کتابِ مقدس کی تفسیر
خروج
Exodus
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
۱۔ فہرستِ مسلَّمہ میں منفرد مقام
خروج (یونانی زبان میں لفظ Exodus کا مطلب ہے باہر نکلنے کا راستہ۔ اُردوُ اور عربی میں بھی مطلب ہے باہر نکلنا) کی کتاب میں، یوسف کی موت کے بعد اِسرائیل کے بارے میں بیان کا آغاز ہوتا ہے۔ یہودی مذہب کی بنیادیں فسح میں ہیں اور فسح کی جڑیں اِسرائیل کی مصر میں چار سو سالہ غلامی سے مخلصی میں ہیں۔ چونکہ فرعون نے عبرانیوں کے خدا کا مقابلہ کیا اور اُس کی کوئی پروا نہ کی اِس لئے اُس کی قوم کو دس آفتوں کے دُکھ سے گزرنا پڑا۔ اِس میں بائبل دُنیا کی تصویر کو پیش کرتی ہے۔
بحرِقلزم کو عبور کرنے کا بیان اور بہت سے دیگر حیران کن معجزات، کوہِ سینا پر شریعت کا دیا جانا اور خیمۂ اِجتماع کے لئے تفصیلی ہدایات اِس خوبصورت کتاب کی تکمیل کرتی ہیں۔
۲۔ مصنف
ہم یہودی اور مسیحی نظریے کے مطابق تسلیم کرتے ہیں کہ توریت کی دیگر کتابوں کی طرح اِسے بھی موسیٰ نے لکھا ہے۔ اِس نظریے کے دفاع کے لئے توریت کا دیباچہ دیکھئے۔
۳۔ سنِ تصنیف
بائبل کے علما نے مصر سے خروج کی تاریخ کا تعین یہ کیا ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ ۱۵۸۰ ق م اور کم از کم ۱۲۳۰ ق م میں واقع ہوا۔ ۱۔سلاطین ۶:۱ میں لکھا ہے کہ خروج کے ۴۸۰ سال بعد سلیمان نے ہیکل کو بنانا شروع کیا۔ چونکہ یہ تقریباً ۹۶۰ ق م کا واقعہ ہے، تو یوں خروج کی تاریخ ۱۴۴۰ ق م بنتی ہے۔ بہت سے علما کا خیال ہے کہ علمِ آثارِ قدیمہ بعد کی تاریخ (۱۲۹۰ ق م) کی زیادہ حمایت کرتا ہے۔ ہم بالکل صحیح تاریخ کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے، تاہم سب باتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہی معقول معلوم ہوتا ہے کہ خروج کا واقعہ ۱۴۴۰ ق م کے قریب رُونما ہوا اور اِس کے تھوڑے عرصے کے بعد یہ کتاب قلم بند ہوئی۔
۴۔ پس منظر اور موضوع
جونہی ہم خروج کی کتاب کو کھولتے ہیں تو ہم اِسرائیلیوں کو مصر میں دیکھتے ہیں جہاں ہم نے اُنہیں پیدائش کی کتاب کے اِختتام پر چھوڑا تھا، لیکن اَب پس منظر کُلی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ چار سو سال کے بعد کا دَور ہے۔ جن عبرانیوں کو کبھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اَب وہ غلام ہیں اور فرعون کے وسیع تعمیراتی پروگرام کے لئے اینٹیں بناتے ہیں۔
خروج کی کتاب کے مضامین مخلصی اور اِسرائیلی قوم کی بنیاد ہیں۔ ۳۴۰۰ سال سے یہودی اِس واقعے کی یاد مناتے رہے ہیں __ یعنی مصر سے قدرت اور خون کے ذریعے نکل آنے اور اِسرائیل کے ایک قوم کی حیثیت سے وجود میں آنے کی یاد مناتے ہیں۔
مسیحیوں میں عشائے ربانی میں خدا کے لوگوں کی قدرت اور خون سے مخلصی کی یادگاری منائی جاتی ہے۔ اِس رسم کی علمِ اِلٰہی اور تواریخی لحاظ سے فسح کی رسم میں جڑیں ہیں۔ کسی حد تک عشائے ربانی میں روٹی اور مے وہی اجزا ہیں جو فسح میں استعمال ہوتے ہیں۔
