زبور ۱۱۳: بہت ہی عظیم، لیکن پُرفضل
۱۱۳: ۱۔۶ پہلی پانچ آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ خدا لامحدود طور پر بلند و بالا ہے۔ اور آخری چار آیات میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ بہت قریب ہے۔
ہمارا خدا لامحدود طور پر بلند و بالا ہے۔ اِس لئے وہ حمد کے لائق ہے۔
| کن سے؟ | اپنے تمام بندوں سے (آیت ۱) |
| کیسے ؟ | اُس کے نام کو مبارک باد کہنے سے جس کا مطلب ہے کہ اُن سبباتوں کے لئے شکرگزاری کرنے سے کہ وہ کیا ہے (آیت ۲ الف)۔ |
| کتنی دفعہ ؟ | مسلسل۔ اب سے ابد تک (آیت ۲ب)۔ |
| کہاں ؟ | ہر جگہ ۔۔ طلوعِ آفتاب کی سرزمین سے لے کر غروبِ آفتاب کی سرزمین تک (آیت ۴)۔ |
| کس لئے؟ | اُس کی عظمت کے لئے۔ وہ سب قوموں پر بلند و بالا ہے۔ اُس کاجلال آسمان سے برتر ہے (آیت ۴)۔ اُس کی انفرادیت کے لئے۔ کوئی اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ عالمِ بالا پر تخت نشین ہے (آیت ۵)۔ اُس کی عالمگیر بصارت کے لئے۔ آسمان اور زمین پر کوئی ایسی چیز نہیں جو اُس سے چھپی ہو (آیت ۶)۔ متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آسمان و زمین پر نظر کرنے کے لئے اُسے اپنے آپ کو فروتن کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ |
لیکن اُس کے نام کی تعریف ہو کہ اگرچہ وہ لامحدود طور پر بلند و بالا ہے، تو بھی وہ قریب ہے۔
۱۱۳: ۷۔۹ مسکین کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اُنہیں خاک سے اُٹھا لیتا ہے!
محتاج کو بھی معلوم ہونا چاہئے! وہ اُن کو پست حالی سے اُٹھاتا اور اُمرا کے ساتھ بٹھاتا ہے، یعنی اُن لوگوں کے ساتھ جو دنیا میں اعلیٰ طبقے کے لوگ کہلاتے ہیں۔
بانجھ کو بھی معلوم ہونا چاہئے! وہ اُسے گھر عطا کرتا ہے اور اُسے بچوں والی بنا کر دلشاد کرتا ہے۔ یہودی عورتوں میں بانجھ پن ایک بہت بڑی لعنت متصور کی جاتی تھی۔ اِس لعنت سے رہائی بہت ہی خوشی کا موقع ہوتی تھی۔
متن کا اطلاق
مَیں مسکین تھا، لیکن مسیح پر ایمان کے وسیلے سے مَیں روحانی لحاظ سے بہت زیادہ امیر ہو گیا ہوں۔
مَیں محتاج تھا، لیکن خداوند یسوع نے اِس گداگر کو مزبلہ پر سے اُٹھایا اور اُسے محبت کرنے والے مسیحی بہن بھائی دیئے۔ یہ ایک ایسی رفاقت ہے جو دنیا کی ہر ایک نعمت سے بڑھ کر ہے۔
مَیں بانجھ تھا۔ خدا کے لئے میری زندگی میں کوئی پھل نہیں تھا، لیکن اُس نے مجھے بے پھل اور ویران وجود سے اُٹھا کر پُرمقصد اور پھل دار زندگی عطا کی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مَیں زبور نویس کا ہم نوا ہو کر گاتا ہوں کہ خداوند کی حمد کرو۔
مقدس کتاب
۱ اے خدا کے بندو ! خدا کی حمد کرو ! اُس کی ستائش کرو ۔ خدا وند کے نام کی مدح سرائی کرو ۔
۲ خدا وند کے نام کی ستائش اب اور ابد تک ہو ،یہ میری آرزو ہے ۔
۳ آفتاب کے طلوع سے غُروب تک خدا وند کے نام کی ستائش ہو ! یہ میری آرزو ہے
۴ خدا وند سبھی قوموں سے اونچا ہے ۔ اُس کا جلال آسمانوں تک اٹھتا ہے ۔
۵ ہمارے خدا وند کی مانند کو ئی بھی شخص نہیں ہے ۔ خدا عالمِ بالا پر تخت نشیں ہے ۔
۶ تا کہ خدا آسمان اور نیچے زمین کو دیکھ پا ئے ۔
۷ خدا غریبوں کو غبار سے اٹھا تا ہے ، اور فقیروں کو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے اٹھا تا ہے ۔
۸ خدا انہیں اہم بنا تا ہے ۔ خدا ان لوگوں کو بہت اہم رہنما بناتا ہے ۔
۹ وہ بانجھ بیوی کو بچّے دیتا ہے اور شادماں رہنے دیتا ہے ۔ خدا وند کی ستائش کرو ۔