زبور ۶۰ : ہماری اُمید خداوند پر ہے
عنوان کے مطابق یہ زبور اُس وقت لکھا گیا جب داؤد مسوپتامیہ اور ارامِ ضوباہ سے لڑا اور یوآب نے لوٹ کر وادیِ شور میں بارہ ہزار ادومیوں کو مارا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ارام اور ادوم کے ساتھ جنگ میں بنی اسرائیل کو وقتی دھچکا لگا تھا (۲۔سموئیل ۸: ۳۔۱۴)، جس کی وجہ سے داؤد نے مدد کی فوری التجا کے لئے آسمان کے دروازوں پر دستک دی۔
زبور کا خاکہ درج ذیل ہے:
- اسرائیل کی شکست خداوند کی طرف سے ہے۔ آیات ۱۔۴
- اسرائیل کی اُمید خدا پر ہے۔ آیت ۵
- خداوند نے حتمی فتح کا وعدہ کیا ہے۔ آیات ۶۔۸
- اسرائیل کو خداوند کی ضرورت ہے۔ آیات ۹۔۱۱
- اسرائیل کا بھروسا خدا پر ہے۔ آیت ۱۲
۱۔ اسرائیل کی شکست خداوند کی طرف سے ہے۔ (۶۰: ۱۔۴)
۶۰: ۱۔۳ جب داؤد کو معلوم ہوتا ہے کہ ارامی اور ادومی اتحاد سے کتنے لوگ مارے گئے، تو وہ اِس سے یہ اخذ کرتا ہے کہ یہ اِس بات کی علامت ہے کہ خداوند نے اپنے لوگوں کو چھوڑ دیا ہے۔ اِس کا یہ مطلب ہے کہ خدا نے اسرائیل کو رد کر دیا ہے۔ اُس نے اپنے غضب میں قوم کے دفاع کو چکنا چور کر دیا ہے اور وہ دشمن کے حملے کے سامنے بے بس ہو گئے۔ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ وہ اپنی شفقت سے اپنی شکست خوردہ فوجوں کو بحال کرے؟
یوں لگتا ہے جیسے ملک بہت بڑے بھونچال سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہو۔ قوم کی اقتصادی، سیاسی اور سماجی بنیادیں ہل کر رہ گئیں۔ سماج کی دیواریں رخنوں کی وجہ سے کمزور ہو کر گر رہی ہیں۔ صرف خداوند ہی اِن رخنوں کو بند کر سکتا اور اپنے لوگوں کے حالات معمول پر لا سکتا ہے۔
ملک کے لوگ بڑی سخت مشکل میں سے گزرے ہیں۔ دُکھوں اور شکست کی مے سے وہ شرابی کی مانند لڑکھڑا رہے ہیں۔
۶۰: ۴ عبرانی میں اِس آیت کا مطلب کچھ مبہم سا ہے۔ اِس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ جو خداوند سے ڈرتے ہیں وہ اُن کو جھنڈا دیتا ہے تاکہ یہ حق کی خاطر بلند کیا جائے۔ لیکن اَور ممکنہ ترجمہ اِس کا بالکل مختلف مفہوم دیتا ہے:
’’جو تجھ سے ڈرتے ہیں تُو نے اُنہیں ایک جھنڈا دیا ہےتاکہ وہ کمان کے آگے سے بھاگ سکیں۔‘‘
اِس صورت میں داؤد کھلے لفظوں میں بڑے طنزیہ انداز میں شکایت کر رہا ہے کہ خدا نے اسرائیل کے لئے جو جھنڈا کھڑا کیا ہے وہ فتح کا نہیں بلکہ شکست کا ہے اور یہ جھنڈا دشمنوں کی فوج کے سامنے سے بھاگنے کا نشان ہے۔
۲۔ اسرائیل کی اُمید خدا پر ہے۔ (آیت ۵)
دعا نے شکست فاش کی راکھ سے جنم لیا ہے۔ اپنے اور اپنے لوگوں کو ’’تیرے محبوب‘‘ کا نام دے کر زبور نویس خداوند سے فتح اور تعلقات و رفاقت کی تجدید کے لئے التجا کرتا ہے: ’’ آ اور اپنے دوستوں کو مخلصی دے، اپنے دہنے ہاتھ سے مدد کر اور جواب دے۔‘‘
۳۔ خداوند نے حتمی فتح کا وعدہ کیا ہے۔ (۶۰: ۶۔۸)
۶۰: ۶، ۷ آیات ۶۔۸ میں خدا کی آواز سنائی دیتی ہے اور اِس میں اِس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ پھر سے اسرائیل کی تمام زمین پر قبضہ کرکے اُس کے غیر قوم دشمنوں کو شکست دے گا۔
سکم، سکات، منسی، افرائیم اور یہوداہ تمام یہودی علاقے ہیں۔ خدا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ اُس کی ملکیت ہیں۔ وہ یردن کے مغرب میں واقع سکم اور مشرق میں سکات کی وادی کو تقسیم کرے گا۔ وہ یردن کے پار جلعاد اور یردن کے دونوں طرف منسی کے دونوں علاقوں پر قبضہ کرے گا۔
افرائیم، اسرائیل کے وسط میں واقع تھا۔ یہ اُس کے سرکا خود ہے یعنی یہ قبیلہ قومی دفاع میں قیادت کرے گا۔ اور یعقوب کی قریب الموت پیش گوئی کے مطابق یہوداہ اُس کا عصا ہے (پیدائش ۴۹:۱۰) یعنی یہ قبیلہ حکومت کا مرکز ہو گا۔
