زبُور ۷۱

زبور ۷۱:‏ بڑھاپے میں خدا کی مدد

۷۱:‏ ۱۔۳ پہلی تین آیات زبور ۳۱:‏ ۱۔۳ جیسی ہیں۔ خدا کی تمجید کی گئی ہے کہ وہ پناہ گاہ‏، چٹان اور قلعہ ہے اور اُس سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ زبور نویس کو چھڑائے اور نجات دلائے۔ وہ پناہ گزین کی چٹان اور قلعہ ہو۔

۷۱:‏ ۴ جبکہ دعا جاری ہے‏، اِس میں ماضی میں خدا کی مدد کے لئے شکرگزاری کا شدید احساس رچا بسا ہوا ہے اور بڑھاپے میں اُس کی مسلسل شفقت پر اعتماد کا اِظہار ہے۔ 

۷۱:‏ ۵‏، ۶ وہ شخص مبارک ہے جو یہ کہہ سکتا ہے کہ اُس کے لڑکپن ہی سے خدا اُس کا توکل اور اُس کی اُمید رہا ہے۔ اگر پیدائش سے ہی اُس کا یہوواہ پر توکل رہا تو اُسے زندگی کے آخری ایام میں مدد کی کمی نہ ہو گی۔ اگر پیدائش ہی سے اُس نے خدا کے عظیم فضل کو دیکھا ہے تو آئندہ سالوں میں بھی ستائش کے لئے بہت سا مواد ہو گا۔

۷۱:‏ ۷۔۸ زبور نویس اپنی بہت زیادہ ذلت اور مصیبت اور اپنی عظیم مخلصی کے باعث بہتوں کے لئے حیرت کا باعث رہا ہے۔ لیکن زندگی کے بدلتے ہوئے حالات کے دوران خدا اُس کی محکم پناہ گاہ رہا ہے۔ چنانچہ وہ چاہتا تھا کہ وہ ہر روز اُس کی تعظیم اور ستائش کرتا رہے۔

۷۱:‏ ۹ ’’بڑھاپے کے وقت مجھے ترک نہ کر۔ میری ضعیفی میں مجھے چھوڑ نہ دے۔‘‘

بڑھاپے میں باوقار طریقہ سے داخل ہونے کے لئے قدرت کی نسبت فضل کی زیادہ ضرورت ہے۔ بڑھاپے میں تنہائی کا خوف‏، اپنے عزیزوں پر بوجھ بن جانے کا خوف‏، مجبور و بے کس بن جانے کا خوف‏، گرفت کے ڈھیلے ہو جانے کا خوف اور مرعوب ہونے کا خوف شامل ہے۔ یہ خدشات نئے نہیں ہیں۔ زبور نویس یہاں اُن سب لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لئے سوچ دے رہا ہے جو زندگی کی خزاں میں ہیں۔

۷۱:‏ ۱۰‏، ۱۱ اُسے دشمنوں کا خوف بھی تھا جو اُسے بدنام کرتے پھر رہے تھے اور اُسے جان سے مار دینے کے لئے سازشیں کر رہے تھے۔ چونکہ اُن کا یہ غلط مفروضہ تھا کہ خدا نے اُسے چھوڑ دیا ہے‏، اِس لئے اُنہوں نے آخری حملہ کی تیاری کا منصوبہ بنایا اور اُنہیں اِس حملے میں کسی طرح کی مخالفت کا کوئی خدشہ نہیں تھا۔

۷۱:‏ ۱۲‏، ۱۳ اِس بحران اور پریشانی کی ہنگامی صورتِ حال میں اُس نے خدا سے التجا کی کہ وہ اُس کا ساتھ دے اور اُس کی مدد کرے۔ بغیر کسی اضافی مشکل کے‏، خدا اُس کے دشمنوں کو شکست دے کر ندامت‏، ملامت اور رسوائی سے ملبس کر سکتا ہے۔

