کتابِ مقدس کی تفسیر
رومیوں کے نام خط
The Epistle to Romans
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
«مسیحی ایمان کا کیتھڈرل» (فریڈرک گوڈٹ ۔ Frederic Godet)
۱۔ فہرست ِمُسلَّمہ میں منفرد مقام
پولس رسول کے خطوط میں رومیوں کے نام خط کو ہمیشہ اوّل درجہ حاصل رہا ہے۔ اور یہ ہے بھی بجا۔ چونکہ اعمال کی کتاب کا اِختتام پولس کی روم آمد پر ہوتا ہے، اِس لئے یہ منطقی بات ہے کہ نئے عہدنامے کے خطوط کے حصے کا آغاز رومیوں کی کلیسیا کے نام خط سے ہو جو اُس نے وہاں کے مسیحیوں سے ملاقات سے پہلے لکھا تھا۔ یہ تو مانی ہوئی بات ہے کہ علمِ الٰہی کی رُو سے بھی رومیوں کا خط پورے نئے عہدنامے میں اہم ترین کتاب ہے کیونکہ بائبل میں یہ کتاب علمِ الٰہی کو سب سے زیادہ منظم اور مرتب انداز میں پیش کرتی ہے۔
نیز کلامِ مقدس کی کتابوں میں سے اِس خط نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اوگسطین رومیوں ۱۳: ۱۳، ۱۴ پڑھ کر ایمان لایا (۳۸۰ء)۔پروٹسٹنٹ اِصلاحِ کلیسیا اُس وقت شروع ہوئی جب بالآخر مارٹن لوتھر اِس خط کی معرفت خدا کی راست بازی کا مطلب سمجھ گیا کہ «راست باز ایمان سے جیتا رہے گا» (۱۵۱۷ء)۔
جان ویزلی کو نجات کا یقین اُس وقت آیا جب اُس نے مارٹن لوتھر کی تصنیف کردہ رومیوں کے خط کی تفسیر کا دِیباچہ سنا۔ یہ دیباچہ لندن کی آلڈرزگیٹ سٹریٹ کی ایک مورووین گھریلو کلیسیا (Home Church) میں پڑھا جا رہا تھا (۱۷۳۸ء)۔ جان کیلون (Calvin) لکھتا ہے کہ «جب بھی کوئی اِس خط کو سمجھ لیتا ہے، اُس کے لئے سارے صحائف کو سمجھنے کا راستہ کھل جاتا ہے۔»
۲۔ مصنف
پہلا موقع ہے کہ بدعتی بلکہ اِنقلابی منفی نقاد ایک عالم گیر راسخ العقیدہ بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ غیر قوموں کا رسول رومیوں کے خط کا مصنف ہے۔ درحقیقت بدعتی مرقیون (Marcion) پہلا معروف مصنف ہے جو خصوصیت سے پولس کو اِس خط کا مصنف قرار دیتا ہے۔ اِس کتاب کا حوالہ دینے والوں اور اِقتباس کرنے والوں میں روم کے کلیمنٹ (Clement)، اِغناطسیوس (Ignatius)، یوسطین شہید (Justin Martyr)، پولی کارپ (Polycarp)، ہپالیت (Hippolytus) اور اِیرینیُس(Irenaeus) جیسے راسخ العقیدہ مسیحیوں کے نام شامل ہیں۔ مرتوروی مسلَّمہ فہرست (Muratorian Canon) میں بھی اِس خط کو پولس کی تصنیف لکھا گیا ہے۔
