زبور ۸۰ : جو مرد خدا کے دہنے ہاتھ ہے
غم اور آہیں اکثر مزامیر کا حصہ ہیں اور وہ یہاں بھی جاری ہیں۔ پہلے گلّے اور بعد میں تاک کی تمثیل میں اسرائیل کی معافی اور بحالی کے لئے التجا کی گئی ہے۔
۸۰: ۱۔۳ اسرائیل کے چوپان سے اپیل کی گئی ہے۔ یہ خدا کا وہ نام ہے جو یعقوب کی طرف سے یوسف کو برکت دیتے ہوئے ظاہر ہوا۔ ’’وہیں سے وہ چوپان اُٹھا ہے جو اسرائیل کی چٹان ہے‘‘ (پیدائش ۴۹:۲۴)۔ اُسی نے مصر سے کنعان تک یوسف کی گلہ کی طرح راہنمائی کی۔ وہی کروبیوں کے درمیان جلالی بادل میں تخت نشین تھا جو پاک ترین مقام میں سرپوش پر سایہ کئے ہوئے تھے۔ لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے اسرائیل کو چھوڑ دیا ہے اور مسکن کو برباد کر دیا گیا ہے۔ اِس لئے اُس سے دعا کی گئی ہے کہ وہ رحم اور حمایت کے لئے افرائیم ، بنیمین اور منسی کے سامنے اپنی قوت کو بیدار کرے۔ جب قہاتی عہد کے صندوق کو اُٹھاتے تو یہ تینوں قبیلے محافظ دستہ کے طور پر جلوس میں شامل ہوتے تھے۔ یہاں وہ سارے اسرائیل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اُن کی شدید خواہش ہے کہ خدا اپنی قوت کو بیدار کرے اور اُن کی مخلصی کے لئے حرکت میں آئے۔ وہ التجا کرتے ہیں کہ وہ اُنہیں اسیری سے بحال کرے۔ اگر وہ رحم سے اپنے چہرے کو چمکائے تو اُن کی مخلصی یقینی ہے۔
۸۰: ۴۔۷ لشکروں کے خداوند خدا اور اسرائیل کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔ وہ نہ صرف اُن کے گناہوں بلکہ اُن کی دعاؤں سے بھی خفا ہے۔ کھانے کے لئے اُس نے اُنہیں رونے کی خوراک دی اور پینے کے لئے کثرت سے آنسو دیئے۔ وہ اپنے غیرقوم پڑوسیوں کے لئے جھگڑے کا باعث بنے اور اپنے دشمنوں کے سامنے تضحیک کا نشانہ بنے۔ اِس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ لشکروں کا خدا اُن پر فضل اور مخلصی کی نگاہ کرے۔
۸۰: ۸۔۱۱ خدا اسرائیل کو مصر سے ایک نرم تاک کی مانند لایا۔ اِس تاک کو موعودہ ملک میں لگانے کے لئے اُس نے کنعانیوں کو نکالا۔ جیسے تاکستان کا مالک زمین کو صاف کرکے اُس میں کاشت کرتا ہے، اِسی طرح خدا نے اپنے لوگوں کی خاطر بہت زیادہ محنت کی۔ تاک کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی یہ کوشش کامیاب رہی۔ تاک نے گہری جڑ پکڑی۔ آبادی بڑھی اور آبادی سے ملک بھر گیا۔ تاک خوب پھلی پھولی۔ یہ حشمت میں پہاڑیوں سے بلند اور دیودار سے مضبوط تھی۔ اِس کی شاخیں ایک طرف بحیرۂ روم تک اور دوسری طرف دریائے فرات تک پہنچ گئیں۔ سلیمان کے دَورِ سلطنت میں اسرائیل مشرق میں فرات تک بڑھ گیا (۱۔سلاطین ۴:۲۱،۲۴)، لیکن یہ وسعت بہت عارضی تھی۔
۸۰: ۱۲،۱۳ لیکن پھر خدا نے حفاظتی باڑ کو توڑ دیا اور غارت گر قوموں کو اجازت دی کہ وہ اِس تاک کا پھل توڑیں۔ جنگلی سؤروں اور دیگر درندوں نے آ کر اِسے برباد کر دیا۔ یعنی پہلے مصر، اسور اور بابل آئے اور مابعد سالوں میں فارس، یونان اور روم نے اِسے تاخت و تاراج کیا۔ جنگلی سؤر کی تشبیہ استعمال کرتے ہوئے زبور نویس نے اپنے علم سے ماورا ہو کر لکھا، کیونکہ صدیوں بعد جب رومی فوج نے اسرائیل کو برباد کیا تو بڑے فخر سے جنگلی سؤر کو فوجی نشان کے طور پر استعمال کیا۔
۸۰: ۱۴،۱۵ ایک بار پھر قوم لشکروں کے خدا سے التجا کرتی ہے کہ وہ اُس کی طرف متوجہ ہو کر اُسے برکت دے۔ اُن کی خواہش ہے کہ وہ آسمانی قلعہ سے اُن کی طرف نگاہ کرے اور اُس تاک پر ترس کھائے جس کے بارے میں وہ یوں بیان کرتے ہیں ’’اُس پودا کی جسے تیرے دہنے ہاتھ نے لگایا ہے اور اُس شاخ کی (نگہبانی فرما) جسے تُو نے اپنے لئے مضبوط کیا ہے۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ تارگم میں اِس جگہ پر یوں لکھا ہے ’’اور اپنے مسیح بادشاہ پر ترس کھا جسے تُو نے اپنے لئے قیام بخشا ہے۔‘‘ آیت ۱۵ میں یہ زیادہ واضح ہے کہ تاکستان اور شاخ سے مراد اسرائیل ہے۔ دو آیات کے بعد مسیح کو واضح طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔
۸۰: ۱۶ حملہ آور فوجوں نے اِس تاک کو کاٹ کر جلا ڈالا ہے۔ وہ اِس سزا کے مستحق ہیں کہ وہ خداوند کی جھڑکی سے برباد ہو جائیں۔
۸۰: ۱۷،۱۸ ’’تیرا ہاتھ تیری دہنی طرف کے انسان پر ہو، اُس ابن آدم پر جسے تُو نے اپنے لئے مضبوط کیا ہے۔‘‘ خدا کی دہنی طرف کا انسان خداوند یسوع مسیح ہے (زبور ۱۱۰:۱؛ عبرانیوں ۱: ۳؛۸:۱؛۱۰:۱۲)۔ ابن آدم وہ لقب ہے جسے مسیح نے اناجیل میں اکثر اپنے لئے استعمال کیا۔ اسرائیل کو پورے طور پر اُس وقت برکت ملے گی جب خداوند یسوع کو اُس کا صحیح مقام دیا جائے گا۔ اِس کے بعد بنی اسرائیل پھر کبھی برگشتہ نہیں ہوں گے۔ جب خداوند اُنہیں بحال کرے گا، تو وہ خداوند کا نام لیں گے۔
۸۰: ۱۹ چرواہے سے التجا کی گئی ہے کہ وہ اپنی بھٹکی ہوئی بھیڑوں کو بحال کرے۔ لشکروں کے خدا کی ایک مسکراہٹ سے اسرائیل بچ جائیں گے۔
مقدس کتاب
۱ اَے اِسرائیل کے چوپان ! تُو جو گلّہ کی مانند یُوؔسُف کو لے چلتا ہے کان لگا! تُو جو کُروبیوں پر بیٹھا ہے جلوہ گر ہو!
۲ افرؔئیم و بِنؔیمین اور منؔسّی کے سامنے اپنی قوت کو بَیدار کر اور ہمیں بچانے کو آ۔
۳ اَے خُدا! ہمکو بحال کر اور اپنا چہرہ چمکا تو ہم بچ جائینگے۔
۴ اَے خُداوند لشکروں کے خُدا! تُو کب تک اپنے لوگوں کی دُعا سے ناراض رہیگا؟
۵ تُو نے اُن کو آنسُوؤں کی روٹی کھِلائی اور پینے کو کثرت سے آنسُو ہی دِئے۔
۶ تُو ہمکو ہمارے پڑوسیوں کے لئے جھگڑے کا باعث بناتا ہے۔ اور ہمارے دُشمن آپس میں ہنستے ہیں۔
۷ اَے لشکروں کے خُدا! ہمکو بحال کر اور اپنا چہرہ چمکا تو ہم بچ جائینگے۔
۸ تُو مصر سے ایک تاک لایا۔ تُو نے قوموں کو خارج کر کے اُسے لگایا۔
۹ تُو نے اُس کے لئے جگہ تیار کی۔ اُس نے گہری جڑ پکڑی اور زمین کو بھر دیا ۔
۱۰ پہاڑ اُس کے سایہ میں چھُپ گئے اور اُسکی ڈالیاں خُدا کے دیوداروں کی مانند تھیں۔
۱۱ اُس نے اپنی شاخیں سمنُدر تک پھیلائیں اور اپنی ٹہنیاں دریایِ فرؔات تک۔
۱۲ پھر تُو نے اُسکی باڑوں کو کیوں توڑ ڈالا۔ کہ سب آنے جانے والے اُسکا پھل توڑتے ہیں؟
۱۳ جنگلی سُواًر اُسے برباد کرتا ہے اور جنگلی جانور اُسے کھا جاتے ہیں۔
۱۴ اَے لشکروں کے خُدا! ہم تیری منّت کرتے ہیں۔ پھر مُتوجّہ ہو۔ آسمان پر سے نگاہ کر اور دیکھ اور اِس تاک کی نِگہبانی فرما۔
۱۵ اور اُس پودہ کی بھی جِسے تیرے دہنے ہاتھ نے لگایا ہے۔ اور اُس شاخ کی جِسے تُو نے اپنے لئے مضبوط کیا ہے۔
۱۶ یہ آگ سے جلی ہوئی ہے۔ یہ کٹی پڑی ہے۔ وہ تیرے مُنہ کی جھڑکی سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
۱۷ تیرا ہاتھ تیری دہنی طرف کے انسان پر ہو۔ اُس اِبنِ آدؔم پر جِسے تُو نے اپنے لئے مضبُوط کیا ہے۔
۱۸ پھر ہم تجھ سے برگشتہ نہ ہونگے۔ تُو ہمکو پھِر زِندہ کر اور ہم تیرا نام لیا کرینگے۔
۱۹ اَے خُداوند لشکروں کے خُدا! ہمکو بحال کر۔ اپنا چہرہ چمکا تو ہم بچ جائینگے۔