زبُور ۷۹

زبور ۷۹ :‏ قیدیوں کی آہیں

زبور ۷۹ ‏، زبور ۷۴ سے تعلق رکھتا ہے۔ زبور ۷۴ میں بنیادی طور پر خدا کی میراث یعنی ہیکل کی تباہی کا ذکر ہے۔ اِس کے مقابلے میں زبور ۷۹ میں ہیکل کی بربادی کا مختصراً ذکر ہے‏، لیکن اِس میں خدا کی قوم یعنی اسرائیل کی تباہی پر زور دیا گیا ہے۔ زبور نویس بڑے خوبصورت انداز میں یہودیوں کی حمایت کرتا اور اُن کی بحالی اور بیداری کے لئے التجا کرتا ہے۔ 

۷۹:‏ ۱ بت پرست حملہ آور اسرائیل کے ملک پر حملہ کرکے دارالحکومت میں گھس آئے ہیں۔ مقدس ہیکل اُن کے گندے پاؤں سے ناپاک ہو گئی ہے اور پیارا شہر کھنڈر بن چکا ہے۔ 

۷۹:‏ ۲۔۴ قتل عام بہت ہولناک ہے۔ سڑی ہوئی لاشوں سے ہر طرف تعفن ہے۔ یہودیوں کی لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہیں اور اُن کی یہاں تک توہین ہوئی ہے کہ اُنہیں دفنایا بھی نہیں گیا۔ گدھ اُن پر جھپٹتے ہیں اور زمین کے درندے اپنے شکار کو نوچتے ہیں۔ یروشلیم میں ہر طرف خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے اور حملہ آوروں نے مقتولوں کو دفن کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اسرائیل کے غیرقوم پڑوسی اِس قومی سانحہ کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔

۷۹:‏ ۵۔۷ صاف ظاہر ہے کہ یہ خداوند کے شدید قہر اور غیرت کے غصے کا نشان ہے‏، لیکن کب تک غیرت کی یہ آگ اسرائیل کے خلاف بھڑکتی رہے گی؟ کیا اب یہ وقت نہیں کہ خدا غیر قوموں کے خلاف ہو جائے؟ کیونکہ یہ قومیں یہوواہ کو جاننا نہیں چاہتیں اور بڑی ڈھٹائی سے اُس کا نام نہیں لیتیں۔ اب تو اُن کا گناہ اَور بھی بڑھ گیا ہے کیونکہ اُنہوں نے خدا کی قوم اور اُس کی ہیکل کو برباد کیا ہے۔ 

۷۹:‏ ۸۔۱۰ یہاں تک تو ہر ایک بات تعارفی طور پر ہے۔ اب زبور نویس معاملے کی تہہ تک پہنچتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ اِس بربادی کا باعث قوم کا گناہ ہے۔ ہمارے باپ دادا کے گناہوں کو ہمارے خلاف یاد نہ کر۔ اِس اقرار کے بعد وہ قادرِ مطلق کے رحم کو تحریک دینے کے لئے زور دار دلائل استعمال کرتا ہے۔ سب سے پہلے وہ خدا کے رحم کے لئے اپیل کرتا ہے‏، قوم کو اِس وقت سے پہلے اِس کی کبھی اتنی زیادہ ضرورت نہیں تھی۔ اِس کے بعد وہ خدا کے نام کے جلال کو اپنی درخواست کی بنیاد بناتا ہے۔ خداوند نے شکستہ دلوں اور تائب لوگوں کے لئے معافی کا وعدہ کیا ہے‏، اب اُس کے نام کی عزت خطرہ میں ہے اور بالآخر یہ بھی ضروری ہے کہ دشمن کی پھبتیوں کے لئے اُن کا منہ بند کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کے خدا کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ بہت شاندار موقع ہے کہ وہ اپنے بندوں کے بہائے ہوئے خون کا بدلہ لینے سے اپنے وجود کو ثابت کرے۔

۷۹:‏ ۱۱‏، ۱۲ زبور نویس خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ قیدیوں کی دلدوز آہوں کو سنے۔ وہ اُنہیں جو مرنے کے لئے ترک کر دیئے گئے ہیں اپنی عظیم قدرت کے مطابق مخلصی دلائے اور وہ التجا کرتا ہے کہ چونکہ دشمنوں نے خداوند کے نام پر طعنہ زنی کی ہے اِس لئے اُنہیں اِس کا سات گنا بدلہ ملے۔

۷۹:‏ ۱۳ اِس کا یہ مطلب ہو گا کہ اسرائیل کو سلامتی اور خدا کا جلال حاصل ہو گا۔ اُس کا پیارا گلہ ہمیشہ اُس کی شکرگزاری کرتا رہے گا۔ پشت در پشت اُس کی ستائش کی جائے گی۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا! قومیں تیری میراث میں گھُس آئیں ہیں۔ اُنہوں نے تیری مُقدس ہیکل کو ناپاک کیا ہے۔ اُنہوں نے یرؔوشلیم کھنڈر بنا دیا ہے۔
۲ اُنہوں نے تیرے بندوں کی لاشوں کو آسمان کے پرندوں کی اور تیرے مقدسوں کے گوشت کو زمین کے درِندوں کی خُوراک بنا دیا ہے۔
۳ اُنہوں نے اُن کا خُون یروشلؔیم کی گِرد پانی کی طرح بہایا اور کوئی اُ ن کو دفن کرنے والا نہ تھا ۔
۴ ہم اپنے پڑوسیوں کی ملامت کا نشانہ ہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے تمسخُر اور مذاق کا باعث ۔
۵ اَے خُدا! کب تک؟ کیا تُو ہمیشہ کے لئے ناراض رہے گا؟ کیا تیری غیرت آگ کی طرح بھڑکتی رہیگی؟
۶ اپنا قہر اُن قوموں پر جو تجھے نہیں پہچانتیں اور اُن مملکتوں پر جو تیرا نام نہیں لیتیں اُنڈیل دے۔
۷ کیونکہ اُنہوں نے یعقُؔوب کو کھا لیا اور اُ سکے مسکن کو اُجاڑ دیا ۔
۸ ہمارے باپ دادا کے گُناہوں کو ہمارے خلاف یاد نہ کر ۔ تیری رحمت جلد ہم تک پہنچے کیونکہ ہم بہت پست ہو گئے ہیں۔
۹ اَے ہمارے نجات دینے والے خُدا! اپنے نام کے جلال کی خاطر ہماری مدد کر ۔ اپنے نام کی خاطر ہمکو چُھڑا اور ہمارے گُناہوں کا کفارہ دے۔
۱۰ قومیں کیوں کہیں کہ اُنکا خُدا کہاں ہے؟تیرے بندوں کے بہائے ہوئے خون کا بدلہ ہماری آنکھوں کے سامنے قوموں پر واضح ہو جائے۔
۱۱ قیدی کی آہ تیرے حضور تک پُہنچے ۔اپنی بڑی قدرت سے مرنے والوں کو بچا لے۔
۱۲ اَے خُداوند! ہمارے پڑوسیوں کی طعنہ زنی جو وہ تجھ پر کرتے رہے ہیں اُلٹی سات گُنا اُن ہی کے دامن میں ڈال دے ۔
۱۳ تب ہم جو تیرے لوگ اور تیری چراگاہ کی بھیڑیں ہیں ہمیشہ تیری شُکر گُزاری کریں گے۔ہم پُشت در پُشت تیری ستایش کریں گے۔