زبُور ۵۱

زبور ۵۱ :‏ توبہ کی اعلیٰ خوشبو

اِلٰہی محبت گناہ کی گندگی سے توبہ اور شکرگزاری کی اعلیٰ خوشبو نکال سکتی ہے۔ اِس کی ایک مثال زبور ۵۱ میں ہے۔ جیسا کہ عنوان میں وضاحت کی گئی ہے‏، یہ اُس وقت لکھا گیا جب ناتن نبی نے بڑی دلیری سے اُس پر واضح کیا تھا کہ اُس نے بت سبع کے ساتھ زناکاری کی ہے اور اُس نے حتی اوریاہ کو قتل کروایا ہے۔ گناہ سے پورے طور پر قائل ہو کر داؤد نے اپنے شکستہ دل سے توبہ کے یہ جذبات تحریری صورت میں پیش کئے۔ ہم اِس اقرار کا سلیس زبان میں بیان کریں گے:‏

۵۱:‏ ۱ ’’اے خدا ! … رحم کر۔‘‘ مَیں تیرے رحم کا طلب گار ہوں۔ مَیں سزا کا مستحق ہوں۔ لیکن تُو شفقت کا خدا ہے اور اِس بنا پر مَیں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ مجھ سے وہ سلوک نہ کر جس کا مَیں مستحق ہوں۔ تیری رحمتیں تو بہت زیادہ ہیں اور اِس بنا پر مَیں دلیری سے تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ مَیں نے تیری شریعت کی جو خلاف ورزیاں کی ہیں‏، اُنہیں مٹا دے۔

۵۱:‏ ۲ مَیں جہاں جہاں بھی تیری راہ سے گمراہ ہوا ہوں‏، مجھے اِس گناہ سے پورے طور پر دھو ڈال اور جن ناقابل برداشت طریقوں سے مَیں نے خطا کی ہے‏، اُن سے مجھے دھو ڈال۔

۵۱:‏ ۳ اے میرے خدا! مَیں علانیہ طور پر تسلیم کرتا ہوں کہ مَیں نے تیری شریعت کو توڑا ہے‏، میرا گناہ علانیہ تھا اور میری توبہ بھی علانیہ ہے۔ میرے گناہ کا احساسِ جرم دن رات میرے ذہن پر مسلط ہے اور مَیں مزید اِس کی برداشت نہیں کر سکتا۔

۵۱:‏ ۴ لیکن اب مَیں واضح طور پر دیکھتا ہوں کہ مَیں نے صرف اور صرف تیرے خلاف گناہ کیا ہے۔ بے شک مَیں نے بت سبع اور اُس کے وفادار خاوند کے خلاف بھی گناہ کیا — اُس بہادر جرنیل کے خلاف میری فریب دہی کے لئے مجھے معاف کر — لیکن مَیں جانتا ہوں کہ ہر طرح کا گناہ بنیادی طور پر تیرے خلاف ہے۔ تیری شریعت کو توڑا گیا ہے۔ تیری مرضی کی حقارت کی گئی ہے۔ تیرے نام کی بے عزتی ہوئی ہے۔ چنانچہ مَیں اپنے خلاف تیرے ساتھ ہوں۔ تُو جو سزا بھی دینا چاہے اُس میں حق بجانب ہے اور تیرے فیصلوں کو کوئی بھی غلط قرار نہیں دے سکتا۔ 

۵۱:‏ ۵ اے خداوند! مَیں اچھا نہیں ہوں۔ مَیں گناہ میں پیدا ہوا۔ اور مزید پیچھے جاتے ہوئے مَیں یہ کہوں گا کہ مَیں گناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا۔ یہ کہتے ہوئے میرا یہ مطلب نہیں کہ مَیں اپنی ماں کو شرمسار کرنا چاہتا ہوں یا مَیں اپنے جرم کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مَیں نے نہ صرف گناہ کئے ہیں بلکہ مَیں اپنی فطرت کے لحاظ سے گناہ گار ہوں۔

