زبُور ۵۶

زبور ۵۶ :‏ خدا میری طرف ہے!

داؤد کے لئے اپنے ہم وطنوں سے فرار ہو کر جات میں فلستیوں کے درمیان پناہ حاصل کرنا کڑوی گولی نگلنے کے مترادف تھا (‏۱۔سموئیل ۲۱:‏ ۱۰۔۱۵ ‏، ۲۷:‏ ۴‏، ۲۹:‏ ۲۔۱۱)‏‏، لیکن ساؤل بادشاہ کی شدید مخالفت نے اُسے یہ قدم اُٹھانے پر مجبور کیا۔ زبور ۵۶ میں اُس وقت کے خوف اور ایمان کی بدلتی ہوئی کیفیات کو بیان کیا گیا ہے۔

۵۶:‏ ۱‏، ۲ داؤد تعاقب کرنے والوں کی طرف سے مسلسل پریشانی کے پیش نظر خدا کی پُرفضل مدد کے لئے دعا سے اِس زبور کا آغاز کرتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ دن بھر دشمنوں کی طرف سے اُس پر تین طرح کے خوف مسلط تھے:‏ 

وہ … مجھے ستاتا ہے۔ (‏آیت ۱)‏
میرے دشمن … مجھے نگلنا چاہتے ہیں۔ (‏آیت ۲)‏
وہ میری باتوں کو مروڑتے رہتے ہیں۔ (‏آیت ۵)‏

اُس کے دشمن بڑے متکبرانہ انداز سے اُس پر حملہ آور تھے۔ وہ بدی کے لئے اُس کے خلاف مسلسل سازشیں کرتے تھے‏، اُس پر غالب آنے کے لئے اپنی قوت میں اضافہ کرتے رہتے تھے‏، اُس پر جھپٹنے کے لئے گھات لگائے رہتے تھے‏، وہ مسلسل اُس کی جاسوسی کرتے رہتے تھے (‏آیات ۲‏،۵‏،۶)‏۔ یہ صاف اور واضح امر تھا کہ وہ اُسے قتل کرنا چاہتے تھے۔

۵۶:‏ ۳ لیکن ایمان پُراعتماد اعلان سے مایوسی کے جمود کو توڑتا ہے‏، ’’جس وقت مجھے ڈر لگے گا مَیں تجھ پر توکل کروں گا۔‘‘ جلاوطن کی یہ پُرمسرت دلیری خدا کے کردار اور اُس کے وعدوں کی وفاداری پر مبنی ہے۔ اگر ہمارے سارے دشمن متحد ہو جائیں تو بھی وہ اُن سب سے زیادہ طاقتور ہے اور اُس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمیں اُن سے محفوظ رکھے گا۔ اُس نے ہماری حفاظت کے لئے ہمارے گرد باڑ لگا رکھی ہے اور اُس کی مرضی کے بغیر کوئی شے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بلاخوف خدا پر بھروسا رکھ سکتے ہیں۔

۵۶:‏ ۴۔۶ یہ بڑا جرأت مندانہ چیلنج ہے:‏ ’’بشر میرا کیا کر سکتا ہے؟‘‘ شاید عقل یہ جواب دے کہ ’’بہت کچھ‘‘۔ انسان ایذا دے سکتا ہے‏، زخمی کر سکتا ہے‏، جسم کا کوئی حصہ ناکارہ کر سکتا ہے‏، گولی سے مار سکتا ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ خدا کا فرزند مر نہیں سکتا‏، جب تک اُس کا کام مکمل نہ ہو جائے۔ ہم اپنے نجات دہندہ کے الفاظ کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں کہ داؤد کیوں نڈر تھا:‏ 

جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور روح کو قتل نہیں کر سکتے اُن سے نہ ڈرو بلکہ اُسی سے ڈرو جو روح اور بدن دونوں کو جہنم میں ہلاک کر سکتا ہے (‏متی ۱۰:‏ ۲۸)‏۔

۵۶:‏ ۷ دشمنوں کی طرف سے اُسے ختم کرنے کی کوششوں کے بارے میں بتانے کے بعد داؤد خدا سے التجا کرتا ہے کہ اُن کے فریب کا بدلہ دینے کے لئے وہ اپنے قہر میں اُنہیں گرا دے۔

۵۶:‏ ۸ یہاں پر ہمارے خداوند کی طرف سے شخصی اور پُرمحبت فکر کا نہایت عمدہ بیان ہے۔ وہ ہماری آوارگی کا بھی حساب رکھتا ہے۔ وہ ہماری بے چینی اور رات کے وقت کروٹیں بدلنے کا حساب رکھتا ہے۔ وہ ہماری اِس قدر فکر کرتا ہے کہ ہمارے آنسوؤں کی تفصیلات کو جانتا ہے اور ہم اُس سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اُنہیں اپنے مشکیزہ میں رکھ لے۔ شاید یہ ماتم کرنے والوں کی اُس قدیم رسم کی نشان دہی کرتا ہے کہ وہ اپنے آنسوؤں کو ایک چھوٹی سی بوتل میں بند کرکے مرحوم کی قبر میں دفن کر دیتے تھے۔ یوں یہ آنسو پس ماندگان کی محبت کی یادگار سمجھے جاتے تھے۔ بہرکیف خدا ہمارے آنسوؤں کا اپنی کتاب میں حساب رکھتا ہے‏، جیسے بعد ازاں یسوع نے ہمیں سکھایا کہ اُس نے ہمارے سر کے بال بھی گنے ہوئے ہیں۔

