زبور ۵۲ : غدار کو بے نقاب کر دیا گیا
اِس زبور کا تاریخی پس منظر ۱۔سموئیل ۲۱، ۲۲ باب میں پایا جاتا ہے۔ ادومی دوئیگ ساؤل بادشاہ کے چرواہوں کا سردار تھا۔ وہ اُس وقت وہاں موجود تھا جب داؤد نے اخیملک کاہن سے کھانا اور جاتی جولیت کی تلوار لی۔ اِس کے فوراً بعد اُس نے جا کر ساؤل کے کان بھرے۔ انعام کے طور پر اُسے یہ اختیار دیا گیا کہ اخیملک اور خداوند کے دیگر ۸۴ کاہنوں کو قتل کر دے۔ اِس کے بعد اُس نے نوب کے مقام پر عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کیا حتیٰ کہ جانوروں کو بھی تباہ کر دیا۔
۱۔۴ آیات میں دوئیگ کے کردار کا خاکہ پیش کیا گیا ہے اور اُس کے انجام کو ۵۔۷ آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس کے مقابلے میں زبور نویس کا کردار ۸ اور ۹ آیات میں پیش کیا گیا ہے۔
۵۲: ۱۔۴ شروع میں داؤد ، غدار پر اِس سوال سے حملہ کرتا ہے کہ وہ کیوں انتہائی شرارت اور خدا کے وفادار خادم پر جھوٹے بہتان باندھنے پر فخر کرتا ہے۔ اُس کی زبان اُسترے کی مانند تیز تھی جو لوگوں کو تہمت سے کاٹ ڈالتی تھی۔ اُس کا نیکی کی بجائے بدی کی طرف زیادہ رُجحان تھا اور سچ بولنے کی نسبت جھوٹ بولنے کو ترجیح دیتا تھا۔ اُس مجسم فریب نے اپنی باتوں سے خوش ہو کر دوسروں کی زندگیاں برباد کر دیں۔
۵۲: ۵ جس مقدر کی پیش گوئی زبور نویس دوئیگ اور اُس کے ساتھیوں کے لئے کرتا ہے، اُس پر اِلٰہی اور انسانی عدل متفق ہے۔ جیسے عمارت کو گرا کر زمیں بوس کر دیا جاتا ہے، ویسے ہی خدا اُس کے زور کو توڑ کر اُسے خاک میں ملا دے گا۔ خدا اُسے اُس کے خیمہ سے کھینچ کر باہر نکالے گا اور اُس کا نام و نشان کلی طور پر زندوں کی زمین سے مٹا ڈالے گا۔
۵۲: ۶،۷ خدا ترس لوگ اُس دن کو دیکھیں گے، جب خدا اُس فریبی آدمی کو عبرت ناک سزا دے گا اور وہ اُس کی شکست پر یہ کہتے ہوئے ہنسیں گے کہ
’’دیکھو یہ وہی آدمی ہے جس نے خدا کو اپنی پناہ گاہ نہ بنایا بلکہ اپنے مال کی فراوانی پر بھروسا کیااور شرارت میں پکا ہو گیا۔‘‘
۵۲: ۸،۹ زبور نویس کے کردار میں ایک نمایاں فرق ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے گھر میں زیتون کے ہرے درخت سے تشبیہ دیتا ہے جو خوش حالی اور پھل دار ہونے کے مترادف ہے۔
زیتون کے درخت میں وہ تیل ہے جو خدا کے روح کا مثیل ہے۔ تیل کا ہرا رنگ ابدی زندگی کی تازگی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ خدا کے گھر میں ہے، جبکہ وہ خیمہ جس میں سے شریر کو نکال پھینکا جائے گااُس سے باہر ہے۔
دوئیگ تو خدا کو اپنی پناہ گاہ نہیں بنائے گا، اِس کے برعکس داؤد کا توکل ابدالآباد خدا کی شفقت پر ہے۔
خداوند نے جو کچھ داؤد کے لئے کیا ہے، وہ ہمیشہ اُس کی شکر گزاری کرے گا۔ یعنی وہ شریر کو سزا دینے اور راست باز کو بری کرنے کے لئے اُس کی شکرگزاری کرے گا۔
بالآخر وہ وفادار مقدسین کی موجودگی میں خداوند کے نام کی شکرگزاری کرے گا، کیونکہ اُس کا نام خوب ہے اور جو کچھ وہ ہے وہ سب خوب ہے۔
مقدس کتاب
۱ اَے زبردست ! تُو شرارت پر کیوں ٖفخر کرتا ہے؟ خُدا کی شفقت دائمی ہے۔
۲ تیری زُبان محض شرارت اِیجاد کرتی ہے ۔ اَے داغا باز! وہ تیز اُسترے کی مانند ہے۔
۳ تُو بدی کو نیکی سے زیادہ پسند کرتا ہے اور جھوٹ کو صداقت کی بات سے ۔
۴ اَے داغا باز زُبان!تُو مُہلک باتوں کو پسند کرتی ہے۔
۵ خُداوند بھی تجھے ہمیشہ کے لئے ہلاک کر ڈالے گا۔ وہ تجھے پکڑ کر تیرے خیمہ سے نِکال پھینکے گا۔ اور زِندوں کی زمین سے تجھے اُکھاڑ پھینکے گا۔
۶ صادق بھی اِس بات کو دیکھ کر ڈر جائیں گے اور اِس پر ہنسیں گے۔
۷ کہ دیکھ یہ وہی آدمی ہے جِس نے خُدا کو اپنی پناہ گاہ نہ بنایا بلکہ اپنے مال کی فراوانی پر بھروسہ کیااور شرارت میں پکا ہو گیا۔
۸ لیکِن میَں تو خُدا کے گھر میں زیتُون کے ہرے درخت کی مانند ہوں ۔ میرا توکل ابدلاآباد خُدا کی شفقت پر ہے۔
۹ میَں ہمیشہ تیری شُکر گُزاری کرتا رہوں گا کیونکہ تو ہی نے یہ کیا ہےاور مجھے تیرے ہی نام کی آس ہو گی کیونکہ وہ تیرے مُقدسوں کے نزدیک خُوب ہے۔