زبور ۱۱۲ : راست بازوں کا اجر
۱۱۲: ۱ گذشتہ زبور اور اِس زبور میں ترتیب (اس زبور کی آیات بھی ترتیب وار حروفِ تہجی سے شروع ہوتی ہیں) اور روحانی تعلیم کے لحاظ سے آپس میں گہرا تعلق ہے۔ جہاں سے زبور ۱۱۱ میں بات ختم ہوئی، وہیں سے زبور ۱۱۲ بات کا آغاز کرتا ہے ۔۔ یعنی اِس سے کہ خداوند کا خوف دانائی کا شروع ہے۔ اِس سے پہلے زبور میں خداوند کے متعلق جو باتیں کہی گئیں ، اُن کا اِس زبور میں دیندار شخص پر اطلاق ہوتا ہے۔ زبور ۱۱۱ میں آفتابِ صداقت اپنے پورے جلال میں چمکتا ہے، جبکہ یہاں ہم ایماندار کو چاند کی صورت میں دیکھتے ہیں جو اُس جلال کو منعکس کرتا ہے۔ خداوند کے جلال کو روح القدس کے وسیلے سے دیکھنے سے ایماندار اُسی جلال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
’’خداوند کی حمد کرو‘‘ بہت دفعہ زبور نویس اِن الفاظ سے اپنی خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ اِس میں اُس نے ہمارے لئے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔
مبارک شخص کون ہے؟ وہ جو خداوند کی تعظیم کرتا ہے، جو اُس کے حکموں میں خوب مسرور رہتا اور اُن پر عمل کرنے سے اِس بات کا ثبوت دیتا ہے۔ وہ دینداری کی عملی زندگی سے جاری ہونے والے حاصل سے مستفید ہوتا ہے۔ مثلاً :
۱۱۲ : ۲ ممتاز نسل۔ اُس کی نسل کو باوقار اور زور آور مقام حاصل ہو گا۔ وہ اپنی دینداری کی میراث کے باعث عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔ ممکن ہے کہ وہ مادی لحاظ سے امیر نہ ہوں، لیکن اُنہیں روحانی برکتیں ضرور ملیں گی۔
۱۱۲ : ۳ مبارک حالی۔ عموماً یہ حقیقت ہے کہ خداوند کے کلام کی فرماں برداری لوگوں کو بدحالی اور غربت سے بچاتی ہے۔ ایمان دار کی راست بازی یعنی اُس کی دینداری، جاں فشانی اور کفایت شعاری کے فوائد آنے والی نسلوں کو بھی حاصل ہوں گے۔
۱۱۲ : ۴ منور ہونے کی یقین دہانی۔ تاریکی سے تحفظ کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی، لیکن ایک وعدہ کیا گیا ہے کہ نور تاریکی میں چمکے گا۔ زندگی کے تمام تاریک ایام میں خداوند ظاہر کرتا ہے کہ وہ رحیم و کریم اور صادق ہے۔
۱۱۲: ۵، ۶ فیاضی۔ جو شخص فیاض ہے اور لوگوں کی جائز ضروریات کے لئے اُنہیں قرض دیتا ہے، اُس کے حالات ساز گار رہیں گے۔ ایسا شخص راستی سے اپنا کاروبار کرے گا۔ اُس کی زندگی ایک پائیدار بنیاد پر قائم ہوئی ہے اور اِس دنیا سے چلے جانے کے بعد عرصہ دراز تک لوگ اُسے یاد کرتے رہیں گے۔
۱۱۲: ۷ خوف سے آزادی۔ وہ اب مستقل خوف، خدشات اور بُری خبروں سے بالکل آزاد ہے۔ اُس کا توکل خدا پر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے۔
۱۱۲ : ۸ حملے کے وقت پُراعتماد۔ اُس کے دشمن اُس کے سکون کو برباد نہیں کر سکیں گے۔ وہ پُراعتماد ہے کہ گو وہ وقتی طور پر حاوی نظر آئیں، تاہم اُن کا زوال یقینی ہے اور وہ کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔
۱۱۲ : ۹ دیرپا خوش حالی اور عزت۔ چونکہ وہ فیاض رہا ہے، اِس لئے غریبوں پر اُس کی رحم دلی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اُسے ندامت کی کیفیت میں اپنی عزت کا ڈھول خود پیٹنا نہیں پڑے گا۔ بلکہ لوگ اُس کی تحسین کے نعرے لگائیں گے۔ پولس رسول اِس آیت کا ۲۔کرنتھیوں ۹:۹ میں اقتباس کرتے ہوئے فیاضی کے دیرپا فوائد کو ظاہر کرتا ہے۔
۱۱۲ : ۱۰ شریر کا حسد۔ جب شریر دیکھیں گے کہ راست باز کو دائمی عزت و وقار ملا ہے تو وہ جل جائیں گے۔ وہ غصہ میں دانت پیسیں گے اور اِس کے بعد اُن کا وجود ختم ہو جائے گا۔ جس حصول کے لئے وہ زندہ رہے وہ بھی اُن کے ساتھ تباہ ہو جائے گا۔
جو کچھ اِس زبور میں راست بازوں کی حالت کے بارے میں کہا گیا ہے وہ بالکل فرق ہے۔ اُنہیں خوش حالی حاصل ہو گی اور وہ مسرور ہوں گے، وہ اپنے منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکیں گے۔ زندگی کے دوران اور موت کے بعد اُن کی عزت ہو گی۔ تاریک لمحات میں بھی خداوند اُن کی مدد کرے گا۔ وہ مصیبت اور خطرات کے وقت بھی پُرسکون ہوں گے۔ وہ خداوند پر تکیہ کریں گے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ یقیناًخدا کا دوست ہونا سود مند ہے۔ (بارنز)
مقدس کتاب
۱ خُداوند کی حمد کرو۔ مُبارک ہے وہ آدمی جو خُداوند سے ڈرتا ہے۔ اور اُسکے حُکموں میں خوُب مسرور رہتا ہے۔
۲ اُسکی نسل زمین پر زورآور ہو گی۔ راستبازوں کی اولاد مُبارِک ہو گی۔
۳ ما ل و دولت اُسکے گھر میں ہے۔ اور اُسکی صداقت ابد تک قائم ہے۔
۴ راستبازوں کے لئے تاریکی میں نُور چمکتا ہے۔وہ رحیم و کریم اور صادق ہے۔
۵ رحمدل اور قرض دینے والا آدمی سعادتمند ہے۔ وہ اپنا کاروبار راستی سے کریگا۔
۶ اُسے کبھی جُنبش نہ ہو گی۔ صادق کی یادگار ہمیشہ رہیگی۔
۷ وہ بُری خبر سے نہ ڈریگا۔ خُداوند پر توکل کرنے سے اُسکا دل قائم ہے۔
۸ اُسکا دِل برقرار ہے۔ وہ ڈرنے کا نہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مُخالفوں کو دیکھ لیگا۔
۹ اُس نے بانٹا اور محتاجوں کو دیا۔ اُسکی صداقت ہمیشہ قائم رہیگی۔ اُسکا سینگ عزت کے ساتھ بُلند کیا جائیگا۔
۱۰ شریر یہ دیکھیگا اور کُڑھیگا۔ وہ دانت پیسیگا اور گھُلیگا۔ شریر کی مُراد نابود ہو گی۔