زبُور ۱۰۳

زبور ۱۰۳ :‏ شکرگزاری کے لئے بلاہٹ

۱۰۳:‏ ۱ اکثر ایماندار مزامیر کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُن میں ہمارے اپنے خیالات بڑی مہارت سے پیش کئے گئے ہیں جو ہم خود اتنی خوبصورتی سے بیان نہیں کر سکتے۔ یہ بات زبور ۱۰۳ پر بھی صادق آتی ہے۔ یہ ہماری شکر گزاری کو ہم سے بہتر طور پر پیش کرتا ہے۔ یہاں ہم اپنی جان سے کہتے ہیں کہ وہ خداوند کو مبارک کہے۔ اپنی جان سے مراد اپنی ماہیت کا غیر مادی حصہ ہی نہیں‏، بلکہ پوری شخصیت مراد ہے۔ روح‏، جان اور جسم سے کہا گیا ہے کہ یہوواہ کے قدوس نام کو مبارک کہیں۔

۱۰۳:‏ ۲ دوسری بار عبادت کے لئے بلاہٹ دی گئی ہے اور اِس کے ساتھ واضح طور پر یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ہم اُس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کریں۔ یہ یاد دہانی ضروری ہے کیونکہ ہم سب اکثر اوقات بھول جاتے ہیں۔ ہم اپنے جسم‏، دماغ‏، نظر‏، سماعت‏، قوتِ گویائی اور بھوک کی صحت اور دیگر کئی نعمتوں کے لئے شکرگزاری کرنا بھول جاتے ہیں۔ ہم اُنہیں یونہی یقینی سمجھ لیتے ہیں۔ 

۱۰۳:‏ ۳ مزید برآں ہمیں اِس لئے خداوند کی شکر گزاری کرنا چاہئے کہ وہ ہماری بدکاریوں کو معاف کرتا ہے۔ یہ خدا کے فضل کا ناقابلِ بیان معجزہ ہے کہ قرمزی گناہوں کو برف سے زیادہ سفید کر دیا جاتا ہے۔ مَیں اُس شخص سے متفق ہوں جس نے اپنی قبر کے کتبہ کے لئے صرف یہ لفظ چنے ’’معاف کیا گیا۔‘‘ ہمارے محدود ذہن یہ بات پورے طور پر سمجھ نہیں سکتے کہ ہمارے سارے گناہ مسیح کے قیمتی لہو سے معاف ہو چکے ہیں۔ یاد رکھنے کے قابل دوسرا فائدہ ہماری تمام بیماریوں سے شفا ہے۔ ہم یاد رکھیں کہ شفا معافی کے بعد ہی ملتی ہے۔ گو ہر طرح کی بیماری براہِ راست گناہ کا نتیجہ نہیں‏، لیکن بعض ایک بیماریاں ضرور گناہ کا نتیجہ ہیں۔ جہاں یہ تعلق موجود ہے وہاں شفا سے پہلے معافی کی ضرورت ہے۔

لیکن اِس میں ایک واضح مسئلہ موجود ہے۔ اِس آیت میں لکھا ہے کہ ’’وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔‘‘ لیکن ہم اپنی زندگی میں یہ تجربہ کرتے ہیں کہ تمام بیماریوں سے شفا نہیں ملتی اور کہ اگر خداوند پہلے نہ آئے تو جلد یا بدیر ہم سب مر جائیں گے۔ چنانچہ اِس آیت کا کیا مطلب ہے؟ اِس کے جواب کے لئے ہم درج ذیل تشریحات پیش کرتے ہیں۔

اوّل۔ ہر طرح کی حقیقی شفا خدا کی طرف سے ہے۔ اگر آپ بیمار تھے اور اِس کے بعد آپ کو شفا مل گئی تو آپ کو اپنی شفا کے لئے خدا کا شکر کرنا چاہئے کیونکہ وہی ہر طرح کی شفا کا منبع ہے۔ عہد عتیق میں خدا کے ناموں میں سے ایک نام یہوواہ رَوفی یعنی یہوواہ شافی ہے۔ حقیقی شفا کا ہر واقعہ خدا کی طرف سے ہے۔

دوم۔ خداوند تمام بیماریوں سے شفا دے سکتا ہے۔ ایسی کوئی بیماری نہیں جس سے وہ شفا نہ دے سکتا ہو۔

