حبقُوق تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

حبقوق

Habakkuk

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’ حبقوق کوئی ایسا شخص نہیں تھا جسے صرف اپنے اور اپنے خاندان کے آرام اور خیر و عافیت سے غرض ہوتی ہے۔ وہ سچا محبِ قوم تھا اِس لئے اُسے اپنی قوم کی اخلاقی اور روحانی حالت پر گہرا دُکھ اور افسوس لاحق رہتا تھا۔ وہ اپنی قوم سے محبت رکھتا تھا اور جانتا تھا کہ خدا کے آئین و احکام کو مسلسل توڑنے کے باعث یہ قوم روز بروز تباہی اور ہلاکت کے دہانے پر پہنچ رہی ہے اور سر کے بل گرنے کو ہے۔ اِس لئے اُس کے ہونٹوں سے دو کرب ناک سوال بے ساختہ اُبھرتے تھے۔ کب تک؟ اور کیوں؟‘‘(‏رچرڈ۔ ڈبلیو۔ ڈی ہان۔ De Haan)‏

۱۔ کتبِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام

حبقوق ۲:‏۴ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے نئے عہدنامے میں تین دفعہ اِقتباس کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پولس نے پِسدیہ کے انطاکیہ کے یہودی عبادت خانے میں اپنے وعظ کے اختتام (‏اعمال ۱۳:‏ ۴۰‏،۴۱)‏ پر حبقوق ۱:‏۵ کے الفاظ دہرائے۔ یہ ایک اَور ثبوت ہے کہ پرانے عہدنامے کی یہ چھوٹی سی اور بظاہر غیر معروف کتاب تعلیم اور عقیدے سے کیسی مالا مال ہے۔ اِس کے علاوہ حبقوق ۳:‏ ۱۷‏،۱۸ کا موازنہ فلپیوں ۴:‏۴‏،۱۰۔۱۹ کے ساتھ کریں۔ نبی اور رسول دونوں اپنے خدا میں شادمان ہو سکتے تھے خواہ زندگی کے ظاہری حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ جہاں تک اُسلُوبِ بیان کا تعلق ہے عبرانی کا مسیحی عالم چارلس فین برگ (‏Feinberg)‏ لکھتا ہے کہ:‏

’’سارے علما مانتے ہیں کہ حبقوق کو عبرانی نبیوں میں ایک بہت اُونچا مقام حاصل ہے۔ باب ۳ کی شاعری کی ہر کسی نے تعریف کی ہے کہ یہ عبرانی زبان کی نہایت شان دار اور پُرشکوہ شاعری ہے۔ اِس کتاب کی زبان نہایت شُستہ اور خوبصورت ہے۔‘‘

۲۔ مصنف

حقیقت میں ہم اِس نبی کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔ حبقوق نام کا مطلب ہے آغوش یا بانہوں میں لینا یا کُشتی کرنا۔ 

چونکہ وہ اُن مٹھی بھر افراد میں سے ایک ہے جو اپنے آپ کو نبی کہتے ہیں اِس لئے بعض علما کو یقین ہے کہ اُسے نہ صرف نبوت کی نعمت بلکہ رُتبہ (‏عہدہ)‏ بھی حاصل تھا۔ (‏مثال کے طور پر دانی ایل پیشے کے لحاظ سے سرکاری مدّبر مگر نعمت کے لحاظ سے نبی تھا)‏۔ چونکہ باب ۳ میں حبقوق موسیقی کے آلات کا حوالہ دیتا ہے اِس لئے بعض علما کی رائے ہے کہ وہ ہیکل میں گانے والی جماعت (‏کوائر)‏ کا رُکن تھا۔ لیکن یہ محض قیاس آرائی ہے۔ 

۳۔ سنِ تصنیف

چونکہ حبقوق کسی بادشاہ کا ذکر نہیں کرتا اِس لئے اس کے سنِ تصنیف کا تعین کرنا بہت مشکل ہے۔ غالباً یہ ساتویں صدی ق م میں لکھی گئی۔ مگر چند استدلال (‏عقلیت)‏ پسند ناقدین اِس سے بعد کی تاریخ بناتے ہیں۔ اُن کے پاس اپنے دلائل ہیں۔ قدامت پسند علما کے مطابق یہ نبی منسی‏، یوسیاہ یا یہویقیم کے دورِ سلطنت میں ہوا۔ یہ سب ساتویں صدی ق م کے بادشاہ ہیں۔ غالباً یہویقیم کا زمانہ بہترین اِنتخاب ہے اور تاریخ جنگِ کرکمیس (‏۶۰۵ ق م)‏ کے قریب کی ہو گی۔ اِس جنگ میں بابل فتح یاب ہوا تھا۔ 