اِس خط کے پولس کی تصنیف ہونے کے داخلی شواہد بھی بہت مضبوط ہیں۔ اِس کا ذخیرۂ الفاظ، دینی تعلیم اور روح، سب کچھ واضح طور پر پولس کا ہے۔ خط خود کہتا ہے کہ مَیں «پولس کی طرف سے» (۱: ۱) ہوں۔ مگر یہ حقیقت بھی شکی مزاج لوگوں کو قائل کرنے کے لئے کافی نہیں۔ مگر دوسرے حوالوں سے اِس کی تصدیق ہوتی ہے (۱۵: ۱۵- ۲۰)۔ سب سے زیادہ قائل کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت سے واقعات اور بیانات اعمال کی کتاب سے مطابقت رکھتے ہیں اور کسی طرح محسوس نہیں ہوتا کہ یہ وضع کئے گئے ہیں۔ مثلاً مقدسین کے لئے خیرات جمع کرنے کا ذکر، گیُس، اراستُس اور روم جانے کے دیرینہ منصوبے کا بیان، اِن سب سے ثابت ہوتا ہے کہ پولس ہی اِس خط کا مصنف ہے۔ کاتب ترتیُس (۱۶: ۲۲) تھا۔
۳۔ سنِ تصنیف
رومیوں کا خط کرنتھیوں کے پہلے اور دوسرے خط کے بعد لکھا گیا کیونکہ اُن خطوط کے لکھتے وقت جو خیرات جمع کی جا رہی تھی، اب تیار ہے۔ اور یروشلیم کے مقدسین کو پہنچائی جانے والی ہے۔ خط میں کرنتھس کی بندرگاہ کنخریہ کا ذکر (۱۶: ۱) اور کئی اَور تفاصیل سے علما اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ خط کرنتھس میں لکھا گیا۔ چونکہ پولس نے (اپنے تیسرے تبلیغی دَورہ کے اواخر میں) وہاں صرف تین مہینے قیام کیا تھا، اِس کے بعد سازِشوں نے اُسے وہاں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا، اِس لئے یہ خط اِسی مختصر عرصے کے دوران قلم بند کیا گیا۔ اِس طرح ۵۶ء سالِ تحریر قرار پاتا ہے۔
۴۔ پس منظر اور موضوعات
مسیحیت پہلے پہل روم کس طرح پہنچی؟ اِس سوال کا حتمی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ زیادہ اِمکان یہ ہے کہ روم کے یہودی جو پنتکست کے دن ایمان لائے تھے (دیکھئے اعمال ۲: ۱۰)، وہ واپس گئے تو خوش خبری کو ساتھ لیتے گئے۔ یہ واقعہ ۳۰ء کا ہے۔
پولس نے یہ خط مذکورہ واقعے کے تقریبا چھبیس برس بعد لکھا۔ اُس وقت تک اُسے روم جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ لیکن جیسا کہ باب ۱۶ سے معلوم ہوتا ہے، وہ روم کے متعدد مسیحیوں کو جانتا تھا۔ اُس زمانے میں مسیحی اِدھر اُدھر بھاگتے پھرتے تھے۔ ایک تو ظلم اور ایذا رسانی کی وجہ سے، دوسرے اُن کو جگہ جگہ خوش خبری پھیلانے کا شوق تھا۔ تیسرے عام کاروبار کے لئے بھی وہ شہر بہ شہر جاتے تھے۔ روم کے یہ مسیحی یہودی اور غیر قوم دونوں پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔
آخر کار پولس تقریباً ۶۰ء کے لگ بھگ روم پہنچا۔ مگر اُس طرح نہیں جیسے اُس کو توقع تھی۔ وہ یسوع مسیح کی خاطر قیدی ہو کر وہاں پہنچا۔