مصر سے خروج کے بعد، منظر تبدیل ہوتا ہے اور بیابان کا منظر شروع ہو جاتا ہے، جہاں موسیٰ کو اپنے لوگوں کے لئے خدا کی شریعت ملتی ہے۔ تقریباً نصف کتاب میں خیمۂ اِجتماع اور اُس کی کہانت کا بیان ہے (ابواب ۲۵۔۴۰)۔ یہ تفصیلات محض تواریخی نہیں ہیں۔
خروج کی کتاب سے بہتر طور پر لطف اندوز ہونے کے لئے، ہمیں اِس میں مسیح کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ موسیٰ، فسح کا برّہ، چٹان اور خیمہ اِجتماع یسوع مسیح کی علامات میں سے چند ایک ہیں اور اِن میں سے اکثر کا کتابِ مقدس کے دوسرے حصوں میں ذکر کیا گیا ہے (مثلاً ۱۔کرنتھیوں ۵:۷؛ ۱۰:۴؛ عبرانیوں ابواب ۳۔۱۰)۔ ہماری دعا ہے کہ خداوند ہمارے لئے وہی کچھ کرے جو اُس نے اماؤس کی راہ پر جانے والے دو شاگردوں کے لئے کیا تھا کہ ’’جتنی باتیں اُس کے حق میں لکھی ہوئی ہیں وہ ہمیں سمجھا دے۔‘‘
| خاکہ | ||||
| باب | ||||
| ۱۔ | مصر میں اِسرائیل کی غلامی | ۱ | ||
| ۲۔ | موسیٰ کی پیدائش، اُس کا بچ جانا اور اُس کی تربیت | ۲ | ||
| ۳۔ | موسیٰ کی بلاہٹ | ۳۔۴ | ||
| الف۔ | موسیٰ پر یہوواہ کا مکاشفہ | ۳ | ||
| ب۔ | موسیٰ کا پس و پیش کرنا | ۴:۱۔۱۷ | ||
| ج۔ | موسیٰ کا مصر کو واپس جانا | ۴:۱۸۔۳۱ | ||
| ۴۔ | موسیٰ کا فرعون کے رُوبرو ہونا | ۵:۱۔۷:۱۳ | ||
| الف۔ | پہلی بار رُوبرو ہونا | ۵:۱۔۷:۶ | ||
| ب۔ | دوسری بار رُوبرو ہونا | ۷:۷۔۱۳ | ||
| ۵۔ | پہلی نو آفتیں | ۷:۱۴۔۱۰:۲۹ | ||
| الف۔ | پہلی آفت: دریائے نیل کا خون میں تبدیل ہو جانا | ۷:۱۴۔۲۵ | ||
| ب۔ | دوسری آفت: مینڈک | ۸:۱۔۱۵ | ||
| ج۔ | تیسری آفت: جوئیں | ۸:۱۶۔۱۹ | ||
| د۔ | چوتھی آفت: مچھر | ۸:۲۰۔۳۲ | ||
| ہ۔ | پانچویں آفت: مویشیوں میں مری | ۹:۱۔۷ | ||
| و۔ | چھٹی آفت: پھوڑے | ۹:۸۔۱۲ | ||
| ز۔ | ساتویں آفت: آگ اور اَولے | ۹:۱۳۔۲۵ | ||
| ح۔ | آٹھویں آفت: ٹِڈیاں | ۱۰:۱۔۲۰ | ||
| ط۔ | نویں آفت : تین دن کی تاریکی | ۱۰:۲۱۔۲۹ | ||
| ۶۔ | فسح اور پہلوٹھوں کی موت | ۱۱:۱۔۱۲:۲۹ | ||
| ۷۔ | مصر سے خروج | ۱۲:۳۱۔۱۵:۲۱ | ||
| الف۔ | سمندر کی طرف روانگی | ۱۲:۳۱۔۱۳:۲۲ | ||
| ب۔ | بحرِقلزم کو عبور کرنا | ۱۴ | ||
| ج۔ | موسیٰ کا گیت | ۱۵:۱۔۲۱ | ||
| ۸۔ | سینا کی طرف سفر | ۱۵:۲۲۔۱۸:۲۷ | ||
| الف۔ | شور کا بیابان | ۱۵:۲۲۔۲۷ | ||
| ب۔ | سین کا بیابان | ۱۶ | ||
| ج۔ | رفیدیم | ۱۷ | ||
| د۔ | موسیٰ اور یترو | ۱۸ | ||
| ۹۔ | شریعت کا دِیا جانا | ۱۹۔۲۴ | ||
| الف۔ | مکاشفے کے لئے تیاری | ۱۹ | ||
| ب۔ | دس احکام | ۲۰ | ||
| ج۔ | متفرق قوانین | ۲۱۔۲۴ | ||
| ۱ | غلاموں سے متعلق قوانین | ۲۱:۱۔۱۱ | ||
| ۲ | شخصی چوٹ سے متعلق قوانین | ۲۱:۱۲:۳۶ | ||
