لہجہ اچانک تبدیل ہو جاتا ہے اور اگلی سات آیات میں قریب الموت نجات دہندہ خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُس قوم کو سزا دے جس نے اُسے موت کی سزا دی۔ یہ اُس کے لئے عجیب لگتا ہے جس نے کہا تھا:‏ ’’اے باپ! اِن کو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں‘‘ (‏لوقا ۲۳:‏۳۴)‏۔ لیکن اِن دونوں دعاؤں میں فی الحقیقت کوئی تضاد نہیں ہے۔ اگر وہ توبہ کرتے تو اُن کے لئے معافی ہوتی۔ لیکن دل کی تبدیلی کے بغیر سزا کے سوا اَور کچھ نہیں ہو سکتا۔ 

یہاں اِس بات کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ اِن آیات کا اطلاق خصوصی طور پر بنی اسرائیل پر ہوتا ہے۔ پولس رومیوں ۱۱:‏۹‏، ۱۰ میں آیات ۲۲ اور ۲۳ کا اطلاق اسرائیل پر کرتا ہے۔ اور ’’اُن کے مسکن‘‘ (‏آیت ۲۵)‏ واضح طورپر یہودی قوم کی طرف اشارہ ہے۔

اُن کا دستر خوان پھندا بن جائے گا۔ دستر خوان اُن مراعات کا خلاصہ ہے جو خدا کی زمین پر برگزیدہ قوم کو دی گئیں۔ یہ مراعات برکت کی بجائے اُن کی سزا کا تعین کریں گی۔

جب وہ امن (‏عبرانی‏، شالوم ۔۔ اردو‏، سلامتی)‏ کے تجربہ سے گزر رہے ہوں گے تو یہ اُن کے لئے جال بن جائے گا۔ جب لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ سب اچھا ہے تو مصیبتیں شروع ہو جائیں گی۔ 

۶۹:‏ ۲۳ اُن کی آنکھیں تاریک ہو جائیں گی تاکہ وہ دیکھنے کے قابل نہ رہ سکیں۔ اِس کا اشارہ عدالتی اندھے پن کی طرف ہے اور بنی اسرائیل قومی طور پر اِس اندھے پن کا شکار ہو چکے ہیں۔ (‏۲۔کرنتھیوں ۳:‏ ۱۴)‏۔ چونکہ اُنہوں نے نور کو رد کیا اِس لئے نور اُن سے چھین لیا گیا۔

اُن کی کمریں مسلسل کانپتی رہیں گی۔ قوموں کے درمیان پراگندہ ہو کر اُن کے پاؤں کو کوئی آرام نہ ملے گا۔ خداوند اُنہیں ’’دلِ لرزاں‏، آنکھوں کی دھندلاہٹ اور جی کی کڑھن دے گا‘‘(‏استثنا ۲۸:‏ ۶۵)‏۔ 

۶۹:‏ ۲۴ خداوند اپنا غضب اُن پر انڈیل دے گا اور اُس کا شدید قہر اُن پر آ پڑے گا۔

۶۹:‏ ۲۵ اُن کا مسکن اُجڑ جائے گا اور اُن کے خیموں میں کوئی نہ بسے گا۔ یہاں ہمیں مسیح کے متی ۲۳:‏ ۲۸ والے الفاظ یاد دلائے گئے ہیں:‏ ’’دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔‘‘ اِن الفاظ کی ۷۰ عیسوی میں تکمیل ہوئی جب ططس اور رومی فوج نے یروشلیم پر حملہ کیا اور ہیکل کو برباد کر دیا۔

۶۹:‏ ۲۶ اگر یہ سزا سخت معلوم ہوتی ہے‏، تو اُس جرم کے بارے میں سوچئے جو اِس سزا کا باعث بنا۔

’’کیونکہ وہ اُس کو جسے تُو نے مارا ہے ستاتے ہیں
اور جن کو تُو نے زخمی کیا ہے اُن کے دُکھ کا چرچا کرتے ہیں۔‘‘

تاکستان کی تمثیل میں‏، گھر کے مالک کے بیٹے کے بارے میں باغبان یہ کہتے ہیں‏، ’’یہی وارث ہے۔ آؤ اِسے قتل کرکے اِس کی میراث پر قبضہ کر لیں‘‘ (‏متی ۲۱:‏ ۳۸)‏۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ وہ بیٹا ہے لیکن اِس کے باوجود اُنہوں نے اُسے قتل کر دیا۔ آیت ۲۶ کے دوسرے حصہ میں مسیح کے پیروکاروں کا ذکر ہے جنہیں شہید کیا جائے گا۔

۶۹:‏ ۲۷‏،۲۸ اِس کے پیش نظر نجات دہندہ کے الفاظ کی سختی کے لئے معذرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

’’اُن کے گناہ پر گناہ بڑھا اور وہ تیری صداقت میں داخل نہ ہوں۔
اُن کے نام کتابِ حیات سے مٹا دیئے جائیں۔
اور صادقوں کے ساتھ مندرج نہ ہوں۔‘‘