قدیم لاطینی اور یونانی ادب کی طرح رومیوں کا خط کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ خط غیر نجات یافتہ لوگوں پر اُن کی گناہ آلودہ اور کھوئی ہوئی حالت کو بے نقاب کرتا اور اُن کو بچانے کے لئے خدا کے راست منصوبے کی وضاحت کرتا ہے۔ نئے ایمان دار مسیح کے ساتھ اپنی مشابہت اور روح القدس کی قدرت سے فتح پانے کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ پختہ ایمان داروں کو اِس خط میں مسیحی سچائی کی رنگا رنگ کرنیں نظر آتی ہیں جن سے عقیدہ، نبوت اور عمل کے پہلو روشن ہوتے ہیں۔ اِن مناظر سے اُن کی خوشی کا کچھ ٹھکانا نہیں رہتا۔
رومیوں کے خط کو سمجھنے کا بہترین طریقہ ہے کہ اِس کا مطالعہ پولس اور ایک معترض کے درمیان مکالمے کی صورت میں کیا جائے۔ لگتا ہے کہ پولس کو خط لکھتے ہوئے سنائی دے رہا ہے کہ معترض اُس کے خلاف طرح طرح کے اعتراض اُٹھائے چلا جا رہا ہے۔ رسول معترض کے سوالوں کا ایک ایک کر کے جواب دے رہا ہے۔ اِختتام تک پولس اِنسان کے ہر اُس اعتراض کا جواب دے چکتا ہے جو وہ خدا کے فضل کی خوش خبری کے بارے میں کر سکتا ہے۔
بعض اوقات اعتراضات صاف صاف بیان کئے گئے ہیں۔ بعض اوقات اُن کی طرف صرف اِشارہ کیا گیا ہے۔ صورتِ حال کچھ بھی ہو، وہ خوش خبری کے گرد گھومتے ہیں __ یعنی خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے سے فضل کے وسیلے سے نجات کی خوش خبری __ اور اِس میں شریعت کے اعمال کا کچھ عمل دخل نہیں۔
رومیوں کا خط گیارہ بڑے بڑے مسائل پر بحث کرتا ہے:
- اِس خط کا موضوع کیا ہے؟ (۱: ۱، ۹، ۱۵، ۱۶)؛
- اِنجیل کی خوش خبری کیا ہے؟ (۱: ۱- ۱۷)؛
- اِنسان کو اِنجیل کی خوش خبری کی ضرورت کیوں ہے؟ (۱: ۱۸- ۳: ۲۰)؛
- اِنجیل کے مطابق پاک خدا بے خدا گنہگاروں کو کس طرح راست ٹھہرا سکتا ہے؟ (۳: ۲۱- ۳۱)؛
- کیا اِنجیل پرانے عہدنامے سے موافقت رکھتی ہے؟ (۴: ۱- ۲۵)؛
- راست باز ٹھہرائے جانے سے ایمان دار کی زندگی میں کیا فائدے ہوتے ہیں؟ (۵: ۱- ۲۱)؛
- کیا ایمان کے وسیلے سے فضل سے نجات سے گناہ آلودہ زندگی بسر کرنے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے؟ (۶: ۱- ۲۳)؛
- مسیحی اور شریعت کا آپس میں کیا رِشتہ ہے؟ (۷: ۱- ۲۵)؛
- مسیحی کو پاکیزہ زندگی گزارنے کی توفیق کیسے ملتی ہے؟ (۸: ۱- ۳۹)؛
- اِنجیل یہودیوں اور غیر قوموں دونوں کے ساتھ نجات کا وعدہ کرتی ہے۔ کیا اِس کا مطلب ہے کہ خدا نے اپنی اُمت یعنی یہودیوں سے اپنے وعدے توڑ لئے ہیں؟ (۹: ۱- ۱۱: ۳۶)؛
- جو لوگ فضل کے وسیلے سے راست باز ٹھہرائے گئے ہیں، روزمرہ زندگی میں اُن کا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ (۱۲: ۱- ۱۶: ۲۷)۔
