زبُور ۶۵

زبور ۶۵:‏ فصل کی کٹائی کا گیت

زبور ۶۵ کو عموماً فصل کی کٹائی کا گیت سمجھا جاتا ہے‏، لیکن اِس کی پوری تکمیل خداوند کی دوسری آمد پر ہو گی۔

۶۵:‏۱ اسرائیل کی خدا سے جدائی کی طویل صدیوں کے دوران‏، صیون خدا کی تعریف کے لحاظ سے بنجر تھی۔ لیکن جب خدا کے قدیم لوگوں کے اُس کے ساتھ تعلقات بحال ہو جائیں گے تو وہاں تعریف اُس کی منتظر ہو گی۔ تب اِس کے لئے مانی ہوئی منتیں پوری کی جائیں گی۔ اِس کا مطلب اُس کی اپنی منت بھی ہو سکتا ہے کہ ہر ایک گھٹنا اُس کے سامنے جھکے گا (‏یسعیاہ ۴۵:‏ ۲۳)‏۔ اِس کا زبور ۲۲:‏۲۲ میں مسیح کی منت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے ’’جماعت میں تیری ستائش کروں گا۔‘‘ یا بڑی مصیبت کے دوران مصیبت زدہ بقیہ کی محبت‏، پرستش اور خدمت کی منت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔

۶۵:‏۲ گو آیت ۱ میں بنیادی طور پر اسرائیل کے بارے میں بات کی گئی ہے‏، لیکن یہاں مضمون وسعت اختیار کر جاتا ہے اور تمام بنی نوع انسان کو شامل کرتا ہے۔ خدا کو بہت اعلیٰ اور عظیم لقب سے یاد کیا جاتا ہے ’’اے دعا کے سننے والے!‘‘ خداوند پر ایمان لانے والی قومیں بڑے ایمان سے دعا کرتے ہوئے اُس پر توکل کریں گی۔

۶۵:‏ ۳ جونہی بنی اسرائیل اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں اُنہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اُن کی سب خطائیں معاف ہو چکی ہیں۔

۶۵:‏۴ دعا گو خدا کے گھر یعنی اُس کی مقدس ہیکل کی خوبی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں‏، لیکن بعض لوگ ہیکل کے حوالے کی بنا پر یہ کہتے ہیں کہ اِس زبور کا مصنف داؤد نہیں تھا کیونکہ اُس کی موت کے بعد ہیکل بنی تھی۔ لیکن یہ مشکل ختم ہو جاتی ہے جب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ بعض اوقات لفظ ’’ہیکل‘‘ سلیمانی ہیکل کی تعمیر سے قبل خیمہ اجتماع کے لئے استعمال کیا جاتا تھا (‏۱۔سموئیل ۱:‏ ۹‏، ۳:‏۳ ؛ ۲۔سموئیل ۲۲:‏ ۷)‏۔

۶۵:‏ ۵۔۷ دعاؤں کے جواب میں خداوند صداقت سے اُن کے دشمنوں سے خوف ناک سزاؤں کے ساتھ نپٹتا ہے۔ یوں وہ اپنے آپ کو اُن کی نجات اور انتہائے زمین و سمندر کے لوگوں کے اعتماد کی حیثیت سے ظاہر کرتا ہے۔ وہ کس قدر عظیم خدا ہے! وہ قدرت سے کمربستہ ہے۔ وہ اپنے اختیار اعلیٰ کے عمل سے پہاڑوں کو استحکام بخشتا ہے۔ سمندر کی موجوں کو موقوف کرنا اُس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں (‏مثلاً گلیل کی جھیل پر اُس نے موجوں کو موقوف کیا)‏۔ اور غیر قوموں کے ہنگاموں کو موقوف کرنا اُس کے لئے کوئی مشکل بات نہیں۔

۶۵:‏ ۸ عجب نہیں کہ جو معجزات خدا زمین کی انتہا کے رہنے والے بے دین لوگوں کے درمیان دکھاتا ہے‏، وہ اُن سے ڈرتے ہیں۔ عجب نہیں کہ طلوع و غروبِ آفتاب کے ممالک میں رہنے والے ایماندار شادمان ہوتے ہیں۔

۶۵:‏ ۹ آیات ۹۔۱۳ میں بیج بونے سے لے کر فصل کی کٹائی تک‏، فصل کی کٹائی کے سال کا بیان ہے۔ اِس کی پوری تکمیل ہزار سالہ بادشاہت کے وقت ہو گی‏، جب لعنت ختم ہو جائے گی اور وافر مقدار میں پیداوار ہو گی۔