۶۰:۸ اسرائیل کے ارد گرد کی تین قوموں سے مخاطب ہوتے ہوئے خداوند اُن پر حکومت کا دعویٰ کرتا ہے۔ موآب جو بحیرہ مردار کے جنوب مشرق میں واقع ہے، اُس کی چلپچی (چلمچی۔تسلا)ہو گا۔ وہ ادوم پر اپنا جوتا پھینکے گا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زبردستی اُس پر قبضہ کرے گا۔ یہ نفرت کی علامت بھی ہے۔ خدا کی عدالت سے فلستین للکارے گا۔
۴۔ اسرائیل کو خداوند کی ضرورت ہے۔ (۶۰: ۹۔۱۱)
۶۰: ۹ صاف ظاہر ہے کہ متکلم یہاں پر تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ خدا کی آواز نہیں ہو سکتی کیونکہ اُسے محکم شہر تک لانے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ ہم اِس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ داؤد کے الفاظ ہیں، کیونکہ وہ اُس دن کا آرزو مند ہے کہ اسرائیلی، ادوم کے صدر مقام شہر پر (جسے بصراہ اور سلع بھی کہا گیا) کب قابض ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ یہاں شہر سے مراد پورا مُلک ہے۔ داؤد کی خواہش ہے کہ وہ اُس پر جوتا پھینکنے کے لئے خدا کی خواہش کی تکمیل کے لئے آلۂ کار بنے۔
۶۰: ۱۰ لیکن اِس موقع پر یہ بے سود اُمید ہے کیونکہ خدا نے اپنے لوگوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔ اُس نے اُنہیں رد کر دیا ہے۔ وہ فتح کی ضمانت کے طور پر اسرائیل کی فوجوں کے ساتھ نہیں جاتا۔
۶۰: ۱۱ چنانچہ داؤد خدا سے دعا کرتا ہے کہ وہ اپنے پریشان لوگوں کی طرف سے ایک بار پھر جنگ کرے۔ اِلٰہی مدد بہت ضروری ہے کیونکہ انسانی مدد عبث ہے۔
۵۔ اسرائیل کا بھروسا خداوند پر ہے۔ (۶۰: ۱۲)
یہ زبور بڑے اعتماد کی فضا میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ خدا داد مدد کے تحت اسرائیلی فوج کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اُنہیں مثالی فتح حاصل ہو گی۔ اُن کے دشمن اُس کی ایڑی تلے کچلے جائیں گے۔
اِطلاق
دُنیا، جسم اور شیطان ایماندار کے دشمن ہیں۔ وہ بذاتِ خود اُن پر فتح پانے کے لئے
کمزور ہے۔ اور دوسرے لوگوں کی مدد ناکافی ہے، خواہ وہ کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں۔ لیکن فتح صرف خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو اُس پر بھروسا رکھتے ہیں وہ کبھی مایوس نہ ہوں گے۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُدا ! تُو نے ہمیں رد کیا تُو نے ہمیں شِکستہ حال کر دیا۔ تُو ناراض رہا ۔ ہمیں پھر بحال کر۔
۲ تُو نے زمین کو لرزا دیا۔ تُو نے اُسے پھاڑ ڈالا ہے۔ اُسکے رخنے بند کر دے کیونکہ وہ لرزان ہے۔
۳ تُو نے اپنے لوگوں کو سختیاں دکھائیِں ۔تُو نے ہم کو لڑکھڑا دینے والی مے پِلائی۔
۴ جو تجھ سے ڈرتے ہیں تُو نے اُنکو جھنڈا دیا ہے۔ تاکہ وہ حق کی خاطر بُلند کیا جائے ۔
۵ اپنے دہنے ہاتھ سے بچا اور ہمیں جواب دے تاکہ تیرے محبوب بچائے جائیں ۔
۶ خُدا نے اپنی قُدوُسیت میں فرمایا ہے میَں خُوشی کروں گا۔ میَں سِکم کو تقسیم کروں گا اور سُکات کی وادی کو بانٹونگا۔
۷ جِلعاؔد میرا ہے منؔسیّ بھی میرا ہے۔اِفرائیمؔ میرے سر کا خود ہے یہوؔداہ میرا عصا ہے۔
۸ موآؔب میری چلپچی ہے۔ ادوؔم پر میَں جوتا پھینُکونگا۔اَے فِلستیؔن ! میرے سبب سے للکار۔
۹ مجھے اُس محُکم شہر میں کون پہُنچائگا؟ کوَن مجھے ادوؔم تک لے گیا ہے؟
۱۰
۱۱ مُخالِف کے مُقابلہ میں ہماری کمک کر کیونکہ اِنسانی مدد عبث ہے۔
۱۲ خُدا کی مدد سے ہم بُہادری کریں گے۔ کیونکہ وہی ہمارے مُخالِفوں کو پامال کریگا۔