سوم۔ خداوند کچھ وقت تک قدرتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے شفا دے سکتا ہے یا وہ معجزانہ طور پر فوراً شفا دے سکتا ہے۔ شفا کے لئے اُس کی قدرت پر کسی طرح کی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ 

چہارم۔ جب خداوند زمین پر تھا اور لوگ اُس کے پاس بہت سے بیمار لوگوں کو لائے تو اُس نے سب بیماروں کو اچھا کر دیا (‏متی ۸:‏ ۱۶)‏۔

پنجم۔ ہزار سالہ بادشاہت میں وہ سب کو تمام بیماریوں سے شفا دے گا (‏یسعیاہ ۳۳:‏ ۲۴‏، یرمیاہ ۳۰:‏ ۱۷)‏ سوائے اُن کے جو اُس کے خلاف سرکشی کریں گے (‏یسعیاہ ۶۵:‏ ۲۰ب)‏۔

لیکن اِس آیت کا مطلب خواہ کچھ بھی ہو‏، اِس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ ایماندار ہر ایک بیماری سے شفا کا دعویٰ کر سکے کیونکہ زبور کی دیگر آیات میں ہمیں یاد دلایا گیا ہے کہ زندگی کا دورانیہ مختصر ہے اور ختم ہو جائے گی (‏دیکھیں آیات ۱۵‏،۱۶)‏۔ مَیں تو اِس آیت سے یہ مطلب اخذ کرتا ہوں کہ جب کبھی ایماندار کو شفا ملتی ہے‏، یہ خدا کی طرف سے رحم و شفقت ہے اور ہم تسلیم کریں کہ وہ شافی ہے اور اُس کا شکر کریں۔ 

۱۰۳ :‏۴ وہ ہمیں نہ صرف بیماریوں سے شفا دیتا ہے بلکہ ہماری زندگی کو گڑھے یا ہلاکت سے بھی بچاتا ہے۔ اِس کا اِس امر پر بھی اطلاق کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہمیں جہنم میں جانے سے بچاتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہاں اِس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہمیں مسلسل خطرات‏، حادثات اور المیوں سے محفوظ رکھتا ہے اور یوں قبر میں جانے سے بچاتا ہے۔ جب ہم آسمان پر جائیں گے تب ہمیں پتہ چلے گا کہ ہمیں کتنی بار خدا کی مداخلت سے مقررہ وقت سے پہلے موت سے بچایا گیا۔ 

چوتھا فائدہ یہ ہے کہ وہ ہمارے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کے لئے کس قدر بڑا اعزاز ہے جو کسی وقت مجرم اور محبت سے محروم تھے۔ ہمیں ابدی شفقت حاصل ہے اور ہر روز اُس کی رحمت ہم پر نازل ہوتی ہے۔ 

۱۰۳ :‏ ۵ جب تک ہم زندہ ہیں وہ ہمیں اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے۔ عبرانی متن یہاں پر کچھ مبہم سا ہے۔ اِس کا لغوی ترجمہ یہ ہے کہ ’’وہ تیری زیبائش کو اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے۔‘‘ اِس سے ہم یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ ’’تیری جوانی‘‘ ‏، ’’تیرے سالوں کو‘‘ یا ’’جب تک آپ زندہ ہیں۔‘‘ بہرحال حقیقت تو یہ ہے کہ خداوند آرزو مند دل کو آسودہ کرتا ہے اور جو راستی سے چلتے ہیں اُن سے کسی اچھی چیز کو روکے نہیں رکھتا۔

اِن پانچ مفادات (‏معافی‏، شفا ‏، تحفظ‏، تاج پوشی اور آسودگی)‏ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری زندگی عقاب کی طرح از سرِنو جوان ہو جاتی ہے۔ بیماری اور تشدد سے شاید جسم متاثر ہو‏، لیکن وہ روح کو نہیں چھو سکتے۔ ’’ گو ہماری ظاہری انسانیت زائل ہوتی جاتی ہے پھر بھی ہماری باطنی انسانیت روز بروز نئی ہوتی جاتی ہے‘‘ (‏۲۔کرنتھیوں ۴:‏ ۱۶)‏۔ جہاں تک بدن کا تعلق ہے‏، زمین پر ابدی جوانی کا کوئی منبع نہیں پایا جاتا‏، لیکن روح قوت پر قوت پاتی جاتی ہے۔ 