۷۱:‏ ۱۴۔۱۶ لیکن بہت جلد خوف کی جگہ اُمید پیدا ہوتی ہے اور وہ بلند آواز سے ستائش کرنے لگتا ہے۔ اِن گیتوں میں خدا کے راست کاموں اور بچپن سے اُسے بے شمار موقعوں پر مخلصی دلانے کا ذکر ہے۔ مقدس عزم کے ساتھ زبور نویس کہتا ہے ’’ مَیں یہوواہ الوہیم کی قدرت کے بے شمار کاموں کا بیان کروں گا۔‘‘

۷۱:‏ ۱۷‏،۱۸ آیات ۵۔۱۱ کی مانند ایک بار پھر وہ اپنی جوانی سے بڑھاپے تک خدا کی محبت کا احاطہ کرتا ہے (‏آیات ۱۷۔۲۱)‏ اور صرف اور صرف خدا کی وفاداری کو دیکھتا ہے۔ خدا اُسے بچپن کے ایام سے سکھاتا رہا ہے اور وہ اب بھی خدا کے عجائب کو بیان کرتا ہے۔ اب وہ بوڑھا اور سفید سر ہے‏، لیکن اُسے احساس ہے کہ ابھی اُس کا کام ختم نہیں ہوا۔ وہ درخواست کرتا ہے کہ اُسے وقت دیا جائے تاکہ وہ نئی نسل اور ہر آنے والے کو خدا کے زور دار معجزات بتا سکے۔ اِس دعا کا یوں جواب دیا گیا کہ اِس زبور کو کتابِ مقدس میں محفوظ کر لیا گیا۔

۷۱:‏ ۱۹۔۲۱ خدا واقعی عظیم ہے! اُس کی قدرت اور صداقت آسمان سے بھی بلند ہے۔ جب اِس پر غور کیا جائے کہ اُس نے کیسے بڑے بڑے کام کئے تو کون اُس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ وہ کچھ وقوع پذیر ہوا جس کی اُس نے اجازت دی۔ یہاں بھی اُس نے زبور نویس کو بہت سی مصیبتوں کے تجربہ میں سے گزرنے دیا۔ لیکن وہ بحال کرنے والا خدا ہے ‏، وہ اپنے لوگوں کو بحال کرے گا اور اُنہیں قبر کے بندھن سے چھڑائے گا۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ اُنہیں ملامت کی جگہ عزت اور تسلی دے گا۔

۷۱:‏۲۲ خدا کی وفاداری کا گیت گانے کے لئے بربط کے تار چھیڑے جائیں گے اور ستار کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کی جائے گی۔ دو اَور جگہوں پر (‏زبور ۷۸:‏۴۱ اور ۸۹:‏۱۸)‏ خدا کا نام ’’اسرائیل کا قدوس‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔

