زبور ۸: انسان کیا ہے؟
خدا بیان سے باہر ایک عظیم خدا ہے۔ اُس کے مقابلے میں انسان تو بہت ہی کمتر مخلوق ہے۔ لیکن اِس کے باوجود خدا نے انسان کو بہت زیادہ عزت اور حشمت بخشی ہے۔ اِس حقیقت کے عجائب کو بیان کرنے میں داؤد حیران و ششدر رہ جاتا ہے۔
۸: ۱ خدا کا جلال ساری کائنات میں ظاہر ہوتا ہے۔ فطری سائنس کا ہر ایک شعبہ خالقِ کائنات کی حکمت اور قدرت کے شواہد فراہم کرتا ہے۔ خدا کا جلال تو آسمانوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ سیارے، ستارے اور لامحدود کائنات تو محض عظیم خدا کے جزوی منظر کو پیش کرتے ہیں۔ افسوس کہ جدید دَور کے بہت سے لوگ اِس شہادت پر شک ظاہر کرتے ہیں کہ گویا اِس کا کوئی وجود نہیں۔
۸: ۲ لیکن شیرخوار اپنے معصوم ایمان میں اپنے سادہ گیتوں سے خدا کی عظمت کو بیان کرتے ہیں۔ خدا نے یہ باتیں عقل مندوں اور داناؤں سے چھپائیں، لیکن اُنہیں شیرخواروں پر ظاہر کیا (متی ۱۱: ۲۵)۔
خواہ بچوں سے لغوی طور پر بچے مراد ہیں یا خداوند کے شاگرد، جن کا اُس پر بچوں کا سا ایمان ہے، ہمیں اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ خداوند کے دشمنوں کو خاموش کر سکتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ اپنے معصوم سوال یا معصوم مشاہدہ سے خدا کے کسی دشمن کو لاجواب کر دیتے ہیں۔ جیسے ایک چھوٹی سی سوئی بہت بڑے غبارے کو پھاڑ کر اُس کی ہوا نکال دیتی ہے، ویسے ہی برہ کے یہ سادہ لوح شاگرد اُن لوگوں کے بلند بانگ دعوؤں کو ختم کر دیتے ہیں جو تخلیق اور پروردگاری میں خدا کے ہاتھ کو نہیں دیکھتے۔
۸: ۳ علمِ فلکیات کی نسبت کوئی اَور سائنس اِس قدر وضاحت سے خدا کی عظمت اور انسان کی کم مائیگی کو بیان نہیں کرتی۔ یہ بات کہ فاصلوں کا حساب نوری سالوں میں کیا جاتا ہے اِس حقیقت کی وضاحت کرتی ہے (وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے نوری سال کہلاتا ہے)۔ روشنی ایک سیکنڈ میں ۰۰۰’۱۸۶ میل سفر کرتی ہے اور ایک سال میں ۳ کروڑ ۱۵ لاکھ سیکنڈ ہوتے ہیں۔ چنانچہ روشنی ایک سال میں اندازاً ساٹھ کھرب میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ تاہم بعض ستارے زمین سے اربوں نوری سال دُور ہیں۔
جب رات کے وقت ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو اِس سے خدا کی عظمت کے لئے عظیم تصورات جنم لینے چاہئیں۔ چاند اور ستارے اُس کے ہاتھ کی کاریگری ہیں۔ جب ہم اَن گنت ستاروں پر نگاہ ڈالتے ہیں، کائنات میں بہت زیادہ فاصلوں کو دیکھتے ہیں اور غور کرتے ہیں کہ سیارے حسابی صحت کے ساتھ اپنے مدار میں رہتے ہیں تو ہمارا ذہن جلدی سے اپنی حدوں تک پہنچتا ہے۔
۸: ۴ کائنات میں ہماری زمین مٹی کا ایک ذرہ ہے۔ اگر اِس کا یہ حال ہے تو اِس زمین پر رہنے والے فردِ واحد کی کیا حیثیت ہو گی؟ لیکن اِس کے باوجود خدا ہر ایک فرد میں دلچسپی لیتا ہے! بنی نوع انسان میں سے ہر ایک فرد کے ساتھ اُس کا گہرا اور شخصی تعلق ہے۔