لیکن خداوند کا انتظار کرنے والے ازسرِ نو زور حاصل کریں گے۔ وہ عقابوں کی مانند بال و پَر سے اُڑیں گے‏، وہ دوڑیں گے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلیں گے اور ماندہ نہ ہوں گے (‏یسعیاہ ۴۰:‏۳۱)‏۔

عقاب لمبی زندگی اور زبردست قوت کے لئے مشہور ہے۔ اِس کی زندگی ہمیشہ پُر زور نہیں رہتی اور وہ جوان بھی نہیں رہتا۔ وہ بوڑھا ہوتا اور مر جاتا ہے‏، لیکن زبور نویس یہ کہہ رہا ہے کہ جو شخص خداوند میں رہتا ہے وہ مسلسل تازگی سے لطف اندوز ہوتا ہے اور وہ قوت پر قوت پاتا جاتا ہے جیسے عقاب بلند سے بلند تر ہوتا جاتا ہے۔ 

۱۰۳ :‏ ۶ خداوند کی صداقت اور عدل عبرانی قوم کے ساتھ اُس کے تعلقات میں ظاہر ہوا‏، خصوصی طور پر مصر سے رہائی کے سلسلے میں۔ یہ خاص طریقہ تھا جس سے وہ مظلوموں کے لئے عدل اور انصاف کا اظہار کرتا ہے۔

۱۰۳:‏ ۷‏، ۸ مصر سے موعودہ ملک کے راستے پر خدا نے اپنی راہیں موسیٰ پر اور اپنے کام بنی اسرائیل پر ظاہر کئے۔ اُس نے موسیٰ سے خاص مشورے کئے اور اُس پر اپنے منصوبوں کو ظاہر کیا۔ بنی اسرائیل نے اِن منصوبوں کو عملی طور پر ظہور میں آتے دیکھا۔ اُس کی راہوں اور کاموں میں یہ فرق ہے کہ اُس کی راہیں مکاشفہ سے معلوم ہوتی ہیں جبکہ اُس کے کاموں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ 

خداوند اپنی قوم کے ساتھ اپنے تعلقات میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رحیم و کریم ہے۔ وہ راہ کے ہر قدم پر راہنمائی کرتا‏، تحفظ دیتا اور مہیا کرتا ہے۔ اُس کے لوگ گمراہ ہیں‏، بڑبڑاتے ہیں‏، سرکش اور نافرمان ہیں‏، لیکن وہ اپنے غصے کے بھڑکنے سے پہلے تحمل سے کام لیتا ہے۔ لوگوں کی ناشکرگزاری کے باوجود اُس کا رحم جاری رہتا ہے۔ 

اے خداوند! تیرے حضور مَیں کس قدر غیرمستحق ہوں‏،
لیکن تُو ہمیشہ مجھ پر اپنی محبت جاری رکھتا ہے۔
گو اکثر اوقات مَیں برگشتہ ہو جاتا ہوں 
اور تیری مرضی پوری کرنے میں ناکام ہو جاتا ہوں‏،
پھر بھی تیری پُرفضل محبت میرے ساتھ رہتی ہے۔ (‏شاعر نامعلوم)‏

۱۰۳ :‏ ۹‏، ۱۰ ایک ایسا وقت آتا ہے جب خداوند کو اپنے بچوں کو تنبیہ کرنا پڑتی ہے‏، لیکن اِس کے باوجود اُس کی تادیب غیر معینہ عرصہ تک جاری نہیں رہتی۔ عدالت کرنا اُس کا عجیب کام ہے۔ جس سزا کے ہم مستحق ہیں اگر ہمیں وہ دی جاتی تو ہم ہمیشہ تک جہنم میں ہوتے‏، لیکن خدا کا رحم اِس بات میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمیں وہ سزا نہیں دیتا جس کے مستحق ہم ہیں۔ کسی اَور نے ہمارے گناہوں کی سزا صلیب پر برداشت کی۔ جب ہم نجات دہندہ پر بھروسا رکھتے ہیں تو خدا راستی سے ہمیں معاف کرتا ہے۔ یاد رکھیں کہ مسیح نے ہمیشہ کے لئے قرض چکا دیا ہے‏، چنانچہ ہم سے کبھی بھی دوبارہ ادائیگی کے لئے تقاضا نہیں کیا جائے گا۔ 