اِن گیارہ سوالوں اور اِن کے جوابوں سے واقفیت سے اِس اہم خط کو سمجھنے کے لئے سمجھ بوجھ حاصل ہو سکتی ہے۔ پہلے سوال «رومیوں کے خط کا موضوع کیا ہے؟» کا جواب ہے «اِنجیل کی خوش خبری»۔ پولس فوراً مطلب کی بات پر آ جاتا ہے۔ پہلی سولہ آیات میں وہ چار دفعہ (۱، ۹، ۱۵، ۱۶) اِس کا بیان کرتا ہے۔
اِس سے دوسرا سوال اُبھرتا ہے کہ «اِنجیل کی خوش خبری کیا ہے؟» سب پر واضح ہے کہ اِس لفظ کا مطلب اچھی یا خوشی کی خبر ہے۔ آیات ۱- ۱۷ میں پولس اِس خوش خبری کے بارے میں چھے اہم حقائق کا بیان کرتا ہے:
- اِس کا منبع خدا ہے (آیت ۱)۔
- اِس کا وعدہ پرانے عہدنامے کے انبیا کی معرفت کیا گیا تھا (آیت ۲)۔
- یہ خوش خبری خدا کے بیٹے خداوند یسوع مسیح کے بارے میں ہے (آیت ۳)۔
- یہ نجات کے لئے خدا کی قدرت ہے (آیت ۱۶)۔
- یہ یہودیوں اور غیر قوموں یعنی سارے اِنسانوں کے لئے ہے (آیت ۱۶)۔
- اِس کا اِنحصار صرف ایمان ہے (۱۷)۔
اِس تعارُف کے ساتھ آئیے ہم اِن آیات پر تفصیل سے غور کریں۔
| خاکہ | |||
| باب | |||
| ۱۔ | عقیدہ: خدا کی خوش خبری | ۱- ۸ | |
| الف۔ | اِنجیل کا تعارُف | ۱: ۱- ۱۵ | |
| ب۔ | اِنجیل کی خوش خبری کا مفہوم | ۱: ۱۶، ۱۷ | |
| ج۔ | اِنجیل کے پیغام کی عالم گیر ضرورت | ۱: ۱۸- ۳: ۲۰ | |
| د۔ | اِنجیل کی خوش خبری کی بنیاد اور شرائط | ۳: ۲۱- ۳۱ | |
| ہ۔ | اِنجیل کی خوش خبری کی پرانے عہدنامے کے ساتھ ہم آہنگی | ۴ | |
| و۔ | اِنجیل کی خوش خبری کے عملی فوائد | ۵: ۱- ۱۱ | |
| ز۔ | آدم کے گناہ پر مسیح کے کام کی فتح | ۵: ۱۲- ۲۱ | |
| ح۔ | پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے لئے اِنجیل کا راستہ | ۶ | |
| ط۔ | ایمان دار کی زندگی میں شریعت کا مقام | ۷ | |
| ی۔ | روح القدس، پاک زندگی کے لئے قوت | ۸ | |
| ۲۔ | اِنتظامی اُمور : اِنجیل کی خوش خبری اور اِسرائیل | ۹- ۱۱ | |
| الف۔ | اسرائیل کا ماضی | ۹ | |
| ب۔ | اِسرائیل کا حال | ۱۰ | |
| ج۔ | اِسرائیل کا مستقبل | ۱۱ | |
| ۳۔ | فرائض : فضل کی خوش خبری کے مطابق زندگی گزارنا | ۱۲- ۱۶ | |
| الف۔ | شخصی پاکیزگی | ۱۲: ۱، ۲ | |
| ب۔ | روحانی نعمتوں کے ذریعے سے خدمت کرنا | ۱۲: ۳- ۸ | |
| ج۔ | معاشرے کے ساتھ تعلق | ۱۲: ۹- ۲۱ | |
| د۔ | حکومت کے ساتھ تعلق | ۱۳: ۱- ۷ | |
| ہ۔ | مستقبل کے ساتھ تعلق | ۱۳: ۸- ۱۴ | |
| و۔ | دیگر ایمان داروں کے ساتھ تعلق | ۱۴: ۱- ۱۵: ۱۳ | |
| ز۔ | پولس کے منصوبے | ۱۵: ۱۴- ۳۳ | |
| ح۔ | دیگر ایمان داروں کی قدر دانی اور سلام | ۱۶ | |