زبُور ۱۲۵

زبور ۱۲۵ :‏ سلامتی کی راہ

۱۲۵:‏۱کوہِ صیون یروشلیم میں ایک ایسا پہاڑ ہے جو بعض اوقات تحریر و گفتگو میں شہر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں یہ استحکام اور قوت کی علامت ہے‏، ایک ایسا قلعہ جو ناقابلِ تسخیر ہے۔

مردِ ایمان بالکل اُس کی مانند ہے۔ اُس کی زندگی کا گھر مضبوط چٹان پر قائم ہے۔ جب مینہ برسے‏، پانی چڑھے‏، آندھیاں آئیں اور اُس گھر پر ٹکریں لگائیں‏، تو یہ نہیں گرے گا کیونکہ یہ مضبوط چٹان پر بنا ہے (‏متی ۷:‏ ۲۵)‏۔

زبور نویس کہتا ہے کہ کوہِ صیون ابد تک قائم ہے۔ جہاں تک زمینی شہر کا تعلق ہے تو یہ ابدی نہیں ہے حالانکہ روحانی شہر ضرور ابد تک قائم ہے۔ عہد جدید سے ہم جانتے ہیں کہ زمین کسی وقت آگ سے برباد ہو جائے گی (‏۲۔پطرس ۳:‏ ۷‏،۱۰‏،۱۲)‏۔ 

اہم بات یہ ہے کہ گو کوہِ صیون کسی وقت برباد ہو جائے گا‏، لیکن مسیح پر ایمان رکھنے والا کبھی برباد نہیں ہو گا۔ چونکہ وہ مسیح میں ہے اِس لئے وہ بالکل محفوظ ہے۔

۱۲۵:‏ ۲ زبور نویس نے یروشلیم کی جغرافیائی خصوصیات میں ایک اَور روحانی حقیقت دیکھی۔ یہ ہر طرف سے پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے جہاں سے اُس کی فوج شہر کے تمام راستوں سے اُس کی حفاظت کر سکتی ہے۔ چنانچہ خداوند خود اپنے فرزندوں کے گرد ’’اب سے ابد تک‘‘ حفاظت کا گھیرا بنا لیتا ہے۔ یہی وہ باڑ ہے جس کے بارے میں شیطان نے کہا کہ وہ ایوب کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔

’’کیا تُو نے اُس کے اور اُس کے گھر کے گرد اور جو کچھ اُس کا ہےاُس سب کے گرد چاروں طرف باڑ نہیں بنائی ہے؟‘‘ (‏ایوب ۱:‏۱۰)‏

اِس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی بھی چیز ایماندار کو خدا کی مرضی کے بغیر چھو نہیں سکتی۔

۱۲۵:‏ ۳ آیت ۳ میں ایک اَور بہت بڑا دعویٰ کیا گیا ہے۔

’’کیونکہ شرارت کا عصا صادقوں کی میراث پر قائم نہ ہو گاتاکہ صادق بدکاری کی طرف اپنے ہاتھ نہ بڑھائیں۔‘‘

شاید بعض لوگ یہ اعتراض کریں کہ یہ درست نہیں ہے کیونکہ اسرائیل کے ملک پر اکثر حملہ ہوا اور شریر لوگوں نے اِسے فتح کیا ہے۔ یہ سچ ہے۔ لیکن اِس آیت کی تفسیر اِس کے سیاق و سباق میں کرنی چاہئے۔ یہ زبور اُن لوگوں کے بارے میں ہے جو خداوند پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اُس کے وعدے صرف اِس قسم کے لوگوں کے لئے ہیں۔ یہ صرف اُس وقت ہوا جب بنی اسرائیل خداوند سے برگشتہ ہو گئے۔ اُس وقت اِسرائیل کی سرحدوں پر حملے کئے گئے اور اُس کی فصیلیں توڑ دی گئیں۔ جب تک اُنہوں نے خداوند کی فرماں برداری کی اور اُس پر بھروسا رکھا‏، شرارت کا عصا یعنی شریر غیر اقوام اُن پر حکمرانی نہ کر سکیں۔ 

یہاں ایک دلچسپ وجہ پیش کی گئی ہے کہ خدا نے خطرناک دشمنوں کو اسرائیل سے کیوں دُور رکھا جب لوگ اُس کے ساتھ چلتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ صادق اسرائیلی اِس آزمائش میں نہ گر جائیں کہ وہ بدی کے لئے اپنے ہاتھ بڑھائیں۔ خدا ہمیں نہ صرف بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے‏، بلکہ ہماری باطنی خودی سے بھی جو جلد ہی گناہ کرنے کی طرف مائل ہو جاتی ہے‏، جب اُس کے ساتھ ناانصافی سے سلوک کیا جاتا ہے۔

۱۲۵:‏ ۴ چوتھی آیت کا بھی سیاق و سباق میں جائزہ لیا جائے۔ ’’اے خداوند! بھلوں کے ساتھ بھلائی کر اور اُن کے ساتھ بھی جو راست دل ہیں۔‘‘ یہاں بھلے لوگ وہ ہیں جنہیں ایمان سے نجات ملی ہے اور جو خداوند کی فرماں برداری میں اُس کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اُن کی بھلائی اُن کی نجات کی بنیاد نہیں ہے بلکہ اُن کے اعتماد اور فرماں برداری کا پھل ہے۔

۱۲۵:‏ ۵ بعض لوگ اقرار تو کرتے ہیں کہ وہ خدا کے برگزیدہ لوگوں میں شامل ہیں‏، لیکن وہ اپنی ٹیڑھی راہوں کی طرف مڑتے ہیں۔ خداوند اُنہیں بدکرداروں کے ساتھ اسیری اور پراگندگی میں لے جائے گا۔

اسرائیل کی سلامتی ہو! زبور میں اسرائیل اور ہر ایک شخص کے لئے سلامتی کا فارمولا دیا گیا ہے۔ سلامتی خداوند یسوع پر ایمان کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ جب بنی اسرائیل اُس کی طرف رجوع کریں گے جس کو اُنہوں نے چھیدا تھا اور اُس پر ایسے ماتم کریں گے جیسے کوئی اپنے اکلوتے بیٹے کی موت پر کرتا ہے‏، تب وہ سلامتی جو صدیوں سے چھن چکی تھی اُنہیں آخر کار حاصل ہو جائے گی۔

شالوم ! شالوم !

مقدس کتاب

۱ جو خُداوند پر توکل کرتے ہیں وہ کوہِ صِیؔوُن کی مانند ہیں جو اٹل بلکہ ہمیشہ قائم ہیں۔
۲ جَیسے یروشؔلیم پہاڑوں سے گھِرا ہے ویسے ہی اب سے ابدتک خُداوند اپنے لوگوں کو گھیرے رہیگا۔
۳ کیونکہ شرارت کو عصا صادِقوں کی میراث پر قائم نہ ہوگا۔ تاکہ صادق بدکاری کی طرف اپنے ہاتھ نہ بڑھائیں۔
۴ اَے خُداوند! بھلوں کے ساتھ بھلائی کر۔اور اُن کے ساتھ بھی جو راست دِل ہیں۔
۵ لیکن جو اپنی ٹیڑھی راہوں کی طرف مُڑتے ہیں اُنکو خُداوند بدکرداروں کے ساتھ نکال لے جائیگا۔ اِسرؔئیل کی سلامتی ہو!