موسمِ بہار خدا کی آمد کی مانند ہے۔ وہ بادلوں کے ذریعے بارش بھیجتا ہے اور جب زمین تیار ہو جاتی ہے تو وہ بونے کے لئے بیج مہیا کرتا ہے۔

۶۵:‏ ۱۰ بیج اُگنے کے موسم میں ریگھاریاں سیراب ہوتی ہیں‏، یعنی بارشیں ڈھیلوں کو ختم کرکے زمین کو نرم کرتی ہے۔ بہت جلد وافر مقدار میں فصل پیدا ہوتی ہے۔

۶۵:‏ ۱۱۔۱۳ خدا پیداوار میں اپنی بھلائی سے برکت دیتا ہے۔ جہاں کہیں اُس کے قدم پڑے ہیں وہاں برکت کی ندیاں جاری ہوں گی۔ چراگاہوں میں کثرت سے چارا پیدا ہوتا ہے۔ چھوٹی پہاڑیوں پر ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ہے‏، گویا کہ وہ خوشی سے سرشار ہیں۔ چراگاہیں بھیڑوں کا لبادہ پہنے ہوئے ہیں اور ایسے لگتا ہے جیسے وہاں ریوڑوں کے جھنڈ پھیلے ہوں۔ وادیوں میں پکی ہوئی فصل مخصوص زیروبم سے لہلہاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تمام کائنات مسیح کے دَور کی آمد کی خوشی منا رہی ہو۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا! صِیوُؔن میں تعریف تیری مُنتظر ہے۔ اور تیرے لئے منّت پُوری کی جائیگی۔
۲ اَے دُعا کے سُننے والے! سب بشر تیرے پاس ٓئینگے۔
۳ بد اعمال مجھ پر غالب آجاتے ہیں پر ہماری خطاؤں کا کفّارہ تُو ہی دیگا۔
۴ مُبارِک ہے وہ آدی جِسے تُو برگزِیُدہ کرتا اور اپنے پاس آنے دیتا ہے۔تاکہ وہ تیری بارگاہوں میں رہےہم تیرے گھر کی خُوبی سے یعنی تیری مُقّدس ہیَکل سے آسودہ ہونگے۔
۵ اَے ہمارے نجات دینے والے خُدا! تُوجو زمین کے سب کناروں کا اور سُمندر پر دُور دُور رہنے والوں کا تکیہ ہے؟ خوُفناک باتوں کے ذریعہ سے تُو ہمیں صداقت سے جواب دیگا۔
۶ تُو قُدرت سے کمر بستہ ہو کر اپنی قُوت سے پہاڑوں کو اِستحکام بخشتا ہے۔
۷ تُو سُمندر کے اور اُسکی مَوجوں کے شور کواور اُمتوں کے ہنگامہ کو مَوقوُف کرےدیتا ہے۔
۸ زمین کی اِنتہا کے رہنے والے تیرے معُجزوں سے ڈرتے ہیں۔تُو مطلعِ صُبح کو اور شام کو شادمانی بخشتا ہے۔
۹ تُو زمین پر تُوجہ کر کے اُسے سیراب کرتا ہے۔ تُو اُسے خُوب مالامال کر دیتا ہے۔ خُدا کا دریا پانی سے بھرا ہے۔جب تُو زمین کو یوں تیار کر لیتا ہےتو اُنکے لِئے اناج مُہیا کرتا ہے۔
۱۰ تُو اُسکی ریگھاریوں کو خُوب سیراب کرتا اور اُسکی مینڈوں کو بِٹھا دیتا ہے۔ تُو اُسے بارِش سے نرم کرتا ہے اور اُسکی پَیداوار میں برکت دیتا ہے۔
۱۱ تُو سال اپنے لُطف کا تاج پہنانا ہے۔اور تیری راہوں سے رَوغن ٹپکتا ہے۔
۱۲ وہ بِیابان کی چراگاہوں پر ٹپکتا ہے اور پہاڑیاں خُوشی سے کمر بستہ ہیں۔
۱۳ چراگاہوں میں جھُنڈ پھیلے ہُوئے ہیں۔وادیاں اناج سے ڈھکی ہُوئی ہیں۔وہ خُوشی کے مارے للکارتی اور گاتی ہیں۔