۵۶:‏ ۹ داؤد کے ساتھ ہمیں بھی اعتماد ہے کہ ہماری دعاؤں کے جواب میں خدا ہمارے دشمنوں کو پسپا کر دے گا۔ ہم یہ جانتے ہیں کیونکہ خدا ہماری طرف ہے۔ اگر خدا ہماری طرف ہے تو ہمارے مخالف کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں (‏رومیوں ۸:‏ ۳۱)‏؟

بالآخر زندگی کا ایک سوال ہے جو اہمیت کا حامل ہے اور باقی ساری چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں:‏ کیا خدا ہمارے ساتھ ہے؟ آخر داؤد کو اعتماد تھا کہ خدا اُس کی طرف ہے۔ اور جس شخص کا خدا پر اعتماد ہے اُسے کسی بات کی فکر نہیں (‏آیت ۱۱)‏۔

۵۶:‏ ۱۰‏، ۱۱ آیت ۴ کو آیات ۱۰ اور ۱۱ میں دہرایا گیا ہے‏، لیکن یہاں خدا کے دو مختلف نام استعمال کئے گئے ہیں:‏ 

’’میرا فخر خدا (‏الوہیم)‏ پر اور اُس کے کلام پر ہے۔
میرا فخر خداوند (‏یاہوے)‏ پر اور اُس کے کلام پر ہے۔
میرا توکل خدا (‏الوہیم)‏ پر ہے۔ مَیں ڈرنے کا نہیں۔
انسان میرا کیا کر سکتا ہے؟‘‘

زبور نویس قادر مطلق اور عہد پر قائم رہنے والے خدا کے وعدے کی تعریف کرتا ہے اور اُسے مکمل یقین ہے کہ وہ اُس کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ مطمئن ہے کہ کمزور انسان اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

۵۶:‏ ۱۲‏، ۱۳ مستقبل کی مخلصی کی موجودہ یقین دہانی داؤد کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خداوند کے حضور مانی ہوئی منتوں کو پورا کرے اور اُسے اپنی شکرگزاری کا قرض ادا کرے۔ گو ابھی تک وہ دشمن کے علاقے میں ہے‏، لیکن وہ مکمل نجات کی برکتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اُس کی جان بچ گئی ہے اور اُس کے پاؤں نہیں پھسلے تاکہ وہ خدا کے سامنے زندگی کی روشنی میں چلتا رہے۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا مجھُ پر رحم فرما کیونکہ اِنسان مجھُے نکلنا چاہتا ہے ۔ وہ دِن پھر لڑکر مجھُے ستاتا ہے ۔
۲ میر ے دُشمن دِن بھر مجھے نگلنا چا ہتے ہیں ۔ کیو نکہ جوُ غُرور کر کے مجھُ سے لڑ تے ہیں ۔
۳ جِسں وقت مجھے ڈر لگے گا۔ میَں تجھ پر تُو کل کرُوں گا ۔
۴ میر ا فخر خُدا پر اور اُسکے کلام پر ہے ۔ میرا تُو کل خُدا پر ہے ۔ میں ڈر نے کا نہیں ۔بشر میرا کیا کر سکتا ہے ؟
۵ وہ ِن بھر میر ی باتوں کو مر وڑ تے رہتے ہیں ۔ اُن کے خیال سراسر یہی ہیں کہ سے بدی کر یں ۔
۶ وہ اکٹھے ہو کر چھپ جاتے ہیں ۔ وہ میر ے نقش قدم کو دیکھتے بھالتے ہیں ۔ کیو نکہ وہ میری جان کی گھات میں ہیں ۔
۷ کیا وہ بدکار ی کر کے بچ جائے گے ؟ اَے خُدا قہر میں اُمتوں کو گرا دے ۔
۸ میر ی آورگی کا حساب رکھتا ہے ۔ میر ے آنسُووںکو میر ے اپنے مشکِیزہ میں رکھ لے ۔ کیا وہ تیر ی کتا ب میں مند رج نہیں ہیں ؟
۹ تب تُو جسں دِ ن میں فریاد کر وُں گا میر ے دُشمن پسپا ہو نگے مجھُے یہ معُلوم ہے کہ خُدا میر ی طر ف ہے ۔
۱۰ میرا فخر خُدا پر اور اُس کے کلا م پر ہے ۔
۱۱ میرا تُوکل خُدا پر ہے ۔میَں ڈر نے کا نہیں ۔ا نسان میر ا کیا کر سکتا ہے ؟
۱۲ اَے خُدا !تیری مِنتیں مجھ پر ہیں۔میَں تیر ے حضُور شُکر گُزاری کی قُر بانیا ں گُزرانُو ں گا ۔
۱۳ کیو نکہ تُو نے میر ی جان کو مو ت سے چُھڑایا۔کیا تُو نے میر ے پاوؑں کو پِھسلنے سے نہیں بچایا تاکہ میں خُدا کے سامنے زِ ندوں کے نُور میں چُلو ں ؟