۵۱:‏ ۶ لیکن تُو گناہ سے نفرت کرتا اور انسان کے باطن کی سچائی کو پسند کرتا ہے‏، چنانچہ اب مَیں تیرے پاس آتا اور تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ تُو میرے باطن میں مجھے حکمت سکھا۔

۵۱:‏ ۷ تُو نے سکھایا کہ کوڑھی کو پاک صاف کرنے کے لئے زُوفے اور بہتے پانی کو استعمال کیا جائے (‏ احبار ۱۴:‏ ۱۔۸)‏۔ خداوند! مَیں اخلاقی طور پر کوڑھی ہوں۔ ’’زوفے سے مجھے صاف کر تو مَیں پاک ہوں گا۔ مجھے دھو اور مَیں برف سے زیادہ سفید ہوں گا۔‘‘

۵۱:‏ ۸ جب مَیں نے گناہ کیا تو میرا خوشی کا گیت ختم ہو گیا۔ ایک طویل عرصہ سے مَیں حقیقی شادمانی اور خوشی سے ناواقف ہوں۔ مَیں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ ایک بار پھر مجھے شادمانی کی موسیقی سننے دے۔ میری برگشتگی کی حالت میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ تُو نے میری ہڈیاں توڑ کر مجھے اپاہج بنا دیا ہے۔ مَیں مُقدّس تہواروں میں تیری حضوری میں ناچ نہیں سکتا تھا۔ میری اِن ٹوٹی ہڈیوں کو جوڑ دے تاکہ مَیں تیرے لوگوں کے ساتھ ناچتے ہوئے تیرے نام کی مدح سرائی کروں۔

۵۱:‏ ۹ اے میرے خدا! مَیں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ میرے گناہوں پر عدالت اور سزا کے حوالے سے نہ دیکھ اور اُن سے اپنا منہ پھیر لے۔ میری بدکاریوں کا آخری نام و نشان بھی مٹا دے۔ جب بھی مَیں اُن کے بارے میں سوچتا ہوں میرے جسم میں ٹیسیں اُٹھتی ہیں۔

۵۱:‏ ۱۰ جب مَیں گذشتہ ایام پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مَیں محسوس کرتا ہوں کہ ساری مصیبت کا آغاز میرے دل سے ہوا۔ میری زندگی کے خیالات آلودہ تھے۔ مَیں نے بُرے خیالات کی آؤ بھگت کی جس کے نتیجے میں مَیں نے آخر کار گناہ کا ارتکاب کیا۔ چنانچہ اب مَیں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ تو مجھ میں پاک دل پیدا کر۔ مَیں جانتا ہوں کہ اگر چشمہ صاف ہے تو اُس میں سے بہنے والی ندی بھی صاف ہو گی۔ اے خداوند! میرے باطن کو کلی طور پر نیا بنا دے تاکہ یہ مستقبل میں گناہوں کے ارتکاب سے تحفظ کے لئے مستحکم ہو۔

۵۱:‏ ۱۱ اے خداوند! مجھے چھوڑ نہ دینا اور نہ مجھے اپنی حضوری سے خارج کر دینا۔ مَیں تو اِس تصور کو برداشت بھی نہیں کر سکتا کہ تُو مجھ سے دُور ہو جائے یا تیرا پاک روح مجھ سے جدا ہو جائے۔ جس زمانہ میں مَیں رہتا ہوں‏، اِس میں تُو اُن لوگوں سے جو تیری نافرمانی کرتے ہیں‏، اپنے پاک روح کو جدا کر دیتا ہے۔ تُو نے ساؤل سے ایسا کیا (‏۱۔سموئیل ۱۶:‏ ۱۴)‏۔ مَیں تو اُن کے نتائج کا سوچ کر تھرتھرا اُٹھتا ہوں۔ اے خداوند! از راہِ کرم مجھے اِس انجام سے بچا لے۔