۷۱:‏ ۲۳‏، ۲۴ لیکن ستار اور بربط کے ساتھ گیت گانے میں زبور نویس کے ہونٹ‏، جان اور زبان شامل ہو گی۔ گیت گانے میں اُس کے ہونٹ بہت زیادہ شادمان ہوں گے۔ برے کے خون سے نجات یافتہ کی جان ستائش کرنے میں بہت زیادہ شادمان ہو گی۔ چونکہ اُس کے تمام دشمن شرمندہ اور پشیمان ہو چکے ہیں‏، اِس لئے اُس کی زبان خدا کی وفاداری کا ذکر کرتے نہیں تھکے گی۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُداوند تُو ہی میری پناہ ہے۔ مجھے کبھی شرمندہ نہ ہونے دے۔
۲ اپنی صداقت میں مجھے رہائی دے اور چھُڑا۔میری طرف کان لگا اور مجھے بچا لے۔
۳ تُو میرے لئے سُکونت کی چٹان ہو جہاں میَں برابر جاسکوں۔تُو نے بچانے کا حُکم دیدیا ہے۔کیونکہ میری چٹان اور میرا قلعہ تُو ہی ہے۔
۴ اَے میرے خُدا! مُجھے شریر کے ہاتھ سے ناراستاور بے درد آدمی کے ہاتھ سے چھُڑا۔
۵ کیونکہ اَے خُدا وند! تُو ہی میری اُمید ہے۔لڑکپن سے میرا توکُل تجھ پر ہے۔
۶ تُو پَیدایش ہی سے مجھے سنبھالتا آیا ہے۔تُو میری ماں کے بطن ہی سے میرا شفیق رہا ہے۔ سو میَں سدا تیری سِتایش کرتا رہوں گا۔
۷ میَں بہتوں کے لئے حَیرت کا باعث ہوُں۔ لیکن تُو میری مُحکم پناہ گاہ ہے۔
۸ میرا مُنہ تیری سِتایش سے اور تیری تعظیم سے دِن بھر پُر رہیگا۔
۹ بُڑھاپے کے وقت مجھے ترک نہ کر ۔ میری ضعیفی میں مُجھے چھوڑ نہ دے۔ کیونکہ میرے دُشمن میرے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور جو میری گھات میں ہیں وہ آپس میں مشورہ کرتے ہین۔
۱۰
۱۱ اور کہتے ہیں کہ خُدا نے اُسے چھوڑ دیا ہے۔ اُسکا پیچھا کرو اور پکڑ لو کیونکہ چھُڑانے والا کوئی نہیں۔
۱۲ اَے خُدا مجھ سے دور نہ رہ! اَے خُدا! میری مدد کے لئے جلدی کر۔
۱۳ میری جان کے مُخالِف شرمندہ اور فنا ہو جائیں۔ میرا نُقصان چاہنے والے ملامت اور رُسوائی سے مُلبس ہوں۔
۱۴ لیکن میَں ہمیشہ اُمید رکھوُنگا اور تیری تعریف اَور بھی زیادہ کیا کرونگا۔
۱۵ میرا مُنہ تیری صداقت کا اور تیری نجات کا بیان دِن بھر کریگا۔ کیونکہ مجھے اُنکا شُمار معلوم نہیں۔
۱۶ میَں خُداوند خُدا کی قُدرت کے کاموں کا اظہار کروُنگا۔ میَں صِرف تیری ہی صداقت کا ذِکر کروُنگا۔
۱۷ اَے خُدا! تُو مجھے بچپن سے سِکھاتا آیا ہے اور میَں اب تک تیرے عجائب کا بیان کرتا رہا ہوں۔
۱۸ اَے خُدا! جب میَں بُڈّھا اور سر سفید ہو جاؤں تو مجھے ترک نہ کرنا جب تک کہ میَں تیری قدرت آیندہ پُشت پر اور تیرا زور ہر آنے والے پر ظاہر نہ کردوں۔
۱۹ اَے خُدا! تیری صداقت بھی بہت بلند ہے۔اَے خُدا! تیری مانِند کوَن ہےجِس نے بڑے بڑے کام کئے ہیں؟
۲۰ تُو جِس نے ہمکو بہت اور سخت تکلیفیں دِکھائی ہیں پھر ہمکو زندہ کرےگا۔ اور زمین کے اسفل سے ہمیں پھر اُوپر لے اُئیگا۔
۲۱ تُو میری عظمت کو بڑھا اور پھر کر مجھے تسلی دے۔
۲۲ اَے میرے خُدا! میَں بربط پر تیری ہاں تیری سچّائی کی حمد کروُنگا۔ اَے اِسراؔئیل کے قُدوس! میَں سِتار کے ساتھ مدح سرائی کرونگا۔
۲۳ جب میَں تیری مدح سرائی کرونگا تو میرے ہونٹ نہایت شادمان ہونگے اور میری جان بھی جِسکا تو نے فدیہ دیا ہے۔
۲۴ اور میری زُبان دِن بھر تیری صداقت کا ذِکر کریگی کیونکہ میرا نُقصان چاہنے والے شرمِندہ اور پشیمان ہوئے ہیں۔