۴۔ پس منظر اور موضوع

یوسیاہ بادشاہ کی کاوش سے آنے والی مذہبی بیداری زیادہ عرصہ قائم نہ رہی۔ آوارہ مزاج اور شہوانی دیوتا بعل اور دیوی عستارات کے اثرات اور رسومات پھر لوٹ کر آئیں۔ بے اِنصافی اور ظلم و ستم گری پھر زور پکڑ گئی۔ یہ شرم ناک اور افسوس ناک حالت تھی جس کا حبقوق کو سامنا تھا۔ 

اِس نبی نے بابل کی اسیری (‏۵۸۶ ق م)‏ سے پہلے یہوداہ میں کلام کیا۔ چونکہ اِس کے نام کا مطلب کُشتی کرنے والا ہے تو یہ خیال کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہوداہ کے لوگوں کے گناہ اور سزا کے معاملے میں یہوداہ سے کُشتی کرتا رہا۔ 

فِین برگ (‏Feinberg)‏ نے اُس کے نام کے ترجمے کے لئے آغوش/بانہوں میں لینا کے مطلب کو ترجیح دی ہے اور اِس کی تائید میں مارٹن لوتھر کا یوں حوالہ دیا ہے:‏

’’ حبقوق کا مطلب ہے آغوش/ بانہوں میں لینے والا‏، یعنی وہ شخص جو دوسرے کو آغوش / بانہوں میں لے لیتا ہے۔ یہ نبی اپنے لوگوں سے بغل گیر ہوتا اور اپنی بانہوں میں لے لیتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اُنہیں تسلی اور دلاسا دیتا ہے اور ایسے اُٹھا لیتا ہے جیسے کوئی کسی روتے ہوئے بچے کو اٹھاتا اور آغوش میں لیتا ہے اور اُسے چپ کرانے اور تسلی دینے کے لئے یقین دلاتا ہے کہ خدا نے چاہا تو بہت جلد حالات بہتر ہو جائیں گے۔‘‘

 

خاکہ
        باب
۱۔ نبی پریشان ہوتا ہے کہ خدا یہوداہ کی بدی کی سزا نہیںدے رہا ‏۱:‏ ۱۔۴‏
۲۔ خداوند جواب دیتا ہے کہ مَیں یہوداہ کو سزا دینے کے لئےبابلیوں کو استعمال کروں گا ‏۱:‏ ۵۔۱۱‏
۳۔ حبقوق اعتراض کرتا ہے کہ خدا یہوداہ کو سزا دینے کے لئےایک اُس سے زیادہ شریر قوم کا اِنتخاب کر رہا ہے ‏۱:‏ ۱۲۔۱۷‏
۴۔ خدا جواب دیتا ہے کہ یہوداہ کے راست لوگ بچ جائیں گےلیکن ناراست کسدی ہلاک ہوں گے ‏ ۲‏
  الف۔ حبقوق خدا کے جواب کا اِنتظار کرتا ہے ‏۲:‏۱‏
  ب۔ خدا حکم دیتا ہے کہ جواب کو لکھ لیا جائے اور اِس کے پورا ہونے کا اِنتظارکیا جائے ‏۲:‏۲‏، ۳‏
  ج۔ صادق اپنے ایمان سے زندہ رہیں گے اور ناراست کسدی ہلاک ہوں گے ‏۲:‏۴‏
  د۔ کسدیوں کے گناہوں کی فہرست ‏۲:‏ ۵۔۱۹‏
    ‏ا‏ فتوحات کے لئے بے اِنتہا بھوک ‏۲:‏ ۵۔۸‏
    ‏۲‏ حرص اور غرور ‏۲:‏ ۹۔۱۱‏
    ‏۳‏ خوں ریزی سے دولت بٹورنا ‏۲:‏ ۱۲۔۱۴‏
    ‏۴‏ ہمسایوں کو خراب کرنا ‏۲:‏ ۱۵۔۱۷‏
    ‏۵‏ بت پرستی ‏۲:‏ ۱۸‏،۱۹‏
  ہ۔ خدا کے قہر و غضب کے طوفان سے پہلے خاموشی کی تاکید ‏۲:‏۲۰‏
۵۔ حبقوق دعا مانگتا اور بھروسا رکھتا ہے ‏ ۳‏
  الف۔ وہ خدا سے درخواست کرتا ہے کہ اپنے لوگوں کے لئے کچھ کر ‏۳:‏ ۱‏،۲‏
  ب۔ وہ اِس بات کو دُہراتا ہے کہ مصر سے کنعان تک خدا نے اِسرائیل کینگہداشت کی ‏۳:‏ ۳۔۱۵‏
  ج۔ وہ دشمن کو سزا ملنے کا اِنتظار کرتا ہے ‏۳:‏۱۶‏
  د۔ خواہ کچھ بھی ہو وہ خدا اور اُس کی قوت پر بھروسا رکھے گا ‏۳:‏ ۱۷۔۱۹‏