۱۰۳ :‏ ۱۱‏، ۱۲ نجات کا یہ خوبصورت منصوبہ دینے میں خدا کی محبت بے پایاں ہے۔ انسانی تصور اِسے بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اگر ہم آسمان اور زمین کے درمیان فاصلے کو ناپ سکتے تو اُس کی محبت کی وسعت کا تصور کیا جا سکتا‏، لیکن یہ ہمارے لئے ممکن نہیں۔ ہم تو جس کائنات میں رہتے ہیں‏، اُس کے حجم کا تعین نہیں کر سکتے۔ اُس نے ہماری خطائیں ہم سے نہایت دُور کر دیں۔ جیسے مشرق سے مغرب دُور ہے اور دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں‏، ویسے ہی ایماندار اور اُس کے گناہ ایک دوسرے سے دُور ہیں۔ محبت کے معجزے سے یہ خدا کی نظر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دُور پھینکے جا چکے ہیں۔

۱۰۳:‏ ۱۳‏، ۱۴ کسی نے کہا ہے کہ ’’خدا اِنسان پر ترس کھاتا ہے‘‘ جیسے ایک انسانی باپ اپنے چھوٹے لڑکے پر ترس کھاتا ہے‏، جب وہ ایک بڑا بوجھ اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے‏، ویسے ہی خداوند ہماری کمزوریوں میں ہم پر ترس کھاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہم کیا ہیں کہ ہم خاک سے بنائے گئے ہیں‏، کہ ہم کمزور اور بے بس ہیں۔ اکثر اوقات ہم یہ بات بھول جاتے ہیں جو خدا یاد رکھتا ہے یعنی کہ ہم خاک ہیں۔ اِسے بھولنے سے غرور‏، خود اعتمادی‏، آزادی اور بربادی جنم لیتی ہے۔

۱۰۳ :‏ ۱۵‏، ۱۶ انسان نہ صرف خاک ہے بلکہ وہ بہت جلد خاک میں لوٹ جاتا ہے۔ قدیم اعلان ’’ تُو خاک ہے اور خاک میں پھر لوٹ جائے گا‘‘ کی بڑی سنگ دلی سے تکمیل ہوتی ہے۔ انسان تھوڑے وقت کے لئے پیدا ہوتا ہے۔ وہ جنگلی پھول کی مانند جلدی مرجھا جاتا ہے۔ جنہوں نے پہلے اُسے دیکھا اب اُسے دوبارہ نہیں دیکھ سکیں گے۔

۱۰۳:‏ ۱۷‏، ۱۸ اِس کے مقابلے میں خدا کی شفقت ابدی ہے۔ جو اُس سے ڈرتے ہیں یہ اُن کے لئے ازل سے ابد تک ہے۔ اِس کا دورانیہ لامحدود ہے۔ اور خدا کی صداقت نسل در نسل ہے۔ اِس میں بہت زیادہ تسلی ہے۔ اکثر مسیحی والدین اپنے بچوں اور اُن کے بچوں کے لئے بہت زیادہ فکر مند ہوتے ہیں کہ ایک ایسی دنیا میں نشو و نما پا رہے ہیں جو برائی سے بھری پڑی ہے‏، لیکن ہم بڑی تسلی سے اپنے بچوں کو اُس خداوند کے ہاتھوں میں سونپ سکتے ہیں جس کی محبت لامحدود ہے اور جس کی صداقت نہ صرف ہمارے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی کافی ہے۔ تاہم اِن وعدوں کے ساتھ لازمی طور پر شرائط بھی منسلک ہیں۔ یہ اُن کے لئے حقیقی ہیں جو خداوند کے عہد پر قائم رہتے ہیں اور اُس کے قوانین پر عمل کرنا یاد رکھتے ہیں۔ 