۸: ۵ خدا نے انسان کو اپنی شبیہ اور صورت پر پیدا کیا۔ گو انسان خدا سے کمتر ہے تاہم اُس میں خدا کی کئی صلاحیتیں ہیں جو زمین پر کسی اَور مخلوق میں نہیں ہیں۔ خدا نے تخلیق کی ہر ایک شے کو کہا ’’اچھا ہے‘‘ لیکن جب انسان کو پیدا کیا گیا تو اُس کے لئے کہا، ’’بہت اچھا ہے۔‘‘
۸: ۶۔۸ زمین پر خدا کے نمائندے کی حیثیت سے انسان کو تمام جانوروں، پرندوں، مچھلیوں اور رینگنے والے جانداروں پر حاکم ٹھہرایا گیا۔ کوئی ایسی شے نہیں تھی جو اُس کے ماتحت نہ کی گئی۔
لیکن عبرانیوں کا مصنف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دورِ حاضر میں انسان اِس غیرمتنازع حکمرانی سے لطف اندوز نہیں ہو رہا (عبرانیوں ۲: ۵۔۹)۔ کتے اُس پر بھونکتے ہیں، سانپ اُسے کاٹتے ہیں، پرندے اور مچھلیاں اُس کے پاس آنے سے گریز کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب آدم کے وسیلہ سے گناہ دُنیا میں داخل ہوا، تو انسان کا ادنیٰ تخلیق پر سے اختیار ختم ہو گیا۔
تاہم خدا کا ارادہ اب بھی قائم ہے۔ اُس نے حکم دیا تھا کہ انسان اِس دُنیا کو محکوم کرے اور کوئی شے بھی خدا کے مقصد میں حائل نہیں ہو سکتی۔ گو اِس وقت ہم نہیں دیکھتے کہ ہر ایک شے انسان کے تابع ہے، لیکن ہم یسوع کو دیکھتے ہیں یعنی اُس واحد شخصیت کو جس کے وسیلے سے آخرکار انسان کی حکومت بحال ہو جائے گی۔ جب مسیح زمین پر آیا تو وہ وقتی طور پر فرشتوں سے کچھ ہی کمتر تھا، تاکہ وہ انسان کی حیثیت سے نسل انسانی کے لئے اپنی جان دے سکے۔ لیکن اب اُسے خدا کے دہنے ہاتھ عزت اور جلال کا تاج پہنایا گیا ہے۔ کسی دن مسیح ابنِ آدم زمین پر واپس آئے گا اور بادشاہوں کے بادشاہ اور خداوندوں کے خدا کی حیثیت سے حکومت کرے گا۔ ہزار سالہ دَور میں وہ حکومت جو آدمِ اوّل سے چھن گئی، آدمِ ثانی کے وسیلہ سے بحال کر دی جائے گی۔
۸:۹ تب خدا کے مخلصی یافتہ لوگ نئی لگن سے یہ گیت گانے میں شامل ہوں گے، ’’اے خداوند ہمارے رب! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے!‘‘
مقدس کتاب
۱ اے خُداوند ہمارے رب! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے! تُو نے اپنا جلال آسمان پر قائم کیا ہے۔
۲ تُونے اپنے مخالفوں کے سبب سے بچوں اور شیر خواروں کے منہ سے قدرت کو قائم کیا تاکہ تُو دشمن اور اِنتقام لینے والے کو خاموش کردے۔
۳ جب میں تیرے آسمان پر جو تیری دستکاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جن کو تُو نے مقرر کیا غور کرتا ہوں۔
۴ تو پھر انسان کیا ہے کہ تُو اُسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تُو اُس کی خبر لے؟
۵ کیونکہ تُو نے اُسے خُدا سے کچھ ہی کمتر بنایا ہے اور جلال اور شوکت سے اُسے تاجدار کرتا ہے۔
۶ تُو نے اُسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا ہے۔ تُو نے سب کچھ اُس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔
۷ سب بھیڑ بکریاں گائے بَیل بلکہ سب جنگلی جانور
۸ ہوا کے پرندے اور سمندر کی مچھلیاں اور جو کچھ سمندروں کے راستوں میں چلتا پھرتا ہے۔
۹ اے خُداوند ہمارے رب ! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے!