زبور ۸۲: دُنیا کے حکمرانوں کا مقدمہ
۸۲: ۱ عدالت لگ چکی ہے۔ منصف اپنی مسندِ عدالت پر بیٹھ چکا ہے۔ یہ منصف خدا خود ہے۔ اُس نے آسمانی عدالت کا یہ خصوصی سیشن بلایا ہے تاکہ وہ زمین کے حکمرانوں اور منصفوں کو ملامت کرے۔ اُنہیں اِلٰہ کہا گیا ہے کیونکہ وہ خدا کے نمائندے ہیں، اُس نے اُنہیں اپنے خادم مقرر کیا ہے تاکہ سماج میں انتظامی امور کو نپٹائیں۔ درحقیقت وہ ہماری طرح کے انسان ہیں، لیکن اپنی حیثیت کے لحاظ سے وہ خداوند کی طرف سے مسح کئے ہوئے ہیں۔ اگر وہ خدا کو شخصی طور پر نہیں بھی جانتے، تاہم عہدہ کے لحاظ سے وہ خدا کے نمائندے ہیں، اِس لئے اِنہیں یہاں اِلٰہ کے نام سے اعزاز دیا گیا ہے۔ اِس نام کا بنیادی مطلب ہے ’’زور آور۔‘‘
۸۲: ۲ سب سے پہلے خدا اُن کو اپنے عہدہ کو غلط طور پر استعمال کرنے کے لئے جھڑکتا ہے۔ وہ ناجائز نفع اور رشوت ستانی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اُن کے انتظام کے تحت، اُمرا کی حمایت کی گئی جبکہ غریبوں پر ظلم کیا گیا۔ مجرموں کو سزا دیئے بغیر چھوڑ دیا گیا جبکہ بے گناہوں کو نقصان برداشت کرنا پڑا اور اُن کی طرف توجہ نہ دی گئی۔ انصاف کے ترازو ظلم کے ترازو بن گئے۔
۸۲: ۳،۴ تب ساری دُنیا کا منصف ایک بار پھر اُنہیں سماجی انصاف کی ذمہ داریوں کے بارے میں یاد دلاتا ہے۔ اُنہیں غریب، یتیم، غمزدہ اور مفلس کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہئے۔ اُنہیں پسے ہوئے اور محتاج لوگوں کا مددگار ہونا چاہئے۔
۸۲: ۵ لیکن خداوند کی تمام آگاہیوں کے باوجود اصلاح کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی۔ لگتا ہے جیسے خدا آہیں بھرتا ہے کہ وہ عقل اور علم سے عمل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ چونکہ وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں، اِس لئے بہت کم اُمید نظر آتی ہے کہ وہ اُن لوگوں کی مدد کر سکیں جنہیں راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے راستی اور حکمت سے کام نہیں کیا اِس لئے معاشرہ کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ قانون اور انتظام ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
۸۲: ۶،۷ حقوق کے لحاظ سے اُنہیں آسمان تک سربلند کیا گیا ہے، لیکن سزا کے طور پر اُنہیں نیچے گرا دیا جائے گا۔ گو خدا اُنہیں اِلٰہ اور حق تعالیٰ کے فرزند کہہ کر پکارتا ہے، لیکن اِن حقوق کے باوجود وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جیسا دوسرے لوگوں کے ساتھ۔ وہ اُمرا میں سے کسی کی طرح گر جائیں گے۔ چونکہ اُنہیں زیادہ حقوق دیئے گئے ہیں، اِس لئے اُن کی سزا بھی زیادہ ہو گی۔
ایک بار جب ہمارے خداوند یسوع کا اپنے دشمنوں سے آمنا سامنا ہوا تو اُس نے آیت چھ کا اقتباس کیا (یوحنا ۱۰: ۳۲۔۳۶)۔ اُنہوں نے اُسے کفر کا مرتکب ٹھہرا دیا کیونکہ اُس کا دعویٰ تھا کہ وہ خدا کے برابر ہے۔
’’یسوع نے اُنہیں جواب دیا کہ مَیں نے تم کو باپ کی طرف سے بہتیرے اچھے کام دکھائے ہیں۔ اُن میں سے کس کام کے سبب سے مجھے سنگسار کرتے ہو؟ یہودیوں نے اُسے جواب دیا کہ اچھے کام کے سبب سے نہیں بلکہ کفر کے سبب سے تجھے سنگسار کرتے ہیں اور اِس لئے کہ تُو آدمی ہو کر اپنے آپ کو خدا بناتا ہے۔ یسوع نے اُنہیں جواب دیا کہ تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ مَیں نے کہا تم خدا ہو؟ جبکہ اُس نے اُنہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کا کلام آیا (اور کتابِ مُقدّس کا باطل ہونا ممکن نہیں)۔ آیا تم اُس شخص سے جسے باپ نے مُقدّس کرکے دنیا میں بھیجاکہتے ہو کہ تُو کفر بکتا ہے اِس لئے کہ مَیں نے کہا مَیں خدا کا بیٹا ہوں؟‘‘
اُس کے سامعین پر اِس کا بہت زیادہ اثر ہوا۔ اُنہوں نے سمجھا کہ یسوع کمتر سے برتر کا طریقہ دلیل استعمال کر رہا ہے۔ اِس دلیل کے زور کو درج ذیل الفاظ میں پیش کیا جا سکتا ہے:
خدا نے زبور ۸۲ میں حکمرانوں اور منصفوں کو اِلٰہ کہا ہے۔ دراصل وہ الٰہی نہیں ہیں، لیکن خدا کے خادم ہونے کے باعث اپنے عہدہ کی حیثیت سے اُنہیں اِلٰہ کے نام سے سرفرازی دی گئی ہے۔ اُن کی سب سے بڑی امتیازی حیثیت یہ ہے کہ اُن کے پاس خدا کا کلام آیا یعنی خدا نے حکومت اور انصاف کے لئے اُنہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا (رومیوں ۱۳:۱)۔
اگر لفظ اِلٰہ کا اُن عام آدمیوں پر اطلاق ہو سکتا تھا، تو خداوند یسوع مسیح پر اِس نام کا کہیں زیادہ صحیح اور کلی طور پر اطلاق ہو سکتا ہے۔ خدا باپ نے اُسے دنیا میں بھیجا تھا۔ اِس کا یہ مطلب ہے کہ وہ آسمان پر ازل سے خدا کے ساتھ رہا ہے۔ پھر باپ نے اُسے دنیا میں ایک مشن کے لئے مخصوص کیا اور اُسے بھیجا کہ وہ بیت لحم میں پیدا ہو۔
یہودی سمجھ گئے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے برابر بنانے کا دعویٰ کرتا ہے، چنانچہ اُنہوں نے اُسے پکڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ اُن کے ہاتھ سے نکل گیا (یوحنا ۱۰: ۳۹)۔
۸۲:۸ اب ہم زبور کی آخری آیت پر واپس آتے ہیں:
’’اے خدا! اُٹھ، زمین کی عدالت کر کیونکہ تُو ہی سب قوموں کا مالک ہو گا۔‘‘
آسف خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ انسانی معاملات میں مداخلت کرے اور بُرائی اور رشوت کی جگہ انصاف اور صداقت کا بول بالا کرے۔ جب خداوند یسوع زمین پر حکومت کرنے کے لئے آئے گا تو اِس دعا کا جواب مل جائے گا۔ جیسا کہ نبی نے پیش گوئی کی، اُس وقت ’’بیابان میں عدل بسے گا اور صداقت شاداب میدان میں رہا کرے گی‘‘ (یسعیاہ ۳۲: ۱۶)۔ دنیا فریب اور عیاری کی نسبت آزادی اور سماجی انصاف سے لطف اندوز ہو گی۔
مقدس کتاب
۱ خُدا کی جماعت میں خُدا موجود ہے۔ وہ الہٰوں کے درمیان عدالت کرتا ہے۔
۲ تُم کب تک بے اِنصافی سے عدالت کروگے۔ اور شریروں کی طرفداری کروگے؟
۳ غریب اور یتیم کا انصاف کرو۔ غمزدہ اور مُفلِس کے ساتھ اِنصاف سے پیش آؤ۔
۴ غریب اور محتاج کو بچاؤ شریروں کے ہاتھ سے اُنکو چُھڑاؤ۔
۵ وہ نہ تو کچھ جانتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ وہ اندھیرے میں اِدھر اُدھر چلتے ہیں۔ زمین کی سب بنیادیں ہِل گئی ہیں۔
۶ میَں نے کہا کہ تُم اِلہٰ ہو اور تُم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو۔
۷ تُو بھی تُم آدمیوں کے فرزند ہو۔ اور اُمرا میں سے کسی کی طرح گر جاؤ گے۔
۸ اَے خُدا! اُٹھ۔ زمین کی عدالت کر۔ کیونکہ تُو ہی سب قوموں کا مالِک ہو گا۔