۱۰۳:‏ ۱۹۔۲۲ خداوند بادشاہ ہے۔ اُس کا تخت آسمان پر ہے اور اُس کا اختیار عالمگیر ہے۔ اِس لئے لازم ہے کہ وہ تعریف کے لئے ہر شخص اور ہر شے کا محور ہو۔ چنانچہ داؤد کائنات کے لئے سٹیج تیار کرتا ہے کہ تمام مخلوق کی بہت بڑی کوائر ہم آہنگ ہو کر بہت زور دار طور سے اُس کی ستائش کرے۔ پہلے تو وہ فرشتوں کو تحریک دیتا ہے جو زورآور اور فرماں بردار ہیں کہ وہ نغمے کا آغاز کریں۔ اِس کے بعد وہ تمام مخلوقات کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ستائش کرتے ہوئے اُسے سجدہ کریں۔ اِس کے بعد وہ خدا کی سب قوموں کو اشارہ کرتا ہے کہ وہ اِس جلالی نغمہ میں شامل ہوں۔ جب خدا کی ساری مملکت میں ہیلیلویاہ کا مشہور گیت گایا جا رہا ہے تو کوائر کا قائد اپنی آواز میں کہتا ہے ’’خداوند مبارک ہو۔‘‘ کسی شخص نے یہ تصور پیش کیا کہ داؤد یہاں یہ کہہ رہا ہے:‏

’’کائنات کی ستائش کے دوران مَیں بھی اپنی آواز سے اُس کی ستائش کروں۔‘‘

مقدس کتاب

۱ اَے میری جان ! خُداوند کو مُبارِک کہہ اور جو کچھ مجھ میں ہے اُسکے قُدوُّس نام کو مُبارِک کہے۔اَے میری جان! خُداوند کو مُبارِک کہہ اور اُس کی کِسی نعمت کو فراموش نہ کر
۲
۳ وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شِفا دیتا ہے۔
۴ وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔
۵ وہ تجھے عُمر بھر اچھی اچھی چیزوں سے آسوُدہ کرتا ہے۔تُو عقاب کی مانند از سِر نَوجوان ہوتا ہے۔
۶ خُداوند سب مظلوموں کے لئے صداقت اور عدل کے کام کرتا ہے۔
۷ اُس نے اپنی راہیں مُوؔسیٰ پر اور اپنے کام بنی اِسرائؔیل پر ظاہر کئے ۔
۸ خُداوند رحیم اور کریم ہے۔ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی۔
۹ وہ سدا جھڑکتا نہ رہیگا۔ وہ ہمیشہ غضبناک نہ رہیگا۔
۱۰ اُس نے ہمارے گُناہوں کے مُوافق ہم سے سُلوک نہیں کیا اور ہماری بدکاریوں کے مُطابق ہمکو بدلہ نہیں دیا۔
۱۱ کیونکہ جِس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اُسی قدر اُسکی شفقت اُن پر ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں۔
۱۲ جَیسے پُورب پچھّم سے دوُر ہے ویسے ہی اُس نے ہماری خطائیں ہم سے دوُر کر دیں۔
۱۳ جَیسے باپ اپنے بیٹوں پر ترس کھاتا ہے وَیسے ہی خُداوند اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں ترس کھاتاہے۔
۱۴ کیونکہ وہ ہماری سِرشت سے واقف ہے۔ اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہیں۔
۱۵ اِنسان کی عُمر تو گھاس کی مانند ہے۔ وہ جنگلی پھُول کی طرح کھِلتا ہے۔
۱۶ کہ ہوا اُس پر چلی اور وہ نہیں اور اُسکی جگہ اُسے پھر نہ دیکھیگی۔
۱۷ لیکن خُداوند کی شفقت اُس سے ڈرنے والوں پر ازل سے ابدتک اور اُسکی صداقت نسل در نسل ہے۔
۱۸ یعنی اُن پر جو اُسکے عہد پر قائم رہتے ہیں۔اور اُسکے قوانین پر عمل کرنا یاد رکھتے ہیں۔
۱۹ خُداوند نے اپنا تخت آسمان پر قائم کیا ہے۔اور اُسکی سلطنت سب پر مُسلّط ہے۔
۲۰ اَے خُداوند کے فرِشتو! اُسکو مُبارِک کہہ۔ تُم جو زور میں بڑھکر ہو اور اُسکے کلام کی آواز سُنکر اُس پر عمل کرتے ہو۔
۲۱ اَے خُداوند کے لشکرو! سب اُسکو مُبارِک کہو۔تُم جو اُسکے خادِم ہو اور اُسکی مرضی بجا لاتے ہو۔
۲۲ اَے خُداوند کی مخلوقات ! سب اُسکو مُبارِک کہو۔ تُم جو اُسکے تسلُّط کے سب مقاموں میں ہو۔اَے میری جان ! تُو خُداوند کو مُبارِک کہو۔