اِس کے باوجود ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ خدا کے بیٹے کو مصلوب کرنے کے بعد خدا کا روح اب بھی اسرائیل قوم کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ توبہ کرے اور یسوع کی طرف رجوع لائے۔ اعمال کی کتاب کے تمام دَور میں خدا کے دل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے کہ وہ اِس قوم سے کس قدر محبت کرتا ہے۔ وہ اُنہیں دعوت دیتا رہتا ہے کہ وہ اُس کے رحم اور فضل کو قبول کریں۔ حتیٰ کہ آج کل بھی انجیل کی خوش خبری یہودیوں اور غیر قوموں کو سنائی جاتی ہے۔ آیات ۲۷۔۲۸ میں بیان کردہ سزاؤں کو صرف وہ لوگ برداشت کریں گے جو ارادتاً خدا کے مسیح کو رد کر کے اِس انجام کا انتخاب کرتے ہیں۔ 

۶۹:‏ ۲۹ اب گناہ گاروں کے قریب الموت دوست کی آخری بات ہے۔ مصیبت اور بے حد کرب میں وہ التجا کرتا ہے کہ خداوند کی نجات اُسے سربلند کرے۔

اور ہوبہو یہی کچھ وقوع پذیر ہوا۔ خدا نے اُسے مُردوں میں سے جلایا اور اُسے شہزادے اور نجات دہندہ کی حیثیت سے اپنے دہنے ہاتھ بٹھایا۔ گناہ کے لئے اُس کے دُکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے۔ اور ہم خوش ہیں!

۶۹:‏ ۳۰۔۳۳ آخری سات آیات میں متکلم جی اُٹھا نجات دہندہ ہے۔ سب سے پہلے تو وہ موت اور قبر سے مخلصی کے لئے خدا کی تعریف کرتا ہے۔ ’’ مَیں گیت گا کر خدا کے نام کی تعریف کروں گا اور شکرگزاری کے ساتھ اُس کی تمجید کروں گا۔‘‘ یہ خدا کے نزدیک بہت ہی قیمتی قربانیوں کی نسبت زیادہ اہم ہو گا۔ اور ہر جگہ مظلوم لوگ اِس احساس سے تسلی پائیں گے کہ جس طرح اُس نے نجات دہندہ کی دعاؤں کو سنا اور اُس کو مخلصی دلائی‏، بعینہٖ وہ حاجت مندوں کی دعاؤں کو سنے گا اور التجا کرنے والے قیدیوں کو آزاد کرے گا۔