| ۳ | چوری اور جائیداد کے نقصان سے متعلق قوانین | ۲۲:۱۔۶ | ||
| ۴ | بددیانتی سے متعلق قوانین | ۲۲:۷۔۱۵ | ||
| ۵ | جنسی فعل کے لئے پھُسلانے اور فعل سے متعلق قوانین | ۲۲:۱۶۔۱۷ | ||
| ۶ | سِول معاشرتی اور مذہبی فرائض سے متعلق قوانین | ۲۲:۱۸۔۲۳:۱۹ | ||
| ۷ | فتح سے متعلق قوانین | ۲۳:۲۰۔۳۳ | ||
| ۸ | عہد کو تسلیم کرنا | ۲۴:۱۔۸ | ||
| ۹ | خدا کے جلال کا ظہور | ۲۴:۹۔۱۸ | ||
| ۱۰۔ | خیمہ اِجتماع اور کہانت | ۲۵۔۴۰ | ||
| الف۔ | خیمہ اِجتماع بنانے سے متعلق ہدایات | ۲۵۔۲۷ | ||
| ۱ | سامان اکٹھا کرنا | ۲۵:۱۔۹ | ||
| ۲ | عہد کا صندوق | ۲۵:۱۰۔۱۶ | ||
| ۳ | سرپوش | ۲۵:۱۷۔۲۲ | ||
| ۴ | نذر کی روٹیوں کے لئے میز | ۲۵:۲۳۔۳۰ | ||
| ۵ | سونے کا شمع دان اور اُس کے لوازمات | ۲۵:۳۱۔۴۰ | ||
| ۶ | خیمہ اِجتماع | ۲۶ | ||
| ۷ | سوختنی قربانی کے لئے پیتل کی قربان گاہ | ۲۷:۱۔۸ | ||
| ۸ | بیرونی صحن، ستون اور پردہ | ۲۷:۹۔۱۹ | ||
| ۹ | شمع دان کے لئے | ۲۷:۲۰،۲۱ | ||
| ب۔ | کہانت | ۲۸،۲۹ | ||
| ۱ | کاہنوں کا لباس | ۲۸ | ||
| ۲ | کاہنوں کی تقدیس | ۲۹ | ||
| ج۔ | خیمۂ اِجتماعکےلئےمزیدہدایات | ۳۰،۳۱ | ||
| ۱ | بخور جلانے کی قربان گاہ | ۳۰:۱۔۱۰ | ||
| ۲ | فدیے کی قیمت | ۳۰:۱۱۔۱۶ | ||
| ۳ | پیتل کا حوض | ۳۰:۱۷۔۲۱ | ||
| ۴ | مسح کرنے کا تیل | ۳۰:۲۲۔۳۳ | ||
| ۵ | بخور | ۳۰:۳۴۔۳۸ | ||
| ۶ | باصلاحیت ہنر مند | ۳۱:۱۔۱۱ | ||
| ۷ | سبت کا نشان | ۳۱:۱۲۔۱۸ | ||
| د۔ | بت پرستی کا اچانک پھوٹ پڑنا | ۳۲،۳۳ | ||
| ۱ | سونے کا بچھڑا | ۳۲:۱۔۱۰ | ||
| ۲ | شفاعت اور موسیٰ کا غصہ | ۳۲:۱۱۔۳۵ | ||
| ۳ | لوگوں کا توبہ کرنا | ۳۳:۱۔۶ | ||
| ۴ | موسیٰ کا خیمہ اِجتماع | ۳۳:۷۔۱۱ | ||
| ۵ | موسیٰ کی دعا | ۳۳:۱۲۔۲۳ | ||
| ہ۔ | عہد کی تجدید | ۳۴:۱۔۳۵:۳ | ||
| و۔ | خیمہ اِجتماع کو سازوسامان سے آراستہ کرنے کی تیاری | ۳۵:۴۔۳۸:۳۱ | ||
| ۱ | لوگوں کے ہدیے اور ہنرمند اشخاص | ۳۵:۴۔۳۶:۷ | ||
| ۲ | خیمہ اِجتماع کے لئے پردے | ۳۶:۸۔۱۹ | ||
| ۳ | تین سمتوں کے لئے تختے | ۳۶:۲۰۔۳۰ | ||
| ۴ | تختوں کو باہم جوڑنے کے لئے بینڈے | ۳۶:۳۱۔۳۴ | ||
| ۵ | پاک ترین مقام کے سامنے پردہ | ۳۶:۳۵،۳۶ | ||
| ۶ | پاک مقام کے سامنے پردہ | ۳۶:۳۷،۳۸ | ||
| ۷ | عہد کا صندوق | ۳۷:۱۔۵ | ||
| ۸ | سرپوش | ۳۷:۶۔۹ | ||
| ۹ | نذر کی روٹیوں کی میز | ۳۷:۱۰۔۱۶ | ||
| ۱۰ | سونے کا شمع دان اور اِس کے لوازمات | ۳۷:۱۷۔۲۴ | ||
| ۱۱ | ُود سوز | ۳۷:۲۵۔۲۸ | ||
| ۱۲ | مسح کا تیل اور بخور | ۳۷:۲۹ | ||
| ۱۳ | سوختنی قربانی کے لئے قربان گاہ | ۳۸:۱۔۷ | ||
| ۱۴ | پیتل کا حوض | ۳۸:۸ | ||
| ۱۵ | بیرونی صحن، ستون اور پردہ | ۳۸:۹۔۳۱ | ||
| ز۔ | کاہنوں کے لباس کی تیاری | ۳۹ | ||
| ح۔ | خیمۂ اِجتماع کو کھڑا کرنا | ۴۰ | ||