۵۱:‏ ۱۲ جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا‏، میرا خوشی کا گیت ختم ہو گیا ہے۔ میری روح تو نہیں بلکہ میرا گیت۔ تیری نجات ختم نہیں ہوئی بلکہ تیری نجات کی شادمانی۔ چونکہ اب مَیں تیرے پاس توبہ‏، اقرار اور ترکِ گناہ کے ساتھ آتا ہوں‏، مَیں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ جو تار ٹوٹ چکے تھے‏، اب پھر سے اُن میں ارتعاش پیدا ہو جائے۔ مَیں صرف یہی دعا نہیں کرتا کہ تُو پھر سے مجھے اپنی نجات کی شادمانی عطا کر‏، بلکہ تُو مجھے اپنی مستعد روح سے بھی سنبھال لے۔ دوسرے لفظوں میں میری یہ خواہش ہے کہ تیری پاک روح مجھے توفیق دے کہ مَیں تیری فرماں برداری کروں اور سب باتوں میں تجھے خوش کروں۔ تب مَیں راست بازی کی راہوں پر قائم رہوں گا۔

۵۱:‏ ۱۳ میری معافی کا ایک نتیجہ یہ ہو گا کہ مَیں بڑے جوش و خروش سے دوسرے خطاکاروں کو تیری گواہی دوں گا اور اُنہیں معافی اور اطمینان کی تیری راہیں سکھاؤں گا۔ جب وہ سنیں گے کہ تُو نے میرے لئے کیا کیا ہے تو وہ بھی تیری طرف رجوع کرنا چاہیں گے۔ 

۵۱:‏ ۱۴ اے خدا! اگر تُو مجھے خون کے جرم سے چھڑائے‏، تو مَیں ساری دنیا کو تیری دی ہوئی مخلصی کی گواہی دوں گا۔ اے میرے نجات بخش خدا! اوریاہ کے قتل کے گناہ کا احساسِ جرم مجھ پر بہت گراں ہے۔ اِس گناہ کو مٹا ڈال تو مَیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تیری تعریف کروں گا۔

۵۱:‏ ۱۵ میرے گناہ کی وجہ سے میرے ہونٹ بند ہو چکے ہیں۔ اپنی معافی سے اِنہیں کھول دے اور میرے منہ سے صرف تیری باتیں اور ستائش نکلے گی۔

۵۱:‏ ۱۶‏،۱۷ اے خداوند! مَیں معافی کے لئے رسومات پر بھروسا نہیں کرتا۔ مَیں جانتا ہوں کہ تُو رسومات پرست نہیں ہے۔ اگر میرا یہ خیال ہوتا کہ تُو جانوروں کی قربانی مانگتا ہے تو مَیں یہ قربانی لاتا۔ لیکن سوختنی قربانیاں تیرے دل کو خوش نہیں کرتیں۔ یہ سچ ہے کہ تُو نے قربانیوں اور نذروں کو مقرر کیا‏، لیکن تُو نے کبھی بھی اُنہیں حتمی آئیڈیل متصور نہیں کیا۔ چنانچہ مَیں تیرے پاس شکستہ روح سے آتا ہوں۔ یہی وہ قربانی ہے جسے تُو پسند کرتا ہے۔ تُو اِس شکستہ اور خستہ دل کو جسے مَیں تیرے پاس لاتا ہوں‏، حقیر نہ جانے گا۔

۵۱:‏ ۱۸ اور اب اے خداوند! مَیں تیرے برگزیدہ لوگوں اور اپنے لئے دعا کرنا چاہتا ہوں۔ مہربانی کرکے اُن سے بھلائی کر۔ یروشلیم کی فصیل کو از سرنو تعمیر کر۔ بلاشبہ میرے گناہوں کی وجہ سے تیرے کام میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ حائل ہوئی ہے۔ مَیں نے تیرے نام کی تذلیل کی ہے۔ اب تیرا کام بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھے۔