۶۹:‏ ۳۴۔ ۳۶ لیکن اسرائیل کا انجام کیا ہو گا؟آخری تین آیات میں اُس کے درخشاں مستقبل کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ گو عارضی طور پر اِسرائیل کو علیٰحدہ کیا گیا‏، لیکن اُس کی برکتوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ جب وہ اُس پر نگاہ کریں گے جسے اُنہوں نے چھیدا تھا اور اُس پر ایسے ماتم کریں گے جیسے کوئی اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے ماتم کرتا ہے اور جب وہ کہیں گے ’’مبارک ہے جو خداوند کے نام سے آتا ہے‘‘ تو خدا صیون کو بچائے گا اور یہوداہ کے شہروں کو نئے سرے سے بنائے گا۔ اب وہ قوموں میں مزید پراگندہ نہیں رہیں گے۔ اُس کے خادم اُس ملک میں بسیں گے اور اُن کی نسل بھی اُس کی مالک ہو گی۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا مجھکو بچا لے۔ کیونکہ پانی میری جان تک آ بہنچا ہے۔
۲ میَں گہری دلدل میں دھسا جاتا ہوں جہاں کھڑا نہیں رہا جاتا۔ میَں گہرے پانی میں آپڑا ہوُں جہاں سَیلاب میرے سر پر سے گُذرتے ہیں۔
۳ میَں چِلاّتے چِلاّتے تھک گیا۔ میرا گلا سُوکھ گیا۔میری آنکھیں اپنے خُدا کے اِنتظار میں پتھرا گئیِں۔
۴ مجھ سے بے سبب عداوت رکھنے والے میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں۔ میری ہلاکت کے خواہاں اور نا حق دُشمن زبردست ہیں پس جو میَں نے چھینا نہیں مجھے دینا پڑا۔
۵ اَے خُدا! تُو میری حماقت سے واقِف ہےاور میرے گُناہ تجھ سے پوشیِدہ نہیں ہیں۔
۶ اَے خُداوند لشکروں کے خُدا! تیری آس رکھنے والے میرے سبب سے شرمِندہ نہ ہوں۔اَے اِسرؔائیل کے خُدا! تیرے طالب میرے سبب سے رُسوا نہ ہوں۔
۷ کیونکہ تیرے نام کی خاطر میَں نے ملامت اُٹھائی ہے۔ شرمِندگی میرے مُنہ پر چھا گئی ہے۔
۸ میَں اپنے بھائیوں کے نزدیک بیَگانہ بنا ہوں اور اپنی ماں کے فرزندوں کے نزدیک اجنبی
۹ کیونکہ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا گئی اور تجھکو ملامت کرنے کی ملامتیں مجھ پر آپڑیں۔
۱۰ میرے روزہ رکھنے سے میری جان نے زاری کی اور یہ بھی ملامت کا باعث ہؤا۔
۱۱ تُو اُنکے لئے ضربُ المثل ٹھہرا۔
۱۲ پھاٹک پر بیَٹھنے والوں میں میرا ہی ذِکر رہتا ہے۔اور میَں نشہ بازوں کا گیت ہوں۔
۱۳ لیکن اَے خُدا تیری خُوشنودی کے وقت میری دُعا تجھ سے ہے۔ اَے خُدا ! اپنی شفقت کی فراوانی سے اپنی نجات کی سچّائی میں جواب دے۔
۱۴ مجھے دلدل میں سے نِکال لے اور دھسنے نہ دے۔ مجھ سے عداوت رکھنے والوں اور گہرے پانی سے مجھے بچالے۔
۱۵ میَں سیَلاب میں ڈوب نہ جاؤں اور گہراؤ مجھے نِگل نہ لے۔اور پاتال مجھ پر اپنا مُنہ بند نہ کر لے۔
۱۶ اَے خُدا! مجھے جواب دے کیونکہ تیری شفقت خُوب ہے۔ اپنی رحمتوں کی کثرت کے مُطابِق میری طرف مُتوجِّہ ہو۔
۱۷ اپنے بندہ سے روپوشی نہ کر کیونکہ میں مُصیبت میں ہوں۔جلد مجھے جواب دے۔
۱۸ میری جان کے آس پاس آکر اُسے چھُڑالے۔ میرے دُشمنوں کے رُوبروُ میرا فِدیہ دے۔
۱۹ تُو میری ملامت اور شرمندگی اور رُسوائی سے واقف ہے۔ میرے دُشمن سب کے سب تیرے سامنے ہیں۔
۲۰ ملامت نے میرا دِل توڑ دِیا۔ میَں بُہت اُداس ہوُں اور میَں اِسی انتظار میں رہا کہ کوئی ترس کھائے پر کوئے نہ تھا اور تسلی دینے والوں کا مُنتظِر رہا پر کوئی نہ مِلا۔
۲۱ اُنہوں نے مجھے کھانے کو اِندراین بھی دِیا اور میری پیاس بُجھانے کو اُنہوں نے مجھے سِرکہ پِلایا۔۔
۲۲ اُنکا دستر خوان اُنکے لئے پھندا ہو جائے۔ اور جب وہ امن سے ہوں تو جال بن جائے۔
۲۳ اُنکی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں اور اُن کی کمریں ہمیشہ کانپتی رہیں۔
۲۴ اپنا غضب اُن پر اُنڈیل دے اور تیرا شدید قہر اُن پر آپڑے۔
۲۵ اُنکا مسکن اُجڑ جائے۔ اُنکے خیموں میں کوئی نہ بسے۔
۲۶ کیونکہ وہ اُسکو جِسے تُو نے مارا ہے ستاتے ہیں۔ اور جِنکو تُو نے زخمی کیا ہے اُنکے دُکھ کا چرچا کرتے ہیں۔
۲۷ اُنکے گُناہ پر گُناہ بڑھا اور وہ تیری صداقت میں داخل نہ ہوں۔
۲۸ اُنکے نام کِتابِ حیات سے مِٹا دِئے جائیں۔ اور صادِقوں کے ساتھ مندرج نہ ہوں۔
۲۹ لیکن میَں تو غریب اور غمگین ہوُں اَے خُدا! تیری نجات مجھے سبُلند کرے۔
۳۰ میَں گیت گا کر خُدا کے نام کی تعریف کرونگا اور شُکر گُذاری کے ساتھ اُسکی تمجید کرونگا۔
۳۱ یہ خُداوند کوبَیل سے زیادہ پسند ہوگا بلکہ سیِنگ اور کھُر والے بچھڑے سے زیادہ۔
۳۲ حلیم اِسے دیکھکر خُوش ہوئے ہیں۔ اَے خُدا کے طالِبو! تُمہارے دِل زندہ رہیں۔
۳۳ کیونکہ خُداوند مُحتاجوں کی سُنتا ہے اور اپنے قَیدیوں کو حقیر نہیں جانتا۔
۳۴ آسمان اور زمین اُسکی تعریف کریں اور سُمندر اور جو کچھ اُن میں چلتا پھرتا ہے ۔
۳۵ کیونکہ خُدا صِیؔوُن کو بچائیگااور یہوُؔداہ کے شہروں کو بنائیگا اور وہاں بسینگے اور اُسکے وارِث ہونگے۔
۳۶ اُسکے بندوں کی نسل بھی اُسکی مالِک ہوگی اور اُسکے نام سے مُحبت رکھنے والے اُس میں بسینگے۔