۵۱:‏ ۱۹ جب ہم سب اپنے گناہوں کا اقرار کرتے اور اُنہیں ترک کرتے ہوئے تیرے ساتھ رفاقت رکھیں‏، تب تُو ہماری صداقت کی قربانیوں سے خوش ہو گا۔ جن قربانیوں سے تیری ذات سے کلی طور پر خلوص ظاہر ہوتا ہے‏، اُن سے تیرا دل خوش ہو گا۔ ہم تیرے مذبح پر بچھڑے چڑھائیں گے— یعنی خدا کی شکر گزاری کے طور پر جو گناہ اور بدی کو معاف کرتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا ! اپنی شفقت کے ُمُطابق مجھ پر رحم کر۔اپنی رحمت کی کژت کے مطُابق میر ی خطائیں مِٹادے
۲ میری بدی کو مجھُ سے دھو ڈال اور میرے گُنا ہ سے مجھُے پاک کر۔
۳ کیونکہ مَیں اپنی خطاؤںکو مانتا ہُوں ۔ اور میر ا گُناہ ہمیشہ میر ے سا منے ہے ۔
۴ مِیں نے فقط تیر ا ہی گنا ہ کیا ہے ۔ اور وہ کا م کیا ہے جو تیر ی نظر میں برُا ہے ۔ تاکہ تُو اپنی با تو ں میں راست ٹھہرے ۔ اور اپنی عدالت میں بے عیَب رہے ۔
۵ دیکھ ! میں نے بدی میں کی صُورت پکڑی اور گناُ ہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا ۔
۶ دیکھ تُو باطنِ کی سچائی پسند کرتا ہے ۔ اور باطِن میں مجھے ہی دانائی سکھاِ ئے گا۔
۷ زُوفے سے مُجھے صاف کر تُو مُیں ہو نگا۔ مجھے دھو اور بر ف سے زیادہ سفید ہُو گا ۔
۸ مُجھے خوشی اور خُر می کی خبر سُنا تاکہ وہ ہڈیاں جو تونے توڑڈالی ہیں شادمان ہو ں ۔
۹ میر ے گناہو ں کی طرف سے اپنا منہ پھیر ے ۔ اور میر ی سب بدکاریاں مِٹا ڈال ۔
۱۰ اَے خُدا ! میر ے اندرپاک دل پید ا کر اور میر ے باطنِ میں ازسر ِ نو مسُتقیمِ روُح ڈال ۔
۱۱ مجھے ُ اپنے حضور سے خارج نہ کر ۔ اور اپنی روُح کو مجھ سے جُدا نہ کر ۔
۱۲ اُپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر اور مسُتعدرُوح سے مجھے سنبھال ۔
۱۳ تب میَں خطاکاروں کو تیری راہیں سَکھاؤ نگا اور گہُنگار تیر ی طرف رُجوع کرینگے ۔
۱۴ اُے خُدا !اُے میرے نجات بخش خُدامجھے خُو ن کے جُرم سے چُھڑا۔ تو میر ی زبان تیری صداقت کا گیت گا یئگی۔
۱۵ اَے خُداوند !میرے ہونٹوں کو کھول دےتو میرے منُہ سے تیری سِتائش نِکلیگی۔
۱۶ کیونکہ قُربانی میں تیری خُوشنو ُدی نہیں ورنہ میُں دیتا ۔ سو ختنی قُربانی سے تجھے کُچھ خُشی نہیں۔
۱۷ شکِستہ روُح خُدا کی قُربانی ہے۔ اَے خُدا تُو شِکستہ اور خستہ دِل ھقِیر نہ جانیگا۔
۱۸ اپنے کرم سے صِیوُن کے ساتھ بھلائی کر۔ یروشلیم کی فصِیل کو تعمیر کر۔
۱۹ تب تُو صداقت کی قُربانیوں اور سوختنی قُرنانی اور پوُری سوختنی قُربانی سے خُوش ہو گا اور وہ تیرے مذبح پر بچھڑے چڑھائینگے۔